عدم برداشت کا ناسور اور ہمارا بے بس معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہماری قوم میں ایک مرض ناسور کی طرح معاشر ے میں پھیلتا جا رہا ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ناسور اس حد تک خطر ناک ہو رہا ہے کہ اس نے ایک ایسے تشدد کی شکل اختیار کر لی ہے کہ جس سے کو ئی بھی محفوظ نہیں۔ جب بھی ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے واقعات رو نما ہو تے ہیں جن سے ہماری برائیاں کھل کر سامنے آتیں ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ اس محکمے میں اصلاحات ہونی چاہیے۔

 مگر مجھے لگتا ہے کہ بطور معاشرہ ہمیں ”انسانی اصلاحات“ کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں عدم برداشت استاد گردی، پولیس گردی اور وکلا گردی کی شکل میں ترویج پا رہی ہے۔ بطور معاشرہ ہم اُس راستے پر نکل پڑے ہیں کہ ہم سے خلاف توقع ایک جملہ برداشت کر نا مشکل ہو تا جا رہا ہے۔ عدم برداشت جب ایک خاص حد تک بڑھ جا تا ہے تو یہ تشدد کی ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

عدم برداشت کی تازہ مثال پنجاب انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا گردی کی شکل میں نظر آئی۔ جہاں صرف ایک وائرل و یڈیو کی و جہ سے وکلا کے جتھے نے پی آئی سی پر دھاوا بول دیا۔ پُرتشدد وکلا نے ہسپتال کی آئی سی یو، سی سی یو، اور آپر یشن تھیٹر پر حملہ کیا جس کی و جہ سے 6 مر یض جان بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ قانون کے نامنہاد رکھوالوں نے قانون ایسے اپنے ہاتھ میں لیا کہ انسانیت کا سر بھی شرم سے جھک گیا۔ بات صرف یہاں تک نہیں رکی بلکہ انھوں نے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض چوہان اور میڈ یا نمائندوں پر بھی حملہ کیا۔

عدم برداشت کی و جہ سے معصوم لو گوں کی جان گئی اور نہ جانے کتنے لو گوں کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑا۔ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز نے دیکھنے والوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان ویڈیوز میں و کلا آپے سے باہر اور پولیس بے بس نظر آئی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے قیامت صغری کا سماں ہو۔ جہاں ہر کو ئی اپنی اپنی جان بچانے کی تگ و دو میں نظر آ رہا تھا۔ جس لمحے مر یضوں کو ڈاکٹرز کی ضرورت تھی اُسی لمحے ڈاکٹرز اپنی جان بچانے کے لئے ہڑتال پر چلے گئے۔

اس واقعے کے بعد مجھے اس بات کا شدت سے افسوس ہوا کہ ہمارے ہاں تعلیم صرف اور صرف اچھا ڈاکٹر، و کیل، انجئینر بننے کے لئے دی جاتی ہے نہ کہ اچھا انسان بننے کے لئے۔ اسی لئے اس کھوکھلی تعلیم نے ہی ان لوگوں کواتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ ان کو اپنے سوا کو ئی اور انسان ہی نظر نہیں آتا۔ حقیقت میں تعلیم انسان کو حقیقی معنوں میں انسان اور انسانیت کی پہچان کر واتی ہے۔ اسی تعلیم کی ہی و جہ سے انسان اور حیوان کا فرق نظر آتا ہے مگر افسوس ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے طبقے ہی حیوانیت کو فروغ دے رہے ہیں۔

 یہ پڑھے لکھے طبقے معاشرے کو سنوارنے کی بجاے معاشرے میں عدم برداشت کی فضا پیدا کر رہے ہیں جس کی و جہ سے روزبروز انسانیت ختم ہو ر ہی ہے۔ ہمارے ہاں یہ طبقے مافیا بن چکے ہیں اور ان کی اسی غنڈہ گردی کی و جہ سے معصوم شہریوں کی زند گی دن بدن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس پر تشدد کارروائی کی وجہ سے پی آئی سی کو بند کر دیا گیا ہے اب غریب بے چارہ اپنا علاج کہاں کر واے گا کون اس کا پر سان حال ہو گا۔ خان صاحب نے اس واقعہ کا نوٹس تو لیا ہے مگر خان صاحب کو چاہیے کہ اس معاملے کی آزادانہ تفتیش کروائیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کر کے ایسی سزا دی جائے جو آنے والے وقتوں میں سب کے لئے ایک مثال بن سکے۔

اگر اس واقعہ میں ملوث پرتشدد جتھے کو سبق نہ سکھایا گیا تو مستقبل میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار صاحب سے بھی امید ہے کہ وہ اب کی بار عوام کو مایوس نہیں کر یں گے کیو نکہ وہ جب سے و زیر اعلی بنے ہیں تب سے ہی پنجاب کی عوام، اپوزیشن، اور خود تحریک انصاف کے حلقے ان کی کارکردگی کی و جہ سے ان سے غیر مطمئن نظر آ رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر چیف جسٹس آف پاکستان کو اس واقعہ کا نو ٹس لینا چاہیے اور ملوث وکلا کے لائسنس کینسل کر دینے چاہیے کیونکہ اگر اب بھی درگزر کیا گیا تو نظام عدل پر مزید سوالات اٹھیں گے۔

پولیس کو چاہیے کہ جو مریض جان بحق ہوئے ہیں اُ نکے قتل کا مقد مہ ان وکیلوں پر درج کرے جن کی وجہ سے موت ان کا مقدر بنی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چاہے کو ئی ڈاکٹر بنے، یا وکیل، انسانیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ بڑ ی ڈگری لے کر آپ کامیاب و کیل، ڈاکٹر تو بن سکتے ہیں مگر ایک اچھا انسان نہیں بن پائے تو سب بے کار ہے۔ اس لئے اس عدم برداشت کے رویے کو ختم کر نے کے لئے سب کو کوشش کرنی ہے اور دوسروں کو اُن کی مختلف آرا کے ساتھ ماننا ہے تاکہ ہمارا معاشرہ انسانوں کے ر ہنے کے قابل بنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •