چین میں اسلام کی آمد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چین میں Tang Dynasty کے دور (سن 638 عیسوی) میں سلطنت ساسانیہ (ایران) کے بادشاہ یزدگرد کے نمائندے دارالحکومت چھنگ آن آئے، یہ اس وقت کی بات ہے جب عرب میں (پیغمبر اکرم حضرت) محمدمصطفیٰﷺ کی وفات کو چھے سال گزر چکے تھے۔ پانچ سال بعد پاپائے روم کے سفیر یہاں آئے جنہیں عربوں نے شکست دے کر خراج دینے پر مجبور کیا تھا۔ اپنے زمانے کے دو عظیم سلطنتوں کی عربیوں سے شکست چائینہ کے لئے بہت بڑے خطرے کی پہلی گھنٹی تھی۔ چینی سلطنت ایک نئے طاقت کو ابھرتا محسوس کرنے لگی جس کے ساتھ اس کے براہ راست ٹکر کا امکان واضح نظر آرہا تھا۔ 650 میں جب بادشاہ Tai Tsung فوت ہوگیا تو اس کا بیٹا Kao Tsung، تخت پر بیٹھا۔

سلطنت ساسانیہ کے یزدگرد کے بیٹے، شکست خوردہ بادشاہ فیروز کیجانب سے امداد کی اپیل نے نئے چینی بادشاہ کی توجہ اس طرف مبزول کرنے پر مجبور کیا۔ چائینہ پہلے ہی اس جانب کافی محتاط تھا، اور کسی صورت عرب مسلم حکمرانوں سے دشمنی مول لینے کا رسک لینا نہیں چاہتے تھے۔ لہٰذا جواب دیا گیا کہ ایران بہت دور ہے اس لیے امداد کے لئے چین سے فوجی نہیں بھیج سکتے۔ [فیروز اور بعد ازاں اس کا بیٹا بھی، عرب مسلم حکومت سے پے درپے شکست کھانے اورسلطنت ساسانیہ کو حاصل کرنے میں نا امید ہوچکنے کے بعد چین میں جلاوطن ہوکر قیام پزیر ہوگئے، فیروزنے بعد ازاں سن 674 میں چینی بادشاہ کے گارڈز میں کپتان کا عہدہ قبول کیا، فیروز کے بیٹے چینی شاہی سواری کا محافظ قرار پایا، جو سن 707 میں تب کے دارالحکومت چھنگ آن (موجودہ شیآن میں ) مرگئے ]۔

دوسری طرف چینی بادشاہ نے اس وقت کے مسلمان حکمران تیسرے خلیفہ حضرت عثمان کے پاس اپنا سفیر بھیج دیا، مقصد اس کا یہ تھا کہ اس طرح وہ وجوہات بھی جان سکیں جو دو عظیم سلطنتوں کی نابودی کا سبب بنے، اور اپنے لئے بھی واضح امکانات (خطرات) کا اندازہ بھی لگا سکے۔ چینی سفیر کے جواب میں حضرت عثمان نے اسلامی حکومت کی جانب سے اپنے ایک معروف جنرل کی سربراہی میں مسلمانوں کا وفد چائینز بادشاہ کے دربار میں بھیج دیا۔ سن 651 میں ان مسلم جنرل کی چینی بادشاہ کے دربار میں خوب آو بھگت ہوئی۔ وفد کے دورے کو چائنیز ریکارڈز میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :

”سن 651 میں تاشی (یعنی عربی مسلمان ) بادشاہ نے پہلی مرتبہ ایک وفد بھیجا، جن کے ساتھ قیمتی تحائف تھے، اوربتایا گیا کہ ابتک تین بادشاہوں نے عرب پر چونتیس سال حکمرانی کرچکے ہیں۔ “

یہاں ان کے نزدیک تین بادشاہوں سے مراد پیغمبر اکرم حضرت محمدﷺ، پہلے اور دوسرے خلیفہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر شامل ہیں۔ جبکہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان نے مسلم وفد دربار چین بھیجا۔ اس سے بھی قبل عرب تاجر چین میں آتے رہے جن کا اسلامی حکومت سے متعلق زیادہ تفصیل ریکارڈز میں موجود نہیں۔ جبکہ چائنیز اینلز میں عرب میں قیام پزیر اسلامی معاشرے کی بابت لکھا ہے :

”تاشی (یعنی عرب۔ Ta۔ Shih چائنیز اینلز میں یہ عرب مسلمانوں کے لئے لکھا گیا ہے ) اس خطے پر مشتمل ہے جو پہلے فارس کا حصہ تھا، وہاں کے افراد لمبے ناک والے ہیں، اور کالی داڑھی رکھتے ہیں۔ یہ چاندی کا خنجر اپنے ہمراہ رکھتے ہیں، شراب نہیں پیتے اور ناچ گانا ان کو نہیں آتا۔ ان کی عورتیں گوری رنگت والی ہیں، جو گھر سے نکلتے ہوئے اپنے چہرے ڈھانپ لیتی ہیں۔ ان کے ہاں عظیم عبادتگاہیں ہیں۔ ہر سات دن بعد بادشاہ مسجد کے ممبر پر بیٹھ کر اپنی عوام سے یوں خطاب کرتے ہیں : ’جو لوگ دشمن کے ہاتھوں مرچکے وہ دوبارہ اٹھ کر جنت میں جائیں گے، جنہوں نے دشمن کو شکست دی ان کے لئے سعادت ہوگی۔

’ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاشی بہت بہادر جنگجو ہیں، زوزانہ پانچ وقت اپنے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ ۔ Sui Dynasty کے زمانے سن 610 میں فارس (عرب اس زمانے میں فارس کا حصہ تھا) کے ایک شخص مدینہ کے مغربی پہاڑیوں پر مویشی چرا رہے تھے۔ ایک شیر ( یا چوپائے ) نے ان سے مخاطب ہوکر کہا کہ‘ پہاڑی کی مغربی جانب بہت سی غاریں ہیں، ان میں سے ایک غار کے اندر تلوار ہے اور قریب ہی کالے رنگ کا پتھر ہے جس پر لکھا ہے ’میں جس کسی کی ملکیت میں ہوگا اس کو بادشاہت مل جائے گی‘ ، وہ آدمی گیا اور سب کچھ ویسا ہی پایا جیسے شیر نے بتایا تھا۔ انہوں نے خود کو بادشاہ ہونے کا دعویٰ کردیا اور تمام مخالفین پر حاوی ہوگئے۔ ”کتاب کے مصنف عیسائی مشنری کے مطابق چائنیز ریکارڈ میں بیان شدہ یہ زمانہ اور واقعہ پیغمبر اکرمﷺ کی بعثت کے اصل زمانے کے عین مطابق ہے، جب آپﷺ پر چالیس سال کی عمر میں غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔

تلخیص : شریف ولی کھرمنگی۔

منبع: سن 1910 میں کی گئی عیسائی مشنری کی تحقیق

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •