امریکی صدر نے کس کے مشورے پر افغان امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کیا؟

امریکا افغانستان پرحملہ آور ہونے کے سترہ سال بعد یعنی جولائی 2018 ء میں وہاں قیام امن کے لئے مخالف فریق افغان طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت کے لئے راضی ہوا۔ افغانستان میں امن کے لئے افغان طالبان کا یہ بنیادی مطالبہ تھا کہ بات چیت ہوگی تو براہ راست امریکا سے۔ سابق…

Read more

حکمران، پاکستان اور کشمیریوں کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟

بھارت نے آئین میں تبدیلی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے وادی میں سرکاری عمارتوں سے کشمیر کے پرچم کو اتار کرعملی اقدامات کا آغازکردیا ہے۔ مقبوضہ وادی میں اس وقت ہر ایک گھر بدترین جیل خانے کا منظر پیش کررہا ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے کرفیو…

Read more

عمران حکومت کی کارکردگی: تصویر کہانی سے توسیع کہانی تک

18 اگست 2018 ء کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف لیا تھا۔ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد انھوں نے قوم سے وعدہ کیا کہ سو دن بعد کارکردگی یعنی ملک کو درست سمت پر ڈالنے کے لئے کیے گئے اقدامات سے سب کو آگاہ کریں گے۔ سو روزہ کارکردگی…

Read more

وزیر اعظم عمران خان: اقتدار کے 365 دن

اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے قوم سے کئی وعدے کیے تھے۔ انتخابی جلسوں میں جب وہ عوام سے مخاطب ہوتے تو کہا کرتے تھے کہ وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں سکونت اختیار نہیں کریں گے۔ وزیراعظم ہاؤس کویونیورسٹی اور گورنر ہاؤسزز کو کسی اور مفید کام کے لئے استعمال کریں گے۔ عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے سے قبل اس عزم کا اظہار بھی کرچکے ہیں کہ وہ ایوان میں سوالوں کے جوابات خود دیں گے۔

Read more

کشمیر کا مسئلہ اور پاکستان

بھارت کے آئین میں دفعہ 370 اور دفعہ 35۔ اے مقبو ضہ جموں و کشمیر کی خودمختاری کی ضامن دفعات تھیں۔ چند روز قبل بھارت نے ملکی آئین میں قرارداد کے ذریعے تبدیلی کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کر دیا ہے۔ اب یہ خا لصتا ایک دستوری اور قانونی…

Read more

افغانستان میں قیام امن، کیا معاہدہ ہوسکے گا؟

افغانستان میں جاری جنگ کوختم کرنا اوروہاں سے امریکی اوراتحادی افواج کا انخلا گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخابی نعرہ تھا۔ صدرمنتخب ہونے کے بعدعملی طورجس تیزی اورسنجیدگی کے ساتھ اس نعرے کو پورا کرنا چاہیے تھا اس پروہ اس طرح عمل درآمد نہ کرسکے۔ افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور افواج…

Read more

اسد عمر نے عمران خان کو شرمندہ کیا

چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ میں تبدیلی کرکے حکومتی ایوانوں اور ملکی سیاست میں ایک ہلچل برپاکردی ہے۔ سب سے زیادہ سوالات اور تشویش وفاقی وزیرخزانہ اسدعمر کے ہٹانے پر اٹھائے جارہے ہیں، اس لئے کہ وہ ٹیم کے اوپنر تھے۔ کپتان کو ان پر مکمل اعتماد تھا۔ اپوزیشن کے پانچ سالہ دور میں اسد عمر کپتان کے شیڈووزیرخزانہ تھے۔ اقتدار میں آنے سے قبل اگر کسی کی وزارت پکی تھی تووہ اسد عمر کی وزارت ہی تھی۔

Read more

موجودہ نظام میں اصلاحات یا صدارتی طرز حکومت؟

پاکستان میں آج کل یہ سوال زیربحث ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت کی بجائے اب صدارتی نظام کا ہونا ناگزیرہوچکاہے۔ سبب اس کا یہ بیان کیا جارہا ہے کہ سات عشروں سے پارلیمانی نظام موجود ہے، لیکن ملکی مسائل حل کرنے میں ناکام۔ اب بعض لوگوں نے متبادل کے طور پرصدارتی نظام رائج کرنے کا مشورہ دیا ہے، لیکن بعض سیاسی رہنما اوردانشورصدارتی طرزحکومت سے اسی طرح نفرت کا اظہارکررہے ہیں جیسا کہ آمریت سے کرنا چاہیے۔ حالانکہ صدارتی نظام بھی جمہوری طرزحکومت ہے۔

Read more

کابل پھر سے دہشت گردوں کے حوالے کرنے کی تیاریاں!

داستان 18 برس پرانی ہے۔ ملا محمد عمر کابل کے حکمران تھے۔ ان کی سیاسی جماعت کا نام تھا ”طالبان“۔ افغانستان کے صوبہ قندھار میں اس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبا اس جماعت کے کارکن تھے۔ قندھارمیں طالبان کا ظہور ایک ردعمل کے طور پر ہواتھا۔ سوویت یونین شکست کے بعداپنا بوریا بستر گول کرکے دریائے آمو کے اس پارجاچکا تھا۔ ان کا عالمی وجود کئی ٹکڑوں میں بٹ چکا تھا۔ جاتے وقت انھوں نے افغانستان ”مجاہدین“ کے حوالے کیا۔

Read more

امریکا، طالبان مذاکرات:کیا معاہدہ ہوگیا ہے؟

قطرکے دارالحکومت دوحہ میں امریکی نمائندہ برائے افغانستان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد اورافغانستان طالبان کے درمیان چھ روزہ بات چیت کا عمل اختتام پذیر ہوا ہے۔ حالیہ مذاکراتی عمل مکمل ہونے اور دیگر حساس معاملات پر مزید بات چیت کرنے پر فریقین کے درمیان مفاہمت ہو گئی ہے۔ قطر میں حالیہ مذاکرات کے بارے میں زلمے خلیل زاد نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ”دوحہ میں چھ روزہ مذاکرات ماضی میں ہونے والی بات چیت سے زیادہ اچھے تھے۔

ہم نے اہم معاملات پرپیش رفت کی ہے۔ ابھی بہت سارے مسائل ہیں کہ جن پرکام ہونا باقی ہے۔ تمام امورپراتفاق رائے ہونا لازمی ہے، جب تک ایسا نہیں ہوتا کچھ حتمی نہیں ہوگا اور سب باتوں پراتفاق میں افغانوں کے درمیان مکالمہ اور جامع جنگ بندی شامل ہے۔ ”انھوں نے اپنے ٹویٹس میں مذاکرات کرانے پر قطر کی حکومت، خاص کر ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی ذاتی دلچسپی پرشکریہ بھی ادا کیا ہے۔

Read more