ماں جی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

25 نومبرمیرے لئے قیامت صغریٰ سے اس لئے کم نہیں تھا کہ ماں جی اچانک ہم سب سے ناتا توڑ کر مستقلا اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، یعنی راہی ملک عدم سنوار گئیں۔ ماں جی جسے قدرتِ کاملہ نے مہرو وفا، خلوص ومحبت، گلِ خلد، آبِ سلسبیل وکوثر وتسنیم اور خاکِ شفا سے تجسیم فرما کر تخلیق بخشی وہ خود خاکِ خراموشان بن کر خفتگانِ کنج تنہائی میں راحت کی ابدی نیند اوڑھ کر مسکنِ شہر خموشاں ہو گئیں۔ دکھ یہ نہیں کہ وہ کیوں داغِ مفارقت دے گئیں المیہ یہ ہے کہ جس کے جسمِ اطہر کا میں ایک حصہ ہوں وہ اب تادمِ آخر ترستا، بھڑکتا اور تشنہ ہی رہے گا، اب کبھی میری آنکھیں ان کادیدار نہ کر پائیں گی، گویا میں محروم سے احساسِ محرومی کا شکار ہو گیا۔

ماں جی جنہوں نے زندگی وموت سے دست وگریباں ہو کر موت کو شکست سے دوچار کر کے مجھے زیست بخشی، انہیں موت کے جابر شکنجے نے ہم سے چھین لیا، اب ان کی معطر سانسوں کی حدت میری آخری سانس تک ترستے ہوئے منتظر رہیں گی۔ ان کے ہاتھوں کے لمس کو کبھی محسوس نہ کر پاؤں گا۔ میری پیشانی ان کے لبوں کے بوسہ کے اس تھوک کی نمی سے مستقل احساسِ محرومی سے محروم ہو ہو کر مر جائے گی جو میرے لئے کسی طور آبِ نیساں وآبِ حیات سے کم نہ تھا۔ جگ موہن سنگھ نے اپنی کتاب ”ساوے پتر“ میں بجا لکھا کہ

ماں ورگا گھن چھاواں بوٹا

مینوں نظر نہ آوے

لے کے جس توں چھاں ادھاری

رب نے سورگ بنائے

باقی کل دنیا دے بوٹے

جڑ سکیاں مر جاندے

ایہہ پر پھُلاں دے مرجھائیاں

ایہہ بُوٹا سک جاوے

قطر سے پاکستان تک کا سفر شاید اتنا طویل محسوس نہیں ہوا جتنا لاہور ائیر پورٹ سے آبائی شہرکمالیہ، یوں لگ رہا تھا جیسے پیمانہ سفر میل اور کلو میٹر نہیں بلکہ صدی در صدی پر محیط ہو۔ ایک ایک سنگ ِ میل ایک ایک صدی پرمحیط ہوئے جا رہا تھا۔ علی عثمان جو کہ رشتہ میں میرا بھانجا ہے تھکاوٹ سے چُور اور نیند سے مخمور ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے مسلسل مجھ سے محوِ گفتگو اس لئے تھا کہ اسے نیند کی دیوی ہر لمحہ اپنی آغوش میں لوری دے کر سلانے کو تیار تھی لیکن اس کی ہمت کوداد کہ اس نے یہ سفر بسلامت سر انجام دیتے ہوئے مجھے گھر باخیر وعافیت بر وقت پہنچایا۔

گھر پہنچتے ہی بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے نہ تھمنے والے آنسوؤں کے سیلاب میں ایسے غرق ہوا کہ اپنی بھی ہوش نہ رہی۔ قطر سے کمالیہ کا سفر اتنا طویل نہ لگا جتنا کہ گھر کے مین دروازے سے ماں جی کے جسدِ خاکی کے پلنگ تک پہنچنے میں، یہ وہی پلنگ تھا جسے میری نانی ماں نے اپنی بیٹی یعنی میری ماں جی کو جہیز میں عنائت کیا تھا۔ اسی پلنگ کے رنگلے پایوں سے کھیلتے ہوئے میں اور میرے بہن بھائی بچپن سے لڑکپن اور پھر جوان ہوئے بلکہ ایک بہن اور ایک بھائی بچپن سے پچپن کو بھی پہنچ چکے ہیں۔

چونکہ خاندان میں واحد میں تھا جو زیادہ عرصہ حیات بسلسلہ تعلیم وروزگار گھر سے دور دیگر شہروں اور اب بیس سال سے قطر میں اپنوں سے دور رہا تو جب بھی تعطیلات میں واپس گھر جاتا تو اسی رنگلے پلنگ پر ماں جی کو منتظر پاتا اور میرا استقبال ہاتھوں کے پیار، ہونٹوں کے لمس اور ڈھیر ساری دعاؤں سے کرتیں۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی بھی ماں جی نے مجھے ادوائن کی طرف بیٹھنے دیا ہو، ہمیشہ اپنے سرہانے کی طرف میرا ہاتھ زور سے پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور کرتیں۔ یہ ان کے پیار کی انتہا تھی اسی لئے میں بھی ہمیشہ ان کی خواہش کے مطابق ان کے سرہانے کی طرف ہی نشستن ہو جاتا۔

مجھے یہ بھی یاد ہے کہ میرے بیٹھنے سے قبل بستر میں پڑی سلوٹوں کو اپنے ہاتھوں سے پہلے درست فرماتیں اور پھر مجھے بیٹھنے کی اجازت، اشکوں سے لبریز آنکھوں سے ماں جی کی اسی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے ان کے سرہانے کھڑے ہو کر انہیں سلام کیا لیکن نہ جواب ملا، نہ دستِ شفقت سر پر رکھا، نہ لب مسکرائے، نہ تکیہ تلے سے اپنی دبیز شیشوں والی عینک ٹٹولی، نہ ان کے دعائیہ کلمات کانوں کی سماعتوں سے ٹکرائے، نہ بستر کی سلوٹوں کے نشیب وفراز کو مستقیم کیا، نہ آنکھوں کی پتلیاں مسرت وانبساط سے پھیلیں، نہ تمازتِ رخسار سے وہ جھریاں پھیل کر سرخی مائل ہوئیں جو مجھے دیکھتے ہی کبھی جواں رُت اختیار کر لیا کرتی تھیں۔ زندگی میں پہلی بار یوں محسوس ہوا جیسے ماں جی کے چہرے کی جھریاں میرے اندر دراڑیں بن کر سرخ مٹی کی طرح چٹخ چٹخ کر شکست وریخت کا وہ عمل پیدا کر رہی ہیں جو مجھے سیماب کی طرح اب کبھی بھی ایک جگہ چین نہیں لینے دے گا۔ پَل بھر کو لگا بسترِ مرگ پر ماں جی نہیں میرا جسدِ خاکی پڑا ہوا ہے۔

میں نے جب اپنی کتاب ”کھٹے میٹھے کالم“ کا انتساب کچھ اس طرح ماں جی کے نام منسوب کیا تھا کہ

شریکِ حیات نورین مراد، میری حیات اسماعیل مراد اور وجہ حیات یعنی والدین کے نام۔ تو میرے ذہن کے نہاں خانوں اور شعور کے اوراق پر یہ بات منقش تھی کہ یہ سب والدین خاص کر ماں جی کی ان دعاؤں کا صدقہ ہے جو میرے ان کہے پر بھی راتوں کی آخری ساعتوں میں بوقت تہجد وہ میرے لئے کیا کرتیں لیکن میں کبھی بھی ان دعاؤں کے اثر سے بے خبر نہیں رہا۔ میرا ایمان کامل اور یقین واثق تھا اور اب بھی ہے کیونکہ یہ بات میرے ایمان کا حصہ ہے کہ اگرچہ دعاؤں کے لئے اٹھنے والے ماں جی کے ہاتھ اب اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں لیکن ان دعاؤں کی تاثیر، فیوض وبرکات تا ابد مانندِشجرِ سایہ دارسایہ فگن رہیں گی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کی دعاؤں نے مجھے آج ایک باعزت مقام بخشا ہے۔ میری کامیابیاں وکامرانیاں ان کی دعاؤں کے صدقے سے ہیں۔ میرے علم وآگہی کو اعتبار ومقام ان کی دعاؤں نے بخشا ہے، لفظ ومعنی کو وقار کی بلندی اور معاشرتی پہچان و ادب واحترام وحیا بھی ماں جی کے خاکِ پا کے طفیل قدرت نے مجھ پر نچھاور فرمایا ہے وگرنہ مجھ کم مایہ، حقیر ورذیل کی کیا اوقات؟ بے شک ماں جی

یہ کامیابیاں، یہ عزت، یہ نام تم سے ہے

خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •