ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج تو صرف بہانہ تھا، وکلاء نے بار کا انتخاب جیتنے کے لئے خوفناک سازش کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے ڈاکٹرز کے خلاف احتجاج تو صرف بہانہ تھا، دراصل وکلاء نے بار کا انتخاب جیتنے کے لئے خوفناک سازش کی۔ نوجوان صحافی رائے ثاقب کھرل نے بتایا ہے کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کے ڈاکٹر عرفان کی ویڈیو خود وکلاء نے سوشل میڈیا پر پھیلا کر اپنے ساتھیوں کو اشتعال دلایا اور پھر ایک منظم انداز میں ہسپتال پر حملہ کیا گیا۔ اس تمام واقعے کا مقصد بار کے انتخابات میں ایک گروپ کا فائدہ پہنچانا تھا۔

تفصیلات کے مطابق وکلاء کی جانب سے بدھ کے روز پنجاب کے سب سے بڑے امراض قلب کے ہسپتال پی آئی سی لاہور پر حملہ کر کے شدید توڑ پھوڑ کی گئی تھی جس کے باعث خاص طور پر ایمرجنسی وارڈ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ جبکہ 9 مریض اپنی جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ اب اس تمام واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

نوجوان صحافی رائے ثاقب کھرل نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹرز سے جھگڑے اور ان کے خلاف احتجاج کی بات صرف بہانہ ہے۔ وکلاء نے باقاعدہ مںصوبہ بندی سے پی آئی سی ہسپتال پر حملہ کیا۔ اس حملے کا مقصد بار کے انتخابات میں ایک گروپ کو فائدہ پہنچانا تھا۔ بار کے انتخابات میں اپوزیشن گروپ نے دوسرے گروپ پر الزام عائد کیا کہ پی آئی سی ہسپتال میں وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر وکلاء کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کیا گیا۔ بار کی اپوزیشن کے اس گروپ نے بعد ازاں وکلاء سے متعلق ڈاکٹر عرفان کی ایک ویڈیو خود سوشل میڈیا پر پھیلائی اور ساتھی وکلاء کو اشتعال دلایا۔

اس گروپ نے وکلاء کو مشتعل کرتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ وکلاء کا تحفظ کرے گا۔ بعد وکلاء کی بڑی تعداد کو پی آئی سی ہسپتال پر حملے کیلئے تیار کیا گیا اور یوں بدھ کے روز ہسپتال پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دھاوا بولا گیا۔

دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ کچھ دن پہلے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہی میں وکیلوں نے قطار سے سے ہٹ کر دوائی مانگی تھی جس کے بعد اسپتال کے عملے اور ڈاکٹرز سے ان کا جھگڑا ہوا تھا۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے آؤٹ ڈور میں تقریباً 15 روزقبل کچھ وکلاء آئے اور پہلے دوا لینے کیلئے عملے سے جھگڑ پڑے جس پر ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور وکلاء میں لڑائی شروع ہوگئی۔ اس حوالے سے سربراہ گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر عرفان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ روز قبل ہسپتال میں ہونے والے جھگڑنے میں تو ڈاکٹرز کا کوئی کردار تھا ہی نہیں۔

یہ جھگڑا دراصل درجہ چہارم کے ملازمین اور وکلاء کے درمیان ہوا تھا۔ تاہم بعد ازاں وکلاء نے اس تمام واقعے کی آڑ میں ڈاکٹرز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹرز نے ہسپتال کے ملازمین کا دفاع کیا جس پر وکلاء شدید مشتعل تھے۔ جبکہ اب بار کے انتخابات ہونے والے ہیں تو ایک گروپ نے انتخابات میں فتح حاصل کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے وکلاء کو بھڑکایا اور ہسپتال پر حملہ کروایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •