ایران نے کس کس طبقے کو طمانچہ رسید کیا

نام نہاد مہذب مغربی ممالک بالخصوص امریکی و نیٹو اتحاد کی کمک سے حالیہ صیہونی جارحیت سے قبل رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا تھا کہ ہم انہیں بھرپور طمانچہ رسید کریں گے۔ انہوں نے عملاً تاریخی طمانچہ رسید کیا اور دنیا سے منوایا۔ جارح قوتوں کی تدبیریں اپنی موت آپ نہیں مریں، بلکہ انقلاب اسلامی کی جرات و ہمت نے اسے گھٹنوں پر آنے اور خود ہی جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔ یہ وہی فرعونی ریاست

Read more

ماس میڈیا اور سچائی

  مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا قول ہے ”سچ کا سننا مشکل ہے، لیکن سچ بولنا بہت زیادہ مشکل“ ۔ معروف افریقی مزاحمتی رہنما نیلسن منڈیلا کہتے ہیں ”سچ بولنا کوئی جرم نہیں، ان کو شرمندہ ہونا چاہیے جو جھوٹ بولتے ہیں“ ۔ جبکہ نامور مغربی فلاسفر برٹرینڈ رسل کا مشہور قول ہے کہ ”دنیا کے ساتھ المیہ اس بات کا ہے کہ بیوقوف لوگ بڑے پر اعتماد ہوتے ہیں جبکہ عقلمند شکوک و شبہات میں مبتلا۔“ میڈیا اور صحافت

Read more

آپ کا شمار کون سے طبقے میں ہوتا ہے؟

بطور انسان اردگرد پیش آنے والے حوادث و واقعات پر ہر انسان کی رائے قائم ہوتی ہے۔ چاہے یا نہ چاہے۔ کسی معاملے کا سن کر بعض کو اچھا لگے گا اور بعض کو برا۔ اس صلاحیت کا نام شعور ہے۔ شعور اسی لئے ذہانت سے بڑے رتبے کا نام ہے۔ جس طرح ذہانت بعض صورتوں میں انسانوں کے علاوہ دیگر مخلوقات میں قدرت نے ودیعت کردی ہے اسی طرح سے شعور بھی بعض صورتوں میں دوسرے جانداروں کے اندر

Read more

گلگت بلتستان میں اقتدار اور اقدار کی سیاست

گلگت بلتستان میں جنرل الیکشن قریب ہیں۔ اس وقت پورے علاقے میں سیاسی جوڑ توڑ اور ہلہ گلہ عروج پر ہے۔ قریب ایک ماہ بعد نئی حکومت قائم ہونا ہے۔ روایت کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ وفاقی حکمران جماعت ہی یہاں حکومت سازی کرے گی۔ اسی روایت کو دیکھتے ہوئے، مختلف حلقوں سے با اثر سیاست دان تحریک انصاف میں شامل ہوئے، جن کو حسب روایت ’سیٹ جیتنے کی صلاحیت‘ کی بنیاد پر پارٹی میں ’ویلکم‘ کیا گیا۔ چاہے امیدوار کا سابق تعلق کسی بھی جماعت سے رہا ہو۔ اس طرح سیاسی پنڈت تجزیہ پیش کرنے میں حق بجانب ہیں، کہ اگلی حکومت بھی ظاہرا مختلف جماعتوں میں رہ کر اقتدار کے تجربات رکھنے والوں کی ہو گی، جن کی قیادت اس مرتبہ عمران خان اور ان کی جماعت کر رہی ہو گی۔

اس وقت الیکشن کو لے کر بے شمار تجزیہ کار مختلف آرا پیش کرتے ہیں۔ احباب سوشل میڈیا پر ”اقتدار اور اقدار کی سیاست“ کے موضوع کو خصوصی طور فوکس کیے ہوئے ہیں۔ بعض ارسطو تو یہی نتائج عوام کو دے رہے ہیں کہ سیاسی جماعتیں با جماعت اقتدار کے لئے کوشاں تھیں اور ہیں، جب کہ اقدار کی باتیں محض لفاظی اور عوام کو راغب کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔ در اصل سیاست دان اور سیاسی جماعتیں کچھ بھی نعرے، وعدے، منشور، نظریے اور کام کریں، ہر اہل علم و اہل عقل پر واضح ہے کہ ظاہراً اقتدار تک پہنچ کر عوام، علاقہ اور ملکی حکومتی نظام میں اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔

Read more

ماسک اور ”سیاستِ ماسکی“۔

دنیا بھر میں کرونا وائرس کے ایشو کی وجہ سے ”ماسک“ نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ ماسک کی اسی مقبولیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم ”صحیح ماسک کے استعمال، ماسک کے صحیح استعمال، اور صحیح کام کے لئے ماسک کے استعمال“ کی طرف مختلف حوالوں سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کرونا وائرس سے بچنے کے لئے ماسک استعمال کرنے کا فائدہ اصل معنوں میں تبھی ممکن ہے جب اس کا استعمال اصولوں کے مطابق

Read more

کرونا وائرس کے عالمی اثرات، احتیاط ہی علاج

پانچ اپریل 2020 کی تازہ رپورٹ کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کرونا وائرس کی کنفرم تشخیص ہونے والوں کی تعداد بارہ لاکھ سے زیادہ ( 1,202,433 ) ہے اور مرنے والے پونے پینسٹھ ہزار ( 64,729 ) افراد۔ سب سے زیادہ متاثرین امریکا میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 311301 افراد ہیں جبکہ سب سے زیادہ اموات اٹلی میں 15,362 افراد کی ہوئیں جہاں کنفرم وائرس لگنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار افراد سے زیادہ

Read more

ہیش ٹیک کیوں استعمال کرے؟

سوشل میڈیا آج کل ہر کسی کے دسترس میں ہے۔ ہر کوئی بغیر کسی پروفیشن، عمر، جنس، علاقہ وغیرہ کی تفریق کے روزانہ بیشتر وقت سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے۔ اکثر و بیشتر تفریح اور اپنے دوست احباب سے رابطے کے ساتھ سوشل میڈیا ہی کے توسط سے علاقائی، ملکی اور عالمی حالات سے بھی باخبر ہوتے ہیں۔ سیاسی و سماجی اور تعلیمی و دیگر معاملات پر گفتگو بھی سب سے زیادہ سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب

Read more

قابل رحم ہے وہ قوم۔۔۔

”قابل رحم ہے وہ قوم“ یہ وہ تاریخی نظم ہے معروف لبنانی نژاد امریکی مصنف و شاعر خلیل جبران کی جو موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم گیلانی کو نا اہل کرنے والی سپریم کورٹ کے بینچ ممبر کے بطور اپنے ریمارکس میں لکھی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے حکم پر گیلانی حکومت نے دو سال تک عملدرآمد نہیں کیا، یعنی آصف زرداری سمیت مشرف کے ساتھ بینظیر کی این آر او سے فائدہ

Read more

چین میں اسلام کی آمد

چین میں Tang Dynasty کے دور (سن 638 عیسوی) میں سلطنت ساسانیہ (ایران) کے بادشاہ یزدگرد کے نمائندے دارالحکومت چھنگ آن آئے، یہ اس وقت کی بات ہے جب عرب میں (پیغمبر اکرم حضرت) محمدمصطفیٰﷺ کی وفات کو چھے سال گزر چکے تھے۔ پانچ سال بعد پاپائے روم کے سفیر یہاں آئے جنہیں عربوں نے شکست دے کر خراج دینے پر مجبور کیا تھا۔ اپنے زمانے کے دو عظیم سلطنتوں کی عربیوں سے شکست چائینہ کے لئے بہت بڑے خطرے

Read more

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے نام دورہ سکردو کے موقع پر کھلا خط

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان صاحب! سب سے پہلے آپ کو دورہ امریکا کے دوران اور اقوام عالم کے نمائندہ پلیٹ فارم پر منعقدہ سالانہ کانفرنس میں اپنی بے مثال تقریر خصوصاً ناموس رسول گرامی قدر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اسلاموفوبیا، مغربی دوہرے معیارات سمیت کشمیری مسلمانوں کے حق میں واضح موقف کو، دوٹوک اور مدلل انداز میں بیان کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس کے باجود کہ کئی حوالوں سے مزید بہتری کی گنجائش

Read more

لداخیوں اور بلتیوں کی خواہش مشترک!

2011 کی مردم شماری کے مطابق انڈین مقبوضہ کشمیر ( 31 اکتوبر 2019 سے انڈین یونین ٹیریٹری) کے علاقے اور لوک سبھا کے پارلیمانی حلقہ کرگل لداخ کی کل آبادی پونے تین لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس میں سے سوا لاکھ ڈسٹرکٹ لداخ کی، جہاں اکثریت 83 فیصد سے کچھ زیادہ بدھسٹ اور ہندو جبکہ مسلمانوں کی 14 فیصد کے قریب آبادی ہے۔ جبکہ کرگل ضلع کی کل آبادی ایک لاکھ اکتالیس ہزارکے قریب ہے جہاں مسلمان تقریبا 77

Read more

اب کشمیر کے لئے فقط نغمے اور جی بی کے لئے۔۔۔

70 کی دہائی میں بھٹو والی پی پی پی کے ممبر مخدوم سجاد حسین قریشی نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگنے کے بعد فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی صدارت کو سپورٹ کیا۔ تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہنے والے اور پھر ضیا الحق کی مہربانی سے گورنر پنجاب بننے والے انہی سابق سینیٹر صاحب کے صاحبزادے شاہ محمود قریشی موجودہ وزیر خارجہ پاکستان ہیں۔ شاہ محمود قریشی کیمبرج یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری رکھتے ہیں؛ سن 80 کی

Read more

مقبوضہ کشمیر کو گلگت بلتستان والی حیثیت کیوں دی گئی؟

بھارت نے بالآخر وہی کام کیا جس کے لئے کئی برسوں سے ان کے سیاسی رہنما کوشش کر رہے تھے۔ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تھی کیا جسے ختم کردیا گیا؟ ہم اس تحریر میں اس بنیادی سوال کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ اس خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا موجب کون بنا؟ دنیا جانتی ہے کہ تنازعہ کشمیر گزشتہ

Read more

فیس بک کو پانچ ارب ڈالر کا جرمانہ کیوں ہوا؟

کل ہی کی تازہ خبر ہے کہ سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کمپنی پر 5 ارب ڈالر کا تاریخی جرمانہ اور حکومتی قواعد و ضوابط کی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا۔ امریکی حکومتی ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) نے امریکی صدارتی الیکشن 2016 کے دوران کیمبرج انالیٹیکا سکینڈل کی بنیاد پر طویل گفت و شنید اور فیس بک کے بانی مارک ذکربرگ سے امریکی قانون سازوں کے کئی دنوں تک جرح کے ایک سال بعد بالآخر

Read more

الباکستانی مطمئن رہیں

امریکا ایران تنازعے پر الباکستانی مزید فکر مند نا ہوں۔ ہمارے الباکستانی دوست مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اتحادیوں کی کئی ہفتوں سے جاری پھرتیوں کو ایران کی آڑ میں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش ثابت کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے تھے، اب ان کے لئے تازہ خبر ہے کہ امریکی پارلیمان ممبران شیلا جیکسن وغیرہ نے اپنے صدر سے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید بڑھایا جائے۔ ویسے

Read more

ہالیڈے ریگولیشن کی عملی مثال

کل اتوار کا دن تھا۔ عام طور پر یہاں ہفتہ اور اتوار کو ہفتہ وار چھٹیاں ہوتی ہیں۔ بعض نیم سرکاری اور نجی اداروں میں صرف اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ مگر اس اتوار کو چائنہ بھر میں لوگ دفاتر اور سکول، کالج، یونیورسٹیوں میں عام دنوں کی طرح موجود تھے۔ اگلے اتوار کو بھی ایسا ہی ہوگا۔ یعنی اتوار کے دن ہفتہ وار چھٹی نہیں ہوگی۔ اسٹاف چاہے چھوٹے لیول کے ہوں یا بڑے سب کل بھی کام کر رہے تھے اگلے اتوار کو بخوشی ڈیوٹیاں دیں گے۔ طلبہ کلاسیں لے رہے ہوں گے اور کوئی معمول کا کام ڈسٹرب نہیں ہوگا۔ اور ایسا کرتے ہوئے کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ کوئی سوشل میڈیا کمپین نہیں۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر کسی کا بیان بھی نہیں۔ انسانی حقوق والا بھی کوئی ایشو نہیں۔

Read more

چنگ منگ فیسٹیول

گزشتہ تین دن 5، 6 اور 7 اپریل چائینہ بھر میں چنگ منگ فیسٹیول کے حوالے سے چھٹیاں تھیں۔ سالانہ طور پر یہ ایام اپنے گزشتگان یعنی مرحومین کو یاد کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ تین دنوں میں یہ لوگ اپنے مردوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں۔ قبروں پر پھول رکھتے اور ان کی صفائی کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف روایات ہیں۔ بعض علاقوں میں لوگ قبروں پر مختلف کھانے اور شراب وغیرہ لیجاکر بانٹتے ہیں۔ لوگ اس دن پتنگیں اڑاتے ہیں۔یہاں کہ رویایت ہے کہ لوگ اپنے دکھڑے اور بدقسمتی کی داستان پتنگوں پر لکھ کرہوا میں اڑاتے ہیں اور جب پتنگ بہت زیادہ بلند ہوجائے تو ڈوری کاٹ دیتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کی بدقسمتی ہوا لے اڑی۔ بعض جگہوں پر لوگ کاغذ کے کرنسی نوٹ لیجا کر جلاتے ہیں اور بعض جگہوں پر اگربتیاں۔ بدھ مت اورعیسائیت کے پیروکاراپنے مذہبی روایات کے مطابق اس دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر مطمح نظر سب کا یہی ہوتا ہے کہ اپنے بچھڑوں کو یاد کیا جائے۔

Read more

مسلم کشی اور عالمی منافقت کا چاک ہوتا پردہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کی نماز کے دوران دو مساجد پر گورے دہشت گردوں کے حملے کا شکار ہونے والے شہدا کی تعداد 49 ہوگئی اور 48 افراد زخمی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی اور حیرت انگیز طور پر اس واقعے کو دہشت گردی قرار دینے سے بھی بڑے ممالک کے رہنما اور ذرائع ابلاغ کتراتے نظر آئے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ

Read more

جموں کے ڈوگرے، کشمیر اور بلتستان!

گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر سے ملا کر بہتر ( 72 ) سال سے لٹکانے کا انتظام کرجانے والے ”ڈوگرے“ سکھ نہیں بلکہ ہندو راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی اصل بادشاہت کشمیر پر نہیں بلکہ ”جموں“ پر تھی۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ”تنازعہ کشمیر“ پر بڑھ چڑھ کر بولنے اور لکھنے والے خصوصاً علاقہ گلگت بلتستان کو کشمیر کا تاریخی حصہ ”قرار دینے والے اس حقیقت کو کھول کر نہیں بتاتے کہ خود“ علاقہ کشمیر ”کی سیاسی حیثیت کیا تھی اور یہاں کیا سے کیا ہوتا رہا۔

گزشتہ دو سو سالوں کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ سمجھنا بہت آسان سی بات ہے کہ کشمیر کا گلگت بلتستان تو کیا خود جموں بھی حصہ نہیں رہا سوائے اس کے کہ جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ نے اسے انگریزوں کی خوشامد اور بھاری رقم ادا کرکے باسیوں سمیت خرید لیا تھا اور اگلے سو سال تک اس علاقے کو جاگیر بنا کر یہاں کی عوام کو اپنی نسلوں کی رعایا بنائے رکھا۔ انگریز افسر فریڈرک ڈریو سن 1877 میں لکھی اپنی کتاب The Northern Barrier Of ”India“ میں رقم طراز ہیں کہ ”ڈوگرہ“ قبیلے سے تعلق رکھنے والا راجہ ”رنجیت دیو“ جموں کا انصاف پسند حکمران تھا۔

Read more

تبت : چائینز سنٹرل ایشیا – 1893 ٕ

جس علاقے کو آج تبت Tibet کہا جاتا ہے وہ قدیم چائنیز (پانچویں صدی) تاریخ میں Tubat کے نام سے رقم ہے۔ منگول اسے Tubet، یورپی (بارہویں صدی) Thibbet جبکہ عربی Tubbett کے ناموں سے پکارتے رہے۔ مختلف ادوار میں اسے Tebet، Thabat وغیرہ سے بھی جانے جاتے رہے۔ مقامی باسی اس علاقے کو بودھ یول Bodyul (بلتی/ تبتی زبان۔ یعنی بدھ مت کے پیروکاروں کی سرزمین Bodland) کے نام سے پکارتے ہیں۔ یورپی ممالک آسٹریا، فرانس اور سپین کو

Read more

بلتی راجاوں ( ڑگیالفوز) کی سیاسی تاریخ

بلتستان طول تاریخ میں وقتا فوقتا مقامی راجاوں کی جنگوں کا مسکن رہا ہے۔ ڑگیالفو علی شیر خان انچن کی سلطنت لداخ سے لے کر چترال تک پھیلا ہوئی تھی۔ یہاں کی مفصل تاریخ مختلف کتب میں درج ہیں۔ ذیل میں بلتی راجاوں ( ڑگیالفوز) کی سیاسی تاریخ انگریز مصنف جی ٹی وین کے سفر نامے سے خلاصتا ماخوذ ہیں جو کہ انہوں نے آخری مقپون راجہ ڑگیالفو احمد شاہ کی زبانی اپنی کتاب میں تحریر کی۔ جی ٹی وین

Read more

جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا!

یوں تو ہر وہ انسان معذور کہلاتا ہے جو جسمانی طور پر کسی کمی یا زیادتی کا شکار ہو۔ کوئی عضو کم ہو یا کسی عضو میں کوئی مسئلہ ہو۔ لیکن دیکھا یہ بھی جاتا ہے کہ بہت سارے ایسے افراد جو بظاہر جسمانی معذور ی کا شکار ہو وہ تندرست و توانا افراد سے بہت زیادہ حد تک معاشرتی امور میں فعال کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ اقبال عظیم ایک ایسے معلم و شاعر گزرے ہیں جو کہ قدرتی طور پر ساٹھ سال کی عمر میں بینائی سے محروم ہوگیا۔ اپنی اس جسمانی معذوری کے باوجود بھی اقبال عظیم نے اپنے آپ کو معاشرتی امور سے غافل نہیں ہونے دیا اور ہر معاملے پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کے ایک شعر نے ہم سب کو وہ سبق دیا کہ میں سمجھتا ہوں یہ رہتی دنیا تک اہل بصارت کے لئے آئینہ کی مانند ہے۔ ان کا کہنا تھا

Read more

کشمیر جیسا یا عبوری صوبائی سیٹ اپ ؟

گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون کے بیان کہ ”عبوری صوبہ ہمارے لئے موزوں آپشن ہے“، کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی۔

کشمیر سیٹ اپ کی شان میں قصیدے لکھنے لگے تو عبوری صوبے کے اوصاف بیان ہونے لگے۔ اس وقت ایشو یہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر کون کس کے ثمرات بیان کرتے ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم دونوں سیٹ اپس کے ثمرات پر غور کرے، سوچنا اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف کی بنائی کمیٹی اور سب کمیٹی کیا گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے رکھتے ہیں؟ اس سے بھی پہلے یہ کہ اس سے قبل ”سرتاج عزیز کمیٹی“ جس کی بنیاد پر یہ موجودہ کمیٹیاں بنیں، اس میں گلگت بلتستان کی واقعا حقیقی نمائندگی تھی جو پارٹی موقف کی بجائے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے؟

Read more