حالیہ دنوں میں کچھ خبریں میڈیا میں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق یونیورسٹی کی جانب سے پروفیسر ہود بھائی اور عمار علی جان کا کنٹریکٹ بڑھانے سے انکار کر دیا گیا۔ بظاہر اس کی جو بھی توجیہہ پیش کی جائے لیکن حقیقت سب جانتے ہیں کہ ان کا جرم کیا تھا۔ ہمارے ہاں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ حالانکہ ایک مہذب معاشرے میں ہمیشہ اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ دانشوروں، آرٹسٹوں، لکھاریوں، یا مفکروں کو رائے کے اظہار کی آزادی دی جائے۔
لیکن ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے۔ ہم سب سے زیادہ پابندی اسی طبقے پر لگاتے ہیں۔ ہم نے اکیڈیمیا تک کو قابو کیا ہوا ہے۔ جہاں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ان کے مقصد کو بڑھانے اور ان کے مطلب کی بات کہنے میں سرگرم ہوں وہاں ایسے لوگوں کے لیے حق بات کہنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ کیا اس سب کے باوجود بھی اپنی بات پر ڈٹے رہنا ضروری ہے یا پھر اسی بھیڑ کا حصہ بن جائیں جو کم از کم آپ کو ایک پرسکون اور پر آسائش زندگی تو فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں پروفیسر نوم چومسکی لکھتے ہیں کہ ”دانشوروں کی ذمہ داری ہے وہ سچ بولیں اور جھوٹ کا پردہ چاک کریں“
Read more