اللہ معاف کرے، میری عادت نہیں


کل اماں نوراں آئی تھی اور آتے ہی حسب عادت شروع ہو گئی۔ توبہ توبہ اللہ معاف کرے لوگوں کو تو خدا یاد ہی نہیں۔ ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں َ۔ بھائی بھائی کا دشمن ہو گیا۔ اے لو دیکھو قیامت ہی تو آًگئی ہے۔ میں نے کہا اماں سانس تو لو آرام سے بتاؤ کیا ہوا ہے وہ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے بولیں، لوگوں کے دل سے ًخوف خدا نکل گیا ہے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا اماں یہ بات تمھیں کیسے معلوم ہوئی کہ لوگوں کے دل سے خدا کا خوف نکل گیا، مجھے تو نہیں لگتا۔

تو بولیں تم اپنی دانشوری چھوڑو اور سنو وہ جو اپنے قریشی صاحب ہیں نا ان کے گھر بہت بڑا فساد ہو گیا۔ سگی بہن نے بھائیوں کو لڑوا دیا، ایسا فساد ڈلوایا کہ تینوں بہن بھائی ایک دوسرے کو مرنے مارنے پہ تل گئے، خوب ہاتھا پائی ہوئی پستولیں تک چل گیئں کل پولیس بھی آئی تھی، معاملہ تھانے کچہری تک پہنچ گیا توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا، پیسوں کے لئے بھائی بہن دشمن ہوگئے۔ ہماری تو عادت ہی نہیں دوسروں کے گھروں میں ٹوہ لینے کی وہ تو بس پرسوں جانا ہوا ادھر تو سب کچھ میرے سامنے ہی ہوا۔

سگی بہن نے وہ پھوٹ ڈلوائی کہ خدا کی پناہ۔ لگائی بجھائی کرتی تھی کاروبار سے اپنا حصہ مانگتی تھی اور بھائیوں کو ایک دوسرے کے خلاف کرتی تھی۔ اللہ معاف کرے ہم تو کسی کی بات نہیں کرتے لیکن لکھ رکھو سارا قصور ان کی بہن کا ہے۔ میں نے کہا اماں ہوش کے ناخن لو اس سارے قصے میں ان کی بہن کا اتنا قصور نہیں۔ جتنا قصور ان کی بہن کو سکھانے والوں کا ہے جو روز جا کر اس کو الٹی سیدھی باتیں سکھاتے تھے۔ یہ بات میں نے اماں نوراں کی طرف دیکھتے ہوئے اس کو جتانے کی خاطر کی کہ اس سارے فساد مں اسی اماں نوراں کا ہاتھ تھا۔

جو روز جا کر ان کی بہن کو سکھاتی کہ تمھارے بھائی تمھارے دشمن ہیں وہ دونوں مل کر تمھارا پتا صاف کرنا چاہتے ہیں ان سے اپنا حصہ مانگ لو ورنہ دونوں بھائی مل کر سب ہڑپ کر جائیں گے اور تمھیں نکال باہر کریں گے۔ اماں یہ سن کر جلال میں آگئی اور بولی لو یہ خوب کہی لوگوں کا کیا قصور ہر انسان میں عقل ہوتی ہے کوئی کسی کے سکھاوے میں نہیں آتا یہ لڑکی تو سسرال میں بھی چار دن نہ گزار سکی اللہ معاف کرے ہماری تو عادت نہیں بات کرنے کی لیکن اس کا اپنے سسرال میں بھی یہی وتیرہ تھا ساس کو کچھ سمجھتی ہی نہ تھی اور شوہر کو تو کسی کھاتے میں نہ لاتی تبھی تو سسرال والوں نے نکال باہر کیا۔

مجھے خود اس کی ساس نے بتایا تھا مں نے تو اس کی ساس کو صاف بتادیا تھا کہ دیکھو بہن مری عادت تو نہیں بات کرنے کی لیکن تمھارے بھلے کی خاطر بتائے دیتی ہوں ذرا سنبھل کے رہنا یہ اپنی بھابیوں کے ساتھ بھی ایسے ہی لڑائی کرتی تھی۔ وہ بیچارے تو سیدھے سادھے شریف لوگ تھے۔ یہ ہی بسنے والی نہ تھی۔ میں نے کہا لیکن اماں اس دن تو تم کہہ رہی تھی کہ اس کی ساس بہت چلتر عورت تھی وہ اسے ٹکنے نہیں دیتی تھی۔ تو اماں نوراں کھسیانی ہوگئی۔

میں نے کہا اماں اصل میں وہاں بھی لڑائی کی وجہ تم ہی بنی تھی۔ تم ہی جا کرلگائی بجھائی کرتی تھی تو اماں بولی اے لو بی بی نئی بات سنائی، مجھے کیا پڑی کسی کی لڑائی کروانے کی، اللہ معاف کرے مجھے تو عادت ہی نہیں ادھر کی ادھر لگانے کی۔ اور چغلی کی تو بالکل عادت نہیں یہ تو کبیرہ گناہ ہے، ہم تو جدھر سے بات سنیں ادھر ہی چھوڑ کے اٹھتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے اماں نوراں میرے قریب ہوئیں اور بولیں یہ تمھارے ساتھ والی آپازہرا کی بہو کے تو تیور ہی نرالے ہیں ساس بخار میں تپ رہی تھی لکن مجال ہے جو بہو نے اندر آ کر دیکھا بھی ہو میں تو پورا گھنٹہ بیٹھ بیٹھ کے تھک گئی پر مجال ہے جو اس نے پانی بھی پوچھا ہو آ کے یا ساس کو دیکھنے اندر آئی ہو، میں نے تو اس کی ساس سے کہا کہ بندہ آئے گئے کا ہی لحاظ کر لیتا ہے لیکن نہیں اس نے تو مجھے بھی چائے کانہ پوچھا۔

آپا بیچاری تو بخار میں تپ رہی تھی۔ اسے تو اپنی ہوش نہیں تھی مجھے کیا چائے پلاتی۔ میں نے کہا اماں یہ بھی تو ہو سکتا ہے اس نے ساس کو چائے کے ساتھ دوائی وغیرہ دے کر ہی بیٹھی ہو، کہ وہ اتنی غافل نہیں اپنی ذمہ داریوں سے، اور تمھیں کیسے پوچھتی چائے کا پچھلی بار تم ہی تو ان کے گھر لڑائی کی وجہ بنی تھی۔ تمھاری وجہ سے بات طلاق تک پہنچ گئی تھی۔ تم ہی نے تو اس کی ساس کو اکسایا تھا کہ اپنے بیٹے کی دوسر ی شادی کروا دو اور اسے نکال باہر کرو کہ تمھاری بہو تو نہیں کوئی بچہ جننے والی، بانجھ ہوگی، تبھی تو ابھی تک خالی گود لئے پھر رہی ہے۔

تمھارے اس ارشاد کے بعد اس بیچاری کا جینا حرام کر دیا گیا تھا وہ تو بھلا ہو لیڈی ڈاکٹر کا جس نے اس کے شوہر کی رپورٹس مانگ لی، تب کہیں جا کے ماں بیٹا ٹھنڈے ہوئے، ورنہ تمھاری وجہ سے تو اس کا بسا بسایا گھر خراب ہو گیا تھا۔ اماں نوراں نے پہلو بدلتے ہوئے کہا لو تم بھی کیا قصہ لے بیٹھی ہو، چھوڑو اس بات کو، کب سے بیٹھی ہوں تم نے تو اماں کو چائے تک نہیں پوچھی، بس آدھا کپ چائے تو پلا ساتھ میں کوئی کیک بسکٹ ہو تو وہ بھی دے دو، صبح سے نکلی ہوں بھوک لگ گئی ہے۔

میں چائے لے کر آئی تو اماں نوراں میری بلائیں لینے لگی جیتی رہو، کتنی اچھی بیٹی ہو، کیسی پیاری تربیت کی تمھاری ماں نے پر آہ نصیب دیکھو ساس کو پھر بھی پسند نہیں تم۔ تمھاری ساس تو ایویں ہی تمھاری برائیاں کرتی رہتی ہے ہر ایک کے آگے۔ تم تو میری بیٹیوں جیسی ہو تبھی تو اتنی محبت ہے تم سے، اور تمھارے خلاف بات تو برداشت نہیں ہوتی تبھی بتا رہی ہوں، ورنہ میں کہاں کسی کی بات کرتی ہوں، سنو اماں میرے قریب ہوتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں بولی تم تو میری بیٹی جیسی ہو، دل دکھتا ہے تمھارے خلاف کچھ سن کے، ورنہ خدا جانتا ہے مجھے تو عادت ہی نہیں ایک کی بات دوسرے کو بتانے کی، بیٹی ذرا احتیاط سے رہا کرو، تمھاری ساس بہت باتیں کرتی پھر رہی ہے تمھارے خلاف۔

تم کو بدنام کر رکھا ہے اس نے، جدھر جاتی ہے تمھارے خلاف باتیں کرتی ہے، کہ گھر کی تو اسے فکر ہی نہیں خداجانے کاغذ قلم پکڑے زمانے کی کون سی گھتیاں سلجھانے میں لگی رہتی ہے۔ میں نے اماں کو غصہ سے دیکھا اور کہا اماں یہ جو باتیں تم مجھے بتا رہی ہو، پہلی بات تو یہ کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں، دوسرا اگر کچھ کہا ہے تو کوئی بات نہیں کہ وہ میری ساس نہیں ماں ہے اور اگر ماں اولاد کو کچھ کہہ بھی دے تو اولاد کے بھلے کے لئے ہی کہتی ہے، اور تیسرا آج کے بعد میرے گھر کا سکون تباہ کرنے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ دوبارہ ایسی کسی بھی کوشش میں تمھارا آنا جانا بند کر دوں گی گھر میں۔

یہ جو پچھلے دو گھنٹوں سے تم پورے علاقے کی کہانیاں سنا رہی ہو، کیا یہ چغلی کے کھاتے میں نہیں آتا، ہر گھر کی لڑائی کا تمھیں پتہ ہے جبکہ ان میں سے زیادہ تر لڑائیاں تمھاری وجہ سے ہوتی ہیں۔ اللہ سے معافی بھی مانگ رہی ہو، کہتی بھی جارہی ہو کہ تمھاری عادت نہیں ادھر کی ادھر بتانے کی، لیکن کسی گھر کی کہانی تم نے چھوڑی بھی نہیں یہ سب کس کھاتے میں جارہا ہے۔

اماں نوراں جیسے کردار ہر گلی محلے میں پائے جاتے ہیں۔ جو اللہ معاف کرے میری تو عادت نہیں چغلی کرنے کی سے بات شروع کرتے ہیں اور دوسروں کے عیب گنواتے جاتے ہیں، ایک کی بات دوسرے کو بتا کر گھروں میں پھوٹ ڈلواتے ہیں باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ ان جیسے لوگوں کی وجہ سے دلوں میں رنجشیں پیدا ہوتی ہیں اور گھروں کے سکون ختم ہو جاتے ہیں۔ اللہ معاف کرے میری عادت نہیں سے شروع ہونے والے لگائی بجھائی کے ماہر ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ معاشرے کے لئے ناسور ہیں۔ جو اپنے گھریلو امور چھوڑ کر دوسروں کے گھروں میں ٹوہ لینے جاتے ہیں اور اس ٹوہ کے چسکے اور مفت کی چائے پانی کے لالچ میں دوسروں کے گھروں کا سکون برباد کروادیتے ہیں۔ دوسروں کے گھروں میں آگ لگانا بہت آسان کام ہے لیکن آگ لگانے والے یہ نہیں سوچتے کہ یہ آگ کیا کیا کچھ جلا ڈالتی ہے اور اگر خدانخواستہ یہ آگ ان کے اپنے گھر بھی آگئی تو۔ اس طرح کے لوگوں سے بچنا چاہیے جونہی وہ آپ کے سامنے گھر کے کسی فرد یا قریبی عزیزکی کی برائی کرنا شروع کریں تو ایسے لوگوں کو وہیں ٹوک دیں۔

بھلے وہ خود کو آپ کا کتنا بڑا ہمدرد ہی ظاہر کیوں نہ کریں کہ ایسے لوگ ہمدرد ہوتے نہیں فسادی ہوتے ہیں جو ہمدرد ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ اور گھروں میں پھوٹ ڈلوادیتے ہیں۔ اگر ان سے نہ بچا جائے تو آپ کے گھر بھی وہی ہوگا جو قریشی صاحب اور آپا زہرا کے گھر ہوا۔ ایسے لوگوں کی پہچان بہت آسان ہے کہ یہ لوگ بات ہمیشہ اس بات سے شروع کرتے ہیں اللہ معاف کرے میری تو عادت نہیں کسی کی بات کرنے کی، سو ایسے لوگوں سے بچ کر رہیں

Facebook Comments HS