بیوروکریسی عثمان بزدار سے تعاون کیوں نہیں کرتی؟


یہ 80 ءکی دہائی کی بات ہے اُس وقت موجودہ پی ٹی سی ایل سرکار کے زیرانتظام تھی اور اس کا نام ٹیلیفون اینڈ ٹیلیگراف ڈیپارٹمنٹ (ٹی اینڈ ٹی) ہوا کرتا تھا، میرے انکل انوار نقوی ملتان ریجن کے ڈائریکٹر تھے، ملتان ریجن میں ملتان، ڈیرہ غازی اور بہاولپور ڈویژن شامل تھے، انوار نقوی نے اپنے کینٹ آفس میں ایک کلرک کا تبادلہ کردیا، تبادلے کا ہونا تھا اس کلرک نے سفارشیں کرانا شروع کردیں مگر انوار نقوی نے اس کا تبادلہ منسوخ نہ کیا، آخر اس کلرک نے مذہبی کارڈ کا استعمال کیا کیونکہ ہمارے ملک میں مذہبی کارڈ بہت کارگر ثابت ہوتا ہے، اس کلرک نے انوار نقوی کے مسلک کی معروف شخصیت کی سفارش کرائی، ملتان کے حضرت شاہ گردیزؒ دربار کے سجادہ نشین مخدوم راجو گردیزی اس کلرک کی سفارش کرنے انوار نقوی کے دفتر پہنچ گئے اور انوار نقوی سے اسی کلرک کی سفارش کی کہ اس کا تبادلہ منسوخ کرکے اسے واپس اسی کی سیٹ پر لگادیں، سفارش سنتے ہی انوار نقوی نے اس کلرک کو بلا لیا اور کہا کہ مخدوم صاحب میرا ریجن اتنا بڑا ہے کہ اس کا تبادلہ رحیم یارخان ضلع یا راجن پور ضلع کے آخری کونے میں بھی کرسکتا ہوں، اس سے پوچھیں کہ میں نے اس کا تبادلہ کسی دوسرے شہر کیا ہے تو اس کلرک نے جواب دیا کہ نہیں سر، پھر انوار نقوی نے کہا کہ اس سے پوچھیں کہ میں نے اس کا تبادلہ ملتان شہر میں کسی دوسری جگہ کیا ہے کہ اس کا فاصلہ بڑھ گیا ہو، کلرک نے کہا کہ نہیں سر اسی آفس میں ہوں، پھر انوار نقوی نے مخدوم صاحب کو بتایا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ موصوف جس سیٹ پرکام کررہے تھے اس نے ہر کام کے ”ریٹ“ مقرر کر رکھے تھے جب تک پیسے وصول نہ کرلے یہ لوگوں کو بہت تنگ کرتا اور چکر لگواتا ہے جس پر میں اس کو کئی بار وارننگ دی ہے اب میں نے تنگ آکر اس کا تبادلہ اسی آفس میں اسی کمرے میں کیا کہ جس سیٹ پر یہ کام کرتا تھا اس کے سامنے والی سیٹ پر تبدیل کردیا ہے جس پر اس کی جان نکل رہی ہے، یہ اب تک مجھے ایک سو سے زائد سفارشیں کراچکا ہے اور میں آپ سے بھی معذرت کرتا ہوں، جس پر مخدوم صاحب نے اس کلرک کو برابھلا کہا کہ مجھے شرمندہ کرایا ہے اور اس کے سامنے انوار نقوی سے کہا کہ میری ایک سفارش مان لیں اس کو دوبارہ اس سیٹ پر بالکل نہ لگائیں۔

جب سے تحریک انصاف کی مرکز اور پنجاب میں حکومت آئی ہے، بیوروکریسی کا حال بھی اس کلرک جیسا ہوگیا ہے، وہی ملازمتیں ہیں، وہی کام ہے صرف ایک تبدیلی آئی ہے کہ شہبازشریف کی جگہ عثمان بزدار وزیراعلیٰ بن کر ایوان وزیراعلیٰ بیٹھا ہے۔ بیوروکریسی کی صرف سیٹیں تبدیل کی گئی ہیں جس پر کہا جارہا ہے کہ بیوروکرسی کو بہت سے تحفظات ہیں جس وجہ سے وہ کام نہیں کررہی ہے، وجہ اوپر بیان کردی ہے۔

مسلم لیگ ن کی سابقہ 10 سالوں کی حکومت میں جو کلچر پروان چڑھایا گیا اس کے برعکس بیوروکریسی اب کام کرنے کو راضی نہیں، دوسرا نیب نے بھی چھرے تیز کررکھے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ نیب کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان ہے جو اس وقت میرا موضوع نہیں ہے، سابقہ حکومت میں بیوروکریسی جس طرح ہر منصوبے میں اپنا حصہ وصول کرتی تھی وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، اب بیوروکریسی کو صرف تنخواہ پر کام کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے خاص طور پر پنجاب کی بیوروکریسی نے پی آئی اے کے پائلٹوں والی ”گو سلو“ پالیسی اپنالی ہے، کچھ بیوروکریٹس سے جب بات ہوئی تو وہ بہت پریشان دکھائی دیے اور کہا اب کام کرنے والا ماحول نہیں رہا، نیب، اینٹی کرپشن بہت فعال ہیں، ایک بیوروکریٹ سے میں نے کہا کہ جب آپ نے کوئی غلط کام نہیں کرنا تو پھر کس بات کا ڈر ہے، اس نے کہا آپ یہ بات نہیں سمجھ سکتے، مطلب صاف ظاہر ہے اور یہ بات قاری بھی سمجھ سکتے ہیں۔

یہ مسئلہ اپنی جگہ، اصل مسئلہ ہمارے پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار ہیں، شرافت حد سے بڑھ جائے تو لوگ سر پر چڑھ جاتے ہیں، صوبے کی حالت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ صاحب اہم کام کے لئے اپنے پرنسپل سیکرٹری کو حکم دیتے ہیں اور پرنسپل سیکرٹری متعلقہ سیکرٹری یا افسر کو ٹیلیفون کرتے ہیں اور وہ افسر یس سر کہہ کر تحریری طور پر کوئی نہ کوئی جواز بنا کر کام نہیں کرتے، کبھی وزیراعلیٰ نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ انہوں نے ایک ماہ میں کتنے ڈائریکٹو جاری کیے ہیں اور ان میں سے کتنوں پر افسران نے عمل کیا ہے؟ ، یقیناً ان کو اس کے لئے فرصت ہی نہیں۔

سردار عثمان بزدار کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا ہے، ان کو ایک سال میں دس، بارہ ایسے افسر نہیں ملے جن کو عوام کو سہولتیں دینے والے محکموں (تعلیم، صحت، بلدیات وغیرہ) میں تعینات کرتے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل جاتا، وزیراعلیٰ کے قریبی عزیز سردار اعجاز جعفر ایڈیشنل چیف سیکرٹری رہے ہیں، انہوں نے اتنا عرصہ سول سروس میں گزار دی مگر شاید رشتہ داری والی جیلسی ہے کہ انہوں نے بھی اپنے رشتہ دار وزیراعلیٰ کی مدد نہیں کی کہ ان کو قابل اور ایماندار افسروں کی ٹیم بنا کر دیتے تاکہ پنجاب میں معاملات بہتر انداز میں چلائے جاسکتے، ان حالات میں تو میڈیا کو موقع ملنا ہی تھا اور پھر میڈیا نے وزیراعلیٰ پنجاب پر دل کھول کر تنقید کی اور کررہا ہے

پچھلے دنوں وزیراعلیٰ نے اہم پوسٹس پر افسر تعینات کرنے کے لئے افسران کے خود انٹرویو کیے مطلب شہباز شریف بننے کی کوشش کی اور ایک ایسے شخص کو کمشنر گوجرانوالہ لگا دیا ہے جس پر نیب کی انکوائری چل رہی ہے، اس شخص کے بارے میں کسی بھی بیوروکریٹ سے بات کریں تو وہ پہلے قہقہہ لگائے گا اور پھر اپنی رائے دے گا، ہیرے صرف جوہری ہی تلاش کرسکتا ہے، یہ عام شخص کے بس کی بات نہیں، وزیراعلیٰ صاحب افسران کے انٹرویوز کے بجائے انٹیلی جنس رپورٹ لے لیا کریں تو شاید کچھ اچھے لوگ ان کو مل جائے ں، اب تک تو وزیراعلٰی ہر کام شہباز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کررہے ہیں کیونکہ ایوان وزیراعلیٰ میں صرف وزیراعلیٰ ہی بدلا ہے باقی سارا عملہ شہبازشریف دور کا ہی تعینات ہے۔

اب پنجاب میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر بیوروکریسی کی اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو کہ کئی روز چلے گا مگر مجھے پھر بھی بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے، نئے چیف سیکرٹری کے پاس کون سی گیڈر سنگھی ہے کہ وہ بیوروکریسی کو کام کرنے پر مجبور کریں گے، پنجابی کی مثال ہے کہ ”مجاں، مجاں دیاں پیناں ہوندیا نے“، ایک بیوروکیٹ کو ہٹائیں گے دوسرا بھی تو بیوروکریٹ ہے،

مگر اب گیم عثمان بزدار کے ہاتھ سے نکل چکی ہے، اب منظر بدل چکا ہے، جس طرح چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نئے تعینات کیے گئے ہیں نہیں لگتا کہ عثمان بزدار سے کوئی مشورہ کیا گیا ہوگا، اب تو نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو براہ راست بنی گالہ سے ہی چلایا جائے گا، بے شک وزیراعظم عمران خان نے لاہور آکر ایک بار پھر عثمان بزدار کی تعریف کی اور اعتماد کا اظہار کیا ہے مگر واقفان حال کہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے عثمان بزدار کو آخری وارننگ مل چکی ہے۔

Facebook Comments HS