قبول ہے کیوں قبول نہیں؟

اداکارہ صبا قمر حالیہ دنوں میں بارہا سوشل میڈیا پر زیر بحث رہی ہیں اور اس کی وجہ عموماً ان کے ایسے بیانات ہیں جوکہ ہمارے مخصوص حلقوں میں پسند نہیں کیے جاتے۔ صبا قمر نے ایک یو ٹیوب چینل بنایا اور اس پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیو نے ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ جہاں بہت سے لوگوں نے اس ویڈیو کی پذیرائی کی وہیں کچھ لوگ اس پر معترض نظر آئے۔ صبا قمر کی ویڈیو میں شادی

Read more

سچ کی قیمت اور دانشور

حالیہ دنوں میں کچھ خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان کا کنٹریکٹ بڑھانے سے انکار کر دیا گیا۔ بظاہر اس کی جو بھی توجیہہ پیش کی جائے لیکن حقیقت سب جانتے ہیں کہ ان کا جرم کیا تھا۔ ہمارے ہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرے میں ہمیشہ اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ دانشوروں، آرٹسٹوں، لکھاریوں، یا مفکروں کو رائے کے اظہار کی آزادی دی جائے۔

لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ہم سب سے زیادہ پابندی اسی طبقے پر لگاتے ہیں۔ ہم نے اکیڈیمیا تک کو قابو کیا ہوا ہے۔ جہاں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ان کے مقصد کو بڑھانے اور ان کے مطلب کی بات کہنے میں سرگرم ہوں وہاں ایسے لوگوں کے لیے حق بات کہنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ کیا اس سب کے باوجود بھی اپنی بات پر ڈٹے رہنا ضروری ہے یا پھر اسی بھیڑ کا حصہ بن جائیں جو کم از کم آپ کو ایک پرسکون اور پر آسائش زندگی تو فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں پروفیسر نوم چومسکی لکھتے ہیں کہ ”دانشوروں کی ذمہ داری ہے وہ سچ بولیں اور جھوٹ کا پردہ چاک کریں“

Read more

فردوس جمال کی یہ ہمت!

فردوس جمال نے ایک مارننگ شو میں مائرہ خان کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا جس سے بہت سے لوگ غیر متفق نظر آئے۔ خاص طور پر پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے لوگ کھل کر مائرہ کی حمایت میں بولے اور فردوس صاحب کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ فردوس صاحب پر کی گئی تنقید کا شور سینٹ الیکشن اور پیٹرول بم میں کہیں کھو ہی رہا تھا کہ مومنہ درید کے ایک اعلان نے اس مسئلے کو پھر سے ابھار دیا۔ مومنہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ وہ شرمندہ ہیں کہ فردوس جمال جیسے لوگ اس انڈسٹری کا حصہ ہیں اور ان کے مائرہ پر دیے گئے کمنٹ غیر مناسب ہیں اور وہ مخصوص مردانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

Read more

کیا بہادر لڑکیاں گھر بسا سکتی ہیں؟

ہم میں سے اکثر لوگ ایک شکوہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کا معیار وہ نہیں رہا جو ایک زمانے میں ہوا کرتا تھا۔ اکثر لوگ دھوپ کنارے، دھواں، آنگن ٹیڑھا اور ایسے ان گنت ڈراموں کا تذکرہ کرتے پائے جاتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ کاش ڈرامے کا یہ معیار لوٹ آئے۔ ایسی ہی لوگ خود کو یہ کہہ کر تسلی بھی دے لیتے ہیں کہ بھئی بھارت میں ابھی بھی ڈرامے کا معیار ہم سے کمتر ہے۔ کیا ہوا اگر ان کی فلم انڈسٹری اچھی ہے، ہماری ڈرامہ انڈسٹری کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔

مگر حال ہی میں بھارت کے کچھ ڈرامے جیسا کہ Sacred Games، Made in Heaven ایک گھسے پٹے سوپ اوپرا سے بہت بہتر ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں پاکستان میں کچھ ایسے ڈرامے بنائے جا رہے ہیں جنہوں نے یہ باور کروایا ہے کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری ابھی بھی مکمل طور پر ساس اور بہو کے قبضے میں نہیں آئی۔ اڈاری اور باغی نے جہاں کچھ اہم معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا، وہیں اب چیخ اور انکار جیسے ڈرامے بہت سے ایسے معاشرتی رویوں کو زیر بحث لا رہے ہیں جن پر ہم بات کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

Read more

شرفا کی غیرت بمقابلہ غربا کی غیرت

سنا ہے کل رات ایک اور بھائی کی غیرت جاگی اور ایک اور بہن موت کے گھاٹ اتار دی گئی ۔ غلط وقت پر ہی سہی مگر بھائی کی غیرت جاگی تو سہی ۔ یہ غیرت تب سو رہی تھی جب اسی بھائی کی بہن فوزیہ کی زبردستی شادی کی گئی۔۔۔ ایک ناپسندیدہ مرد کو اس پر مسلط کیا گیا۔۔  جب وہی شخص اس پر تشدد کرتا رہا اور فوزیہ سے اس کا بیٹا چھین لیا۔۔ جب فوزیہ قندیل بلوچ بنی۔۔۔ جب

Read more