دسمبر کی سردی اور سیاسی درجہ حرارت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر سردی کا مہینہ ہے لیکن شدید سردی کے باوجود سیاسی گرما گرمی عروج پر ہے۔ لندن میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے اہم ترین اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنما گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے وہاں کافی گرما گرم تقاریر کی گئیں۔ ان میں مسلم لیگ ن کے اہم ترین رہنما خواجہ آصف کی تقریر نمایاں ہے جو دو دن سے موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ انھوں نے اسمبلی فلور پر اپنی تقریر کے دوران کہا کہ الیکشن کمیشن اراکین کی تقرریوں اور دیگر کسی بھی قانون سازی میں اب حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔

انھوں نے برطانیہ میں نواز شریف کے گھر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پر زور الفاظ میں مذمت کی۔ انھوں نے حکومتی رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے حکومتی رویے کے ساتھ ہم نہیں چل سکتے۔ جب اس قانون سازی میں عدم تعاون کے بیان کے حوالے سے چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے پوچھا گیا تو انھوں نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدم تعاون کے حوالے سے انھیں اعتماد میں نہیں لیا گیا لہذا وہ اس پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا ہے کہ قانون سازی کریں اور اس حوالے سے تمام قانونی سقم دور کیے جائیں۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن کے سندھ اور بلوچستان کے دو اراکین کا تقرر عرصہ دراز سے ممکن نہیں ہو سکا اور اس پر حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی تھی جس کو عدالت نے یہ کہہ کر خارج کر دیا کہ پارلیمنٹ کے معاملات میں عدالت کو مت لایئں، الیکشن کمیشن اراکین کا تقرر پارلیمنٹ کا اختیار ہے عدالت کا نہیں، لہٰذا جائیں اور جا کر پارلیمنٹ میں مل بیٹھ کر اراکین کا تقرر کریں۔

گزشتہ ہفتے چیف الیکشن کمشنر بھی اپنی پانچ سالہ مدت مکمل کرکے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ جس سے الیکشن کمیشن عملی طور پر غیر فعال ہو چکا ہے۔ حکومت کے لئے یہ بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ ابھی تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ ہماری سیاسی جماعتوں کے نابالغ پن کا یہ بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔

نواز شریف کے گھر کے باہر مظاہرے کی تو مذمت کی جانی چاہیے کیونکہ سیاست کو سیاسی ایوانوں اور سیاستدانوں کی ذات تک ہی محدود رہنا چاہیے لیکن اب اس احتجاج کو قومی مفاد کے قوانین میں کوئی رکاوٹ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ سیاست دانوں کے حق میں اور مخالفت میں نعرے بازی ہوتی رہتی ہے، یہ جمہوری اقدار کا حصہ ہے۔ ویسے بھی یہ ایک انفرادی مسئلہ ہے، اسے ملکی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ جبکہ قانون سازی پوری قوم کا مسئلہ ہے۔

ہم قومی معاملات کو ذاتی جھگڑوں کی نذر نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی ابھی تو قانون سازی کے لئے بل پارلیمنٹ میں پیش بھی نہیں ہوا۔ اس سے قبل ہی ایسے بیانات چہ معنی ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی جماعت کو بھی ایسے معاملات میں بیان بازی کے وقت جمہوری سوچ کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ حکمران جماعت نے تو اس احتجاج سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ان تقاریر کی جواب میں وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپوزیشن آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لئے آئندہ ہونے والی قانون سازی کو بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اگر سیاسی طور پر دیکھا جائے تو خواجہ آصف کی یہ باتیں غیر جمہوری محسوس ہوتی ہیں۔ انھیں الیکشن کمیشن اراکین کے تقرر اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو سیاست سے ہٹ کر سوچنا چاہیے کیونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے کسی فرد واحد کا معاملہ نہیں ہے۔ اس میں پورے ملک کا مفاد وابستہ ہے۔ حکومت کو بھی اپنے رویے میں تھوڑا تبدیلی لانا ہوگی کیونکہ اب ملک کسی سیاسی تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ سیاسی عدم استحکام ملک کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔

اگر ہم اپوزیشن کو دیکھیں تو مسلم لیگ ن کبھی تو مفاہمت کی پالیسی کا عندیہ دیتی ہے لیکن اکثر ایسے بیانات آ جاتے ہیں جو تصادم کی سیاست کی طرف اشارہ دیتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے بیانات سے ان کی اپنی ڈائریکش بھی واضح دکھائی نہیں دیتی۔ البتہ حکومت کو بھی سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر یہ تمام معاملات سلجھانا ہوں گے کیونکہ جمہوریت دراصل تمام معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کا ہی نام ہے۔

قانون سازی کے بل تو بہرحال حکومتی جماعت نے ہی لانے ہیں اور ان کے لئے حمایت بھی حکومت نے ہی حاصل کرنی ہوتی ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ بنانا پڑتی ہے تب جا کر حکمران جماعت اپنے حکومتی امور بطریق احسن سرانجام دے سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے تند و تیز بیانات پر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں نکلنے دینا چاہیے۔ کیونکہ ماہرین سیاست پارلیمنٹ میں عدم تعاون کے بیانات کو تصادم کا نام نہیں دیتے۔ وہ اسے جمہوری نظام کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

دنیا بھر میں جب بھی کوئی حکومت قانون سازی کرتی ہے تو اپوزیشن کی طرف سے مزاحمت ہونا ایک فطری امر ہے۔ اب اس میں حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اپوزیشن کا تعاون کس طرح حاصل کرتی ہے۔ کیونکہ قانون سازی کرنا بہرحال حکومت کا کام ہے لہذا اپوزیشن کو ساتھ رکھنا اور حکمت عملی کے تحت قانون سازی کے تمام عمل میں ساتھ لے کر چلنا بھی حکومت کا ہی کام ہوتا ہے۔ اب تک حکومتی رویہ بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتا۔ جب تھوڑا سا تعاون کی فضاء پیدا ہونے لگتی ہے تو ایسے ایسے بیانات سامنے آ جاتے ہیں کہ پھر دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔

سیاسی بیانات جمہوریت کا حسن ہوتے ہیں لیکن اس میں اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے۔ قانون سازی میں مزاحمت کے عمل کو محاز آرائی اور انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر قانون سازی کے عمل میں بھرپور شرکت کرنا تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے۔ جمہوری اقدار کو پروان چڑھانے کے لئے حکمران جماعت سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی تاکہ ملک میں جمہوریت مستحکم ہو سکے اور ان پارلیمنٹ کے اندر ان سیاسی معاملات سے ہٹ کر عوامی مسائل کے حل پر بھی بحث ہو سکے اور مؤثر قانون سازی کی جا سکے تاکہ عام آدمی کو بھی فائدہ پہنچ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •