آزادی کے نام پر طاقت کا کھیل

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا میں نو آبادیاتی نظام کا خاتمہ بظاہر آزادی کی جیت تھی، مگر درحقیقت یہ مغربی سرمایہ دار قوتوں کی ایک منظم عالمی حکمتِ عملی تھی۔ جو دنیا کو نئے انداز میں قابو میں رکھنا چاہتی تھیں۔ یورپ نے اگرچہ اپنے جھنڈے واپس سمیٹے، مگر ان کی جگہ ملٹی نیشنل کمپنیاں، فوجی اڈے، اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے آ گئے۔ اس ”آزادی“ کے پس منظر میں امریکی قیادت میں ایک نیا سامراجی نظام ابھرا، جس

Read more

موٹر وے ریپ کیس اور سزا کا شور

موٹر وے ریپ کیس کے بعد اٹھنے والا شور شرابا کوئی نیا واقعہ نہیں۔ چند برس پہلے زینب زیادتی کیس کے بعد بھی اسی طرح کا شور شرابا اٹھا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو گزشتہ کئی دہائیوں سے جب بھی کوئی ایسا زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لئے ٹیلی وژن سکرینوں سے لے کر نجی محفلوں تک سارے مباحث اسی واقعے کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ مگر جس تیزی سے اس شور شرابے

Read more

عورت کا منکر نکیر سے مکالمہ

وہ اپنی قبر کے سرہانے بیٹھی تھی۔ بہت سے لوگ کلمہ شہادت پڑھتے، مٹھیاں بھر بھر کے قبر پر مٹی ڈال رہے تھے۔ وہ بال کھولے حیراں پریشاں اپنی قبر پہ بنتی مٹی کا پہاڑ دیکھ رہی تھی۔ اسے خیال آیا کہ عمر بھر وہ اسی پہاڑ کا بوجھ اپنے کندھوں پہ اٹھائے گھسٹتی رہی تھی۔ آج اس کے کندھے ہلکے ہو گئے تھے اور اس کا وجود منوں مٹی تلے دب چکا تھا۔ کچھ دیر میں اسکی قبر تیار

Read more

چکی کے دو پاٹ

دن بھر کا تھکا ماندہ سورج مغربی پہاڑوں کی اوٹ میں افق پہ لال رنگ بکھیرتا دھیرے دھیرے اتر رہا تھا۔ شہر کے نواح میں ایک جھگی کے باہر بیٹھے بابا جی نے لال لال آنکھیں کھولیں اور منہ اور ناک سے ایک ساتھ دھوئیں کی ایک لہر ہوا کے چہرے پر بکھیر دی۔ سبزی منڈی کے باہر ایک نیم برہنہ بچے نے کچرے کے ڈھیر سے ایک گلا سڑا لال ٹماٹر اٹھایا ٹٹولا اور اپنے تھیلے میں ڈال دیا۔ سڑک کنارے بیٹھے پھٹے جوتے کو دونوں پاؤں میں دبائے اس نے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور آخری ٹانکا لگانے سے پہلے اپنے پاؤں کی پھٹی ایڑیوں کو غور سے دیکھا۔ ( یہ ایڑیاں نہیں سل سکتی تھیں۔ )

Read more

آرمی ایکٹ میں ترمیم اور ہماری سیاسی حقیقتیں

آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہونے جا رہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے جب سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر سوال اٹھا یا تھا تو ہمارے بہت سے دوستوں نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ سب کا خیال تھا کہ کہانی بدلنے جا رہی ہے۔ تاریخ بدلنے جا رہی ہے۔ آہ کیا دلچسپ تبصرے تھے۔ کیا خواب تھے جو شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ کتنی امیدوں کے غنچے تھے جو بن کھلے

Read more

محبت اور منڈی

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جو منڈی کی حکمرانی کا دور ہے۔ ہماری سیاست، معیشت اور سماجی، ثقافتی، مذہبی اقدار و رسومات تک کا تعیٌن منڈی کر رہی ہے۔ منڈی کی معیشت کو ہمارے ایک پیارے دوست پروفیسر کالا خان مار، کُٹ اکانومی کہا کرتے تھے۔ اس منڈی کے پنجہ استبداد سے ہمارے جذبات بھی نہیں بچ سکے۔ آج کے مضمون میں ہم منڈی اور محبت کے تعلق پر بات کریں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں

Read more

محبت کا محرک کیا ہے؟

اکبر الہ آبادی نے کہا: عشق نازک مزاج ہے بے حد عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا! اور اسی حدیثِ اکبری نے ہمارے لئے عشق و عقل کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا۔ یہاں تک کہ شاعرِ مشرق و حکیم الامت بھی اسی شاعرانہ روائیت کے امین نظر آئے۔ اور ایک مدت تک ہم بھی عشق و محبت کو ایک نہ سمجھ میں آنے والی مافوق الفطرت واردات ہی سمجھتے رہے۔ مگر پھر علم نفسیات میں بڑھتی دلچسپی

Read more

محبت کی نفسیات

دنیا کا زیادہ تر ادب محبت کی کہانیوں، نظموں، گیتوں پہ مشتمل ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جس پہ پہروں بات کی جاسکتی ہے۔ محبت کیا ہے؟ کیوں ہوتی ہے؟ کیسے ہوتی ہے؟ ان سوالوں کے جوابات اکشر لوگ قصے کہانیوں، شعرا کے کلام یا دنیا کے مختلف مذاہب کی کتابوں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ محبت کے اپنے اپنے تجربات پہ پہروں مباحث ہوتے رہتے ہیں۔ مگر اتنا زیر بحث رہنے کے باوجود محبت کی سائنس سمجھنے کی کوشش نہیں

Read more

اتر پردیش کی گلابی لڑکیاں!

عالیہ نے کہا طاقت اکٹھا ہونے میں ہے ۔ اکیلا ہونا بےبسی ، محتاجی اور مظلومیت کو جنم دیتا ہے۔ یہ راز سارے جابر، سارے ظالم جانتےہیں۔ یہ راز سارے مظلوم سارے مجبور بھی جانتے ہیں ۔ پھر فرق کیا ہے؟ فرق اتنا سا ہے کہ ظالم یہ جانتے بھی ہیں اور مانتےبھی ہیں۔ اور مظلوم جانتے ہیں پر مانتےنہیں۔ انہیں بتایا جاتا ہے اتحاد میں برکت ہے ۔ اور برکت کا نزول آسمانوں سے ہوا کرتا ہے ۔ سو

Read more

نظامِ تعلیم میں اصلاحات!

پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے لکھے گئے مضامین کے سلسلے کا یہ آخری مضمون ہے۔ گزشتہ مضامین میں ہم نے مذہبی بنیادوں پر قومی بیانیے کی تشکیل کے اسباب اور اس بیانیے کے تعلیمی نظام پہ اثرات کا جائزہ لیا تھا۔ آج ہم اس بیانیے کے زیر اثر نصاب اور طرز تدریس پر مختصر گفتگو کے بعد کچھ سفارشات پیش کریں گے جنکی روشنی میں اصلاحات کے عمل کی ابتدا کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں

Read more

پاکستان میں تعلیمی اصلاحات

گزشتہ مضامین میں ہم نے ان اسباب کا جائزہ لیا تھا جن کی بنیاد پر پاکستان کا قومی بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ گزشتہ مضامین سے جڑی اس بحث کو ہم آج آگے بڑھاتے ہیں۔ آج ہم بالخصوص اس قومی بیانیے کے زیر اثر اپنے تعلیمی نظام کے خدوخال پر بحث کریں گے۔ چونکہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ایک بہت طویل مکالمے کا متقاضی ہے اس لیے یہاں ہم تعلیمی نظام کے صرف تین اہم ترین اجزائے ترکیبی کو

Read more

پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ، مگر کیسے؟

گزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان کے ابتدائی چالیس سالوں میں مذہب کی اساس پہ قومی بیانیے کی تشکیل کے اسباب کا جائزہ لیا تھا۔ آج ہم اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق نے جب مارشل لا لگایا تو اس کے سامنے اندرونی طور پر سب سے بڑا چیلنج بھٹو کی عوامی مقبولیت اور سیاسی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل طاقتور نظریے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ ایک ایسا الحاق قائم کرنا تھا جو عوامی سطح پر بھٹو کی مقبولیت کے اثرات کو زائل کر سکے۔

جنرل ضیاء نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے جہاں صنعت کار طبقے سے روابط قائم کیے وہیں سیاسی مذہبی طبقات کو ریاستی امور میں اپنا شراکت دار بنا دیا۔ یہ شراکت داری دوھرے فوائد کی حامل رہی۔ جہاں ایک طرف ضیاء الحق اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے میں کامیاب رہا وہیں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے شروع کیے گئے جہاد کے لیے مفت مجاہدین کی ایک بڑی تعداد بھی حاصل ہو گئی۔ اس دور میں جہاں دنیا بھر سے جنگجووّں نے پاکستان کا رخ کیا وہیں امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کی مدد سے تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی گئی جن سے مذہبی بنیادوں پہ قومی بیانئے کو مزید طاقت حاصل ہو گئی۔

Read more

پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ، مگر کیسے؟

گزشتہ مضمون میں ہم نے ان مقاصد کا جائزہ لیا تھا جن کے لئے ہمارے ہاں نظام تعلیم کی نقش گری کی گئی۔ اس مضمون میں ہم گزشتہ مضمون میں شروع کی گئی بحث کو آگے بڑھائیں گے اور ان سیاسی اسباب کو تاریخی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں گے جن کے طفیل آج کا تعلیمی نظام وہ اذہان پیدا کر رہا ہے جو فکری بانجھ پن کا شکار، تخلیقی صلاحیتوں سے محروم اور عمومی روّیوں میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔کسی ملک کا سیاسی و معاشی نظام بہت سارے ذیلی نظاموں کے مجموعے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان ذیلی نظاموں میں سے ایک نظام تعلیم بھی ہے جو قومی بیانیے کی تشہیر کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ اس لیے نظام تعلیم کو سمجھنے کے لیے قومی بیانیے کو سمجھنا، اس کے وجود میں آنے کے اسباب کو جاننا اور اس کے تسلسل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قومی بیانیے کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔

Read more

پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ، مگر کیسے؟

پاکستانی ریاست اور سماج کے سامنے آج انتہا پسندی کے خاتمے کا سوال ایک بہت بڑے چیلنج کی صورت میں کھڑا ہے۔ اس انتہا پسندی کے مظاہر ہمارے عمومی رویّوں سے لے کر سماجی ویب سائٹس پر ہمارے نوجوانوں کے افکار میں با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔ عدم برادشت کے گزشتہ کئی دہائیوں سے پھلتے پھولتے رجحانات نے سماج کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لعنت سے نمٹنے کے لیے اگر بر وقت اقدامات نہ کیے گئے تو پورا سماجی ڈھانچا دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔کسی بھی مسلے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے اصل علت و اسباب کی مکمل اور گہری سمجھ بوجھ حاصل نہ ہو جائے۔ چونکہ انتہا پسندی کا زہر پورے سماج کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے لہذا اس مسلے سے نمٹنے کے لیے ایک سنجیدہ کثیر جہتی مباحثے کی ضرورت ہے۔ یہ تحریر ایسے مباحث کے آغاز کے لیے میری ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔ امید ہے کہ اہل فکر و دانش اس بحث کو آگے لے کر چلیں گے اور پاکستان کے فیصلہ ساز ادارے ان مباحث کی روشنی میں سماجی اصلاحات کے عمل کو سنجیدگی سے لیں گے۔

Read more

یکم مارچ 2019 کو مرنے والے کشمیری کا عالم ارواح سے خط

اے خداوندان آئین و سیاست نمشکار، سلام یکم مارچ دو ہزار انیس کی یخ بستہ رات میں اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور وفا شعار بیوی کے ساتھ اپنے گھر میں آگ کا الاؤ جلائے بیٹھا تھا۔ مگر ٹھہریے پہلے ذرا سا اپنا تعارف کرا دوں۔ میری بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ میں ایک ایسی وادی میں پیدا ہوا جسے لوگ جنت ارضی اور سورگ کہتے ہیں۔ میرے جیسے سادہ لوح اور جاہل انسان کو کبھی سمجھ نہیں آئی کہ

Read more

جنگ آخر کیوں؟

ایک عرصہ پہلے بین الاقوامی تعلقات کا ایک نظریہ ”ڈائورژن تھیوری“ پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ آج کل مشرقی سرحد کے دونوں طرف پھیلے جنگ کے سائے اور آج شاہراہ قراقرم پہ فوجی نقل و حرکت کو دیکھ کر ایک بار پھر سے وہی تھیوری یاد آ گئی تو خیال آیا کہ اس تھیوری کو اپنے قارئین کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے کہ وہ اس کے تناظر میں اپنے اپنے ملکوں میں پھیلے موجودہ جنگی بخار کا تجزیہ کر

Read more

پہاڑوں میں بیٹھا امن کا دیوتا

”دکھی انسانیت جو پہلے ہی حسرتوں کی لاش پہ ماتم کناں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مصائب و آلام کے پہاڑوں تلے دبی کراہ رہی ہے۔ ۔ اسے بم و بارود کا تحفہ دے کر اس پر مزید احسان نہ کیا جائے دونوں ممالک کے ذی اختیار لوگوں کو چاہیے کہ اپنی ”میں“ کو اپنے پاٶں کے نیچے کچل کر مذاکر ات کی میز پر آئیں۔ ۔ ۔ اور ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں جنھوں نے حالات

Read more

مستقبل بینی

انسانی ذہن بہت پیچیدہ ہے۔ یہ ایک طرف دماغ میں خارج ہونے والے مختلف کیمیائی مادوں اور ان کے باہمی تعاملات سے پیدا ہونے والے جذبات، احساسات اور خیالات اور دوسری طرف ارد گرد پھیلے حالات و واقعات یعنی معروض سے تسلسل کے ساتھ ملنے والے پیغامات کے باہمی ملاپ سے تشکیل پاتا ہے۔ گویا ہمارے ہر خواب، خیال اور عمل کے پس منظر میں ارب ہا نیورانوں کا ایک دیوانہ وار رقص ہوتا ہے۔ ایک انسانی سماج بنیادی طور

Read more

اپنے حصے کی شمع!

بلاشبہ آج کا پاکستانی معا شرہ ایک سماجی، معاشی اور فکری بحران کا شکار ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ بحران شد ت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ پا کستانی سماج کے فکری بحران کی عکاسی اس بلا تردید حقیقت سے ہوتی ہے کہ گزشتہ سات دہایوں میں ہم سوائے چند تخصیصی ناموں کے بیس کڑور کی آبادی سے قابل قدر تعداد میں عالمی سطح کے سائنسدان، مفکر، ماہرین سماجیات و معاشیات پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ ہماری یہ ناکامیاں نہ صرف ہمارے تعلیمی نظام بلکہ ہمارے مستقبل پہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ دنیا کی پہلی سو جامعات میں ایک بھی پاکستانی جامعہ نہیں۔

Read more