گزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان کے ابتدائی چالیس سالوں میں مذہب کی اساس پہ قومی بیانیے کی تشکیل کے اسباب کا جائزہ لیا تھا۔ آج ہم اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق نے جب مارشل لا لگایا تو اس کے سامنے اندرونی طور پر سب سے بڑا چیلنج بھٹو کی عوامی مقبولیت اور سیاسی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل طاقتور نظریے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ ایک ایسا الحاق قائم کرنا تھا جو عوامی سطح پر بھٹو کی مقبولیت کے اثرات کو زائل کر سکے۔
جنرل ضیاء نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے جہاں صنعت کار طبقے سے روابط قائم کیے وہیں سیاسی مذہبی طبقات کو ریاستی امور میں اپنا شراکت دار بنا دیا۔ یہ شراکت داری دوھرے فوائد کی حامل رہی۔ جہاں ایک طرف ضیاء الحق اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے میں کامیاب رہا وہیں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے شروع کیے گئے جہاد کے لیے مفت مجاہدین کی ایک بڑی تعداد بھی حاصل ہو گئی۔ اس دور میں جہاں دنیا بھر سے جنگجووّں نے پاکستان کا رخ کیا وہیں امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کی مدد سے تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی گئی جن سے مذہبی بنیادوں پہ قومی بیانئے کو مزید طاقت حاصل ہو گئی۔
Read more