تبت : چائینز سنٹرل ایشیا – 1893 ٕ

جس علاقے کو آج تبت Tibet کہا جاتا ہے وہ قدیم چائنیز (پانچویں صدی) تاریخ میں Tubat کے نام سے رقم ہے۔ منگول اسے Tubet، یورپی (بارہویں صدی) Thibbet جبکہ عربی Tubbett کے ناموں سے پکارتے رہے۔ مختلف ادوار میں اسے Tebet، Thabat وغیرہ سے بھی جانے جاتے رہے۔ مقامی باسی اس علاقے کو بودھ…

Read more

بلتی راجاوں ( ڑگیالفوز) کی سیاسی تاریخ

بلتستان طول تاریخ میں وقتا فوقتا مقامی راجاوں کی جنگوں کا مسکن رہا ہے۔ ڑگیالفو علی شیر خان انچن کی سلطنت لداخ سے لے کر چترال تک پھیلا ہوئی تھی۔ یہاں کی مفصل تاریخ مختلف کتب میں درج ہیں۔ ذیل میں بلتی راجاوں ( ڑگیالفوز) کی سیاسی تاریخ انگریز مصنف جی ٹی وین کے سفر…

Read more

جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا!

یوں تو ہر وہ انسان معذور کہلاتا ہے جو جسمانی طور پر کسی کمی یا زیادتی کا شکار ہو۔ کوئی عضو کم ہو یا کسی عضو میں کوئی مسئلہ ہو۔ لیکن دیکھا یہ بھی جاتا ہے کہ بہت سارے ایسے افراد جو بظاہر جسمانی معذور ی کا شکار ہو وہ تندرست و توانا افراد سے بہت زیادہ حد تک معاشرتی امور میں فعال کردار ادا کررہے ہوتے ہیں۔ اقبال عظیم ایک ایسے معلم و شاعر گزرے ہیں جو کہ قدرتی طور پر ساٹھ سال کی عمر میں بینائی سے محروم ہوگیا۔ اپنی اس جسمانی معذوری کے باوجود بھی اقبال عظیم نے اپنے آپ کو معاشرتی امور سے غافل نہیں ہونے دیا اور ہر معاملے پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کے ایک شعر نے ہم سب کو وہ سبق دیا کہ میں سمجھتا ہوں یہ رہتی دنیا تک اہل بصارت کے لئے آئینہ کی مانند ہے۔ ان کا کہنا تھا

Read more

کشمیر جیسا یا عبوری صوبائی سیٹ اپ ؟

گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال مقپون کے بیان کہ ”عبوری صوبہ ہمارے لئے موزوں آپشن ہے“، کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی۔

کشمیر سیٹ اپ کی شان میں قصیدے لکھنے لگے تو عبوری صوبے کے اوصاف بیان ہونے لگے۔ اس وقت ایشو یہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا پر کون کس کے ثمرات بیان کرتے ہیں۔ اس سے قبل کہ ہم دونوں سیٹ اپس کے ثمرات پر غور کرے، سوچنا اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف کی بنائی کمیٹی اور سب کمیٹی کیا گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے رکھتے ہیں؟ اس سے بھی پہلے یہ کہ اس سے قبل ”سرتاج عزیز کمیٹی“ جس کی بنیاد پر یہ موجودہ کمیٹیاں بنیں، اس میں گلگت بلتستان کی واقعا حقیقی نمائندگی تھی جو پارٹی موقف کی بجائے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے؟

Read more