سانحہ کارساز کی برسی پر ہر گلی بند گلی

(ناصر فاروق)

\"nasirہوشیار! خبردار! ہٹو بچو! زرداری خاندان کا بھٹو شہزادہ بلاول ہاؤس سے نکلا ہے۔ چھٹی کے دن کراچی والوں کی چھٹی کردی گئی، سٹی گُم کردی گئی۔ شاہراہ فیصل سے ایم اے جناح تک سپاہیوں کے جال بچھا دیے گئے۔ خبردار کوئی یہاں سے نہ گزرے۔ ہر گلی بند گلی بن چکی تھی۔ کنٹینرز اور قناتیں ہر جگہ ہر نظر کو مایوس لوٹارہی تھیں۔ ہم صحافی، جنہیں ہفتہ اتوار تو کیا عید بھی کام کام اور کام کا موقع ہوتا ہے، دوسروں کی چھٹی غنیمت ہوتی ہے، یوں کم از کم دن دو دن شاہراہیں ُپرسکون مل جاتی ہیں۔ گھرآنا جانا آسان ہو جاتا ہے۔

مگرسولہ اکتوبر دو ہزار سولہ کو سانحہ کارسازکی یاد کچھ یوں منائی گئی کہ سانحہ ٹریفک بن گیا۔

ہم پیپلزپارٹی کی شاہانہ ریلی کی گرما گرم خبریں سرخیوں میں جما کر دفتر سے جو نکلے، توگھر پہنچنا \’پزل گیم\’ ہوگیا۔ اللہ اللہ کرکے نکلے۔ ایک ساتھی ساتھ تھا۔ صدرکی جانب بڑھے کہ کہیں سے کوئی گلی ملے گی تو پانی کی طرح بہتے ہوئے کہیں نہ کہیں نکل ہی جائیں گے۔ مگر صدر پہنچ کر پسینہ نکل آیا۔ ایک پر پیچ راستہ دائیں بائیں کرتا ہوا نامعلوم مقام کی جانب لے گیا، کسی طرح شاہراہ فیصل کا دیدار نصیب ہوا، اور فلائی اوور کی فٹ پاتھ پر جوتے ٹکائے سفید والے سنتری جی نظرآئے۔ وہ نیچے پھنسے ہوئے بھیڑ بکری جیسے ہم عوام کی گاڑیوں کوڈیفینس کی جانب دھکیل رہے تھے۔ ٹھنڈی سانس لے کر جو آگے بڑھے تو نئے نئے راستوں سے گزرے، یہاں تک کہ قیوم آباد کی چورنگی آگئی، ہماری بڑی بہن کا گھر بھی نظر سے گزرا۔ کچھ اور آگے بڑھے تو ہمارے ساتھی کا سسرال بھی آہی گیا۔ کلفٹن والے معروف سپر اسٹورتک پہنچے تودائیں طرف ایک راستہ بلوچ کالونی کے پُل کی جانب جاتا تھا۔ امید کی باگ تھام کرگاڑی آگے بڑھائی۔ بلوچ کالونی کے پُل پر بھی جابجا کالی اور سفید وردی والے کالے دھن کو سفید فرمارہے تھے، اور سفید کمائی کوکالا کررہے تھے۔ یہاں سے ایک طویل راستہ جیل روڈ کی طرف جارہا تھا۔ یہ جان کرخیال آیا کہ کچھ دیر جیل میں بند ہو کر اس شہر کی شورا شوری سے محفوظ ہوجائیں۔ لاکھوں ووٹوں سے کروڑوں لوگوں کی یہ درگت دیکھ کر دل کڑھ رہا تھا، یقیناً سانحہ ٹریفک سے دوچار سب ہی لوگوں کا براحال تھا۔

جیل روڈ سے سوک سینٹراور پھر نیپا تک پہنچتے پہنچتے سورج ساتھ چھوڑ چکا تھا۔ اندھیرا شہرپرچھاچکا تھا۔ شہزادے کی سواری کہاں پہنچی تھی؟ کچھ پتا نہ تھا مگر ہم کسی طرح گھر پہنچنے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ یوں تو جو روداد سانحہ کارساز کی یاد میں اہل کراچی پر گزری، وہ لمحہ بہ لمحہ اورفرداً فرداً بیان کی جائے توالمناک داستان بن جائے، مگریہ ہمارے بس میں نہیں۔ یقین کیجئے، سولہ اکتوبر کی شام کراچی کی شاہراہوں پر ایک کرب کا سمندر تھا، اور تیر کے جانا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words