ماں کا آخری خط
بیٹے
شادی میں تم آگئے بڑا اچھا ہوا، تمہارے سامنے رخسانہ عزت سے رخصت ہوگئی یہ بھی اچھا ہوا، تم ڈھیر سارے روپے لے کے آئے اور دھوم دھام سے اپنی بہن کی شادی پر خرچ کیے۔ اچھا ہوتا کہ یہ پیسے تمہاری اپنی محنت سے کمائے ہوئے پیسے ہوتے تو آج میں چین سے ہوتی۔ میں اورتمہارے ابو رات کو سکون سے ہوتے۔ مجھے تمہارا انداز اچھا نہیں لگا اور رخسانہ کی رخصتی کے بعد تمہارا مہینہ بھر کے لئے غائب ہوجانا بھی اچھا نہیں لگا مگر میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ تم اتنی بڑی بربادی اپنے اوپر اورہمارے اوپر لے کر آؤگے۔
رخسانہ تو اپنے گھر چلی گئی پھر وہاں سے سعودی عرب بھی پہنچ گئی، لوگ شادی بھی بھول گئے مگر وہاں جا کرایئرپورٹ پر تمہاری گرفتاری بغیر کسی وجہ کے نہیں ہے بیٹے۔ تمہارے دوست نے جب فون کرکے بتایا تو میرا ماتھا اسی وقت ٹھنک گیا تھا۔ تمہارے دیے ہوئے ڈالر مجھے جیسے ڈسنے لگے۔ تمہارے ابو نے تمہارے غم کو بھی اسی طرح سے اپنے لئے روگ بنالیا ہے جیسے عامر کا غم ہے مگرتمہارا دیا ہوا دکھ بڑا دکھ ہے جسے وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔
تمہاری گرفتاری کے بعد سے بار بار پولیس اور پتہ نہیں کن کن اداروں کے لوگ گھر پر بار بار آرہے ہیں۔ دس دن تک تمہارے ابو کو انہوں نے جیل میں رکھا ہے۔ تمہارے بارے میں باتیں پوچھ رہے ہیں۔ گھر کی تین دفعہ تلاشی لی جاچکی ہے۔ تمہاری ایسی تصویریں ہیں جس میں تم میرے بیٹے نہیں لگتے ہو۔ بیٹے ہم نے تو کبھی تمہیں نہیں سکھایا تھا کہ بم بنانے کی تربیت لو۔ بم پھاڑنے کے طریقے سیکھو معصوم لوگوں کی جانیں لینے کا پروگرام بناؤ کیونکہ۔ امریکہ اور اسرائیل معصوم مسلمانوں کی جان لے رہے ہیں۔ یہ کیسا اسلام ہے بیٹا یہ تو ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ایسا تو کسی نے بھی سکھایا نہیں ہے ہمارے نبی تو رحمت اللعالمین ہیں، رحمت المسلمین ہیں، میں تمہارے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوتی ہوں کہ ہم سے کہاں غلطی ہوگئی ہے۔
تمہارے دوست کا ایک ہی دفعہ فون آیا صرف یہ بتانے کے لئے کہ تم کہاں ہو اور تمہارے خلاف قانونی کارروائی ہورہی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ پھر فون نہیں کرے گا کیونکہ شاید ہم لوگوں کا فون ٹیپ ہورہا ہوگا اور وہ کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا ہے۔ اس کی بات بالکل صحیح ہے اور مجھے یہ اوربھی دکھ ہے کہ تمہارے دوست بھی تم پر بھروسا نہیں کرسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ بُرا کیا ہوسکتا ہے۔
ماؤں کو اپنے بچوں کی ناکامی پر خوشی نہیں ہوتی ہے۔ وہ تو بچوں کی کامیابی کے لئے جان تک دے دیتی ہیں مگر مجھے تمہاری ناکامی پر بہت خوشی ہے۔ اس لئے نہیں کہ تمہاری جان بچ گئی جن حالات سے تم گزررہے ہو اور جن حالات سے تم گزروگے اس سے تو اچھا تھا کہ مرجاتے تم نے تو شاید یہی سوچا ہوگا۔ تمہاری ناکامی کی خوشی اس لئے ہے کہ تم نہ جانے کتنے معصوم لوگوں کی جان لے لیتے۔ کتنے بچے مرجاتے، باپ گھروں کو نہیں پہنچتے، مائیں اپنے بچوں کے بارے میں سوچتے ہوئے کسمپرسی میں موت کو گلے لگالیتیں اور گھروں میں انتظار کرتے ہوئے ماں باپ، بھائی بہن، بیٹے بیٹیاں میرے اورتمہارے ابو کی طرح سے وہی ماتم کررہے ہوتے جو ہم عامر کے لئے کررہے ہیں۔
تم اس کا اندازہ کیا کرسکتے ہو۔ تم ماں نہیں ہو باپ نہیں ہو تم تو بیٹے بھی نہیں ہو۔ تم تو کسی ایسے نظریے، کسی ایسے مذہب، کسی ایسے اسلام پرکاربند ہو جو ان رشتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا ہے۔ کاش میں تمہاری ماں نہیں ہوتی۔ میری اس خواہش کے باوجود کوکھ کا رشتہ ٹوٹ نہیں سکتا ہے۔ تمہیں بھلانے کی کوششوں کے باوجود تم میری زندگی سے نکل نہیں سکتے ہو، اب ساری عمر عامر کو یاد کرکے روتی رہوں گی اور تمہارے لئے دعا ہی کروں گی، یہی اگر اوپر والے کی منشا ہے تو اور کیا کرسکتی ہوں۔
تمہاری کھوئی ہوئی ماں
یہ میرا آخری خط ہے جو میں روز لکھتی ہوں اوربعض دفعہ ایک دن میں کئی کئی دفعہ لکھتی ہوں، کبھی ایک طریقے سے کبھی دوسرے طریقے سے پھر اسے پھاڑ کر پھینک دیتی ہوں اس لئے کہ اس خط کو تمہارے پاس بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس دکھ کا تمہارے پاس کوئی جواب بھی نہیں ہے اور مجھے تمہارے جواب کا انتظار بھی نہیں ہے۔

