یہ چینی ماڈل کیا ہے؟ (مکمل کالم)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا میں تقریباً دو سو سے زائد ملک ہیں، ان ملکوں میں حکمرانی کے پانچ قسم کے ماڈل رائج ہیں، جمہوریت، بادشاہت، آمریت، یک جماعتی نظام اور ہائبرڈ جمہوریت۔ جس جمہوریت پر ہم صبح شام تبرّا کرتے ہیں وہ امریکہ، برطانیہ، نیوزی لینڈ، ناورے، ڈنمارک، سویڈن جیسے ترقی یافتہ ممالک میں قائم ہے۔ بادشاہت والا نظام خلیجی ممالک کے بھائی لوگوں نے اپنا رکھا ہے، اِس نظام کے اپنے فائدے ہیں، جمہوریت میں تو عوام کے سامنے جوابدہی جیسی خرافات سننی پڑتی ہیں جبکہ بادشاہت میں ایسا کوئی تردد نہیں کرنا پڑتا، کوئی زیادہ بکواس کرے تو اس کی تکہ بوٹی بھی کی جا سکتی ہے۔ فوجی آمریت یوں تو آؤٹ آف فیشن ہو چکی ہے مگر اب بھی میانمار، تھائی لینڈ، مصر اور کئی افریقی ممالک میں اِس کے گاہک موجود ہیں، خدا نے رونقیں لگائی ہوئی ہیں، وہاں بھی دنیا کا کاروبار چل رہا ہے۔

یک جماعتی نظام ہمارے محبوب چین میں رائج ہے، شمالی کوریا کا ماڈل بھی یک جماعتی نظام کا ہے مگر ظاہر ہے کہاں چین، کہاں شمالی کوریا، دور دور تک کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ رہی ہائبرڈ جمہوریت تو اِس کی مثالیں ڈھونڈنا / دینا ذرا مشکل ہے، ہائبرڈ جمہوریت کا مطلب ہے آدھا تیتر آدھا بٹیر، یعنی ملک میں انتخابات ہوتے ہیں، پارلیمان قائم ہے مگر جمہوری اقدار نہیں ہیں، زبان درازی پر زبان کھینچ لی جاتی ہے، مخالفین پر مقدمے بنا کر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے اور ٹی وی چینلز پر چھاپہ مار کر صحافیوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے، ایسے ملکوں کی مثالیں آپ خود ڈھونڈ لیں، اِن میں سے ایک تو ہمارا پسندیدہ نکل آئے گا۔

ہمیشہ کی طرح ہم تین میں نہ تیرہ میں، ہمارا باوا آدم نرالا ہے اور نرالا ہی رہے گا، ہمیں ناروے والی فلاحی ریاست چاہیے، اردگان یا مہاتیر محمد جیسا لیڈر چاہیے، چین جیسا معاشی ماڈل چاہیے، امریکہ جیسی آزادی چاہیے، تھائی لینڈ والا ماحول چاہیے اور سعودی عرب جیسا اسلامی نظام بھی۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر ہم چین کی طرح لوگوں کوکرپشن پر پھانسیاں دینی شروع کر دیں، سنگا پور کی طرز پر بیوروکریسی کا نظام نافذ کر دیں، ترکی کا نیم جمہوری ماڈل اپنا لیں اور مہاتیر محمد کے ہاتھ پر بیعت کر لیں تو ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

دراصل ہم چاہتے ہیں یہ ہیں کہ ہمیں کچھ نہ کرنا پڑے بلکہ کسی خود کار آئیڈیل نظام کے تحت تمام کام از خود ہو جائیں، ہم یونہی گلیوں میں کوڑا پھینکتے رہیں کوئی گاڑی آئے اور پلک جھپکتے میں صفائی کر کے چلی جائے، ہمیں کوئی ٹیکس نہ دینا پڑے مگر ریاست ہمیں وہ سہولتیں دے جو پچاس فیصد ٹیکس وصول کرنے والے ملک بھی نہیں دے پاتے۔ ظاہر ہے ایسی لاڈیاں اپنے ملک کے ساتھ ہی ہو سکتی ہیں۔ اچھی بات مگر یہ ہے کہ ہم مایوس نہیں ہوتے اور ہمہ وقت اِس تلاش میں رہتے ہیں کہ دنیا کا کون سا ایسا کامیاب ماڈل ہے جسے ہم اپنے ہاں لاگو کر سکتے ہیں، ایک ماڈل چین کا ہے جو ہمیں بہت پسند ہے۔ یہ ماڈل آخر ہے کیا؟

چین میں کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے، ساڑھے آٹھ کروڑ لوگ اِس کے رکن ہیں، یہ لوگ براہ راست منتخب نہیں ہوتے، شہری اِس کی رکنیت کے لیے درخواست دیتے ہیں اور پھر پارٹی طے کرتی ہے کہ کوئی شخص رکن بنے کا اہل ہے یا نہیں، کون کمیونسٹ سوچ کا وفادار ہے کون نہیں، گویا ایک بہت بڑی آبادی سیاسی نظام سے پہلے مرحلے میں ہی باہر ہو جاتی ہے۔ چین میں اِس نظام کو جمہوریت کہتے ہیں مگر دنیا بہر حال اسے جمہوریت نہیں مانتی جہاں عام آدمی کو فیصلہ سازی کو حق نہ ہو۔

ہمارے ہاں پڑھے لکھے آسودہ حال لوگوں کو البتہ اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کا خیال ہے کہ عام آدمی جاہل اور ان پڑھ ہے، اسے سیاسی نظام، حکمرانی کی نزاکتو ں اور ریاست کے معاملات چلانے کا کیا پتا، اسے صرف دال روٹی سے غرض ہے اور چین کے معاشی نظام نے صرف دال روٹی ہی نہیں اپنے عوام کو مرغی بھی مہیا کر دی ہے، ایسے میں اظہار رائے اور جمہوری آزادیوں کی عیاشی کی ضرورت اب صرف انہیں ہے جن کے پیٹ پہلے سے بھرے ہیں اور جنہیں اپنی دانشوری جھاڑنے کا شوق ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی دلیل جو اٹھے بیٹھے دی جاتی ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ مفروضہ ہی غلط ہے کہ عام ان پڑھ آدمی کو یہ علم ہی نہیں کہ اس کے مفاد میں کیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اسے صرف دال روٹی کی ضرورت ہے جو پوری کردینی چاہیے، باقی عیاشیاں ہیں جو اُس وقت دی جائیں گی جب معاشرہ میں شعور آ جائے گا، یہ شعور تعلیم عام کرنے سے آئے گا، لہذا جب تک ہم اس مقام تک نہیں پہنچتے عام گنوار آدمی کا پیٹ دال روٹی سے بھرتے رہیں۔ دوسری بات کہ یہ فیصلہ کون کرے گا اور کیسے کرے گا کہ معاشرے میں اب تعلیم عام کرنے سے شعور آ چکا ہے لہذا لوگوں کو دال روٹی کے ساتھ ساتھ بکواس کرنے، ووٹ ڈالنے، حکمرانوں کو منتخب کرنے اور گھر بھیجنے کی اجازت بھی دی جائے۔

دراصل ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ عام ان پڑھ آدمی کے مفاد میں کیا بہترہے یہ ہم اسے بتائیں گے اس جاہل کو کیا پتا! بدقسمتی سے ہم اِس تصور سے ہی ناآشنا ہیں کہ انسان کو صرف معاشی آزادی ہی نہیں چاہیے ہوتی بلکہ اس کے لیے سیاسی، سماجی اور ثقافتی آزادی بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھارتی مقبوضہ کشمیر کے مسلمان دہلی سرکار کے ہر معاشی پیکج کو مسترد کر کے انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرتے، صاف ظاہر ہے کہ انہیں صرف دال روٹی ہی نہیں، آزادی بھی چاہیے، اپنی مرضی سے جینے کی آزادی۔

چین میں معاشی آزادی ضرور ہے، آپ کاروبار کرکے ارب پتی بن سکتے ہیں، مگر ایک خاص حد کے بعد آپ کی کمپنی میں کمیونسٹ پارٹی کا عہدے دار آ کر براجمان ہو جائے گا اور فیصلہ سازی کی ویٹو پاور اُس کے پاس ہوگی، ایسا نہیں ہوگا کہ وہ کمپنی کے کاروبار کو متاثر کرے گا مگر کمپنی بہر حال اُس کی مرضی کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں کر سکے گی۔ باقی رہی سیاسی آزادی تو اُس کا حال بیان کیا جا چکا، کمیونسٹ پارٹی سے باہر کچھ بھی نہیں، ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی سے یہ کبھی نہیں پوچھا گیا کہ کیا آپ اِس نظام سے مطمئن ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ بہت خوش ہوں مگر اِس سوال کا جواب بہرحال کبھی نہیں آیا۔

رہی بات سماجی اور ثقافتی آزادیوں کی تو یہ چینی معاشرے میں موجود ہے مگر اسے حکومت نے کافی حد تک  ریگولیٹ کر لیا ہے۔ یو ٹیوب، نیٹ فلکس، کورا، بی بی سی، رائیٹرز، ایچ بی او، ریڈ اٹ، انسٹا گرام، ٹمبلر، وکی پیڈیا، گوگل، ٹویٹر، وکی لیکس، اکنامسٹ، ایمنسٹی انٹرنیشنل وغیرہ سب پر پابندی ہے، مگر اِس کے عوض حکومت نے عوام کو متبادل ایپس بنا دی ہیں، میڈیا البتہ مکمل کنٹرولڈ ہے سو ایسے میں کسی منفی خبر کا باہر آنا ممکن نہیں۔

وہ یہ ہے وہ ماڈل جسے اپنے ہاں کچھ لوگ لاگو کرنا چاہتے ہیں، اِس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے ناقابل یقین ترقی کی ہے، چین کا معاشی ماڈل ہنر مند افرادی قوت کی بہترین مثال ہے، ہمیں بھی اِس حد تک چین کی پیروی کرنی چاہیے، لیکن اگر کوئی کہے کہ اِس کے عوض باقی آزادیوں سے دستبردار ہو جاؤ تو آئی ایم سوری!

(خصوصی طور پر ہم سب کے لئے ارسال کیا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 45 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada