”چائے والے“ کا ایک نام بھی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"aqdasاسلام علیکم ناظرین
آج میں موجود ہوں راتوں رات مشہور ہونے والے چائے والے کے ساتھ۔
جی ہاں! یہ وہی چائے والا ہے جس کے آپ سب دیوانے ہیں۔ جس کی آنکھیں نیلی اور رنگ گورا ہے۔
ارے چائے والے! کیمرے کی طرف دیکھو۔
اچھا چائے والے ناظرین کو بتاؤ تمہارا نام کیاہے؟
جی میرا نام ارشد خان ہے۔
سنا آپ نے ناظرین اس چائے والے کا نام ارشد خان ہے۔
اچھا چائے والے یہ بتاؤ تم چائے کیسی بناتے ہو؟
جی اچھی بنا لیتا ہوں۔
سچ سچ بتاؤ چائے والے یہ جو نیلی نیلی آنکھیں ہیں، یہ تمہاری اپنی ہیں یا کسی امیر سے چرائی ہیں ؟
اور یہ جو گورا رنگ ہے تمہارا، کسی مالدار سے مستعار تو نہیں لیا؟
ویسے ناظرین ! مجھ سے پوچھیں تو مجھے تو معاملہ مشکوک نظر آتا ہے۔ کیا کوئی غریب چائے والا حسین ہو سکتا ہے؟ کیا غریب کا حسن پہ کوئی حق ہو سکتا ہے؟
یقینا یہ حسن کسی امیر کی ملکیت ہے جو کہ غلطی سے اس چائے والے کے پاس آگئی ہے۔ تمام امراء سے گزارش ہے کہ اپنی اپنی تجوری میں اپنا حسن چیک کر لیں۔ اگر کسی کا حسن غائب ہو تو ہمارے چینل سے رابطہ کریں۔
اوہ چائے والے!تم ابھی تک کھڑے ہو ۔ چلو جا کر چائے بناؤ۔
ارشد خان عرف چائے والا بلاشبہ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ جس کو دیکھو اس سے متعلق بات کر رہا ہے۔ ”چائے والے“ کا ٹرینڈ سوشل میڈیا پر دھوم مچا رہا ہے۔ ارشد خان اس خواب کی تعبیرہے جسے ہمارے ملک کے لاکھوں جوان دیکھتے ہیں۔ ارشد خان آج اس بلندی پر ہے جسے ہم سب چھونا چاہتے ہیں۔ بظاہر اس نوجوان کی کہانی افسانہ محسوس ہوتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس پر شہرت اور دولت کی برسات ہو رہی ہے۔مگر یہی ارشد خان ہمارے معاشرتی رویوں پر کئی سوال بھی اٹھا رہا ہے۔
ارشد خان کی کہانی ہماری طبقاتی تفریق اور اس سے جڑے رویوں کی ایک منہ بولتی تصویر ہے۔ اس نوجوان کی وجہ شہرت یہ ہے کہ وہ ایک چائے والا ہو کر بھی اتنا حسین ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو۔ جیسے حسن صرف امیر کی ملکیت ہو۔ ہمارے معاشرے میں طبقاتی تقسیم نے اپنی جڑیں اس قدر مظبوط کر لی ہیں کہ ہم نے حسن، شہرت، تعلیم ، فیشن کو ایک مخصوص طبقے کے ساتھ منسوب کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک غریب بوڑھے کی ویڈیوسوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہوئی جس میں وہ بوڑھا انگریزی بول رہا تھا۔ ارشد خان کی تصویر کی طرح اس بوڑھے کی ویڈیو بھی بہت مشہور ہوئی۔ وجہ شہرت وہی کہ
غریب ہو کرانگریزی بولتے ہو! کیا کرتے ہو یار
جانتے نہیں کہ انگریزی صرف صاحب لوگ بول سکتے ہیں۔ انگریزی پر صرف ان کا حق ہے جو ایچی سن ، کونونٹ یا کسی اور مہنگے اسکول میں پڑھتے ہوں۔ تم غریب اردو پر گزارا کرو۔ اور اگر انگریزی بولنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو یہ جملے یاد کر لو۔
“کین آئی کم ان؟“
کین آئی گو ٹو واش روم؟“
بس! اس سے آگے ایک لفظ نہیں۔ سرکاری اسکولوں میں اتنی ہی انگریزی سیکھنے کو ملے گی۔ باقی کی انگریزی کسی مہنگے اسکول میں جا کر ”خریدو“۔
اور یہ بھی یاد رکھو ہمارے ہاں عقلمند اور دانش ور وہی ہے جس کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے۔ باقی سب تو نکمے جاہل ہیں۔ ہمارے ہاں اچھی نوکریاں بھی انہی کو دی جاتی ہیں جو کسی مہنگے اسکول سے اچھی سی انگریزی خرید کر لائے ہوں۔
تم ٹھہرے چیڑاسی کے بیٹے، سرکاری اسکول میں جا کر ، دو جملے انگریزی کے سیکھ کر زیادہ سے زیادہ نائب قاصد ہی بنو گے۔ اب تمہیں صدر بنا ڈالیں کیا؟
سی ایس ایس کےامتحان کے بارے میں سنا ہے؟ جانتے ہو پاس کرنے کے لیے انگریزی زبان پر عبورہونا ضروری ہے۔ اب تم جیسا گورنمنٹ ہائی اسکینڈری اسکول کا بچہ تو سالہا سال ”ہیز ” اور ”ہیو“ کی تفریق میں ہی الجھا رہتا ہے۔
اگر شاذونادر کوئی غریب کا بچہ امتحان پاس کر لے تو ہم سب واہ واہ کرنے لگتے ہیں۔ پھر سے حیران ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو غریب ہے مگر کیا بات ہے بھئی مقابلے کا امتحان پاس کر لیا۔ ہمیں یہ حیرت لمز، نسٹ یا ایسے کسی ادارے کے فارغ التحصیل طلباء کے پاس ہونے پر نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ہمارے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ عقل و دانش امراء کے گھر کی باندی ہے۔
ہونا تو یوں چاہیے کہ ہم حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ امیر اور غریب کے لیے یکساں تعلیمی مواقع اور سہولیات ہوں۔اگر انگریزی زبان ہی ہمارا پیمانہ بن چکی ہے تو براہ کرم اتنا تو کر دیں کہ غریب کے بچے کو بھی انگریزی سیکھنے کے لیے وہی ماحول اور مواقع میسر کیے جائیں ، جنتے ایک امیر کے بچے کے لیے ہیں، تاکہ مقابلہ برابری کی بنیاد پر ہو سکے۔
مگر ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم غریب چائے والے کو، غریب انگریزی بولنے والے کو ایک عجوبہ بنا کر پیش کر دیتے ہیں ۔ جس کو ہم نے چائے والا بنا دیا ، اس کے والدین نے اس کا نام ارشد خان رکھا تھا۔ لیکن چونکہ ہمارے معاشرے میں جہاں عزت کا تعین جیب میں پڑے نوٹ، مہنگے سوٹ، مہنگی گاڑی اور محلات کرتے ہوں وہاں چائے والا ہونا ایک عیب ہی تو ہے۔ہم بنک کے گورنر کو ”بنک والا“ نہیں کہیں گے، کسی کمپنی کے مالک کو ”کمپنی والا“ نہیں بلائیں گے، کسی شو روم کے مالک کو ”گاڑی والے“ کہہ کر مخاطب نہیں کریں گے، لیکن ارشد خان کو ”چائے والا“ ضرور کہیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں