نئے الیکشن یا ان ہاؤس چینج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں چل رہی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی میٹنگ لندن میں جاری یے۔ جس میں پارلیمنٹ کے اندر تحریک عدم اعتماد پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت محض اتحادیوں کی بے ساکھیوں پر کھڑی ہے۔ دو چار پتے گرے تو حکومت دھڑام سے نیچے گر پڑے گی۔ لہذا! ان ہاؤس تبدیلی کچھ مشکل نہیں۔ البتہ جب امپائر کی مرضی شامل ہو گی تب ہی یہ منصوبہ کامیاب ہو پائے گا۔ سینیٹ میں واضح برتری ہونے کے باجود اپوزیشن کامیابی حاصل نہ کر پائی۔ کیونکہ سنجرانی کو بچانا ناگزیر تھا۔ اب بھی دیکھنا یہ ہے کہ شہباز شریف کس حد تک اس گیم میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔

سب سے پہلے شہباز شریف کو ”ان“ کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا۔ دوسرے نمبر پر یہ دیکھنا پڑے گا کہ ”وہ“ کپتان سے کس قدر اکتا چکے ہیں۔ معیشت کی دگرگوں صورت حال کی وجہ سے انگلیاں تو ”ان“ پر اٹھ رہی ہیں۔ اندرونی اور بیرونی دباؤ یقیناً بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں شہباز شریف بہترین آپشن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اختر مینگل نے بھی حکومت کی حمایت سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی یے۔

حقیقی جمہوریت کا سفر ابھی کافی دور ہے۔ ایسی ان ہاؤس تبدیلی جس میں اپوزیشن کا کردار ثانوی ہو اور مقتدر حلقوں کا کردار بنیادی ہو جمہوریت کے ساتھ تماشا تو ہو سکتا ہے جمہوری قوتوں کی کامیابی نہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہو گا کہ ملک اناڑیوں کے ہاتھ سے نکل کر کچھ تجربہ کار لوگوں کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس سے معیشت کو کچھ فائدہ ضرور ہو گا۔ عمران خان کا جانا اصل کامیابی نہیں بلکہ نئے اور شفاف الیکشن بڑا ہدف ہیں۔

ان ہاؤس چینج سے کوئی بڑا فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ کیونکہ شہباز شریف یا کسی اور کے وزیر اعظم بننے کے باجود پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کے ایم این ایز کی ایک بڑی تعداد تو موجود رہے گی۔ جو پارلیمنٹ کو چلنے نہیں دے گی۔ قانون سازی نہیں ہو سکے گی۔ اسمبلی مچھلی بازار بنا رہے گا۔ نئے اور شفاف الیکشن سے ایسے لوگ منتخب ہو کر آئیں گے جو پارلیمانی نظام کا احترام جانتے ہوں گے۔ تب ہی ملک اس دلدل سے نکل پائے گا۔ المختصر یہ کہ ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے الیکشن کی کوشش کرنی چاہیے اور یہ جمہوری قوتوں کی کامیابی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •