حافظ منجن، قومی سلامتی، اور ہم سب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"ahmed-noor\"پرانے وقتوں میں منجن اس لئے استعمال کیا جاتا تھا کہ ٹوتھ پیسٹ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔گھریلو منجن زیادہ بہتر تھا، لیکن آہستہ آہستہ اس کی جگہ بازاری منجن نے لے لی ۔پھر آیا حافظ منجن ۔

یہ ایسا منجن ہے جو فری میں ملتا ہے۔آپ لاکھ کہیں کہ آپ نے یہ منجن استعمال نہیں کرنا ہے ،آپ کو کرنا پڑے گا۔اس کو استعمال نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے اسے استعمال کیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ اس میں سوڈے کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے دانت کچھ عرصے تک تو صاف نظر آتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دانتوں کو داغ لگنے سے بچانے والی انیمل کی تہہ کمزور ہو جاتی ہے ۔ایک وقت ایسا آتا ہے دانتوں پر لگے یہ داغ آپ کی دلکش شخصیت کو بھی داغ دار کر جاتے ہیں۔یہ وہ داغ نہیں جو سرف ایکسل ڈٹرجنٹ پاوڈر کے اشتہارکے مطابق اچھے ہوتے ہیں۔

پھر اس کا حل یہ ہوتا کہ آپ کو دانتوں کی سکیلنگ یعنی رگڑائی کروانی پڑتی ہے۔اس کہانی کو سن کر آپ بھی سوچیں گے کہ بندہ ایسا کام کرے ہی کیوں جس کی وجہ سے یہ نوبت آجائے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ حافظ سعید، مسعود اظہر ، حقانی نیٹ ورک اور اس جیسے دیگر نام نہاد غیرریاستی عناصرکا ہے جوایک تازہ خبر کے مطابق ریاست بنے بیٹھے ہیں۔یعنی معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ ان سے چھٹکارا پانے کی بات کرنا ’قومی سلامتی‘ کا ایشو بن جاتا ہے۔قومی سلامتی کا مسئلہ اس لئے کہ امریکہ اور بھارت بھی کہہ رہے ہیں کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے یا انہیں ڈس مینٹل کیا جائے۔

حالانکہ یہ بات صرف امریکہ اور بھارت ہی نہیں بلکہ دوست ملک چین سمیت بہت سارے محب وطن پاکستانی بھی کہہ رہے ہیں کہ ہمیں دشمن کی تنقید کو مثبت لیتے ہوئے ان گروہوں سے نجات حاصل کرنی چاہیئے کیونکہ Good Taliban سے Bad Taliban بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ہم نے روس کے خلاف تیار کئے گئے ’مجاہدین‘ کو اپنی آنکھوں سے طالبان بنتے دیکھا ہے۔

 حالیہ دنوں میں ایک معتبر پاکستانی اخبار روزنامہ ڈان کے صحافی سرل المیڈا نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں فوج اور حکومت کے درمیان ہونے والی ایک غیر معمولی یا ایسی میٹنگ کا احوال بیان کیا گیا ہے جسے میڈیا کی پہنچ سے دور رکھا جانا تھا۔

سیرل المیڈا نے وزیراعظم ہاوس میں سول اور ملٹری قیادت کے اجلاس کے دوران ہونے والی اہم ملکی معاملات پر بحث کی خبر شائع کی تھی جس میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے حوالے سے لکھاگیا تھا کہ انہوں نے فوج پر الزام لگایا کہ وہ کالعدم مذہبی تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے کارروائی کرنے میں عدم تعاون کر رہی ہے ۔خبر میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری کے حوالے سے لکھا گیا تھا کہ ان تنظیموں کی وجہ سے پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

حکومت اس خبر کی جتنی بھی تردید کرے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سچی خبر ہے۔اگر یہ خبر سچی نہیں ہے تو اس خبر کو لے کر فوج میں تشویش کیوںپائی جا رہی ہے؟جی ۔ایچ۔کیو میں جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ہونے والی حالیہ کورکمانڈر کانفرنس میں اس خبر کو ’قومی سلامتی‘ کی خلاف ورزی قرار دیا گیا جس کا مطلب ہے کہ خبر جھوٹی نہیں ہے۔

پہلے صحافی کا نام ای۔سی۔ایل میں ڈال کر اسے ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی۔جب لوگوں نے کہا کہ بھئی پیغامبر کو مارنے کے بجائے اُس کو پکڑیں جس نے یہ پیغام بھیجا ہے تواس کے بعد اُس کے بیرون ملک سفر کرنے پر لگائی گئی پابندی ہٹا دی گئی۔اور یہ فیصلہ ہواکہ فوج اور حکومت اس معاملے کی تحقیقات کریں گے کہ خبر صحافی تک کیسے پہنچی۔یہ بھی اس خبر کے سچا ہونے کا ایک ثبوت ہے۔اگر یہ جھوٹی خبر ہے تو اس بات کی تحقیقات کیوں جا رہی ہیں کہ لیک کس نے کی؟

اگر یہ بات سچی ہے کہ ان عناصر کی وجہ سے دشمن کو ہمارے خلاف عالمی سطح پر پراپیگنڈہ کرنے کا موقع مل رہا ہے اور ہمارے سفارت کار جہاں جاتے ہیں وہاں ان کا اچھا بھلا کیس فلاپ ہوجاتا ہے کیونکہ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کریں۔اس بات پر غصہ کرنے اور اس ایشو کوکارپٹ کے نیچے دبانے کے بجائے سیریس لینے کی ضرورت ہے۔بعض اوقات دشمن بھی ایسی بات کر جاتے ہیں جس کی وجہ نقصان کے بجائے اُلٹا فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اب یہ منجن نہیں بکے گا۔کوئی اور حکمت عملی بنانی ہوگی۔

 مانا کہ امریکہ اور بھارت نے بھی درپردہ ایسے ہی گروہ پال رکھے ہیں جو پاکستان مخالف کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے عناصر کی ضرورت ہے۔لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ کیا بھارت اور ہندوستان بھی اپنے شہریوں کو استعمال کرتے ہیں یا اُن کا طریقہ واردات مختلف ہے؟ کیا ان عناصر کی جگہ دشمن کا بلف ریورس نہیں کیا جا سکتایعنی وہی کچھ نہیں کیا جا سکتا جو وہ پاکستان کے خلاف کر رہے ہیں؟ مخالفین کے پراپیگنڈے کا اس بہتر کوئی حل نہیں ہے۔

چین ایک مثال ہے جو امریکہ سمیت دنیا کی طاقتوں کے سامنے کھڑا ہے ۔کیا چین کے پاس بھی حافظ سعید،مسعود اظہر اور حقانی نیٹ ورک ہے جس کے ذریعے وہ اپنے دشمن کا مقابلہ کرتا ہے؟ کیا ملکی سلامتی اتنی کمزور ہے کہ وہ ان لوگوں کی مرہون منت ہے؟

ایک ایٹمی قوت اورنہ ٹوٹنے والی بہادر قوم ہونے کے ناطے سے پاکستان کو کسی کا خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم ان عناصر کو حقیقی معنوں میں بوتل کے اندر بند کر لیتے ہیں تو پاکستان دنیا میں سرخرو ہوگا۔عالمی برادری آپ کی سپورٹ کرے گی۔ہمارے سفارت کاروں میں اخلاقی جرات آئے گی اور لوگ ان کی بات کا یقین کریں گے جس سے دشمن کا پراپیگنڈہ کمزور ہوگا۔

چین پاکستان کی خاطراقوام متحدہ میں ان عناصر کو بھارت کی طرف سے دہشت گرد قرار دئیے جانے کی راہ میں کئی مرتبہ رکاوٹ بنا ہے ،لیکن اندر کھاتے اب وہ بھی تنگ آچکا ہے اور کہہ رہا ہے کہ بھئی ان عناصر کو پالنے کی کیا ضرورت ہے۔اس نیٹ ورک کو ڈس مینٹل کرنے کی بات کو دشمن کا پریشر سمجھنے کے بجائے اسے قدرت کا ایک اشارہ سمجھیں اور ان سے گلو خلاصی کروا کے ہم سب کو شکریہ کا موقع دیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments