کیا افغان طالبان نے پاکستان کی چھٹی کرا دی ہے؟


\"wisi-baba\"

طالبان امیر ملا ہیبت اللہ ویسے تو مذاکرات سے انکاری تھے، کم از کم ان کے اعلان یہی بتا رہے تھے، لیکن اطلاعات کے مطابق قطر میں افغان حکومت اور طالبان میں براہ راست مذاکرات ہوئے ہیں۔ اہم امریکی عہدیدار نے بھی ان مذاکرات میں شرکت کی ہے۔ اور خاص بات یہ ہے، کہ پاکستان سے پوچھنے کی یا آن بورڈ لینے کی کسی نے بھی زحمت نہیں کی۔

دوسری طرف ملا عمر کے بھائی ملا عبدالمنان اخوند نے افغان طالبان کی نمایندگی کی ہے؛ اور افغان حکومت کی جانب سے افغان انٹیلیجنس کے سربراہ محمد معصوم ستانکزئی نے افغان حکومت کی نمایندگی کی۔ مذاکرات کی اس کڑی کے اب تک دو راؤنڈ ہو چکے ہیں۔ پہلا راؤنڈ ستمبر میں ہوا تھا، اور دوسرا راؤنڈ اب اکتوبر میں ہوا۔

پہلا راؤنڈ کافی حوصلہ افزا رہا تھا۔ معصوم ستانکزئی اور ملا منان نے ایک دوسرے سے کھل کر بات کی۔ یہ کھلی ڈلی بات چیت امریکی سفارت کار کی موجودگی میں ہوئی۔ کوئٹہ شوری کے ایک رکن نے افغان صحافی سمیع یوسف زئی کو بتایا کہ امریکی سفارت کار کی موجودگی کی وجہ ہی سے، ہم افغان حکومت کے نمایندے سے بات کر پر آمادہ ہوئے۔

یاد رہے کہ افغان حکومت کو طالبان امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے رہے ہیں، اور ان سے براہ راست مذاکرات کرنے سے بھی انکاری رہے ہیں۔

کوئٹہ شوری کے رکن کا کہنا تھا، کہ ملا عمر کے بھائی ملا منان کی مذاکرات میں شرکت بہت معنی خیز ہے۔ انہیں بھجوانے کا ایک ہی مقصد تھا، کہ دنیا کو بتایا جائے کہ طالبان کی سیاسی شوری اور فوجی کمانڈروں میں کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ مذاکرات کے اگلے دور میں اس بات کا بہت امکان ہے کہ ملا عمر کے فرزند اور طالبان کے نائب امیر ملا یعقوب شرکت کریں گے۔

\"mullah-haibatullah_6\"

ان مذاکرات میں ملا منان کی شرکت اور ملا یعقوب کی شمولیت کے امکان نے طالبان میں مذاکرات پسندوں اور جنگ پسندوں میں تقسیم کا خاتمہ کر دیا ہے۔ نیز ان مذاکرات کے حوالے جو خبریں سامنے آئی ہیں، ان میں خصوصی طور پر یہ ذکر کیا گیا ہے کہ فریقین نے پاکستان کے کردار پر دل کی گہرائیوں سے غم و غصے، ندامت وغیرہ کا اظہار کیا ہے۔ یا یوں کہیے، کہ پاکستان کو افغانستان میں بے امنی کی وجہ قرار دیا۔

طالبان سے تعلق رکھنے والے افراد سے خبریں مل رہی ہیں کہ ان مذاکرات کے بارے میں اطلاعات ملنے کے بعد پاکستان کی اصل سرکار سرگرم ہوگئی ہے۔ کوئٹہ میں کھلے پھرنے والے اہم طالبان راہنماؤں کو خصوصی ”مہمان نوازی“ کے واسطے چک (پکڑ) لیا گیا ہے۔ ان میں ایک قابلِ ذکر شخصیت ملا عمر کے اولین ساتھیوں میں شمار ہونے والے طالبان شوری کے اہم رکن ملا احمد اللہ ناننئی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملا ناننئی قندھار کے میوند ضلع اور اس کے اطراف میں بہت مقبول طالبان راہنما ہیں۔ وہ سابق طالبان امیر ملا اختر منصور کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔ دونوں کو کاروباری معاملات میں شراکت دار بھی مانا جاتا ہے۔

افغان حکومت کے طالبان سے براہ راست مذاکرات ہونا اہم خبر ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے، جب گل بدین حکمت یار کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے امن معاہدے پر غور کیا گیا ہو۔ پاکستانی ادارے یقیناً اس صورت احوال سے نا صرف یہ کہ آگاہ ہوں گے؛ بلکہ اس کا جائزہ بھی لے رہے ہوں گے؛ اور اپنی حکمت عملی بنا رہے ہوں گے۔۔۔ دعا بس اتنی ہے، کہ کوئی ایسا راستہ نکال لیا جائے، جس سے مستقل بے امنی کے شکار ہمارے اس خطے میں امن ہو جائے۔

پختونوں، افغانوں کے قتلِ عام کا جو میلہ لگا ہوا ہے، یہ کسی طرح رُک جائے۔ آمین!

نوٹ: یہ خبریں میڈیا پر آنے کے بعد، اٖفغان طالبان نے ایک تازہ ای میل پیغام میں ان مذاکرات کی تردید کی ہے ۔

Facebook Comments HS

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 407 posts and counting.See all posts by wisi

One thought on “کیا افغان طالبان نے پاکستان کی چھٹی کرا دی ہے؟

  • 19/10/2016 at 5:55 شام
    Permalink

    News may be correct.. but wording of news clearly portrays that it is deliberatey leaked or planted to pressurize "one stake holder”.. !

Comments are closed.