شہ رگ کے بغیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں حکومتوں کے آنے سے زیادہ جانے کے چرچے ہوتے ہیں۔ الیکشن کے آخری سال میڈیا کی چال اور سیاستدانوں کی جماعت بدلتی حرکتیں بتا رہی ہوتی ہیں کہ ملک میں آئندہ حکمرانی کس کی ہوگی۔ یعنی صرف ایک سال ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ کون سی پارٹی اور کس راستے سے اقتدار کی منازل طے کر رہی ہے اور پھر چار سال تک ہر طرف ایک ہی شور سنائی دیتا ہے کہ حکومت جارہی ہے حکومت جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ دو حکومتوں نے ایک ایک وزیراعظم قربان کرکے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا ریکارڈ قائم کیا، البتہ یہ الگ بات ہے کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے وزیراعظم کی قربانی کو ”حلال“ نہیں سمجھتیں۔

موجودہ حکومت نے ابھی پندرہ ماہ پورے کیے ہیں لیکن اس کے جانے کی باتیں یوں ہو رہی ہیں کہ جیسے ہر بندے نے اب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات استوار کرلئے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ صرف اسی سے مشورہ کر رہی ہے کہ موجودہ حکومت کا سامان کب تک باندھ دیا جائے؟ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے نے حکومت مخالف لوگوں کو دوماہ تک ”امید“ سے کیے رکھا کہ حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں لیکن جیسے ہی مولانا نے اپنا بوریا بستر گول کیا اور ایک اندھی امید سے اپنے ساتھیوں کو باندھ کر نکل گئے۔ مولانا صاحب اب فرماتے ہیں کہ حکومت جلد چلی جائے گی، جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ 35 ماہ بعد یقیناً چلی جائے گی۔

پاکستان کے سیاستدان اور دیگر ادارے بھی بہت باکمال ہیں انہیں صرف ملکی سیاسی جوڑ توڑ اور مقدمہ بازیوں اور پھر ڈیلوں، ڈھیلوں کا آئن سٹائن قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہمارے تمام سیاستدان اور معتبر ادارے ایسے کام سب سے پہلے کرتے ہیں جو شخصی فوائد سے جڑے ہوئے ہیں اورانہیں قوم کے وسیع تر مفاد کی تارسے جوڑ کر قوم کی رگوں میں ایسا کرنٹ چھوڑ دیا جاتا ہے کہ بیچارے عوام بھی اصل حقائق کو بھول کر کانپنا شروع ہوجاتے ہیں۔

5اگست 2019 ء کو بھارت نے ہمیشہ کی طرح تمام اخلاقی حدیں عبور کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر پر ہمیشہ کے لئے قبضہ کرلیا۔ حکومت، اپوزیشن سمیت دیگر تمام معتبر اداروں نے بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کی شدید مذمت کی۔ 5 اگست سے 5 ستمبر تک ایسا لگتا تھا جیسے پاکستانی قوم اور حکومت کا اب مسئلہ کشمیر کے سوا کوئی دوسرا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی اس سنگین صورتحال کو اٹھایا۔ لیکن مقبوضہ کشمیر کے اس غیر قانونی ”انتقال“ کے چہلم تک تو ہم نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا البتہ پھر رفتہ رفتہ رو دھو کر منہ صاف کیے اور ایک دوسرے کو تسلیاں دیں کہ باقی پاکستانیوں کی زندگی کو بھی سنوارنا ہے، اس طرح شہ رگ پر لگا ہوا زخم کم ہوتا گیا۔

ستم ظریفی دیکھئے کہ جب مسئلہ کشمیر عروج پر تھا تو عین اس وقت مولانا فضل الرحمن اپنا لشکر لے کر نکلے اور پھر بھارت کی ٹی وی سکرینوں پر چھا گئے۔ ابھی مولانا فضل الرحمن نے اپنے دھرنے کی دریاں اکٹھی نہیں کی تھیں کہ میاں نواز شریف کے پلیٹلیس گرنا شروع ہوگئے۔ اِدھر پلیٹلیس گرتے گئے اور اُدھر مسئلہ کشمیر ہاتھ سے نکلتا رہا۔ مقبوضہ کشمیر کے اس غیر قانونی انتقال کی جب بھی داستان لکھی جائے گی تو مؤرخ لکھے گا کہ جب مقبوضہ کشمیر کا رابطہ دنیا سے کٹا ہوا تھا تو کشمیر کو شہ رگ قرار دینے والے ملک پاکستان کی اشرافیہ یہ طے کر رہی تھی کہ میاں نواز شریف کو کس طرح آزادی دلائی جائے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کی دعویدار مسلم لیگ (ن) کو پاکستان کی شہ رگ سے زیادہ میاں نواز شریف کے پلیٹلیس کی فکر پڑی ہوئی ہے اور بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی آصف علی زرداری اور فریال بی بی کی بیماری سے متعلق رپورٹیں اٹھائے عدالتوں سے آزادی کی بھیک مانگ رہی ہے۔ مؤرخ یہ بھی لکھے گا کہ مقبوضہ کشمیر پر مستقل قبضے کا بھارت کو جواب دینے کی بجائے قومی سلامتی کے ادارے مولانا فضل الرحمن سے بات چیت کر رہے تھے۔

شہ رگ قرار دیے جانے والے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ گزشتہ 4 ماہ سے کیا بیت رہی ہے۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔ البتہ ہندوؤں نے مسلمانوں کی عزت اور غیرت سے کھیلنے کا اعلان ڈنکے کی چوٹ پر کیا ہے۔ کشمیر کے معصوم اور بے گناہ مسلمان کب تک بھارتی جبر کا سامنا کرنے پر مجبور رہیں گے یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ البتہ سری نگر کے مسلمانوں پر بھارت نے کھلم کھلا ظلم کیا ہے اور پاکستان نے انتہائی بے حسی کا مظاہرہ کرکے انہیں مایوس کردیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان اب دونوں طرف سے مایوس ہیں جن کشمیریوں کے لواحقین پاکستان میں موجود ہیں وہ ان کے ذریعے سرینگر اور دیگر کرفیو زدہ علاقوں سے نکل کر جائے امن تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ کیسی بے حسی اور ظلم کی حمایت ہے کہ پاکستان کی حکومت کو اپنی بقاء کی فکر ہے اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کو اپنے تاحیات قائد میاں نواز شریف کی زندگی کی فکر ہے جبکہ پیپلزپارٹی کو بھی اپنی قیادت کو آبِ حیات پلانے کی فکر نظر آرہی ہے، مولانا فضل الرحمن اور ان کے حامی اقتدار سے دوری کے غم میں مبتلا ہیں اور اگر کسی کو غم نہیں ہے تو مظلوم اور معصوم کشمیریوں کا نہیں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کا رویہ بتا رہا ہے کہ کبھی ایک مسئلہ کشمیر ہوا کرتا تھا لیکن پھر بھارت نے اس پر مکمل قبضہ کرکے یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے۔

بہرحال اس وقت مقبوضہ کشمیر حکمرانوں کی پہلی ترجیح نہیں رہی اور حیرانگی کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شہ رگ کے بغیر زندگی کا تصور کیسے ہوسکتا ہے؟ پاکستان نے اپنی 72 سالہ زندگی میں کئی اور عجوبوں کی طرح ایک اور عجوبہ کر دکھانے کا بھی عزم کر رکھا ہے کہ شہ رگ کے بغیر بھی جیا جاسکتا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کے جانے کی باتیں سب کر رہے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر سے مودی کے جانے کی باتیں کوئی نہیں کررہا۔ اہم بات تو یہ ہے کہ حکومت چلی گئی تو ملک سے آکسیجن ختم نہیں ہوگی اور زندگی بحال رہے گی مگر شہ رگ کے بغیر کیسے زندہ رہ پاؤ گے؟ یہ کوئی سوچنے کو تیار نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 92 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat