سرحد کے اُس پار اور اِس پار


 \"noorulhudaاُسے مجھ سے نفرت ہے

کہ اتفاق سے میں سرحد کے دوسرے پار سے ہوں

مجھے اُس سے نفرت ہے

کہ اتفاق سے وہ سرحد کے پرلے پار سے ہے

نہ اسے میری خبر ہے

کہ میرے اندر کا انساں کیا ہے!

نہ مجھے اس کی خبر ہے

کہ اس کے اندر کا آدمی کیا ہے!

نہ اس نے اپنی مرضی سے اپنے گھر کا ایڈریس چُنا ہے

نہ میں نے اپنے گھر کا پتہ خود سے بُنا ہے

اس نے بھی آنکھ کھولی

تو وہ نفرت کے گملے میں اُگا پڑا تھا

میں نے بھی آنکھ کھولی

تو خود کو نفرت کے گملے میں پڑا پایا

اب وہ بھی انساں نہیں کیکٹس کا پودا ہے

میں بھی انساں نہیں کیکٹس کا پودا ہوں

کچھ زہر وہ مٹی میں بھرتا ہے

کچھ زہر میں مٹی کو دیتی ہوں

اسی مٹی سے وہ بھی نسلیں بنائے گا

اسی مٹی سے میں بھی چہرے بناؤں گی

پھر وہ بھی مر جائے گا

پھر میں بھی مر جاؤں گی

نفرت وہ بھی دے جائے گا

نفرت میں بھی دے جاؤں گی

اُس کی دھرتی بھی انسانوں کے لیے ترستی رہے گی

میری مٹی بھی انسانوں کے لیے تڑپتی رہے گی

Facebook Comments HS

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah