وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے نام دورہ سکردو کے موقع پر کھلا خط

وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان صاحب! سب سے پہلے آپ کو دورہ امریکا کے دوران اور اقوام عالم کے نمائندہ پلیٹ فارم پر منعقدہ سالانہ کانفرنس میں اپنی بے مثال تقریر خصوصاً ناموس رسول گرامی قدر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اسلاموفوبیا، مغربی دوہرے معیارات سمیت کشمیری مسلمانوں کے حق میں واضح…

Read more

لداخیوں اور بلتیوں کی خواہش مشترک!

2011 کی مردم شماری کے مطابق انڈین مقبوضہ کشمیر ( 31 اکتوبر 2019 سے انڈین یونین ٹیریٹری) کے علاقے اور لوک سبھا کے پارلیمانی حلقہ کرگل لداخ کی کل آبادی پونے تین لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ اس میں سے سوا لاکھ ڈسٹرکٹ لداخ کی، جہاں اکثریت 83 فیصد سے کچھ زیادہ بدھسٹ اور ہندو…

Read more

اب کشمیر کے لئے فقط نغمے اور جی بی کے لئے۔۔۔

70 کی دہائی میں بھٹو والی پی پی پی کے ممبر مخدوم سجاد حسین قریشی نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگنے کے بعد فوجی آمر جنرل ضیا الحق کی صدارت کو سپورٹ کیا۔ تین مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہنے والے اور پھر ضیا الحق کی مہربانی سے گورنر پنجاب بننے والے انہی سابق سینیٹر…

Read more

مقبوضہ کشمیر کو گلگت بلتستان والی حیثیت کیوں دی گئی؟

بھارت نے بالآخر وہی کام کیا جس کے لئے کئی برسوں سے ان کے سیاسی رہنما کوشش کر رہے تھے۔ جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی گئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تھی کیا جسے ختم کردیا گیا؟ ہم اس تحریر میں اس بنیادی سوال کے ساتھ ساتھ اس بات…

Read more

فیس بک کو پانچ ارب ڈالر کا جرمانہ کیوں ہوا؟

کل ہی کی تازہ خبر ہے کہ سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کمپنی پر 5 ارب ڈالر کا تاریخی جرمانہ اور حکومتی قواعد و ضوابط کی پابندیوں کا اطلاق کیا گیا۔ امریکی حکومتی ادارے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) نے امریکی صدارتی الیکشن 2016 کے دوران کیمبرج انالیٹیکا سکینڈل کی بنیاد پر…

Read more

الباکستانی مطمئن رہیں

امریکا ایران تنازعے پر الباکستانی مزید فکر مند نا ہوں۔ ہمارے الباکستانی دوست مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اتحادیوں کی کئی ہفتوں سے جاری پھرتیوں کو ایران کی آڑ میں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش ثابت کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے تھے، اب ان کے لئے تازہ خبر…

Read more

ہالیڈے ریگولیشن کی عملی مثال

کل اتوار کا دن تھا۔ عام طور پر یہاں ہفتہ اور اتوار کو ہفتہ وار چھٹیاں ہوتی ہیں۔ بعض نیم سرکاری اور نجی اداروں میں صرف اتوار کو چھٹی ہوتی ہے۔ مگر اس اتوار کو چائنہ بھر میں لوگ دفاتر اور سکول، کالج، یونیورسٹیوں میں عام دنوں کی طرح موجود تھے۔ اگلے اتوار کو بھی ایسا ہی ہوگا۔ یعنی اتوار کے دن ہفتہ وار چھٹی نہیں ہوگی۔ اسٹاف چاہے چھوٹے لیول کے ہوں یا بڑے سب کل بھی کام کر رہے تھے اگلے اتوار کو بخوشی ڈیوٹیاں دیں گے۔ طلبہ کلاسیں لے رہے ہوں گے اور کوئی معمول کا کام ڈسٹرب نہیں ہوگا۔ اور ایسا کرتے ہوئے کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں۔ کوئی سوشل میڈیا کمپین نہیں۔ اخبارات اور ٹیلی ویژن پر کسی کا بیان بھی نہیں۔ انسانی حقوق والا بھی کوئی ایشو نہیں۔

Read more

چنگ منگ فیسٹیول

گزشتہ تین دن 5، 6 اور 7 اپریل چائینہ بھر میں چنگ منگ فیسٹیول کے حوالے سے چھٹیاں تھیں۔ سالانہ طور پر یہ ایام اپنے گزشتگان یعنی مرحومین کو یاد کرنے کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ تین دنوں میں یہ لوگ اپنے مردوں کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں۔ قبروں پر پھول رکھتے اور ان کی صفائی کرتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مختلف روایات ہیں۔ بعض علاقوں میں لوگ قبروں پر مختلف کھانے اور شراب وغیرہ لیجاکر بانٹتے ہیں۔ لوگ اس دن پتنگیں اڑاتے ہیں۔یہاں کہ رویایت ہے کہ لوگ اپنے دکھڑے اور بدقسمتی کی داستان پتنگوں پر لکھ کرہوا میں اڑاتے ہیں اور جب پتنگ بہت زیادہ بلند ہوجائے تو ڈوری کاٹ دیتے ہیں۔ یعنی ایک طرح سے یہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کی بدقسمتی ہوا لے اڑی۔ بعض جگہوں پر لوگ کاغذ کے کرنسی نوٹ لیجا کر جلاتے ہیں اور بعض جگہوں پر اگربتیاں۔ بدھ مت اورعیسائیت کے پیروکاراپنے مذہبی روایات کے مطابق اس دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر مطمح نظر سب کا یہی ہوتا ہے کہ اپنے بچھڑوں کو یاد کیا جائے۔

Read more

مسلم کشی اور عالمی منافقت کا چاک ہوتا پردہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کی نماز کے دوران دو مساجد پر گورے دہشت گردوں کے حملے کا شکار ہونے والے شہدا کی تعداد 49 ہوگئی اور 48 افراد زخمی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی اور حیرت انگیز طور…

Read more

جموں کے ڈوگرے، کشمیر اور بلتستان!

گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر سے ملا کر بہتر ( 72 ) سال سے لٹکانے کا انتظام کرجانے والے ”ڈوگرے“ سکھ نہیں بلکہ ہندو راجپوت فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی اصل بادشاہت کشمیر پر نہیں بلکہ ”جموں“ پر تھی۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ”تنازعہ کشمیر“ پر بڑھ چڑھ کر بولنے اور لکھنے والے خصوصاً علاقہ گلگت بلتستان کو کشمیر کا تاریخی حصہ ”قرار دینے والے اس حقیقت کو کھول کر نہیں بتاتے کہ خود“ علاقہ کشمیر ”کی سیاسی حیثیت کیا تھی اور یہاں کیا سے کیا ہوتا رہا۔

گزشتہ دو سو سالوں کی تاریخ پر طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ سمجھنا بہت آسان سی بات ہے کہ کشمیر کا گلگت بلتستان تو کیا خود جموں بھی حصہ نہیں رہا سوائے اس کے کہ جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ نے اسے انگریزوں کی خوشامد اور بھاری رقم ادا کرکے باسیوں سمیت خرید لیا تھا اور اگلے سو سال تک اس علاقے کو جاگیر بنا کر یہاں کی عوام کو اپنی نسلوں کی رعایا بنائے رکھا۔ انگریز افسر فریڈرک ڈریو سن 1877 میں لکھی اپنی کتاب The Northern Barrier Of ”India“ میں رقم طراز ہیں کہ ”ڈوگرہ“ قبیلے سے تعلق رکھنے والا راجہ ”رنجیت دیو“ جموں کا انصاف پسند حکمران تھا۔

Read more