کیا حسان نیازی صرف ایک ہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے مثبت روش اپنائیں تو تب وہ مثبت اعشاریے دکھاتے ہوئے ترقی کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرے منفیت کی ترویج اپن شعار بنا لیں تو وہ ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جاتے ہیں۔ اور ایسا ہی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے۔ اس تیزی سے تنزلی کی جانب جاتی ہوئی ترقی کو پیچھے چھوڑتی پاکستان کی ٹرین کو روکنا بھی ہم نے خود ہی ہے۔ اور کوشش بھی ہم نے ہی کرنی ہے۔ غلطی کرنا کوئی بڑی بات نہیں لیکن غلطی پہ شرمندہ ہوتے ہوئے اس پہ اپنی شرمندگی ظاہر کرنا یقینی طور پر بہادروں کا کام ہوتا ہے۔ اور حسان نیازی نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ انہوں نے غلطی کی اور غلطی پہ نہ صرف شرمندہ ہیں بلکہ ذہنی تناؤ کا بھی شکار ہیں۔

پنجاب میں وکلاء نے جس طرح پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو پل بھر میں کھنڈر بنا دیا وہ اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ اس قدر برا سلوک یا غم و غصہ تو قتل بھی ہو جاتے ہیں تو نہیں دیکھا کبھی۔ لیکن یہ کیا کہ معاشرے کے ایک حصے نے سب تہس نہس کر ڈالا کہ ان کی عزت و تکریم میں کمی آئی ہے۔ اور ان کی ہتک کا ساماں ہوا ہے۔ اس بات میں کوئی بحث ہی نہیں کہ ہو سکتا ہے وکلاء حضرات ٹھیک ہوں اپنے موقف میں لیکن کیا اپنے موقف میں ٹھیک ہوتے ہوئے بھی اس طرح سب تہس نہس کر دینا معاملہ فہمی ہے؟

کیا وکلاء معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہیں کہ جن کی عزت پہ حرف آنا خدانخواستہ کوئی نوگوایریا ہے؟ وکلاء صاحبان کیا خود ہزاروں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پہ ہتک عزت کی درخواستیں دائر نہیں کرتے۔ کیا وکلاء خود ڈی فیمیشن کے کیس دائر نہیں کرتے؟ اگر ایسا ہے تو پھر اپنی ہتک ہونے پہ انہوں نے یہ راستہ کیوں اختیار نہیں کیا؟ کیا وجہ ہے کہ عدالتی معاملات کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے گالم گلوچ کا سہارا لیتے ہوئے ہسپتال کو تہس نہس کر دیا۔

اور ہسپتال بھی ہو جو ایک سنگین بیماری کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔ دشمنی ڈاکٹر سے تھی یا ہسپتال سے؟ ویڈیوز بنتی رہیں، نعرے لگتے رہے، نہیں چھوڑیں کے نغمے بلند ہوتے رہے۔ کیا یہ پاکستانیت ہے؟ کیا یہ انسانیت ہے؟ کیا یہ ہمارے مسلمان ہونے کی دلیل ہے؟ کیا ہمارا مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف ہونے پہ جو کچھ سامنے آئے اسے تہس نہس کر دو؟ کیا ہماری وطنیت اس بات کا درس دیتی رہی ہے کہ جس کی بات سے اختلاف ہو اس کے خلاف قانونی راستے کے بجائے ملکی املاک کا جلاؤ گھیراؤ کر لو؟

کیا ہمارا شعور و معاشرتی فرائض ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ مریضوں سے ان کی سانسیں چھین لو؟ یہ ہم کدھر جا رہے ہیں۔ ہم تو ترقی کرنے چلے تھے۔ ہم تو دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے چلے تھے۔ اور جس ویڈیو کو بنیاد بنا کے یہ سارا ہنگامہ کیا گیا کیا ایسی ویڈیوز معاشرے کے ہر فرد، گروہ، جماعت کے خلاف نہیں آتی رہتیں؟ ہمارے ہاں تو چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، صدر پاکستان پہ لوگ ویڈیوز میں اس سے زیادہ طنزوتنقید کے نشتر برساتے ہیں تو کیا یہ شخصیات لٹھ لے کے ان کے پچھے پڑ جائیں؟ خدارا اپنے تعلیم یافتہ ہونے کا ثبوت دیجیے۔ برداشت کا مادہ پیدا کریں۔

ہم نے تو سنا تھا نیا پاکستان بن رہا ہے۔ اور اس کے ساتھ نئے پنجاب کی امید بھی ہو چکی تھی لیکن حیرت ہے اس نئے پنجاب کی نئی حکومت پہ بھی جو ایک اس مسلے سے نمٹنے میں ناکام رہی۔ شیشے ٹوٹتے رہے، مشینری بکھرتی رہی، مریض زاروقطار روتے رہے، سانسوں کی ڈور ٹوٹتی رہی اور ہماری نئے پنجاب کی نئی حکومت اور ہمارے مثل وسیم اکرم کپتان کے فاسٹ باؤلر ستو پی کے سوتے رہے۔ کیا وسیم اکرم پلس ایسے ہوتے ہیں جیسی بزرداری کارکردگی پنجاب میں ہے؟

ایک سال سے زیادہ ہو گیا۔ اس سے پہلے کا پولیسنگ کا نظام پچھلی حکومت نہیں درست رکھ رہی تھی۔ لیکن اس نئی حکومت کو کیا مشکل ہے؟ پولیس کی تربیت کیا ہوئی؟ کہاں گیا پولیس کو اعلیٰ تربیت دینے کا دعویٰ۔ ہنگامے، فساد، احتجاج، سے نمنٹا اگر پولیس کے بس میں نہیں تو بھلا ہو آپ کا کہ پورے صوبے کا پولیسنگ کا نظام حوالے ہی رینجرز کے کر دیجیے۔

حسان نیازی، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نیازی صاحب کے رشتے میں بھانجے ہیں۔ اور پیشے کے اعتبار سے ایک وکیل ہیں۔ یہ تو بھلا ہو الیکٹرانک میڈیا کا اور سوشل میڈیا کا کہ ان کی تصویر سامنے آئی اور انہوں نے اب معافی کے ساتھ شرمندگی بھی ظاہر کی ہے۔ حسان نیازی نے شاید میڈیا میں تصویر آنے کے بعد ہی معافی مانگی ہو لیکن بہر حال ایک اچھا کام کیا ہے شرمندہ ہو کے۔ کیا ان کے دیگر ساتھی بھی حسان نیازی کی پیروی کرتے ہوئے معافی مانگیں گے؟

ایک مرتبہ پھر عرض ہے وکلاء اپنے موقف میں درست ہو سکتے ہیں۔ لیکن طریقہ کار میں غلط ہیں۔ اور سینئر وکلاء بھی ان پہ تنقید کر رہے ہیں۔ کیا وکلاء میں حسان نیازی ایک ہی تھا جس نے معافی مانگی؟ کیا باقی وکلاء انسانیت سے معافی مانگنا گوارا نہیں کریں گی؟ یقین مانیے آپ معاشرے کو تباہی کو دھکیلتے اس عمل پہ اگر شرمندگی ظاہر کرتے ہوئے معافی مانگیں گے تو وہ بھی دل سے آپ کو معاف کریں گے جن کے پیارے اس ہنگامے میں علاج رکنے سے جاں سے چلے گئے۔ لیکن آپ اپنی ہٹ دھرمی پہ قائم رہے تو ہو سکتا ہے وہ غریب دنیا میں آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں۔ لیکن آخرت میں آپ کا گریباں ضرور پکڑیں گے۔ اور شاید اس لمحے حسان نیازی گریباں پکڑے جانے کے بجائے اپنی شرمندگی کی وجہ سے معتوب نہ ٹھہرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •