مار، عورت کا اصل زیور؟
ہمارے ہاں سونے کی قیمت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے چو نکہ مرد حضرات اپنی خواتین کو سونے سے سجا تو نہیں سکتے، اس لئے وہ ان کو تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے جسم، چہروں پر نیل کے نشانات سے دن بدن ان کو سجا لیتے ہیں۔ حق ہے بھئی مرد کا کہ وہ جیسے چاہے جس طرح چاہے اپنے گھر میں رہنے والی عورت کی خدمت سیوا کر سکتا ہے۔ کیو نکہ وہ ہی تو عورت کا اصل محافظ ہو تا ہے اور محافظ بہتر طریقے سے جانتا ہے کہ اسے اپنی چار دیواری میں رہنے والی عورت کو کیسے اس کی اصل ”جگہ“ پر رکھنا ہے۔
ہمارے گاؤں میں ایک صاحب اپنی گھر والی کو بہت مارتے تھے اتنا تشدد کرتے تھے کہ گھر والی بے چاری مار کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جایا کر تی تھی۔ تب صاحب بہادر کو اپنی گھر والی پر ترس آ تا تھا اور وہ ان کی جان بخشی کر دیا کرتے تھے۔ ان کی بیٹی میرے ساتھ میری کلاس میں پڑھتی تھی تو جس دن اس کی ماں کو مار پڑتی تھی وہ بچی دوسرے دن کلاس میں سارا دن مسکراتے ہوئے رہتی تھی۔ مجھے اس کے رویے پر بڑی حیرت ہو تی تھی کہ ماں کو کل ہی اتنی مار پڑی ہے اور آج اس کی بیٹی خوش ہو رہی ہے۔
Read more
