عدنان کاکڑ صاحب سائنس نہیں جانتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لو جی یہ بھی پڑھ لیں، سائنس میں آج تک جتنی بھی ترقی ہوئی ایسے ہی کالم نگار سائنسدان کے کالموں سے ہی ممکن ہوئی۔باقی سب علوم اور\"ehtasham-gerdezi\" تحقیقات فضول تھیں۔

جناب فرماتے ہیں کہ مجھے سائنس پڑھے تیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن صرف ایک کالم میں ہی جناب نے ڈارون کی ارتقا کی تھیوری کو غلط ، علم ارضیات geology کے تمام اصولوں اور علوم کی یکسر نفی ، radioactive dating کو غیر سائنسی اور غیر معیاری قرار دے دیا اور فاسلز Fossils کو طوفان نوح سے جوڑتے ہوئے Paleontology میں ایک نئے باب کا آغاز کیا ۔ میں ڈارون کے ارتقا کی تھیوری اور حیاتیات biology کی پیچیدگیوں کے بارے زیادہ نہیں جانتا لیکن علوم ارضی Geology کے طالب علم کی حیثیت سے اس کالم پر کچھ وضاحت کروں گا ۔جناب نے کہا کہ radioactive dating ایک غیر معیاری اور غیر سائنسی تکنیک ہے ۔یہ کس بنیاد پر غیر سائنسی اور غیر معیاری ہوئی معلوم نہیں۔پھر فرمایا کہ radioactive dating سے صرف دس ہزار سال تک کی چیزوں کی عمر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جب کہ حقیقت میں radioactive dating سے organic materials نامیاتی مادوں کی 75000 سال تک کی عمر کو معلوم کیا جا سکتا ہے .

جناب نے Paleontolgy یعنی فاسلز کے علم کے بارے بغیر کچھ پڑھے اور جانے لکھا کہ ”جب کوئی جاندار مر جائے تو اس پر ریت مٹی پڑتی رہتی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ پتھر کی شکل اختیار کر جاتی ہے جس پر اس جاندار شے کا نقش باقی رہ جاتا ہے۔ ایسا عام طور پر پانی کی تہہ کے نیچے ہوتا ہے۔ کیا یہ نہیں سوچا جا سکتا ہے کہ یہ تمام فوسل کروڑوں سال کے وقفے سے نہیں بلکہ ایک ہی وقت میں طوفان نوح کے وقت اس موقعے پر وجود میں آئے تھے جب کرہ ارض سے سیلاب کے باعث حیات تقریباً ختم ہو گئی تھی؟“۔

اگر آپ نےpaleontology کی بنیاد ہی پڑھ لی ہوتی تو یہ نہ لکھتے ۔زمین پر ہر کسی کے جاندار کچھ خاص دورانیے کے لیے رہے اور ان کے باقیات یعنی fossils کی بنیاد پر ہی ان کی عمر کا تعین کیا جاتا ہے کہ آیا یہ جاندار اس زمیں پر کس عرصے سے کس عرصے تک رہا اور پھر کب اس کی نسل ختم ہوئی، آیا کسی اچانک حادثے کی صورت میں کسی جاندار کی نسل ختم ہو گئی یا بتدریج آہستہ آہستہ یا پھر کوئی جاندار جس کے فاسلز ملتے ہیں اس کی نسل زمیں پر آج بھی موجود ہے ۔ اس طرح سے زمین کے کسی حصے کی یا زمین پر پائے جانے والے کسی جاندار کی عمر کو معلوم کیا جاتا ہے ایسا نہیں ہے کہ تمام جاندار اس وقت فاسلز بن گئے جب طوفان نوح آیا ۔

اگر آپ کا کہا درست مان لیا جائے تو اس کے مطابق علم ارضیات geology جو اتنا وسیع مضمون ہے یہ سارے کا سارا غلط ہے یعنی آپ کہہ رہے ہیں کہ زمین کا وجود صرف چند ہزار سال پہلے کا ہے۔ لیکن علم ارضیات کے ماہرین کے مطابق زمین کا وجود 4.6 بلین سال پہلے وجود میں ایا ۔ یہ 4 .6 ارب سال کی عمر بس بیٹھے بیٹھے ہینہیں نکال لی گئی بلکہ اس کے لیے کئی تجربات کیے گئے ہیں اور آسٹریلیا سے ملنے والے zircon کے ذرے کی dating کے ذریعے اس عمر کا تعین کیا گیا تھا جو کہ کم و بیش بھی ہو سکتی ہے ۔

زمین کے وجود سے لے کر آج تک کی اس ساری تاریخ کو سائنسدانوں نے مختلف ادوار میں تقسیم کیا ہے سب سے پرانے حصے کو Precambrian کا نام دیا گیا ہے جو 4.6 ارب سال پرانا ہے اور سب سے جدید دور کو Holocene کہتے ہیں جو کہ آج موجودہ عہد میں جاری ہے۔ Geology کے سبھی ذیلی علوم میں ساڑھے چار ارب سال سے لے کر آج تک زمین کی تمام تاریخ کو Geological Time Scale کی رو سے دیکھا جاتا ہے اور یہ timescale علم ارضیات کی بنیاد ہے اور اسے geologists کی گھڑی قرار دیا گیا ہے یہ time scale ایسے ہی نہیں بن گیا بلکہ اس کی بنیاد مختلف علوم اور اصولوں پر مبنی ہے ۔

آپ نے زمین کی کل عمر کو ہی چند ہزار برس قرار دے دیا جب کے زمین پر سب سے پرانے پائے جانے والے جس انسان کے باقیات ملے ہیں وہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سال پرانے ہیں جنھیں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ماہرین نے ایتھوپیا سے دریافت کیا تھا ۔

آپ نے اپنے مضمون میں dating کے صرف ایک طریقے پر ہی روشنی ڈالی اور بغیر کسی دلیل کے اسے غیر سائنسی اور غیر معیاری بھی قرار دے دیا جبکہ اصل میں dating کے لیے دو طریقے استعمال ہوتے ہیں آپ نے جس radioactive / C 14 کا ذکر کیا وہ absolute dating method ہے جب کہ اس کے علاوہ relative dating method بھی ہے جس کی بنیاد علم اراضی کے کئی اصولوں پر مشتمل ہے (جنھیں سیکھنے کے لیے عمر کا کچھ حصہ صرف کرنا پڑتا ہے نہ کہ صرف ایک کالم لکھنے سے سیکھے جا سکتے )۔

آپ ڈارون کے نطریہ ارتقا سے اختلاف ضرور کیجیے اور اس تھیوری کو غلط ثابت کرنے کے لیے دلائل کے ساتھ ایک سائنسی مقالہ لکھیے لیکن خدارا صرف ایک اختلاف کی بنیاد پر سائنس کے دیگر علوم کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی نہ کریں ۔آپ خود کہہ رہے ہیں کہ مجھے سائنس پڑھے تیس سال کا عرصہ ہو گیا ہے تو پھر ان علوم کی بنیاد ہی کو آپ نے بغیر کسی دلیل کے غلط قرار دے دیا جن کی شاید آپ کو الف بے بھی نہ آتی ہو ۔

مجھے نہایت ہی افسوس ہے کہ میں اتنی فیسیں دے کر جس سائنس کے سیکھنے کے لیے اپنی عمر صرف کر رہا تھا پہلے پتا چل جاتا کہ یہ سب جھوٹ ہے تو آپ سے ہی ملاقات کر لیتا ، والدین کے پیسے بھی بچ جاتے اور اس جھوٹی اور کافر سائنس نے یہ جو بکواس ، جھوٹ اور اوٹ پٹانگ مجھے سکھایا اس کے گمراہ ہونے سے بھی بچ جاتا ۔


Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احتشام گردیزی کی دیگر تحریریں

4 thoughts on “عدنان کاکڑ صاحب سائنس نہیں جانتے

  • 20/10/2016 at 8:31 pm
    Permalink

    احتشام صاحب ارتقا پر عدنان کاکڑ کی تحریر کو اس کی نوعیت سمجھے بغیر ہی سنجیدہ لے رہے ہیں۔ احتشام صاحب کی پیش کردی جیالوجی کے دلائل کی بھرمار بڑی مزاحیہ ثابت ہوگی جب وہ عدنان کی تحریر کو یہ جان کر پڑھیں کہ مصنف (عدنان کاکڑ) خود جانتا ہے کہ اس کا لکھا سب جھوٹ ہے۔
    دو درخواستیں ہیں۔
    1- عدنان کی تحریر پڑھنے سے پہلے ناقدین یہ پڑھ لیں کہ satire کیا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ندیم پراچہ کی کچھ تحریریں مدد دے سکتی ہیں۔
    2- عدنان صاحب ہی قوم کے اعلی اذھان سے کھیلنا بند کریں اور خود ہی بتلا دیا کریں کہ دم تحریر اور مدعا میں تضاد ہے۔

  • 20/10/2016 at 8:42 pm
    Permalink

    متفق ہوں ، جناب کا آرٹیکل نظر سے گزرا تها پڑها بهی مگر تبصرہ کرنا صحیح نہیں سمجها ..

  • 20/10/2016 at 10:16 pm
    Permalink

    جناب آپ کے پاس جیالوجی کا بہت علم سہی مگر طریقہ کار ہاۓ تنقید میسر نہ ہے جسکی عدم موجودگی آپ کے علوم و فنون کی اہمیت کو ذائل کیے جاتی ہے۔ جبکہ کاکڑ صاحب کا انداز بیان کرنے کا بہترین اور اعلیٰ ہے۔

Leave a Reply