پنجاب کا سیاسی و انتظامی بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان بدستور وزیر اعلی عثمان بزدار کی سیاسی حمایت میں پیش پیش ہیں۔ وہ سیاسی مخالفین سمیت اپنی ہی جماعت کے ان افراد کا مطالبہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ پنجاب کے بحران کی اصل وجہ وزیر اعلی عثمان بزدار ہیں۔ کیونکہ جب سے عثمان بزدار کو وزیر اعلی پنجاب نامزد کیا گیا تو ان کے بارے میں اسی رائے کو تقویت دی گئی کہ وہ پنجاب جیسے مضبوط صوبہ میں وزیر اعلی کے طور پر کارگر نہیں ہوسکیں گے اور نہ ہی وہ سابق وزیر اعلی شہباز شریف کے متبادل ہوسکتے ہیں۔

ایک سے زیادہ مرتبہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی تبدیلی کی خبروں کو پھیلایا گیا کہ بس ان کو تبدیل کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا گیا ہے، لیکن وزیر اعلی بدستور اپنے منصب پر موجود ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نے حتمی طور پر یہی فیصلہ کررکھا ہے کہ وہ پنجاب کے معاملات کی براہ راست نگرانی خود ہی کریں گے اور پنجاب کو عملی طور پر اسلام آباد سے ہی چلایا جائے گا۔

پنجاب میں وزیر اعلی کی تبدیلی میں ایک رکاوٹ خود تحریک انصاف کا داخلی بحران یا پہلے سے موجود مختلف گروپ بندیاں ہیں۔ ان میں خاص طور پر جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی، عبدالعلیم خان، میاں اسلم اقبال اور خود چوہدری برادران شامل ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان سمجھتے ہیں کہ اس داخلی بحران سے نمٹنے کے لیے عثمان بزدار ہی سے کام چلانا ہوگا۔ وزیر اعلی عثمان بزدار کی ناکامیوں کو بڑا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان کی کارکردگی اتنی بری نہیں جتنی ان کے سیاسی مخالفین پیش کرتے ہیں۔ اصل وجہ وزیر اعلی عثمان بزدار کی سیاسی اور میڈیا ٹیم بشمول کابینہ ہے جو پنجاب میں ہونے والے مختلف منصوبوں اور وزیراعلی کی کارکردگی یا پنجاب حکومت کو اس انداز میں پیش نہیں کرسکے جیسے کیا جانا چاہیے تھا۔

سیاسی مخالفین جب وزیر اعلی عثمان بزدار کو سیاسی طعنہ دیتے ہیں کہ ان کی کارکردگی کچھ نہیں تو اس کا جوا ب پنجاب حکومت کے پاس بھی ہے اور ان کے بقول ان پچھلے پندرہ ماہ میں پنجاب میں ایک لاکھ ایکٹر زمینوں سے قبضہ چھڑایا گیا ہے، یونیورسٹیوں کی سطح پر 16 کے قریب وائس چانسلرز کو میرٹ کی بنیاد پر مستقل کیا گیا ہے جو کہ سابقہ حکومت میں ایڈہاک پالیسی پر کام کررہے تھے، پندرہ ہزار نئے ڈاکٹرز کو بھرتی کیا گیا، نو ہسپتالوں 43 کالجزاور آٹھ نئی یونیورسٹیوں پر کام کا آغاز، تیس کے قریب نئی اصلاحات اور قوانین کی منظوری، 194 کے قریب دیہی ہسپتالوں کو 24 گھنٹے سروس کے طور پر بحال کرنا، 2800 نئے سکولز کمروں کی تعمیر اور 14 سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، پندرہ سو کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر، نو انڈسٹریل زونز کی دس ہزار ایکڑزمین کی ڈولیپمنٹ، 117 نئے اراضی سینٹرز کی تعمیر، چار اضلاع میں پائلٹ ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز، پناہ گاہو ں کا قیام، تین لیبر کالونیوں کی تعمیر، ساٹھ کے قریب ڈے کیر سنٹرز کا آغاز، ایک لاکھ ساٹھ ہزار کسانوں کو قرضوں کی فراہمی سمیت کئی اہم منصوبے شامل ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب کے معاملات میں حالیہ دنوں میں انتظامی سطح پر ایک بڑی وسیع اکھاڑ پچھا ڑ یا بڑی سرجری کی ہے جس میں پنجاب اور ضلعوں میں ہر سطح پر انتظامی تبدیلیاں شامل ہیں۔ دلیل یہ دی گئی ہے کہ پنجاب میں سرکاری بیوروکریسی بہت سے معاملات میں رکاوٹ بننے کا سبب بن رہی تھی۔ یہ گلہ وزیر اعلی سمیت کابینہ اور ارکان اسمبلی کا بھی تھاکہ انتظامی سطح پر ان کو کوئی بڑا تعاون درکار نہیں۔ وزیر اعظم پر بڑا دباؤ تھا کہ وہ پنجاب میں انتظامی سطح پر ایک بڑی سرجری کریں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس بڑی انتظامی سرجری کے بعد پنجاب کی حکومت اپنی کامیابی کی کوئی بڑی ساکھ قائم کرسکے گی۔ کیونکہ عمومی طور پر بنیادی سوال حکومتی ساکھ کا ہوتا ہے اور جب حکومت کا تصور اچھی کارکردگی کے باوجود ناکامی کا ہو تو اس کی اپنی داخلی کمزوریاں بھی ہوسکتی ہیں۔

پنجاب میں انتظامی تبدیلیوں پر یقینی طور پر خود انتظامی افسران میں بھی ردعمل ہوگا اور ان میں یہ سوچ ابھرے گی کہ حکومت خود بحران کی عملی طور پر ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے انتظامی افسران پر ڈال کر خود کو بری الزمہ سمجھتی ہے۔ اس لیے اس بار تو انتظامی محاذ پر بڑی تبدیلیاں ہوگئی ہیں، لیکن یہ عمل بار بار دہرانے سے مسائل حل ہونے کی بجائے خراب ہوتے ہیں۔ ان پندرہ مہینوں میں بار بار آئی جی اور چیف سیکرٹری یا سیکرٹریوں سمیت ڈی سی او یا ڈپی اوز کی تبدیلیوں سے یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ خود حکومت کا انتظامی محاذ پر کنٹرول کمزور ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب کی حکمرانی کو محض اسلام آباد سے براہ راست کنٹرول کرکے وہ خود سے اچھی حکومت کے معاملات کو چلاسکتے ہیں، تو یہ بھی درست حکمت عملی نہیں۔ اگر وزیر اعلی عثمان بزدار ہی نے حکومت کے نظام کو چلانا ہے تو ان کو سیاسی، انتظامی سطح پر کھل کر اختیارات بھی دینے ہوں گے، نمائشی وزیر اعلی کچھ نہیں کرسکے گا۔

پنجاب کا سیاسی مرکز وزیر اعظم عمران خان کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔ کیونکہ عمومی طور پر یہ دلیل موجود ہے کہ جو بھی سیاسی طور پر پنجاب کی سیاست میں مضبوط ہوگا وہی اقتدار کی سیاست میں خود کو منواسکتا ہے۔ مسلم لیگ ن اس کی بہترین مثال ہے۔ پنجاب میں اب بھی دیکھیں تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں پانی پت کی جنگ یا پانی پت کا سیاسی میدان ہے۔ مسلم لیگ ن آج بھی پنجاب میں اپنی مضبوط سیاسی طاقت رکھتی ہے اور اسے آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے عملا تحریک انصاف کی حکومت کو غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرکے روایتی سیاست سے باہر نکل کر خود پیش کرنا ہوگا، تاکہ اس تاثر کو تقویت ملے کے حکومت درست سمت میں چل رہی ہے۔

وزیر اعلی پنجاب کو سمجھنا ہوگا کہ وہ ایسے کون سے محرکات ہیں جو ان کی حکومت کے بارے میں منفی تاثر قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں کچھ داخلی اور کچھ خارجی مسائل ہیں۔ خارجی مسائل میں صوبہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، سرکاری قیمتوں کے مقابلے میں خود سے قیمتوں کا بڑھانا، ذخیرہ اندوزی، سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار، مقامی سطح پر انصاف کے مسائل، پولیس کی حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی زیادتیاں، کرائم میں اضافہ، ادویات کی قیمتوں میں اضافہ، پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی ناکامی، بیوروکریسی کی سطح پر عدم تعاون کا رویہ، صفائی کے انتظامات، صاف پانی کا مسئلہ، تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی فیسوں میں اضافہ، کھیلوں اور تفریح کے میدانوں میں کمی یا کمرشلائزیشن کی پالیسی، ناجائز تجاوزات یا لوگوں کی زمینوں پر قبضہ اور سرکاری اداروں میں عام آدمی کی شنوائی بنیادی مسائل ہیں۔

اسی طرح داخلی سطح پر حکومت کے بہترکاموں کی عدم تشہیر، صوبائی وزرا کا حکومتی کاموں کو مثبت انداز میں اجاگر نہ کرنا، کمزورمیڈیا پالیسی، ارکان اسمبلی اور جماعت کا عوامی رابطوں کا فقدان، حکومتی محاذ پر اجتماعیت کا فقدان، مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تاخیر، مقامی سطح پر گورننس اور نگرانی کے مسائل کا براہ راست تعلق حکومت کے اپنے داخلی نظام سے جڑا ہوا ہے، اس پر فوری ریلیف درکار ہے۔

وزیر اعلی کو سمجھنا ہوگا کہ جو کامیابیاں ان کی حکومت نے پندرہ ماہ میں حاصل کی ہیں اسے عام آدمی کو سمجھنے میں کیونکر ناکامی کا سامنا ہے۔ کیوں با ربار پنجاب میں حکومت کی ناکامی کا تاثر ابھرتا ہے۔ یقینی طور پر اس میں ایک بڑا کردار ان کے سیاسی مخالفین کا بھی ہوگا کیونکہ وہ اسی تاثر کو مضبوط کریں گے کہ پنجاب حکمرانی کے بحران کا شکار ہے۔ لیکن اس تاثر کی نفی اگر کارکردگی موجود ہے تو اس کی بڑی ذمہ داری خود حکومت اور سے جڑے افراد پر آتی ہے۔ پولیس اصلاحات اور مقامی حکومت اس کی بنیادی ترجیحات تھیں اور اس پر وزیر اعظم عمران خان سب سے زیادہ زور دیتے تھے یا ہیں، مگر عملی طور پر اس میں وہ کچھ نہیں ہوسکا جو ہونا چاہیے تھا۔

وزیر اعلی پنجاب کے پاس اب اچھا موقع ہے کہ وہ اس بار بڑی انتظامی تبدیلیوں کے بعد خود کو اور اپنی حکومت کی کامیابی کی ساکھ میں اہم کردار ادا کریں۔ یہ کام انفرادی سطح پر نہیں بلکہ سیاسی اور انتظامی ٹیم کے باہمی تعاون سے جڑا ہوا ہے اور یہ کام ایک دوسرے پر الزام تراشی یا مقابلہ بازی سے نہیں بلکہ عملی طور پر دو طرفہ تعاون اور صوبہ کے لوگوں کی خدمت سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن اگر ایسا کچھ نہ ہوسکا تو پنجاب میں حکمرانی کا بحران اور خود وزیر اعلی پنجاب کی سیاسی ساکھ پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •