بے حس معاشرے کے جانور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض اوقات کوئی ایسا دلخراش منظر اچانک آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ دل پسیج جاتا ہے اور اپنے انسان ہونے پہ شرم آتی ہے۔ معاشرے احساس سے بنتے ہیں زندگی کی قدر سے بنتے ہیں۔ یہ زمین تمام زمین زادوں کی سانجھی ملکیت ہے لیکن یہ نام نہاد اشرف المخلوقات سمجھتا ہے کہ وہی زمین کا مالک ہے اور اس کے سامنے باقی سب کچھ بے وقعت اور لایعنی ہے۔ قیمتی زندگی صرف اسی کی ہے۔ دکھ درد تکلیف اور ایسے سارے جذبات صرف اسی کا خاصہ ہیں۔

آج صبح بھی ایک ایسا ہی دلخراش منظر دیکھنے کو ملا اور دل پسیج گیا۔ کسی لاپرواہ اور سنگدل ڈرائیور نے بلکسر انٹرچینج کے داخلی مقام پر کتے کے ایک پلے کو بے دردی سے کچل دیا۔ انٹرچینج پہ تو تیزرفتاری کا جواز ہی نہیں بنتا بلکہ یہ تو مجرمانہ غفلت ہے کہ ایک زندہ جانور کو یوں بے وقعت گردانتے ہوئے کچل دینا ذرا بھی معیوب نہ لگے۔ اس پلے کی بے چین ماں کو وہاں بے بسی کے عالم میں اپنے بچے کے پامال جسم کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھنا ایک ناقابلِ بیان منظر ہے۔ اس کی آنکھیں کرب کی جیتی جاگتی تصویر تھیں۔ ماں جو ٹھہری۔

جانوروں کے حقوق کے حوالے سے فلسفے کی شاخ ’اخلاقیات‘ میں سیر حاصل بحثیں موجود ہیں۔ کچھ فلاسفہ کے ہاں جانوروں کے ساتھ سلوک کا انحصار ان کی افادیت پر ہوتا ہے اور خوراک اور دیگر مقاصد کے لئے انہیں مارنا یا کھا لینا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ لیکن اس کے مخالف نقطۂ نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ جانوروں کے ساتھ سلوک کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ بھی جاندار ہیں اور انہیں بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی کہ ہم انسانوں کو۔ یہی جانوروں کے ساتھ برتاؤ کا پیمانہ ہے کہ انہیں بھی اتنا ہی درد ہوتا ہے جیسے کہ کسی انسان کو۔ یقیناً ان کے بھی جذبات ہوتے ہیں اور اپنے ہم جنس کی موت ان کے لئے بھی صدمے کا باعث ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ حلال جانوروں کے علاوہ (وہ بھی خاص مواقع اور نمائش کی غرض سے ) ہم کسی جانور کے ساتھ اپنی تصویر لگانے کو احسن عمل سمجھتے ہوں۔ کسی معاشرے کے تہذیبی معیار کو جانچنے کا سادہ سا پیمانہ یہ ہے کہ اس معاشرے میں زندگی کی کیا قدرومنزلت ہے۔ مہذب معاشرے میں انسانی جان تو کیا کسی چھوٹے سے پرندے یا جانور کی جان بھی اتنی ہی اہم سمجھی جاتی ہے۔

پرندوں اور جانوروں کا انسان سے صدیوں پرانا ساتھ ہے۔ وہ اس ’ایکو سسٹم‘ کا ناگزیر حصہ ہیں۔ ان کے بغیر ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ہم نے جدت اور ترقی کے جنون میں یہ بات پسِ پشت ڈال دی ہے کہ ایک درخت کٹنے سے بے گھر ہونے والے پرندوں کے لئے ایسی کوئی عدالت نہیں جہاں وہ انسان کو کٹہرے میں لا سکیں۔ لیکن یاد رکھئے کہ فطرت خود اس ظلم کا انتقام لیتی ہے۔ یہ پرندے اور جانور اس سیارے کا حسن ہیں ہمیں ان کے ہونے کی قدر کرنی چاہیے۔ ان سے پیار کرنا چاہیے۔ وہ بھی اس سیارے کے باسی ہیں انہیں بھی یہاں جینے کا پورا پورا حق ہے۔ جب رات کی تاریکی میں کسی درخت کی ٹہنی پہ بیٹھے تیتروں کے غول پہ اچانک گولیاں برستی ہوں گی تو وہ زمین پہ جھڑتے جھڑتے ایک دوسرے سے ضرور پوچھتے ہوں گے کہ انسانوں کی لغت میں درندگی کسے کہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •