محبت اور منڈی

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جو منڈی کی حکمرانی کا دور ہے۔ ہماری سیاست، معیشت اور سماجی، ثقافتی، مذہبی اقدار و رسومات تک کا تعیٌن منڈی کر رہی ہے۔ منڈی کی معیشت کو ہمارے ایک پیارے دوست پروفیسر کالا خان مار، کُٹ اکانومی کہا کرتے تھے۔ اس منڈی کے پنجہ استبداد سے ہمارے…

Read more

محبت کا محرک کیا ہے؟

اکبر الہ آبادی نے کہا: عشق نازک مزاج ہے بے حد عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا! اور اسی حدیثِ اکبری نے ہمارے لئے عشق و عقل کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا۔ یہاں تک کہ شاعرِ مشرق و حکیم الامت بھی اسی شاعرانہ روائیت کے امین نظر آئے۔ اور ایک مدت تک…

Read more

محبت کی نفسیات

دنیا کا زیادہ تر ادب محبت کی کہانیوں، نظموں، گیتوں پہ مشتمل ہے۔ یہ وہ موضوع ہے جس پہ پہروں بات کی جاسکتی ہے۔ محبت کیا ہے؟ کیوں ہوتی ہے؟ کیسے ہوتی ہے؟ ان سوالوں کے جوابات اکشر لوگ قصے کہانیوں، شعرا کے کلام یا دنیا کے مختلف مذاہب کی کتابوں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔…

Read more

اتر پردیش کی گلابی لڑکیاں!

عالیہ نے کہا طاقت اکٹھا ہونے میں ہے ۔ اکیلا ہونا بےبسی ، محتاجی اور مظلومیت کو جنم دیتا ہے۔ یہ راز سارے جابر، سارے ظالم جانتےہیں۔ یہ راز سارے مظلوم سارے مجبور بھی جانتے ہیں ۔ پھر فرق کیا ہے؟ فرق اتنا سا ہے کہ ظالم یہ جانتے بھی ہیں اور مانتےبھی ہیں۔ اور…

Read more

نظامِ تعلیم میں اصلاحات!

پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کے حوالے سے لکھے گئے مضامین کے سلسلے کا یہ آخری مضمون ہے۔ گزشتہ مضامین میں ہم نے مذہبی بنیادوں پر قومی بیانیے کی تشکیل کے اسباب اور اس بیانیے کے تعلیمی نظام پہ اثرات کا جائزہ لیا تھا۔ آج ہم اس بیانیے کے زیر اثر نصاب اور طرز…

Read more

پاکستان میں تعلیمی اصلاحات

گزشتہ مضامین میں ہم نے ان اسباب کا جائزہ لیا تھا جن کی بنیاد پر پاکستان کا قومی بیانیہ تشکیل دیا گیا۔ گزشتہ مضامین سے جڑی اس بحث کو ہم آج آگے بڑھاتے ہیں۔ آج ہم بالخصوص اس قومی بیانیے کے زیر اثر اپنے تعلیمی نظام کے خدوخال پر بحث کریں گے۔ چونکہ یہ ایک…

Read more

پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ، مگر کیسے؟

گزشتہ مضمون میں ہم نے پاکستان کے ابتدائی چالیس سالوں میں مذہب کی اساس پہ قومی بیانیے کی تشکیل کے اسباب کا جائزہ لیا تھا۔ آج ہم اسی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق نے جب مارشل لا لگایا تو اس کے سامنے اندرونی طور پر سب سے بڑا چیلنج بھٹو کی عوامی مقبولیت اور سیاسی اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متبادل طاقتور نظریے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ ایک ایسا الحاق قائم کرنا تھا جو عوامی سطح پر بھٹو کی مقبولیت کے اثرات کو زائل کر سکے۔

جنرل ضیاء نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے جہاں صنعت کار طبقے سے روابط قائم کیے وہیں سیاسی مذہبی طبقات کو ریاستی امور میں اپنا شراکت دار بنا دیا۔ یہ شراکت داری دوھرے فوائد کی حامل رہی۔ جہاں ایک طرف ضیاء الحق اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے میں کامیاب رہا وہیں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے شروع کیے گئے جہاد کے لیے مفت مجاہدین کی ایک بڑی تعداد بھی حاصل ہو گئی۔ اس دور میں جہاں دنیا بھر سے جنگجووّں نے پاکستان کا رخ کیا وہیں امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں کی مدد سے تعلیمی نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی گئی جن سے مذہبی بنیادوں پہ قومی بیانئے کو مزید طاقت حاصل ہو گئی۔

Read more

پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ، مگر کیسے؟

گزشتہ مضمون میں ہم نے ان مقاصد کا جائزہ لیا تھا جن کے لئے ہمارے ہاں نظام تعلیم کی نقش گری کی گئی۔ اس مضمون میں ہم گزشتہ مضمون میں شروع کی گئی بحث کو آگے بڑھائیں گے اور ان سیاسی اسباب کو تاریخی پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کریں گے جن کے طفیل آج کا تعلیمی نظام وہ اذہان پیدا کر رہا ہے جو فکری بانجھ پن کا شکار، تخلیقی صلاحیتوں سے محروم اور عمومی روّیوں میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔کسی ملک کا سیاسی و معاشی نظام بہت سارے ذیلی نظاموں کے مجموعے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان ذیلی نظاموں میں سے ایک نظام تعلیم بھی ہے جو قومی بیانیے کی تشہیر کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ اس لیے نظام تعلیم کو سمجھنے کے لیے قومی بیانیے کو سمجھنا، اس کے وجود میں آنے کے اسباب کو جاننا اور اس کے تسلسل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قومی بیانیے کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھے بغیر نہ تو ایک متبادل بیانیہ ترتیب دینا ممکن ہے اور نہ ہی ایک متبادل نظام کی نقش گری کی جاسکتی ہے۔

Read more

پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ، مگر کیسے؟

پاکستانی ریاست اور سماج کے سامنے آج انتہا پسندی کے خاتمے کا سوال ایک بہت بڑے چیلنج کی صورت میں کھڑا ہے۔ اس انتہا پسندی کے مظاہر ہمارے عمومی رویّوں سے لے کر سماجی ویب سائٹس پر ہمارے نوجوانوں کے افکار میں با آسانی دیکھے جا سکتے ہیں۔ عدم برادشت کے گزشتہ کئی دہائیوں سے پھلتے پھولتے رجحانات نے سماج کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس لعنت سے نمٹنے کے لیے اگر بر وقت اقدامات نہ کیے گئے تو پورا سماجی ڈھانچا دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔کسی بھی مسلے کا حل اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے اصل علت و اسباب کی مکمل اور گہری سمجھ بوجھ حاصل نہ ہو جائے۔ چونکہ انتہا پسندی کا زہر پورے سماج کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے لہذا اس مسلے سے نمٹنے کے لیے ایک سنجیدہ کثیر جہتی مباحثے کی ضرورت ہے۔ یہ تحریر ایسے مباحث کے آغاز کے لیے میری ایک ادنیٰ سی کاوش ہے۔ امید ہے کہ اہل فکر و دانش اس بحث کو آگے لے کر چلیں گے اور پاکستان کے فیصلہ ساز ادارے ان مباحث کی روشنی میں سماجی اصلاحات کے عمل کو سنجیدگی سے لیں گے۔

Read more

یکم مارچ 2019 کو مرنے والے کشمیری کا عالم ارواح سے خط

اے خداوندان آئین و سیاست نمشکار، سلام یکم مارچ دو ہزار انیس کی یخ بستہ رات میں اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور وفا شعار بیوی کے ساتھ اپنے گھر میں آگ کا الاؤ جلائے بیٹھا تھا۔ مگر ٹھہریے پہلے ذرا سا اپنا تعارف کرا دوں۔ میری بدقسمتی یا خوش قسمتی کہ میں ایک ایسی…

Read more