بیکن ہاؤس نے کیا برا کہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"husnainدادا اردو، سرائیکی اور فارسی بولتے تھے۔ ذاتی ڈائری فارسی میں لکھی، فارسی کا اس وقت وہی مقام تھا جو اب انگریزی کا ہے۔ ایران کا سفر اس زمانے میں انہوں نے بہت مرتبہ کیا تو فارسی روزمرہ بھی جانتے تھے اور بولنا بھی پسند کرتے تھے لیکن آپ بیتی لکھنے کی باری آئی تو اردو میں لکھی گئی۔ شاید سوچا ہو کہ بچوں کو پڑھنے میں مشکل ہو گی۔ طب پر کتابیں لکھیں، وہ بھی اردو میں تھیں۔ بات پہنچانی مقصود تھی تو اس میڈیم کا سہارا لیا جو ان کے خیال میں بہترین ابلاغ کر سکتا تھا۔ دادی صرف اردو اور کسی حد تک فارسی جانتی تھیں۔ ملتان میں رہنے والے پرانے لوگ جانتے ہیں کہ فارسی، اردو اور سرائیکی ساتھ ساتھ چلتے تھے، لوگ اردو بول نہ سکتے ہوں، سمجھ ضرور لیتے تھے۔

نانا اردو، ہندکو، فارسی اور پشتو جانتے تھے، کوئی انوکھی بات نہیں، یہ پشاور کی روایت تھی۔ اردو، فارسی اور پشتو اس زمانے میں وہاں ہر صاحب علم جانتا تھا بلکہ عام آدمی بھی کسی حد تک فارسی محاورے سے واقف تھے۔ ہندکو یوں جانتے تھے کہ بڑے بوڑھے کشمیر سے آئے تھے۔ شاعری کی بات آئی تو وہ اردو میں کی، سفرنامہ بھی اردو میں لکھا، خط و کتابت بھی اردو میں کی۔ نانی جان اور والدہ کی زبان ہندکو ہے، تمام عمر اردو میں بات کی، کتابیں بھی اردو کی پڑھتی ہیں۔ والد سرائیکی، عربی، فارسی اور پنجابی جانتے ہیں، بات وہ بھی اردو میں کرتے ہیں، لکھتے اردو میں ہیں۔ اب اتنی ساری زبانوں کا راستہ کاٹ کر اردو ہم بچوں میں منتقل ہو چکی تھی۔ نانا کا گھر ہو یا دادا کا، اردو ہی بولی جاتی تھی۔ فارسی، عربی، سرائیکی، ہندکو سب ایک طرف رہ گئیں، اگلی نسل اردو کی ہو گئی اور اس میں افسوس کی بات کوئی نہیں تھی۔

واضح رہے کہ اسلاف کی لسانی قابلیت دکھانا یہاں مقصود نہیں، یہ سب اس زمانے میں بالکل عام بات تھی کہ کسی کو تین چار زبانیں آتی ہوں۔ اب بھی جس کا دل چاہتا ہے وہ سرائیکی، ہندکو، فارسی یا عربی سیکھ سکتا ہے، بول سکتا ہے، کوئی روک ٹوک نہیں۔ آپ فقیر سے جی بھر کے سرائیکی یا پنجابی میں بات کیجیے، ہندکو بلوائیے، بات صرف اتنی ہے کہ دلچسپی تھی، تو ہر زبان سیکھی گئی۔
نجف کی امی اردو سمجھ لیتی تھیں، بولنے میں مسئلہ ہوتا تھا۔ انہیں اپنی بات سمجھانے کے لیے سرائیکی سیکھنی پڑ گئی۔ نجف وہ دوست تھا جس کے ہاں دن رات گزارے جاتے تھے اور جس کا ذکر اکثر ہوتا ہے۔ پھر عثمان، قاسم تھے، اسد تھا، حسن تھا، سب کے سب سرائیکی تھے۔ لیکن ہوتا کیا تھا کہ جب اکٹھے بیٹھتے تو بات چیت اردو میں ہوتی تھی، ہاں جھگڑا ہوتا تو برا بھلا کہنے کے لیے سرائیکی یا پنجابی کا استعمال ہوتا۔ دل سے برا بھلا کہنا اور اس میں شدت پیدا کرنا، Real Feel لانا، یہ اردو میں ممکن نہیں تھا، نہ ہے۔ آپ لاکھ کوسنے دے لیجیے لیکن اردو میں غصہ جھاڑ کر نہ آپ کالج کے جھگڑوں میں اپنا کوئی رعب داب پیدا کر سکتے ہیں اور نہ اپنے اندر کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ اردو کی لڑائی بہرحال لڑائی ہی ہوتی ہے لیکن اس میں وہ گاڑھا پن ہرگز نہیں ہوتا جو سرائیکی یا پنجابی سے آتا ہے۔ یہ جذبوں کی زبانیں ہیں، شدت کی زبانیں ہیں، اظہار کی زبانیں ہیں، پیار کی زبانیں ہیں۔ یہ معاملہ عین ویسا ہے جیسے اردو میں آپ اقرار محبت کریں تو وہ کچھ چھچھورا پن سا لگے گا جب کہ آئی لو یو آپ دن میں کئی بار سہولت سے کہہ جائیں گے۔ اسی طرح معذرت اردو میں ہو تو بہت طویل اور اوپرے پن کا شکار ہو گی جب کہ سنجیدہ چہرے سے کیا گیا انگریزی کا ایک سوری آپ کو نسبتاً جلدی نجات دلا دے گا۔ تو زبانوں میں ایسے چلتا ہے۔

زبانوں کے معاملے میں ایک اور مثال دیکھیے، سرائیکی میں ایک لفظ ”کو“ ہے۔ یہ انکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا جامع اور مکمل حرف انکار شاید ہی کسی زبان میں ہو۔ صرف چہرے کے تاثرات کے ساتھ یہ دو حروف پر مشتمل لفظ آپ کی تمام مشکلات کا حل ہے۔ جتنا مرضی طویل سوال ہو اگر جواب دینے کا موڈ نہیں ہے تو ایک \”کو\” اور چہرے کے چند تاثرات آپ کی مشکل حل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح خلوص اور محبت کے اظہار میں پنجابی کا ”پائی یان“ اردو کے بھائی جان سے بہت آگے کی چیز ہے۔ یہ ہماری دیسی زبانیں جتنی بھی ہیں یہ بس ایسی ہی محبتی اور معصوم سی زبانیں ہیں، گالی ہو وہ بھی پورے زور سے لگے گی، پیار بھرا کوئی جملہ ہو وہ بھی تیر کی طرح پیوست ہو جائے گا، ڈرامے بازی، تصنع، بناوٹ ان میں نام کو بھی نہیں ہے۔ یہی حال ان زبانوں میں موجود شاعری کا ہے۔ سیدھے سادے الفاظ جو کہنے والے صدیوں پہلے کہہ گئے، آج بھی زندہ ہیں، پڑھے کم جاتے ہیں گائے زیادہ جاتے ہیں۔ سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی شاعری کی عمر پڑھی جانے والی شاعری سے زیادہ ہوتی ہے۔

دوران تعلیم چار برس پنجابی پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ غریب نواز زبان تھی، جو طالب علم معمولی محنت کے عوض اچھے نمبر لینا چاہتے پنجابی بطور اختیاری مضمون لے لیتے۔ بہت مزا آیا، نئے محاورے، دلچسپ ادب، لفظوں کا اوریجن، بہت کچھ جاننے کو ملا۔ نصابی کتابوں سے ہٹ کر بھی پنجابی کی دنیا بہت دلچسپ تھی لیکن باہر آ کر احساس ہوا کہ اردو، پنجابی، سرائیکی، فارسی یہ سب تیل بیچنے کے لیے کارآمد ہو سکتی ہیں، نوکری چاہئیے یا کچھ کمانا ہے تو انگریزی کے بھاؤ بتانے ہوں گے۔ یہ ایک تکلیف دہ تجربہ تھا۔ پھر یہ بھی دیکھا کہ دنیا میں کسی بھی زبان کا ادب پڑھنا ہے تو وہ انگریزی میں موجود ہے، کوئی جدید سائنسی پیشرفت سمجھنی ہے تو وہ انگریزی میں ہے، افریقہ کے کسی گاؤں کے شاعری رجحانات جاننے ہیں تو وہ انگریزی میں ہیں، ہر لمحے کی خبر معلوم کرنی ہے تو بھی انگریزی پر نظر ضروری ہے، اپنے ہی ملک میں سیاست اور حالات پر نسبتاً بہتر تجزئیے جاننے ہیں تو وہ بھی انگریزی اخباروں میں ہیں، اچھے تعلیمی اداروں میں جانا ہے تو بھی انگریزی شرط ہے، ملک سے باہر بھاگنا ہے تو بھی انگریزی میں بینڈ بجا لانا پڑے گا، یعنی کہیں بھی، کبھی بھی انگریزی سے فرار ممکن نہیں پایا۔ فیس بک پر ہم لاکھ اردو یا پنجابی بگھارتے پھریں، کریں گے تو اس کو Post ہی، اسی طرح ای میل یا ویب ایڈریس بھی اسی زبان میں ہو گا تو انگریزی مجبوری ٹھہری اور ہماری نسل مجبور۔

پنجابی ہو یا سرائیکی، سندھی ہو یا پشتو یا بلوچی، ان کے ساتھ مسئلہ تب ہوا جب نیشنلزم ان کے ساتھ جڑ گیا۔ نیشنلزم اچھا ہے یا برا، اس کی بات نہیں کرتے۔ یہاں صرف یہ دیکھیے کہ ریاست اگر اردو کو مشترکہ زبان بنانے پر آمادہ ہے تو ظاہری طور پر اسے ہر صوبے کا وہ لیڈر نیشنلسٹ لگے گا جو اپنی زبان اور اس سے جڑی ثقافت کی بات کرے گا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، جب بھی کسی علاقے کی زبان یا اس کی ثقافت کو دبایا گیا تو نتیجے کے طور پر نیشنلسٹ تحریکیں وجود میں آئیں۔ ہم علاقائی ثقافتوں، تہذیبوں اور زبانوں کو ایک دن میں یہ کہہ کر نہیں بدل سکتے کہ کل سے آپ سب کی مشترکہ زبان وہ ہو گی جو ہم چاہیں گے، ایسا ہونا تقریباً ناقابل عمل ہے۔ بھئی اتنا ہی عمل ہو سکتا تھا جتنا آج تک ہو گیا، نتیجہ دیکھ لیجیے۔ ہمارے پاس مذہب نسبتاً ایک مشترکہ پہچان تھا وہی کارڈ ہم نے شروع سے آج تک ہر جگہ استعمال کیا، اردو برصغیر مسلمانوں کی زبان ٹھہرائی گئی۔ جو چیز ہم بھول گئے وہ یہ تھی کہ قبائلی پہچان، روایات، ثقافت اور اپنی زبان کو بھی ہمارے لوگ برابر اہمیت دیتے ہیں۔ رد عمل کے طور پر یہ ہوا کہ ان نیشنلسٹ تحریکوں نے مذہب کا لبادہ استعمال کرنے سے گریز کیا۔ جس لڑی میں انہیں پرونے کی کوشش کی گئی تھی، اگر وہ اپنی زبان اور تہذیب کی بقا کے لیے اسی میں شامل ہو جاتے تو ان کی آواز علیحدہ کیسے سنائی دیتی۔ پھر ہماری اشرافیہ نے زبانوں کے مسئلے کو مین سٹریم سیاست میں قبول کرنے سے انکار کر دیا، ان کا خیال تھا کہ وفاق اس طرح مضبوط نہیں رہ سکتا۔ اس طرح وفاقی مضبوطی کے نتیجے میں کئی محترم لوگ اپنی عمر کا بیشتر حصہ جیلوں میں گزار کر آئے، ملک دو لخت ہوا، لیکن ہم ڈٹے رہے۔ واپس پنجابی کی طرف آئیں تو ہم دیکھیں گے کہ پنجابی زبان کی تحریک بھی زیادہ تر بائیں بازو کے ہاتھ میں رہی۔ ریاست اپنے مذہبی اور سیاسی بیانیے کے باعث ان دونوں چیزوں کے ملاپ کو اپنانے سے گریزاں رہی اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ پنجاب ویسے بڑا اور تگڑا بھائی کہلاتا ہے لیکن زبان دساور سے منگائی بولتا ہے، یہ پنجاب کی سو مجبوریوں میں سے ایک ہے۔

جب علاقائی زبانوں کو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہو گی تو ان کے لیے بڑے بڑے لغت بورڈ اور دائرة المعارف بھی نہیں بنائے جا سکیں گے، جب یہ سب کچھ نہیں ہو گا تو دوسری زبانوں سے کوئی بھی اہم کام علاقائی زبانوں میں منتقل ہونا ناممکن ہو گا۔ اور جب یہ سب کچھ ہو گا تو نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں پہلے اردو اور بعد میں انگریزی کو لامحالہ قبول کرنا پڑے گا۔

اگر ہمارے ملک کے پنجابی ماں باپ ہمارے ساتھ گھروں میں بھی اردو بولتے ہیں تو اس کمپلیکس کے پیچھے صرف یہ المیہ ہے کہ اب تک ہم اپنی زبان میں وہ سب کچھ نہیں کر سکے جو ہونا چاہئیے تھا۔ اگر ہمارے پنجابی ماں باپ جانوروں کی طرح محنت کر کے اپنے بچوں کو انگریزی سیکھنے مہنگے ترین سکولوں میں بھیجتے ہیں تو اس کا مقصد سو فیصد یہی ہوتا ہے کہ بچے وہ زبان سیکھیں جس میں انہیں آگے جا کر دنیا بھر سے رابطے کی سہولت ہو۔ وہ اپنی پچھلی پیڑھی کی طرح ایسے نہ ہوں کہ بیس برس ولایت میں گزار کر بھی ان کی زبان بولتے ہوئے ہچکچاتے ہوں اور اپنے ملک میں بھی اعلی نوکریاں انہیں محض اس وجہ سے نہ مل سکیں۔ سی ایس ایس کا اس مرتبہ نتیجہ دیکھ لیجیے، پانی ہو جائے گا سب کچھ۔

بیکن ہاؤس کے اس خط میں جو کچھ تھا وہ اس سے زیادہ سخت تو نہیں ہو سکتا کہ کوئی زبان اپنے ہی علاقے میں پناہ گزین بن جائے؟ انہوں نے جو کہا، بہ صد معذرت اسی لیے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو وہاں انگریزی سکھانے بھیجتے ہیں دیسی زبانوں میں گپ شپ تو کہیں بھی ہو سکتی ہے۔ اگر کسی بھی سکول کے خلاف ہم اس کے دو ماہ پرانے سرکلر کو بنیاد بنا کر ایسے معاملات اٹھائیں گے تو یاد رہے کل کو ہر بچہ کسی نہ کسی سرکلر میں کوئی نہ کوئی مسئلہ نکال کر ان جلوسوں میں مزید اضافہ کر دے گا جو ہمیں آئے دن سڑکوں پر بھگتنے پڑتے ہیں۔ جذبات اپنی جگہ، ماں بولی سے پیار اپنی جگہ مگر بھائی، ہماری نسلوں نے اردو، پنجابی، سندھی، پشتو پڑھ کر کیا حاصل کر لیا، زیادہ سے زیادہ دوبارہ اپنے جیسے طالب علم بنانے کی مشین بن گئے، شاعری کر لی یا ہماری طرح بلاگ لکھے کالم لکھے، قصے کہانیاں لکھ دئیے، چلیں اعلی ادب لکھ مارا لیکن گھر چلا ؟ پیسے کتنے ملے؟ کچھ نہیں، تو اس سے زیادہ کیا ہوا؟ اور ہو بھی کیا سکتا ہے؟ عرض اتنی سی ہے، جب تک ہماری زبانیں اس قابل نہیں ہو جاتیں کہ ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں شاید اتنی جذباتیت ہمیں زیب نہیں دیتی، تعلیمی اداروں کا تقدس اگر طالب علم کے ذہن میں نہیں ہو گا تو وہ انہیں ہر دوسرے دن یونہی جوتے کی نوک پر رکھیں گے جیسے آج بیکن ہاؤس کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

پس نوشت۔ فقیر زندگی میں کبھی بیکن ہاؤس نہیں گیا، نہ وہاں پڑھا، نہ کسی اور ہائی پروفائل ادارے میں تعلیم حاصل کی لیکن حق رکھتا ہے کہ اپنے بچوں کے لیے اچھے خواب دیکھ سکے اور سوچ سکے کہ ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے!

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 481 posts and counting.See all posts by husnain

One thought on “بیکن ہاؤس نے کیا برا کہا؟

  • 20/10/2016 at 8:18 am
    Permalink

    Things are not that simplified. Language is not a cultural liability nor can mere be a source of cultural gratification. Language is a means and right to progress denied to people to ensure a select few of us are not equated by majority. humsub seems to have inherent problem with everything people when it comes to language. lot of references to chowk chorahay ki zaban ka istamaal as something unciviluzed in many articles.. if parents or kids don’t have a right to scrutiny or challenge schools circulars, what authority you and other writers enjoy to challenge hate speech and pemra circulars curbing civ liberties. s

Comments are closed.