محبت اور منڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جو منڈی کی حکمرانی کا دور ہے۔ ہماری سیاست، معیشت اور سماجی، ثقافتی، مذہبی اقدار و رسومات تک کا تعیٌن منڈی کر رہی ہے۔ منڈی کی معیشت کو ہمارے ایک پیارے دوست پروفیسر کالا خان مار، کُٹ اکانومی کہا کرتے تھے۔ اس منڈی کے پنجہ استبداد سے ہمارے جذبات بھی نہیں بچ سکے۔ آج کے مضمون میں ہم منڈی اور محبت کے تعلق پر بات کریں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کس طرح منڈی کی قوتیں انسانی نفسیات سے کھیلتی ہیں اور انسان کے جذبہِ محبت کو منافع بخش کاروبار میں بدل دیتی ہیں۔

گزشتہ مضامین میں ہم اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ انسان کا علیحدہ تشخص اس کے ابدی احساسِ تنہائی کو جنم دیتا ہے اور اس احساسِ تنہائی سے فرار کی خواہش اس کے اندر محبت کرنے اور چاہے جانے کی تمنّا کا سب سے بڑا محرک بنتی ہے۔ چاہے جانے کی خواہش ہی وہ جذبہ ہے جس کو منڈی ایکسپلائٹ کرتی ہے۔

جب آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو دیکھتے ہیں تو اصل میں خود سے ایک سوال پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کیسے دوسروں کے پسند کے معیار پر پورا اتر سکتے ہیں؟ کیسے خوبصورت لگ سکتے ہیں؟ ’خوبصورتی کے معیار پر پورا اترنے کی خواہش ہی آپ کو منڈی کی گود میں دھکیل رہی ہوتی ہے کیونکہ کہ خوبصورتی کے معیار کا تعین کوئی اور نہیں بلکہ منڈی کر رہی ہوتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ صرف امریکہ میں آئینے کے سامنے کھڑے لوگ جب دو سروں کی نظر میں پسندیدہ ٹھہرنے کے لیے حسن و خوبی کے معیار پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں توانکی یہ خواہش 33 ارب ڈالر سالانہ کمانے والی ڈائٹ انڈسٹری، 20 ارب ڈالر سالانہ کمانے والی کاسمیٹکس کی صنعٹ، 300 میلین ڈالر سالانہ کمانے والی پلاسٹک سرجری کی صنعت اور 7 ارب ڈالر سالانہ کمانے والی پورنوگرافی کی انڈسٹری کے منافع میں اضافہ کا سبب بن رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ صنعتیں ہیں جوآج کے دور میں خوبصورتی کے معیار طے کرتی ہیں۔ اور آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ ان کی بنائی گئی مصنوعات استعمال کر کے آپ خوبصورتی کے اس معیار پر پورا اتر سکتے ہیں اور لوگوں کی نظر میں پسندیدہ ٹھہر سکتے ہیں۔

ہمارے جیسے ملکوں کے چھوٹے چھوٹے شہروں میں پھلتے پھولتے بیوٹی پارلرز کے کاروبار، دوسرے ملکوں سے درآمد کی گئی کاسمیٹکس جو روزانہ کھانے کی اشیا کی طرح ضرورت بن چکی ہیں۔ خواتین، بچیاں اور بچے گھر سے باہر نکلنے سے پہلے آئینے کے سامنے کھڑے سرخی، پاؤڈر اور کریموں کی تہیں چہروں پر جماتے ہوئے اس بات سے نابلد ہوتے ہیں کہ ان کی سوچیں اس وقت منڈی کے کنٹرول میں ہیں اور خوبصورتی کے ان کے معیارات کا تعین منڈی کر رہی ہے۔ ٹی وی سکرینوں پہ چلتے اشتہارات، شاہراہوں پہ سجے بڑے بڑے بل بورڈز لا شعوری طور پر ان کے بننے سنورنے، گوری رنگت اختیار کرنے، برینڈز کے ملبوسات اور جوتے خریدنے کا محرک کا بن رہے ہوتے ہیں۔

صرف فیشن کی صنعت تک محدود نہیں بلکہ ہماری جدید زندگی کے سارے انداز و اطوار منڈی کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ منڈی ہے جو ہمیں سٹیٹس کی دوڑ میں لگائے رکھتی ہے، جو مذہب، محبت، شہرت، عزت اور کنزیومرازم کے درمیان ایک ایسا ربط پیدا کرتی ہے کہ لوگ خوشی خوشی لٹنے کے لئے تیار ہو تے ہیں اور سماج کا پیسہ جو اجتماعی بھلائی کے کاموں پر استعمال ہو سکتا ہے وہ غیر ملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔

ایک مذہبی معاشرے میں لوگ خدا سے محبت کے اظہار کے ذریعے شہرت و مقبولیت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہاں ٹوپیوں سے لے کر، نت نئی طرز کے حجاب، عمرہ و حج کے کاروبار، عیدوں کے موقع پر جوتوں اور کپڑوں کے کاروبار، مخصوص مذہبی تہواروں پر غیر ملکی درآمد شدہ قمقموں سے سجائی مسجدیں منافع خوری کے مواقع پیدا کر لیتے ہیں۔ مذہبی طبقہ عجوہ کجھور کی مارکیٹینگ سے جو پیسہ بیرون ِ ملک منتقل کرتا ہے صرف اسی کے اعداد و شمار آپ کے سامنے آ جائیں تو آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔

ہماری وطن سے محبت میڈ ان چائینا جھنڈوں، ماسکس، اور شرٹس سے ہمارا سرمایہ چین منتقل کر دیتی ہے۔ وطن سے محبت بنا سوال پوچھے اس کے دفاعی اخراجات کو جائز قرار دیتی ہے اور اسلحہ بنانے والے ملکوں کو ہمارے خون پسینے کی کمائی سے چوری شدہ ٹیکسوں سے اکٹھی کی گئی دولت منتقل ہوتی رہتی ہے۔

آج اگر آپ ایک لمحے کے لئے ٹھہریں اور سوچیں تو آپ کو اندازہ ہو گا منڈی آپ کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ آپ منڈی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے جی رہے ہیں۔ آپ کماتے ہیں بس خرچ کرنے کے لئے۔ اپنی ضرورت پہ خرچ کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کے منڈی کی منافع کمانے کی حرص و ہوس کو پورا کیا جا سکے۔ بحشیت انسان ہم صرف محبت کے پیاسے ہیں مگر منڈی ہمیں اس محبت کے حصول کے لئے جو راستہ دکھاتی ہے وہ ہمیں محبت کی وادیوں سے کوسوں دور ناجائز منافع خوری کی غلام گردشوں کا قیدی بنا دیتا ہے۔

بقول ڈاکٹر محمد شکیل احمد موجودہ پاکستانی سماج میں قومی ترانے، ادب، فلمیں اور موسیقی محبت و نفرت کے جذبات کو پیدا کرنے کے لئے ایک اہم محرک کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جو سماجی تضادات کو ہماری آنکھوں سے اوجھل کرنے اور طبقاتی اجارہ داری قائم کرنے کا بہت مؤثر ہتھیار ثابت ہوتی ہیں۔ ایک ایسا سماج جو معاشی و سماجی طور پہ نا ہموار ہوتا ہے وہاں محبت بھی صرف طاقت کے تعلقات کا مظہر ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •