نئے پاکستان میں سب کچھ ہے، انصاف نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تبدیلی آگئی ہے۔ نیا پاکستان بھی بن گیا ہے۔ دو نہیں ایک پاکستان، جس میں امیر اور غریب دونوں کے لئے ایک ہی قانون ہے۔ یہاں میرٹ پر فیصلے ہو رہے ہیں۔ سب کو انصاف مل رہا ہے، اس لئے کہ سب سے اوپر وزیر اعظم عمران خان بیٹھے ہیں۔ نئے پاکستان کی بنیاد گزشتہ سال 25 جولائی کو باقاعدہ طور پر عوام نے ووٹ ڈال کر رکھ دی تھی۔ 18 اگست 2018 ء کو اس کی باگ ڈور مروجہ دستوری طریقے کے مطابق عمران خان اور ان کے ٹیم کی سپرد کی گئی تھی۔

ابھی چند مہینے بھی نہ گزرے تھے کہ پاکپتن کی پولیس اور خاتون اول کے بچوں کے درمیان تلخ کلامی کا واقعہ رونما ہوا۔ یہ حادثہ وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک ٹیسٹ کیس تھا کہ وہ خاتون اول کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا قانون کا ساتھ دیں گے۔ اس واقعے کا ابھی تک کوئی بھی پتہ نہیں چل سکا کہ گناہ گار کون تھا اور بے گناہ کون؟ بے شک آپ اس کیس میں انصاف نہ کرتے لیکن قوم کو یہ ضرور بتاتے کہ اس بات کا تعین کیا گیا ہے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون؟

بدقسمتی سے یہ ٹیسٹ کیس مصلحتوں کی نذر ہوگیا، جس کی وجہ سے ظالم اور مظلوم دونوں شیر ہوگئے۔ گناہ گار اور بے گناہ دونوں نے اس واقعہ سے سبق لیا کہ اپنی مدد آپ کرنی ہے۔ ابھی اس واقعے کا چرچا تھا کہ ساہیوال میں وردی والوں نے معصوم بچوں کے سامنے ان کے والدین کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا۔ وردی والوں نے دعویٰ کیا کہ خطرناک دہشت گردوں کو قتل کردیا گیا ہے، جب بعد میں معصوم بچوں کی تصویریں سامنے آئی تو شک ہونے لگا کہ دہشت گردوں کو قتل کیا گیا ہے یا نہیں لیکن یہ حقیقت تھی کہ دہشت گردی ہوئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس لیا۔ قوم سے وعدہ کیا گیا کہ قطر سے واپسی پر ظالموں کا محاسبہ ہوگا لیکن ابھی چند ماہ قبل عدالت نے سب کو بری کر دیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہوگا لیکن اس کیس میں ابھی تک حقائق سامنے نہیں آئے کہ جو مارے گئے تھے وہ دہشت گرد تھے کہ نہیں اور جو بری کیے گئے ہیں انھوں نے دہشت گردوں کو قتل کیا ہے کہ نہیں؟ اسلام آباد میں ایک وفاقی وزیر اعظم سواتی نے ایک غریب خاندان کو نشانہ بنایا، لیکن تاحال کسی کو خبر نہیں کہ حقائق کیا ہیں۔ قصور وار وہ غریب خاندان ہے جس کو اعظم سواتی نے جیل میں بند کر دیا تھا یا بے گناہ وفاقی وزیر ہے؟

چند مہینے قبل کی بات ہے کہ اسلام آباد ہی میں ایک چھوٹی بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ نے سب کو یقین دلایا کہ مجرموں کو گرفتار کرکے سزادی جائے گی، مگر یہ سب کچھ بھی صرف دعوے ہی نکلے۔ یہ ظالمانہ انکشاف تو آپ سب نے سنا اور پڑھا ہو گا کہ راولپنڈی سے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جو چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے گروہ کا ڈان ہے، لیکن مجال ہے کہ کسی نے صوبائی حکومت سے یہ پوچھنے کی جرات کی ہو کہ کیوں اور کیسے بیرون ملک جنسی جرائم میں ملوث شخص کو سرکاری نوکری پر رکھا۔ یہ حقیقت تو ثابت ہو گئی ہے کہ سہیل ایاز بچوں سے جنسی زیادتیوں کے گروہ کا ڈان ہے لیکن یہ سچ کبھی بھی سامنے نہیں آئے گا کہ کس کی سفارش پر ان کو صوبائی حکومت نے سرکاری ملازم رکھا۔ اکتوبر میں کراچی سے لاہور جانے والی ریل گاڑی میں درجنوں انسان آگ کا ایندھن بنے۔ ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد روزانہ کی بنیاد پر سیاسی خاندانوں کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس کا حوالے دے کر پیشن گوئیاں کرتا ہے کہ فلاں نے گرفتار ہونا ہے اور فلاں نے ملک سے باہر چلے جانا ہے۔ لیکن اپنے ہی محکمے کے بارے میں تاحال عوام کو یہ بتانے میں ناکام ہے کہ ریل گاڑی میں آگ لگنے کا ذمہ دار کون ہے؟ ابھی مہینہ قبل پورے ملک میں ڈاکٹرز ہڑتال پر تھے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں وہ لوگ حکمران ہیں جو براہ راست وزیر اعظم عمران خان کو جواب دہ ہیں، جو وزیر اعظم عمران خان کے فرمائے ہوئے کو حرف آخر سمجھتے ہیں۔ تقریبا چالیس دنوں تک ڈاکٹرز احتجاج پر تھے۔ پورے ملک میں کئی اموات ہو ئیں لیکن ابھی تک کسی سے باز پرس نہیں کی گئی کہ کیوں ڈاکٹرز چالیس روز تک احتجاج پر تھے؟

چند روز قبل لاہور میں دل کے ہسپتال پر ایک ہجوم نے دھاوا بول دیا۔ ہسپتال کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ حسب معمول اور حسب روایت وزیر اعظم سمیت سب نے نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری سرور اور دیگر تمام بر عزم ہیں کہ مجرموں کو سزا ملے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ مہینوں میں نئے پاکستان میں جو دل دہلانے والے واقعات، سانحات اور حادثات رونما ہوئے ہیں کیا ان میں ملوث مجرموں کو سزا ہوئی ہے؟

کیا اس سے متاثرہ مظلوموں کو انصاف مل گیا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ نہ مجرموں کو سزائیں دی گئی اور نہ ہی مظلوموں کو انصاف ملا، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طاقتور مافیا کو پی آئی سی حملہ کیس میں سزا ہو جائے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں فائرنگ ہو ئی جس میں ایک طالب علم قتل اور کئی زخمی ہو ئے۔ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ جو براہ راست وزیر اعظم عمران خان کو جواب دہ ہے، کیا اس واقعہ میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر سکے گی؟

اگر آپ گزشتہ پندرہ مہینوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو یہ تعین کرنے میں آپ کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ ایسا ممکن نہیں۔ اس لئے کہ ماضی قریب کا ٹریک ریکارڈ یہی بتاتا ہے کہ مجرموں کو سزا اور مظلوموں کو انصاف دینا موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ نئے پاکستان کے حکمران بھی پرانے پاکستان کے حکمرانوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ حادثہ رونما ہونے کے بعد مذمت کی جاتی ہے، رپورٹ طلب کر تے ہیں، ایف آئی آر درج کرتے ہیں اور پھرلمبی تان کر سوجاتے ہیں۔

اگر حکمرانوں کی ترجیحات میں انصاف کی فراہمی شامل ہوتی تو نئے پاکستان میں پرانے پاکستان سے بھی زیادہ افسوس ناک سانحات رونما نہ ہوتے۔ نئے پاکستان میں بھی ماورائے عدالت انصاف کا حصول اور دل خراش سانحات میں اضافہ حکمران وقت کے لئے نوشتہ دیوار ہونا چاہیے اس لئے کہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ مظلوم کی آہ سے بچو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •