عمران خان اور راؤ انوار ایک پیج پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پورا ملک گزشتہ روز لاہور کے امراض قلب ہسپتال پر وکلا کے حملہ کے بعد ، اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہے کہ اصل قصور وار کون تھا ۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر حفیظ اللہ چوہدری نے واضح کیا ہے کہ ہسپتالوں میں مریض مرتے ہی رہتے ہیں، اس میں وکیلوں کا کیا قصور ہے؟

ملک بھر کے بیشتر دوسرے وکلا بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان میں بعض نہایت سینئیر اور انسانی حقوق کے علاوہ قانون کی بالادستی کے لئے کام کرنے کی شہرت رکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تک وکیلوں کے احتجاج اور ہپسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں غنڈہ گردی کی مذمت نہیں کی جاسکتی جب تک اس واقعہ کی مکمل تحقیقات نہ ہوجائیں اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہ ہوجائے۔ پاکستان میں ایسی تحقیقات روائیتی طور سے جو نتائج سامنے لاتی رہی ہیں ، ان سے سبق سیکھا جائے تو جانا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں جرم کرنے والوں کی تحقیقات کے بعد بھی سچ کے دودھ سے جھوٹ کا پانی علیحدہ نہیں ہوتا بلکہ یوں لگنے لگتا ہے کہ کہیں پانی کو ہی دودھ کا نام نہ دیا جارہا ہو۔

 مزید شناسائی کے لئے ساہیوال سانحہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کی انسداد دہشت گردی عدالت سے رہائی اور اس معاملہ میں پیش کئے گئے شواہد سے سبق سیکھا جاسکتا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا تھا کہ جن اہلکاروں پر ایک بے گناہ خاندان کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ، وہ تو وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے۔ زندہ بچنے والے بچوں سمیت کوئی بھی ان کی شناخت کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا تھا۔ اسی طرح سرکاری اسلحہ خانہ سے وہ گولیاں ہی جاری نہیں ہوئی تھیں جن کے خالی خول دکھا کر ’معصوم‘ پولیس اہلکاروں کو پھنسانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب بے گناہی کے ایسے ٹھوس ثبوتوں کے ہوتے کون کٹھور جج ہوگا جو کسی بے گناہ کو محض ’عوامی دباؤ‘ یا حکومت کی خواہش کی وجہ سے سنگین الزام میں سزا دے۔ عام آدمی ٹی وی دیکھے، اخبار پڑھے اور پھر عدالت کا مخمصہ دیکھے تو یہی کہے گا کہ سچ کا یہ دودھ ہی کالا ہے، اب اس سے پانی کیوں کر علیحدہ کیا جائے۔

لاہور کے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ پر حملہ کی المناک خبر اور اس پر صحافیوں اور اینکرز کی دل ہلادینے والی رپورٹنگ کے اگلے ہی روز سیاسی بیانات سے لے کر وکیل تنظیموں اور رہنماؤں کے تبصرے دیکھے جائیں تو لگتا ہے کہ چند روز بعد جب تحقیقات مکمل ہوں گی اور عدالت میں مقدمہ لایا جائے گا تو دراصل ’مظلوم ‘ دکھنے والے ڈاکٹر ہی قصور وار ثابت ہوں گے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ سراغ رسانوں کا ’کھرا‘ مرنے والے مریضوں کی طرف ہی اشارہ کرنے لگے کہ ہو نہ ہو ان میں سے ہی کسی نے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ یا آپریشن تھیٹر میں توڑ پھوڑ نہ کردی ہو۔ بعض نہایت معتبر وکیلوں نے یہ واضح کیا ہے کہ ’وکیل تو کبھی کسی مریض پر حملہ کر ہی نہیں سکتا۔ وہ کسی کو لگی ڈرپ نکال سکتا ہے اور نہ ہی ہسپتال میں جا کر توڑ پھوڑ کا گناہ عظیم اس سے سرزد ہوسکتا ہے‘۔

 اس کے ساتھ ہی ان معتبر اور جہاں دیدہ وکیل نما سیاسی رہنماؤں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ ہو نہ ہو یہ کسی غیبی ہاتھ کا کمال ہے جو وکیلوں کو بدنام کرنے کے لئے سرگرم ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اس بات پر افسوس تو کیا جاسکتا ہے کہ ہسپتال پر حملہ ہؤا اور اس میں بعض مریض جان بحق ہوگئے لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کام احتجاج کرنے والے وکیلوں نے ہی کیا ہے۔ کیوں کہ وکیل تو انسانوں کی حفاظت کے فرض سے غافل ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے رائے بنانے سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ کہیں کسی نے وکیلوں کو بدنام کرنے کے لئے غنڈوں کو کالے کوٹ پہنا کر ہسپتال کے اندر نہ بھیج دیا گیا ہو۔ ان سینئیر وکیلوں کا یہ سوال بھی ہے کہ ڈاکٹروں کی زیادتی اور ان کے خلاف کارروائی میں حکومت کی ناکامی کے بعد اگر وکیلوں نے احتجاج کیا تو کیا برا کیا؟ آخر یہ جمہوریت ہے ۔ اس میں احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

لیجئے صاحب پہلے یہ تعین کرلیاجائے کہ ہسپتال پر وکیلوں کے حملے سے پہلے کہاں کہاں کیا سازش کی گئی تھی اور اس پر کیسے عمل درآمد کروایا گیا۔ تب ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ اس معاملہ میں اصل چور کون ہے۔ اب یہ بات زبان زد عام ہے کہ پہل ڈاکٹروں کی طرف سے کی گئی۔ انہیں وکیلوں کی پیٹھ پیچھے ان کی ’غیبت‘ کرنے ، شعر سنانے اور توہین کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر یہ کرنا ہی تھا تو اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کرنے میں کون سی حکمت تھی۔ اس کا مقصد وکیلوں کو اشتعال دلانے کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس ’اشتعال انگیزی ‘ کے جواب میں وکیلوں نے ڈاکٹروں کو للکارنے کی ویڈیو بنا کر یہ پیغام عام کردیا کہ ہم نے بھی ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں پہن رکھیں ، ہم بھی احتجاج کرنا اور بدلہ لینا جانتے ہیں۔ تو اس پر شور مچانے اور وکیلوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کیا ضرورت ہے۔ جب آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے تو پانی کا استعمال بھی برابر ہی ہونا چاہئے ۔ یعنی ایک وکیل کو پکڑنا ہے تو دو ڈاکٹر بھی پکڑے جائیں۔

وکیل یا ڈاکٹر میں بڑا قصوروار کون ہے؟ اس کا فیصلہ ہونے سے پہلے فریقین کے درجنوں دلائل سننے پڑیں گے اور آخر میں تحقیق کرنے والوں کو یہی نہ کہنا پڑےکہ اس دودھ میں ملا پانی علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ اس وقت تک لاہور بار کے انتخاب بھی ہوجائیں گے اور یہ بھی طے ہوجائے گا کہ اس ہنگامے کا اصل محرک کون اور کیوں تھا۔ لیکن یہ خبر تحقیقات کے لئے بنائی گئی ان اعلیٰ کمیٹیوں کے کانوں تک نہیں پہنچے گی جو وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے حکم پر فوری طور سے سرگرم ہوچکی ہیں اور اب اپنی رپورٹ تیا رکرنے کے لئے دن رات ایک کررہی ہیں۔

 اس سنگین معاملے کے ایک دوسرے پہلو پر ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ فیاض الحسن چوہان اور تحریک انصاف کے دیگر زعما نے بتایا ہے کہ یہ وکیلوں کا احتجاج نہیں تھا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی شرارت تھی جبکہ کچھ اسی قسم کا جوابی الزام مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بھی لگایا گیا ہے۔ گویا یہ امن وامان کا معاملہ نہیں تھا بلکہ سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے کی جانے والی سازش تھی۔

فیاض الحسن چوہان پنجاب حکومت کے وزیر اطلاعات ہیں۔ وہ اس حد تک اس واقعہ کے عینی شاہد بھی ہیں کہ وہ خود ہنگامہ کے دوران امراض قلب ہسپتال پہنچے تھے اور بیچ بچاؤ کروانے کی کوشش میں وکیلوں کے چنگل میں پھنس گئے جس دوران ان کے گزشتہ روز کے بیان کے مطابق وکیلوں نے انہیں اغوا کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ ان کی اس بہادری پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی ان کی کمر تھپتھپائی ہے۔ اب اگر وہ یہ سراغ لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ اس ہنگامہ میں مسلم لیگ (ن) ملوث تھی تاکہ نیک طینت عثمان بزدار کی حکومت کو نااہل ثابت کیا جاسکے تو اسے کیسے نظر انداز کیا جاسکے گا؟

اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ وکیل ’بے قصور ‘ تھے۔ امید ہے فیاض الحسن چوہان یہ بات تحقیقاتی کمیٹی کوبھی بتا دیں گے تاکہ اس کے معزز ارکان کو بھی ’سچ‘ تک رسائی حاصل ہوجائے۔ سچ جاننے کا یہ عمل ویسا ہی ہوگا جس کا تجربہ ساہیوال سانحہ کا فیصلہ کرنے والی انسداد دہشت گردی عدالت بھی کرچکی ہے۔ اگر معزز جج عینی گواہوں کے بیانات کو غور سے نہ دیکھتے یا پولیس مال خانے کےریکارڈ کی احتیاط سے پڑتال نہ کرتے تو نہ جانے کتنے ’بے گناہوں‘ کو سزا ہوجاتی۔

وزیر اعظم عمران خان نے تو کل ہی لاہور سانحہ پر فوری کارروائی کا حکم دے کر اپنی پوری توجہ بھارت میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف مبذول کردی تھی جہاں اس وقت ہندو انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی اپنے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ وزیر اعظم نے آج متعدد ٹوئٹ پیغامات میں واضح کیاہے کہ اگر دنیا نے فوری طور پر مودی کا ہاتھ نہ پکڑا جو مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کرنے کے بعد اب بھارت میں آنے والےمسلمانوں کو شہری حقوق سے محروم کرنے کاا قدام کر بیٹھا ہے تو انہونی ہوسکتی ہے۔ بھارت کی اس حکمت عملی کے بھی ویسے ہی نتائج سامنے آسکتے ہیں جو ہٹلر کی نسل پرستانہ پالیسیوں کی وجہ سے سامنے آئے تھے۔ یعنی دنیا کو دوسری جنگ عظیم کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ملک کے چوکنے وزیر اعظم لاہور میں ہونے والے پریشان کن واقعہ کے باوجود خارجہ پالیسی کے اس اہم پہلو سے بے خبر نہیں رہے اور ٹوئٹ پیغامات کے ذریعے دنیا کو جھنجوڑنے کا کام پوری تن دہی سے انجام دے رہے ہیں۔

کچھ ایسا ہی کارنامہ ملیر کراچی کے سابق ایس ایس پی راؤ انوار نے بھی انجام دیاہے۔ وہ کراچی میں نجیب اللہ محسود کے ماورائے قتل کے الزام کا سامنا کررہے ہیں لیکن ہر مرحلے پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے میں مستعد رہتے ہیں۔ گزشتہ روز امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے اور پولیس مقابلے میں متعدد لوگوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں راؤ انوار کو بلیک لسٹ کیاتھا۔ اب راؤ انوار نے امریکی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے راؤ صاحب سے معافی نہ مانگی تو وہ واشنگٹن میں اپنے وکیل کے ذریعے امریکی حکومت کو عدالت میں کھینچیں گے۔ ایک ویڈیو پیغام میں راؤ انوار نے پاکستانی قوم کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ نے انہیں بلیک لسٹ کرنے کا شوشہ دراصل مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو منظر نامہ سے ہٹانے کے لئے چھوڑا ہے۔

اس طرح وزیر اعظم عمران خان اور سابق پولیس افسر راؤ انوار نے یکساں مستعدی سے قوم کو دشمنوں کے ارادوں سے چوکنا کرنے کا عظیم فرض ادا کیا ہے۔ گویا یہ دونوں قوم کی محبت میں دراصل ایک ہی پیج پر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1652 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali