پہلے نیا وزیر اعظم پھر آئین میں ترمیم: بلاول بھٹو نے آرمی چیف کی توسیع پر شرط رکھ دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹوزرداری نےکہا ہےکہ ہم آرمی ایکٹ میں اتفاق رائے سے ترمیم چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم ایسا نہیں چاہتے۔ سپریم کورٹ کےتفصیلی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کا کردار مثبت ہو گا۔ وزیراعظم ابھی تک کنٹینر پر کھڑے ہیں، اُن کے رویے کی وجہ سےملک کا اور ہر ادارے کا نقصان ہو رہا ہے لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ پہلے ہمارا وزیراعظم نیا ہوگا اور پھر ترمیم ہو گی۔

نجی نیوزچینل کےمطابق پمز ہسپتال میں اپنے والد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےبلاول بھٹو زرداری نےکہا کہ صدر زرداری کے ساتھ ملک کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ صدرزرداری آج بھی اپنے اصولی موقف پرقائم ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے نظریے اور منشور سے سمجھوتہ کرنے کوتیار نہیں ہے۔ چاہے وہ 18ویں ترمیم کی بات ہو چاہے جمہوریت کی بات ہو یا میڈیا کی آزادی کی بات ہو؟ پاکستان پیپلزپارٹی اپنے موقف سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے ایک بڑا تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی اِس سال 27 دسمبرکو شہید محترمہ بےنظیربھٹو کی برسی لیاقت باغ راولپنڈی میں منائے گی، یہاں سے پاکستان پیپلزپارٹی کا ایک واضح پیغام پورے ملک اور پوری دنیا کے لئے سامنے آئے گا کہ طاقت کا سرچشمہ صرف اور صرف عوام ہیں۔ پی پی پی یہ جدوجہد آخری دم تک اوراُس وقت تک کرے گی جب تک ہم اِس ملک کی تمام تر طاقت عوام تک منتقل نہیں کردیتے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے منتظر ہیں، اس سے ہمیں کافی گائیڈ لائن ملے گی۔ قانونی ماہرین کی رائے یہی ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئےآئینی ترمیم لانی پڑے گی، اِس حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کا کردار مثبت ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے پیدا ہو مگر ایسا لگ رہا ہےکہ وزیراعظم اتفاقِ رائے پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ جو حکومت تین ماہ میں ایک نوٹیفکیشن نہیں بنا سکی، جو حکومت 15 ماہ تک ایک قانون سازی نہیں کر سکی، آئین میں ترمیم کرنا مجھے تو بڑا مشکل لگ رہا ہے کہ حکومت چھ ماہ میں اتفاق رائے پیدا بھی کرے گی اور ترمیم بھی کرے گی۔ آئین میں ترمیم عمران خان کی حکومت کا بہت بڑا امتحان ہو گا، ایسا لگ رہا ہے کہ وزیراعظم اپوزیشن کےساتھ اتفاق رائے نہیں چاہتے۔ وزیراعظم نے ہر بات کو غیر سنجیدگی سے لیا ہے، وزیر اعظم کے کردار کی وجہ سے ایک منفی اثر پڑا ہے، ہم چاہتے ہیں اِس معاملے پر اَفہام و تفہیم ہو لیکن وزیراعظم کے بیانات اِس کے برعکس ہیں، ہمارا وزیراعظم غیرسنجیدہ اور ہر معاملے پر غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ہمارا سلیکٹڈ وزیراعظم ہر موقع پر اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتا ہے، میں سمجھتا ہوں پہلے ہمارا نیا وزیر اعظم ہو گا، پھر آئینی ترمیم ہوگی ۔

بلاول نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کیلئے شہباز شریف کی جانب سے بھیجے گئے نام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سے وزیراعظم کو بھیجے گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •