فطرت کے وسیب سے ” کرونبلاں”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 حسن سچائی ہے اور سچائی حسن

سب کچھ یہی ہے

جو دنیا میں تمہیں دیکھنا چاہئے

اس سے زیادہ جاننے کی ضرورت نہیں

یہ باتیں اس شاعر، ادیب اور دانشور کی ہیں جسے قدرت نے بہت تھوڑے دن عطا کئے بہادر شاہ ظفر کا مصرع “عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن “اس پر بڑا صادق آتا ہے اس کی زندگی واقعی چار چھ دن ہی بنتی ہے انیس سال کی عمر میں باقاعدہ شاعری شروع کی محبت کی شمع دل میں روشن کی اور پچیس سال کی عمر میں موت اسے اٹھا کر لے گئی اس مختصر عرصے میں اس نے وہ سب کچھ کر ڈالا جو قیامت تک اس کے نام کو زندہ رکھے گا اس کا نام جان کیٹس تھا وہ جذبے اور تخیل کا بڑا شاعر تھا جو کم عمری میں ہی دنیا چھوڑ گیا مگر اس کے لکھے ہوئے الفاظ نے اسے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے امر کر دیا۔

جان کیٹس کا ایک دوست تھا جس کا نام براؤن تھا وہ جان کیٹس کی شاعری اور محبت بارے لکھتا ہے کہ “یہ 1819ء کے دن ہیں میرے گھر کے قریب ایک کوئل نے درخت پر گھونسلا بنا لیا تھا کیٹس کو اس کی آواز میں ایک درد اور کشش نظر آتی وہ صبح ناشتے کے بعد میز کرسی بچھا کر درخت کے نیچے بیٹھ جاتا جب وہ کمرے میں وآپس آتا تو کاغذوں پر اشعار کا ہجوم ہوتا تھا اس کی کئی نظمیں اسی عمل کے بعد مکمل ہوئیں۔ وقت کا کام ہے گزر جانا اور یہ ہر حال میں گزر جاتا ہے۔

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب ” کرو نبلاں” کا مصنف ساندل بار کا وسنیک ہے وہ راوی کنارے جسے پنجابی میں ہٹھار کہتے ہیں پیدا ہوا اور راوی کنارے بیٹھے بیٹھے اس کی دو کتابیں تاریخ کا حصہ بنی ہیں جان کیٹس، شیلے، بائرن، کولرج کا ہم عصر تھا تو کرونبلاں کا مصنف عاصم پڈھیار، نصیر خان بلوچ، رائے محمد خان ناصر اور زاہد حسن کے عہد میں دھرتی ماں کی شان اور وسیب کی آن ٹھہرا ہے جو امن، محبت اور پیار کے فلسفے کی انگلی پکڑ کے آگے بڑھ رہا ہے ان کا ایک شعر جو انکی پہلی کتاب “کوئی تے ہووئے “سے ہے، ملاحظہ کریں

سانوں تخت ہزارے سد لا سانوں راس نئیں آیا جھنگ

اساں گھڑی نوں ٹنگیاں کندھ تے سانوں ویلے دتا ٹنگ

وقت کے مطابق ہمارے حالات و واقعات کو سمجھنے اور پرکھنے کیلئے اس شعر کی روح کو جاننے سے بہت کچھ سمجھ آجاتا ہے جبکہ حال میں ہی چھپنے والی دوسری کتاب ” کرونبلاں” جس میں شاعر نے اپنے دل کی آنکھ سے حقیقی زندگی کو دیکھا اور اسے اپنی شاعری میں بیان کیا ہے انسان اور فطرت کو نئے زاوئیے سے دیکھا اور دونوں کو ایک رشتے میں باندھنے کا فرض اپنے اوپر قرض کی صورت میں ادا کیا ہے۔ شاعر نے اپنے تجربے اور مشاہدے پر اعتبار کیا ہے۔ حقیقی زندگی اور اردگرد بکھرے فطرت کے نظاروں اور اشیاءمیں حقیقی مسرت اور خوشی کا کھوج لگایا ہے، نہ صرف کھوج لگایا ہے بلکہ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں حقیقی مسرت کی وضاحت کی ہے۔

شاعری پڑھ کے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ بچپن سے ہی فطرت کے قرب کا عادی رہا ہے۔ اس نے بچپن میں ہی فطرت کو بہت قریب سے دیکھ لیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوبصورتی، سچائی، مسرت کے بے پناہ خزانے ڈھونڈ لئے ہیں اب وہ اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کو بتلانا چاہتا ہے ان خوشیوں سے قارئین کو آگاہ کرنا چاہتا ہے وہ راوی کنارے دیہاتی زندگی کی معصومیت، خوشیاں اور مسائل کو شعری روپ دینے کے فن سے بہت اچھی طرح آشنا ہے۔

ہوریس کہتا ہے کہ جس طرح درخت کی چھال درخت سے الگ ہو کر سوکھ جاتی ہے اس طرح الفاظ بھی پرانے ہو کر مر جاتے ہیں شاعروں کو چاہئے کہ وہ نئے اور پرانے الفاظ اپنی شاعری میں اعتدال کے ساتھ استعمال کریں۔ ہوریس کی اس بات کا ثبوت عاصم پڈھیار کی شاعری میں پوری سچائی کے ساتھ نظر آتا ہے جس طرح انہوں نے متروک اور گم ہوئے الفاظ کو نئے الفاظ کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیا ہے وہ قابل تعریف ہے زرا ملاحظہ ہو۔

منجی، پڑھا، گھڑیتھنی، بوہکر، جواہیاں، چنگاں، ریڑکا، نیترے، للوت، ریڑ، تون، نہیاں، کہیں، سروچے، باہک، سچج، وگ، ماہل، کھمبانیاں، ڈنگوریاں، کوہاڑیاں، ولیوا، کہیاں، بلونگڑے، لنگوٹا، تھنج، تیسے، واہڑے، سہاگے، ستوبگھے، لٹونیاں، گڈھوریاں، بدھیج، جھیترہ، گوڈے کھوڑی، نوی پوچ، نتھاواں، ان جھک، گرانہہ اور اس طرح کے کئی الفاظ ہیں جنہیں اس کتاب میں پڑھ کے بے ساختہ انسان یہ کہتا ہے کہ شاعری بے ساختہ جذبات کے اظہار کا نام ہے اور یہ جذبہ طاقتور ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ طاقتور ہونا چاہئے۔

کرونبلاں کا مصنف اس معیار پر بھی پوری طرح سے پورا اترتا دکھائی دیتا ہے کتاب کے مطا لعہ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مصنف فطرت کا شاعر ہے وہ دیہاتی زندگی اور زمین پر بسنے والے انسانوں کا شاعر ہے جس کی ساری شاعری فطرت کے بکھرے ہوئے حسن، معصوم دیہاتیوں، کھلے آسان میں اڑنے والے پرندے، بوائی اور کٹائی کے موسم، انسانوں کے معصوم جذبات کے گرد گھومتی ہے اس کے معصوم کردار قاری کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتے زرا ملاحظہ ہو اور توجہ ہو۔۔۔

اڈ دے کبوتراں دی

اکھ پڑھ لئی نی جنہاں تیرے روپ نوں اے سفنے اچ تکیا

نی کھڑے ہوئے مکھڑے تو انج پیا جاپدا

کہ سوکے دیاں ماریاں نی فصلاں نو لگیا اے

پانی جویں نہر دا

شاعر نے اپنی اس کتاب میں اپنے بچپن، لڑکپن، جوانی کی یادوں کو اس کتاب کا حصہ بنایا ہے فطرت سے اپنے قرب کو ظاہر کیا ہے یوں لگتا ہے کہ ماں کی سنی لوری سے ہی اس نے فطرت کو اپنی روح میں بسا لیا ہے وسیب اور رہتل اس کی یادداشت کا حصہ بن گیا ہے آج وہ سب کچھ شاعری کی صورت میں ہم سب کے سامنے ہے عاصم پڈھیار سے راقم الحروف کی پہلی ملاقات پنجابی زبان و ادب کو نئی جہت دینے والے شاعر، ادیب، دانشور اور فلسفی رائے محمد خان ناصر کے ساتھ ہوئی تھی جب وہ غریب خانے پر تشریف لائے تھے۔

جس معاشرے میں شاعری، ادب، فنون، لطیفہ، حجرے، بیٹھک، چوپال، گدی، تکیے زوال پزیری کی طرف گامزن ہوں وہاں کتاب میں انسانی اقدار اور انسانی اقدار سے پیار نظر آتا ہے جہاں بات کرنا جرم ہو وہاں سانس لیتا پنجاب، چلتا، پھرتا پنجاب نظر آتا ہے یہی وہ بات ہے جو کرونبلاں کو باقی کتابوں سے ممتاز کرتا ہے

ساندل بار کا یہ نوجوان اپنے پورے وزن کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اس کی شاعری پڑھ کے یہ کہنا پڑے گا کہ قلم روح کی زبان ہے اور اس نے راوی کنارے بیٹھے بیٹھے پنجاب کی روح کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ جس طرح اس نے بوڑھے راوی کی گود میں بیٹھ کر امن، محبت اور پیار کے بول بولے ہیں وہ زرا آپ بھی ملاحظہ کریں۔۔۔

واہندھیئے نی راویئے

گلاں نہ مچاویئے

کریئے کوئی آسرا پانیاں دے روڑھ دا

تھل ہوئیاں پیپناں تے ڈگدے کوہیٹر دی

اکھیں دیاں ٹوئیاں ول ویکنی بناوئیے

واہندھیئے نی راویئے

آجا رل کھاویئے

پکا ہویا چھولیا دھریک تھلے بہہ کے

تھکے ہوئے موسماں آرام ہو سی کرنا

چادراں تریل دیاں ریتاں تے وچھاویئے

واہندھیئے نی راویئے

فصلاں اگاویئے

واہندے دیاں مناں اُتے گڈیئے جوار نی

رل کے تے آجا دوویں کریئے نی راکھیاں

چم دی کھمبانی لے کے چڑیاں اڈاویئے

واہندھیئے نی راویئے

یاداں نہ بھلاویئے

لنگھے ہوئے ویلیاں دے چیتڑے تے رکھیئے

گائے ہوئے بیلیاں چ پورکھاں دے گیت جے

رب نہ بھلاوے اسیں کیویں بھل جاویئے

واہندھیئے نی راویئے

رٹھڑے مناویئے

چھڈ گئے پکھیرواں دے دیساں اُتے جا کے

تیریاں کناریاں تے پکے امرود نی

طوطے کسے دیس اُتوں سد کے لیاویئے

واہندھیئے نی راویئے

دل نہ دکھاو یئے

نال رل جمیا دے رکھیئے خیال نی

اُوتر ہوئیاں بڈھاں وچ پانی دی ترپ نئیں

چلدے پرانیں سبھے ساک نہ مکاویئے

واہندھیئے نی راویئے

آجا پچھوتاویئے

ادھ وچوں کاروں اس چھکی ہوئی لکیر تے

ماواں دیاں لوریاں تے اج وی نیں سانجھیاں

دھرتی دے گیت وی تے آجا کٹھے گاویئے

واہندھیئے نی راویئے

چھج چ چھنڈاویئے

بھرماں دے دانیاں دا پلے بنھ پور نی

پنڈ دے چوراہے وچ بھٹھی تپ گئی اے

پیڑاں دے پراگے وانگوں ہنجواں دا بھاڑا دے کے

دکھڑے بُھناویئے

واہندھیئے نی راویئے

جماں دیئے ساویئے

کیتا ہیی، ہنیرنی پانی جہڑے ڈک لئے نی

باڈراں تو پار نی

ریت تیری اُڈاُڈ سراں وچ آوندی

ٹھڈے ساہ بھر کے تے مڑھکا سکاویئے

دس کھاں نکھٹیے نی اسیں کتھے جاویئے ؟

 

 

 

 

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •