استنبول: جزیروں پر بسا اک شہر کوئے یار جیسا

استنبول میں ٹھیک طرح سے یہ میرا پہلا دن تھا۔ شعیب دمرجی نے مجھے ہوٹل سے لیا اور ہم اس کے دفتر چلے گئے۔ دمرجی برادران نایاب خوشبویات کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا دفتر جامع سلیمان اعظم کے قریب ہے۔ کچھ خوشبویات کی قیمت پاکستانی رقم میں لاکھوں روپے فی سوگرام بنتی تھی۔ ہم چائے کے لیے کچھ دیر دفتر میں رکے پھر عمارت کی چھت پر چلے گئے ’جہاں استنبول کا ایک خوبصورت نظارہ آنکھوں کے سامنے

Read more

قسم سے، ہمیں کچھ پتہ نہیں

پتہ نہیں اس رکشہ ڈرائیور کا نام کیا ہے؟ ٹھیٹھ لاہوری لہجے میں پنجابی بولتا ہوا یہ رکشہ ڈرائیورکون ہے؟ جھوٹا ہے یا سچا؟ لاہور میں کہاں رہتا ہے؟ اس کا گھر اپنا ہے یا کرائے کا؟ اپنا ہے تو کتنی جگہ پر؟ کرائے کا ہے تو کتنا کرایہ ہر ماہ؟ پتہ نہیں یہ بات جو وہ کہہ رہا ہے کہ اس حکومت کے آنے کے بعد سے ہم نے دو وقت کی روٹی رج کر کبھی نہیں کھائی تو

Read more

خنک مہک ہے کہ سردی کی شال میرے لیے

گولی ماریں کچھ دیر کے لیے سیاست کو۔ آگ لگائیں شعلہ بیان مقرروں کو۔ مٹی ڈالیں جلسوں، ریلیوں اور دھرنوں پر۔ بھول جائیں حکومت اور اس کے مخالفین کو۔ ہمیشہ کے لیے نہ سہی، کچھ دیر کے لیے ہی سہی۔ کچھ دیر کے لیے اس گرم خنک موسم کا لطف لیں جو ایک پری زاد کی طرح لاہور اور پورے ملک کو اپنی بانہوں میں بھر رہا ہے۔ کسی نے کہا تھا نا کہ جب تک آپ دوسری چیزوں سے

Read more

جمالِ سبز نما

ایک بار پھر میں سکردو کی فلائٹ کے انتظار میں اسلام آباد ائیر پورٹ پر بیٹھا تھا۔تقریبا ایک سال پہلے بھی سکردو ادبی میلے کے لیے اسی لاؤنج میں سب شاعر اور ادیب جمع تھے، سب کو اس میلے میں شرکت کی خواہش اور خوشی تھی لیکن جہاز کا انتظار محبوب کے انتظار سے بھی سخت نکلا۔موسم کی خرابی کی وجہ سے پرواز کی منسوخی کا اعلان ہوا تو مایوسی دیدنی تھی۔ساتھیوں کے چہرے تو سامنے ہی تھے لیکن ہم

Read more

تیز گام کی بوگی نمبر 12

گھر سے نکلنے میں دیر ہو گئی تھی، اس لیے سب پر بوکھلاہٹ طاری تھی۔ ٹرین کا وقت شام چار بجے تھا۔ گھر کا سربراہ صلاح الدین دوسروں سے زیادہ پریشان تھا۔ بیوی بچوں کے ساتھ بڑی ذمے داری اسی کی تھی۔ بار بار ٹرین انکوائری کو اضطراب میں فون ملاتا لیکن حسب معمول اور حسب دستور کوئی فون اٹھانے کا روادار نہیں تھا۔ ادھر یہ بھی خیال تھا کہ راستے کی ٹریفک میں پھنس گئے تو ٹرین ہی نہ

Read more