مبارک ہو آپ کا بچّہ عوام کے مفاد کی خاطر مرا ہے

ہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک گھنٹہ کیا گزارا سکون کی دنیا ہی لٹ گئی۔ ایک تو ایمرجنسی، اوپر سے مریضوں کا بے تحاشا رش اور ستم بالائے ستم ڈاکٹروں کی ہڑتال۔ کیا کروں ایک لمحے کو سوچا لیکن ان دیکھی قوتیں حاوی ہوگئیں اور میں وہاں بیٹھ ہی گیا۔ ایمرجنسی کا سرکاری کارندہ او پی…

Read more

چرس، آئس، شراب اور میرا بونیر

الفاظ کہاں تک لکھنے والوں کا حق ادا کرسکتے ہیں یہ علم تو نہیں لیکن ایک بات کا اچھی طرح علم ہے کہ آج لفظ میرے نہیں ہوں گے بلکہ ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کی آہ وزاریاں، بیویوں کا ماتم اور کفیل بھائیوں کی مایوسیاں ہوں گی۔ میں شاید نہ لکھتا اگر رشتوں کی مسلسل پامالیاں اور سرکتے آنچلوں کی دہائیاں نظر نہ آتیں۔

Read more

وزیر، حجام، حکمران اور ملک کی ترقی

یہ ایک حکمران کی کابینہ میٹنگ تھی جس میں ملک کے تمام وزراء اس کے سامنے بیٹھے اپنے اپنے کارہائے نمایاں بیان کر رہے تھے۔ حیرانی کی بات مگر یہ تھی کہ میٹنگ کے دوران ہی حکمران کے بال بنائے جارہے تھے۔ حکمران کے پیچھے حجام اور آگے وزراء ایک عجیب ماحول تھا۔ میٹنگ کا آغاز ایک وزیر کی باتوں سے ہوا جو اپنے محکمے سے منسلک اپنی کوششوں کا ذکر کرہا تھا۔ جیسے ہی اس نے بولنا شروع کیا خلاف توقع پیچھے سے حجام نے قہقہہ لگایا۔

Read more

کیا ہم کبھی قوم بن بھی پائیں گے ؟

قوم بننے کے لئے لمبی مسافت درکار ہوتی ہے، انسان سمجھ بوجھ والے ہوں تو تعاون، محبت اور مقصدیت مل کر اس مسافت کو آسان بنادیتی ہے اور مختلف مشکل مراحل جب ایک ساتھ طے ہوجاتے ہیں تو پھر قوم میں بپھرے ہوئے ہجوم کو ہمیشہ حوصلہ شکن رویوں کا سامنا ہوتا ہے اور یہی…

Read more

محبت میں پاگل طبقہ اور اس کے گرد مضبوط محاصرہ

ہم سات عشروں سے بس یہی ایک راگ الاپ رہے ہیں پاکستان زندہ باد اور اس راگ کی خوب صورتی اور بھی نمو پاتی ہے جب اس میں جمہوریت زندہ آباد کا تڑکا شامل ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کہاں ہے یہ معلوم کرنے کے لئے ستر سال کی تاریخ میں کوئی بھی ایسی مثال نہیں ملتی…

Read more

ایک گمنام ادیب کی مغموم مسکراہٹ

ہم دونوں پیربابا کے مزار کے عین سامنے کھلی صحن میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ انتہائی حبس میں صرف ہمارے اوپر اڑتے پرندے ہی تروتازہ لگ رہے تھے۔ وہ میرے سامنے کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ سامنے کتابوں کا ڈھیر تھا ’اس کے چہرے پر تاحیات ثبت ہونے والی مغموم جادوئی…

Read more

میرا کوئی موقف نہیں موقف پارٹی کا ہوتا ہے

ہم دونوں جس آفس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں یہ گمان مشکل تھا کہ تڑپتی دھوپ کی روشنیاں اندر آکر گرم شغلے چھوڑ کر گھٹن پیدا کردے گی اور یوں ہمیں رمضان المبارک کا بیسواں روزہ بھوک و پیاس کی مشکلات میں مبتلا کردے گا اور وجہ جس کی یہ تھی کہ پورا کمرہ اے سی کے یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں تھا۔ وہ جس کے ساتھ میری بیٹھک ہوئی خیبر پختون خواہ کے صف اوّل کے سیاسی رہنما تھے اور جس لمحے ہم دونوں پشاور میں اس کے آفس میں ملکی حالات پر بحث کر رہے تھے عین اسی وقت پورے ملکی میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ میران شاہ کے علاقے بویا میں پاک آرمی اور پی ٹی ایم کے درمیان لڑائی ہوئی ہے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مجھے جیسے ہی وٹس ایپ گروپس میں خبر ملی شدید دھچکا لگا۔ اعصاب پر قابو پانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا۔

Read more

ضدی بچّہ اور بے بس ماں

یہ بچّہ بڑا ضدی تھا۔ ماں کا پلّو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا اور ماں کیا تھی ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ ایسی رہی تھی جیسے پوری زندگی پرائے جرم کی سزا کاٹی ہو۔ بھری جوانی میں بڑھاپے کی آمد یقیناً گئے وقتوں کے ہزار طوفانوں اور حادثوں کا پتا دیتی ہے۔ بچّہ ماں کو رو رو کر کھینچ رہا تھا لیکن اس رسّہ کشی میں ماں کا پلڑا بھاری تھا۔ گردوپیش سے اگر ماں بے خبر رہتی تو شاید دنیا کا یہ انوکھا مقابلہ معصوم بچّہ جیت جاتا لیکن ماں کو پتا تھا آس پاس دائیں بائیں جو بیٹھے ہیں تماش بین بن کر کہیں مذاق کے تیر نہ برسائے کیونکہ ان لمحات میں مذاق جان ہی لے لیتی ہے۔ یہ ایک بازار ہے جہاں عید کی خریداری کے لئے ”اشرف المخلوقات“ کا ایک جم غفیر ہے جس میں بچّہ بے خبر تھا اور سگمنڈ فریڈ کی تھیوری اپنا کام دکھا رہی تھی۔

Read more

آپ کوئی حل تو ڈھونڈ لیں

بغداد جہاں ملک بھر کے علما، دجلہ کے کنارے اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ کون سا فرقہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے، یقیناً اسی طرح ہی مسائل میں گرا ہوا تھا، جس طرح آج ہم گرے ہوئے ہیں۔ میں ٹھیک تو غلط کی فلاسفی میں الجھے علما، اچانک گھتم گھتا ہو کر ایک دوسرے کی داڑھیاں تک نوچ ڈالتے۔ علما کی پگڑیوں نے اتنی بے عزتی شاید پوری تاریخ میں نہیں دیکھی، جتنی رات کی تاریکیوں میں لپٹے دجلہ کی یخ بستہ ہواؤں میں دیکھنے کو ملی۔ کتنے فرقے تھے علما کے لیکن وہ ایک نہ ہو سکے مسلمانوں کی خاطر اور بغداد کی خاطر۔

Read more

آپ ٹیکنیک سیکھ لیں

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشّدد ہوا، وہ اور ان کے ڈاکٹرز اپنی بات پر اڑے رہے اور وزیر صحت اپنی ہستی کو عزت کا سرچشمہ قرار دیتے رہے۔ دونوں جانب کے حالات دیکھ کر بابا جی اور بچّے کا سوال و جواب یاد آگیا۔بابا جی سے بچّے نے سب سے بڑی نصیحت کا مطالبہ کیا تو باباجی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بچّے سے مخاطب ہوئے۔ ”میرے بچے بارگاہ ایزدی میں وہ سب کچھ مانگنا جو تم چاہتے ہو لیکن کبھی ٹیکنیک کے بغیر حکمران بننے کی دعا نہ مانگنا اور جانے انجانے میں اگر دل بہک جائے تو فوراً زمین سے مٹی اٹھا کر اپنے چہرے پر مل لینا“۔

Read more