غریب دا بال ہے، کھاندے ڈہی ہے تیکوں کیا آدے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (دل کا ہسپتال) پر وکلاکے حملے اور اس کے نتیجہ میں ہونیوالی 3 مریضوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے رات بھر سو نہیں سکا، وکلا شاید عوام کو یقین دلانا چاہتے تھے کہ ”زندہ ہیں وکلاء زندہ ہیں“ اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے 3 قیمتی انسانی جانوں کی قربانی کردی، ہسپتال پر حملہ کرنے والے گویا کالے کوٹوں میں چھپے انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق تھے، مانتے ہیں کہ احتجاج انسان کا بنیادی حق ہے مگر احتجاج میں بھی اخلاقیات ہوتی ہے، ہزاروں مظاہرین میں کوئی ایک بھی انسان نہیں لگ رہا تھا جو وحشیوں کی طرح ہسپتال پر ٹوٹ پڑے۔

دل انسان کا سب سے نازک اعضاء ہوتا ہے اگر دل کا دورہ پڑ جائے تو ایک ایک سیکنڈ قیمتی ہوتا ہے، ظلم اتنا کیا کہ مظالم بھی شرما گئے۔ ہلاک ہونے والی ایک بائیس سالہ لڑکی کے بھائی نے بتایا کہ وکیلوں نے اس کی بہن کا آکسیجن ماسک اتار دیا تھا جس کے بعد اس کی وفات ہو گئی۔  جس شخص نے آکسیجن ماسک اتارے کیا اس کی کوئی ماں بھی ہے، کوئی بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھو، تائی، چچی بھی ہے جس کو اس مریضہ کی شکل میں اپنا کوئی رشتہ یاد نہ آیا اور اس کا ماسک اتار پھینکاجس کی وجہ سے وہ پل بھر میں موت کی وادی میں اترگئی۔

کیا کوئی ماں اپنے بیٹے کی اس طرح کی تربیت کرسکتی ہے جس کو عورت تو دور کی بات اس کے دل میں یہ بھی درد نہ ہوا کہ یہ ایک مریضہ ہے اور زندگی کی جنگ لڑرہی ہے۔ اس خاتون کو اللہ تعالیٰ تو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کردے گا مگر اس شخص کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے۔ جس نے 6 بھائیوں کی اکلوتی بہن ان سے چھین لی۔

بدترین دشمن بھی جنگ کے دوران ہسپتال پر حملہ نہیں کرتا، پی آئی سی کے عملے یا ڈاکٹر نے کالے کوٹ کی کیا توہین کردی تھی کہ اسلام کی تعلیمات، اخلاقیات کا درس کچھ بھی یاد نہ رہا، انسان کیا ہے ایک پانی کا بلبلہ ہے، بے شک اللہ تعالیٰ بہترین انصاف کرنے والا ہے، کیا عجب ہے کہ آئندہ چند روز میں یہی کالے کوٹ والا دل کے ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے پر پی آئی سی لایا جائے اور جب ڈاکٹرز اس کی زندگی بچانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کررہے ہوں عین عجب ہے کہ اس وقت کالے کوٹ میں کوئی ظالم داخل ہو اور اس کا آکسیجن ماسک اتار پھینکے پھر اس کے اہلخانہ کی حالت کو دنیا دیکھے گی۔

اس ساری صورتحال میں پنجاب حکومت کیا کررہی تھی، وکلا دوگھنٹوں میں عدالت سے پی آئی سی پہنچے، آئی جی پنجاب کیا کر رہا تھا، پنجاب کا سیکرٹری داخلہ رہنے والا اور موجودہ چیف سیکرٹری حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں لگاسکا، پولیس کو پی آئی سی کی حفاظت کے لئے کیوں الرٹ نہیں کیا گیا۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد لاہور میں ایک اور سانحہ ہوگیا مگر اس میں بہت فرق ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن اس وقت کی حکومت کی سرپرستی میں ہوا، پی آئی سی کے سانحہ کو بچانا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا فرض تھا، کیا پولیس کو کس نے احکامات دینا تھے؟ ، وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں پنجاب کی بیوروکریسی تبدیل یہ کہہ کر کی کہ یہ بہت بڑے افلاطون ہیں جو کہ پنجاب کو قانون اور میرٹ پر چلائیں گے، خان صاحب یہ ہے آپ کی چوائس ہے، یہ ہے آپ کی سلیکشن ہے۔

وزیراعظم صاحب، اپوزیشن آپ کو ہمیشہ نا اہل اور نالائق کہہ کر پکارتی ہے، سانحہ پی آئی سی نے اپوزیشن کی بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ آپ نا اہل ہی نہیں بلکہ پرلے درجے کے نالائق بھی ہیں، باقی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے کیا گلہ کیا جائے۔ سرائیکی کا ایک واقعہ ہے جس کا آخر اس پر ہوتا ہے۔
غریب دا بال ہے، کھاندے ڈہی ہے تیکوں کیا آدے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •