استنبول: جزیروں پر بسا اک شہر کوئے یار جیسا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

استنبول میں ٹھیک طرح سے یہ میرا پہلا دن تھا۔ شعیب دمرجی نے مجھے ہوٹل سے لیا اور ہم اس کے دفتر چلے گئے۔ دمرجی برادران نایاب خوشبویات کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا دفتر جامع سلیمان اعظم کے قریب ہے۔ کچھ خوشبویات کی قیمت پاکستانی رقم میں لاکھوں روپے فی سوگرام بنتی تھی۔ ہم چائے کے لیے کچھ دیر دفتر میں رکے پھر عمارت کی چھت پر چلے گئے ’جہاں استنبول کا ایک خوبصورت نظارہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ اکتوبر کی دھوپ اور دھند کی ملی جلی فضا میں یہ خوابناک منظر حقیقی نہیں لگتا تھا۔

یقین نہ آتا تھا کہ یہ وہی سمندر اور عمارتیں ہیں جن کے خواب میں سالہا سال دیکھتا رہا ہوں۔ ذرا بائیں طرف غلاطہ ٹاور اور شاخ زریں کا پُرہجوم پل تھا اورسامنے باسفورس کا نیلا پانی۔ دائیں طرف بحر مرمرا کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ شعیب نے بتایا کہ سامنے کی سفید منار والی عمارت توپ کاپے سرائے ہے اور اس کے قریب چھ مناروں والی مسجد سلطان احمد یا نیلی مسجد اور اس کے قریب آیا صوفیہ۔ ایک نظر میں دکھائی دے جانے والی یہ عمارتیں کتنی صدیوں کی محنتوں کا ثمرہ ہیں اور ان کی ایک ایک اینٹ، ایک ایک ردّے پر معماروں اور مالکوں کی کیا صبرآزما مشقت شامل ہے، کیا تصور کیا جاسکتا ہے؟

دفتر سے نکل کر ہم تاریخی آثار والے سلطان احمد کے علاقے میں پہنچے۔ ترکی لہجے میں سلطان احمت۔ یہاں بھی بہت سے ہوٹل اور ریسٹورنٹس ہیں۔ شعیب کو یہاں ایک ہوٹل معلوم تھا جس کے روف ٹاپ ناشتے اور حسین منظر کی تعریفیں کرکرکے اس نے میرا اشتیاق بہت بڑھا دیا تھا۔ کمرہ صاف ستھرا، مناسب پیسوں اور موزوں سائز کاتھا۔ ساری ضروری سہولیات موجود تھیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ تاریخی آثار پیدل فاصلے پر تھے۔

سامان کمرے میں رکھ کر ہم چھت پر وہ منظر دیکھنے پہنچے جس کی تعریفیں سن رکھی تھیں۔ لفٹ سے نکلتے ہی وہ منظر سامنے تھا۔ اتنا حسن، ایسا تنوع۔ بحر مرمرا، باسفورس، دونوں کا سنگم، پانی پر تیرتے خوبصورت جہاز اور کشتیاں۔ دور افق تک نظر کام کرتی تھی۔ استنبول کی سرسبز ڈھلوان پہاڑیاں جو زینہ اترتے اترتے سمندر سے ہم آغوش ہوجاتی تھیں، تاحدِ نظرسامنے تھیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ آیا صوفیہ، نیلی مسجد اور توپ کاپے سرائے اگرچہ بہت قریب نہیں تھیں لیکن اتنے قریب محسوس ہوتی تھیں کہ اس بلندی سے اتنا قریب اور اتنا مکمل نظارہ شاید ہی کہیں اور سے ہوسکے۔ منظر کی تعریف بالکل ٹھیک بلکہ کچھ کم کی گئی تھی۔ یہ بات 2010 کی ہے لیکن میں اس منظر کا ایسا اسیر ہوا کہ بعد میں جب بھی استنبول جانا ہوا، کوشش کرکے اسی ہوٹل میں ٹھہرتا رہا۔ کبھی اس منظر سے بھی اکتاہٹ نہیں ہوئی اور اس منظر کے پہلو میں سجائے گئے بھرپور ناشتے نے بھی کبھی مایوس نہیں کیا۔

اس پہلے سفر میں چام لیجاپہاڑی، استنبول پینوراما، قلعہ رومیلی حصار، باسفورس پل، پئیر لوٹی پہاڑی اور بہت سی جگہیں شعیب کے ساتھ دیکھنے کا موقعہ ملا جبکہ آیا صوفیہ، نیلی مسجد، توپ کاپے سرائے مسجد سمیت بہت سی جگہوں جو میں نے اکیلے دیکھیں ’کا تذکرہ بعد میں سہی۔

چام لیجا، ایشیائی ساحل اسکیودار پر ایک بلند اور خوبصورت پہاڑی ہے جو ہمیشہ سلاطین اور امرا کی توجہ کا مرکز رہی۔ چام کا مطلب ہے پائن کا درخت۔ اس پہاڑی پر پائن کے گھنے جنگلات موجود تھے اور سلطان مراد یہاں شکار کے لیے اکثر آیا کرتا تھا۔ یہاں سے رات کا منظر خاص طور پر بہت حسین ہے اور باسفورس، پہلے معلق پل اور شہر کی روشنیوں کا نظارہ قابل دیدہے۔ اب یہ ایک نہایت سرسبز عوامی پارک ہے جس میں کئی ریسٹورنٹ موجود ہیں۔ چوٹی پر موجود ایک ریسٹورنٹ میں، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس جگہ سلطان محمد فاتح کا خیمہ ہوا کرتا تھا، ہم نے رات کا کھانا کھایا۔ ایک بڑے تھال میں بینگن کی کوئی خاص ڈش بھی لائی گئی جس کا نام یاد نہیں لیکن لذت ابھی تک یاد ہے۔

استنبول پینوراما کاحال ہی میں آغاز ہوا تھا۔ یہ 360 ڈگری کا پینوراما ہال اس جگہ بنایا گیا ہے جہاں سے بازنطینی حکومت کا دارالخلافہ قسطنطنیہ فتح کرتے ہوئے 1453 ء میں ترکوں نے فصیل منہدم کی تھی۔ بڑے ہال میں داخل ہوتے ہی چاروں طرف استنبول کی فتح اور لشکر کشی کے منظر پینٹ کیے دکھائی دیتے ہیں۔ کمال کا بصری فن ہے کہ لگتا ہی نہیں ’ہم کسی چھوٹے ہال میں کھڑے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ ہم عین اس میدان جنگ کے درمیان کھڑے ہیں جہاں تاحد نظر کارزار سجا ہے۔

ترک لشکر، فصیل، بحری جہاز، شکستہ برج، برج پر جھنڈا گاڑنے کی ترکوں کی کوشش، عیسائی دفاعی فوج۔ فصیل سے گرتے سپاہی، اڑتے تیر، داغے جانے اور فصیل پر پھٹنے والے گولے اور میدان میں نصب توپیں۔ سلطان محمد فاتح اپنے سفید گھوڑے پر سوار قریبی ساتھیوں کے ہمراہ فصیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔ نہایت باریک جزئیات کے ساتھ تصویریں اس طرح بنائی گئی ہیں کہ اس جنگ کے مشہور واقعات سب سامنے آجاتے ہیں۔ جس جگہ ہال کی دیواریں فرش سے ملتی ہیں وہاں اصل اسلحہ، بارود، تیر، توپیں وغیرہ اس طرح رکھا گیا ہے کہ معلوم نہیں ہوتا کہاں سے تصویر ختم ہوئی اور کہاں اصل اسلحہ شروع ہوگیا۔ پس منظر میں جنگی نعرے، ڈرم کی آواز، گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور توپیں داغنے کی آوازیں منظر کو حقیقی بناتی رہتی ہیں۔ اصل ہال میں داخلے سے پہلے وہ مشہور حدیثِ مبارک دیوار پر کندہ ہے :

تم ضرور قسطنطنیہ فتح کرو گے اور کیسا اچھا سردار ہوگا اس لشکرکا سردار اور کیسا اچھا لشکر ہوگا وہ لشکر۔ (مسند امام احمد)

رومیلی حصار باسفورس کے مغربی ساحل پر جنگی ضرورت کے لیے بنایا گیا ایک قلعہ تھا جو دراصل قسطنطنیہ کی فتح کے سلسلے میں ایک ناگزیر تعمیر تھی۔ سلطان محمد فاتح نے یورپی ساحل پر اس جگہ یہ قلعہ بنایا جہاں باسفورس کی سب سے کم چوڑائی ( 660 میٹر) تھی۔ نیز اس کے بالکل سامنے ایشیائی ساحل پر بایزید یلدرم کا قلعہ اناطولی حصار پہلے ہی موجود تھا۔ سلطان چاہتا تھا کہ قسطنطنیہ کے حتمی محاصرے سے پہلے نیز سردیوں کی آمد سے پہلے یہ قلعہ جلد از جلد مکمل ہو جائے۔

اس کا نقشہ اس طرح بنایا گیا کہ فضا سے دیکھیں تو عربی لفظ محمد لکھا نظر آتا ہے۔ اس جگہ پہاڑیاں تھیں اور تعمیر آسان نہیں تھی لیکن سلطان محمد اور ساتھیوں کے عزم نے اسے چار ماہ 16 دن کی نہایت مختصر مدت میں تعمیر کرلینے کا حیرت انگیز کام انجام دے دیا۔ اب باسفورس سے گزرنے والے بحری جہاز اورکشتیاں سلطان محمد کے کنٹرول میں تھیں۔ یورپ اور عیسائی دنیا سے باسفورس کے ذریعے بازنطینی سلطنت کو مدد نہیں پہنچ سکتی تھی اور یہی اس قلعے کا مقصد تھا۔ ہم رات کے وقت وہاں پہنچے۔ قلعہ عظمت اور ہیبت کا منظر پیش کر رہا تھا اور قلعے کی فصیل پر ڈالی جانے والی روشنیوں نے اس تاثر کو دوچند کردیا تھا۔

” پیٔرلوٹی“ (Pierre Loti) پہاڑی، شاخِ زریں (گولڈن ہارن) پر حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار کے قریب فاتح کے علاقے میں ایک مشہور اور خوبصورت مقام ہے جو فرانسیسی ناول نگار اور مصور پیٔرلوٹی کے نام سے منسوب ہے۔ پیٔرلوٹی نے اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ استنبول میں گزارا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ استنبول کے عشق میں گرفتار تھا ’لیکن اس سے بھی زیادہ مشہور یہ ہے کہ وہ ”آزیادی“ نام کی ایک ترک لڑکی کی محبت کا اسیر ہوگیا تھا۔

اس پہاڑی پر ایک قہوہ خانہ اب تک ہے جہاں پیٔرلوٹی آیا کرتا تھا۔ اس وقت اس قہوہ خانے کا نام ”رابعہ کیدن قہوہ خانہ“ تھا لیکن اب یہ پیٔرلوٹی کے نام سے معروف ہے۔ فرانسیسی مصنف نے اپنا ناول یہیں لکھا جس کا نام بھی ”آزیادی“ ہے۔ ہم یہاں عصر کے قریب پہنچے تھے۔ سچ بات یہ ہے کہ شاخ زریں کا اس سے حسین نظارہ کہیں اور سے نہیں ہو سکتا۔

محلہ ایوب سے امینونو تک کا کھلا منظر، دور باسفورس کا سنہرا پانی، شاخ زریں پر شفق کے کھلتے پھول اور نرم رو ٹھنڈی ہوا۔ ٹکٹکی لگا کر ایک ہی طرف دیکھیں تب بھی منظر بدلنے کا احساس ہوتا تھا۔ ہم بلندی پرکھلے آسمان تلے بیٹھے تھے، وقت ٹھہرا ہوا لگتا تھا جسے میرے میزبان شعیب دمرجی نے یہاں کی مشہور تلی ہوئی مچھلی اور کافی سے مزید یادگار بنا دیا تھا۔

میں واپس ہوٹل کے کمرے میں آیا اور سڑک کی طرف کھلنے والا دریچہ کھول لیا۔ ہوا میں آتی سردیوں کی مہک تھی اور پتے زرد ہوکر زمین پر گر رہے تھے۔ ہوا کے ایک تیز جھونکے نے پتوں کا ایک ڈھیر اڑایا اور جابجا خزاں کے خطوط بکھیر دیے۔ عرفان صدیقی کا کیسا شعر ہے : ؎

شاخ سے کٹ کے زمیں سے بھی جدا ہونا ہے

برگِ افتادہ ابھی رقصِ ہوا ہونا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •