انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقا اور معاشرتی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ معاشرہ کی ہر نسل اپنے تجربات، علم، مشاہدہ، عقائد و نظریات کو نسل در نسل اس طرح سے منتقل کرے کہ ہر آنے والی نسل پہلے سے بہتر اور بھرپور اقدار کا حامل بن جائے۔ دنیا ان معاشروں کی مثالیں دیتی ہیں اور تاریخ کے اوراق انہیں سنہری الفاظ میں یاد رکھتے ہیں جن کا کل آج سے بہتر ہوتا ہے اور آج سے کل اسی صورت میں ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے اگر تعلیم کا معیار بدلتی روایات اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
معاشرہ افراد کے مجموعے سے جنم پذیر ہوتا ہے اس لئے افراد کی تعلیم و ترقی دراصل ان کی شخصیت اور کردار کی بہتری کی ضامن ہوتی ہے۔ مثالی کردار کے حامل افراد ہی اصل میں معاشرتی عمل کو اپنی کارکردگی سے بہتر بناتے ہیں۔ تعلیمی ترقی کے لئے جہاں صحت مند دماغوں کی ضرورت ہوتی ہے وہیں معاشی ضروریات اور بجٹ میں تعلیم کے لئے معاشی تخصیص از حد ضروری ہوتی ہے وگرنہ یہ واحد میدان ہے جہاں بھوکے بٹیر لڑتے ہیں اور اگر ضرورت پڑ بھی جائے تو ان کی کارکردگی وہ نہیں ہوتی جو بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ ہوتی ہے۔
امام غزالی کا ہم پہ یہ احسان ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے ہمیں بتایا کہ علم دو طرح کا ہوتا ہے اور دوسری اہم بات یہ کہ قوموں کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنا سالانہ بجٹ تیار کریں، بجٹ سے مراد یہ ہے کہ سالانہ اخراجات اور وصولیوں کے درم
Read more