مشرف کی سزائے موت اور وکٹری کا نشان


خصوصی عدالت نے مشرف کو سزائے موت کا حکم سنادیا یاد رہے کہ مشرف اس وقت شدید علیل ہیں اور بالفرض کوئی ان کو یہ بری خبر سنا بھی دیں تو شاید ان پر اتنا برا اثر نہ ہو اور وجہ جس کی یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ مذکورہ فیصلے پر حکومت کا کیا رد عمل ہے وہ بعد کی باتیں ہیں لیکن تاریخ میں اس فیصلے کو ضرور سنہرے الفاظ سے یاد کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے ملک میں دو طرح کے لوگ سامنے آئے ایک وہ جو چاہتے ہیں کہ مشرف کو قانون کے عین مطابق سزا دی جائے اور دوسرے وہ لوگ جو شاذو نادر مشرف کے گیت گاتے آئے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ ان کے قائد کو سزا دی جائے۔

ایک بنیادی بات جو سب سے اہم ہے اور جو اس فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تاثر اب زائل ہونا چاہیے کہ پاک فوج اداروں کے اندر حد سے زیادہ مداخلت کر رہی ہے۔ ایسا اگر ہوتا تو تین ججوں کو یہ فیصلہ سنانے سے روکنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ یہ بہرحال ایک بنیادی نقطہ ہے اور جس پر سوچ بچار کی انتہائی ضرورت ہے۔

ہمارا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہے کہ ہم سیاسی قائدین کی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ہمیشہ سے یہ کمزور دلیل دیتے آئے ہیں کہ اداروں پر اگر خفیہ ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی ہوتی تو شاید سیاستدان ملک کے لئے بہت کچھ کرجاتے۔ یہ امر واقع ہے کہ فوج نے ملک میں بے شک مارشل لاز لگائے لیکن کیا کسی نے یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ کیوں لگائے اور بالفرض لگائے بھی تو ان کے خلاف سیاستدانوں نے مل کر کون سا لائحہ عمل تیار کیا۔

اس فیصلے سے یہ بات ظاہر ہے کھل کر سامنے آگئی ہے کہ حکومت اور اداروں میں جو مداخلت عام طور پر دکھائی اور سکھائی جارہی ہے شاید اس حد تک نہیں ہے۔

اس فیصلے کے بعد یہ باور بھی تو کرانا چاہیے کہ مشرف کے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کا احتساب ہوگا جو آج تک ملک کے لئے عذاب بنے ہیں۔

سیاستدان آج خوشیاں منارہے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ مکافات عمل ہے لیکن حقیقت تو یہ بھی ہے کہ ان سے بھی بے شمار غلطیاں سرزد ہوئیں جن کی وجہ سے کبھی ملک دولخت ہوا تو کبھی عام لوگ موت کے دہانے پر پہنچ گئے۔

اچھا ہوا اب ملک کے کونے کونے میں خوشی کے شادیانے بجیں گے کہ ایک ایسے شخص کو سزائے موت ہوئی جو پہلے ہی مردہ پڑا ہے۔

مجھے یاد ہے وہ مداخلت جس کے تحت جنرل ضیاءالدین بٹ کو تیار کیا گیا تھا لیکن اس مداخلت کا کوئی ذکر تک نہیں کرتا۔ وہ تو اچھا ہوا پاک فوج کے درمیان چپقلش وقوع پزیر نہ ہوئی ورنہ اس وقت تو شاید فوج کو لڑانے کا بھی سوچا گیا تھا۔ مشرف تو غداری کے مرتکب ہوئے لیکن بے چارے سیاستدان کا بھی ٹرائل ہونا چاہیے کہ یہ لوگ مارشل لاء تو نہیں لگاتے لیکن دیمک کی طرح ملک کو چھاٹتے ضرور ہیں۔

راؤ انوار کس کا بہادر بچہ تھا اور کہاں ہے وہ کیا اس کی سزائے موت پر بھی فتح کے شادیانے بجائے جائیں گے یا وہ اسی طرح دودھ کا دھلا ہی رہے گا۔

فتح کے یہ شادیانے سب مل کر بجائیں گے بس ملک سے بدامنی، کرپشن اور سیاستدانوں کی کرپشن پر بھی ذرا تفصیل سے بات شروع ہوجائے۔

میں اس فیصلے کے خلاف نہیں لیکن فیصلے کے بعد فوج کے خلاف وکٹری کے کو نشان بن رہے ہیں اس کے خلاف ہوں اور مجھے ہزار اندیشوں نے گھیرا ہوا ہے کہیں یہ سب کچھ کسی طوفان کا سبب نہ بنے۔

فوج کو داد بھی دینی چاہیے جو اس فیصلے میں ان کی کوئی مداخلت نہیں رہی اور ہم اپنی فوج کے خلاف محاذ جنگ میں بالکل نہیں جو وکٹری کے نشان بناتے رہے۔

حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن اس دن کا شدت سے انتظار ہے جب عام آدمی کے ساتھ کیے گئے ایک ایک ظلم کا حساب لیا جائے گا۔

Facebook Comments HS