میرا کوئی موقف نہیں موقف پارٹی کا ہوتا ہے

ہم دونوں جس آفس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں یہ گمان مشکل تھا کہ تڑپتی دھوپ کی روشنیاں اندر آکر گرم شغلے چھوڑ کر گھٹن پیدا کردے گی اور یوں ہمیں رمضان المبارک کا بیسواں روزہ بھوک و پیاس کی مشکلات میں مبتلا کردے گا اور وجہ جس کی یہ تھی کہ پورا کمرہ اے سی کے یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں تھا۔ وہ جس کے ساتھ میری بیٹھک ہوئی خیبر پختون خواہ کے صف اوّل کے سیاسی رہنما تھے اور جس لمحے ہم دونوں پشاور میں اس کے آفس میں ملکی حالات پر بحث کر رہے تھے عین اسی وقت پورے ملکی میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ میران شاہ کے علاقے بویا میں پاک آرمی اور پی ٹی ایم کے درمیان لڑائی ہوئی ہے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مجھے جیسے ہی وٹس ایپ گروپس میں خبر ملی شدید دھچکا لگا۔ اعصاب پر قابو پانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا۔

Read more

ضدی بچّہ اور بے بس ماں

یہ بچّہ بڑا ضدی تھا۔ ماں کا پلّو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا اور ماں کیا تھی ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ ایسی رہی تھی جیسے پوری زندگی پرائے جرم کی سزا کاٹی ہو۔ بھری جوانی میں بڑھاپے کی آمد یقیناً گئے وقتوں کے ہزار طوفانوں اور حادثوں کا پتا دیتی ہے۔ بچّہ ماں کو رو رو کر کھینچ رہا تھا لیکن اس رسّہ کشی میں ماں کا پلڑا بھاری تھا۔ گردوپیش سے اگر ماں بے خبر رہتی تو شاید دنیا کا یہ انوکھا مقابلہ معصوم بچّہ جیت جاتا لیکن ماں کو پتا تھا آس پاس دائیں بائیں جو بیٹھے ہیں تماش بین بن کر کہیں مذاق کے تیر نہ برسائے کیونکہ ان لمحات میں مذاق جان ہی لے لیتی ہے۔ یہ ایک بازار ہے جہاں عید کی خریداری کے لئے ”اشرف المخلوقات“ کا ایک جم غفیر ہے جس میں بچّہ بے خبر تھا اور سگمنڈ فریڈ کی تھیوری اپنا کام دکھا رہی تھی۔

Read more

آپ کوئی حل تو ڈھونڈ لیں

بغداد جہاں ملک بھر کے علما، دجلہ کے کنارے اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ کون سا فرقہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے، یقیناً اسی طرح ہی مسائل میں گرا ہوا تھا، جس طرح آج ہم گرے ہوئے ہیں۔ میں ٹھیک تو غلط کی فلاسفی میں الجھے علما، اچانک گھتم گھتا ہو کر ایک دوسرے کی داڑھیاں تک نوچ ڈالتے۔ علما کی پگڑیوں نے اتنی بے عزتی شاید پوری تاریخ میں نہیں دیکھی، جتنی رات کی تاریکیوں میں لپٹے دجلہ کی یخ بستہ ہواؤں میں دیکھنے کو ملی۔ کتنے فرقے تھے علما کے لیکن وہ ایک نہ ہو سکے مسلمانوں کی خاطر اور بغداد کی خاطر۔

Read more

آپ ٹیکنیک سیکھ لیں

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشّدد ہوا، وہ اور ان کے ڈاکٹرز اپنی بات پر اڑے رہے اور وزیر صحت اپنی ہستی کو عزت کا سرچشمہ قرار دیتے رہے۔ دونوں جانب کے حالات دیکھ کر بابا جی اور بچّے کا سوال و جواب یاد آگیا۔بابا جی سے بچّے نے سب سے بڑی نصیحت کا مطالبہ کیا تو باباجی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بچّے سے مخاطب ہوئے۔ ”میرے بچے بارگاہ ایزدی میں وہ سب کچھ مانگنا جو تم چاہتے ہو لیکن کبھی ٹیکنیک کے بغیر حکمران بننے کی دعا نہ مانگنا اور جانے انجانے میں اگر دل بہک جائے تو فوراً زمین سے مٹی اٹھا کر اپنے چہرے پر مل لینا“۔

Read more

نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن

 چئیرمین ماؤ نے کیا خوب زندگی گزاری، آئے چین کو دنیا کے افق پر ایسا پیوست کیا جیسے ترقی کے افق اور چین کا رشتہ ابدی ہو۔ صرف قول کے نہیں فعل کے بھی کمال کے تھے۔ کیا خوب کہا موصوف نے ”عوام کبھی غلط نہیں ہوتے راہنماؤں کو عوام کے فیصلوں سے اپنی حرکیات ٹھیک کرنی چاہئیں“ بات کمال کی ہے لیکن سننے اور پرکھنے کے لئے دل و دماغ کا ملاپ ضروری ہے جو ہمارے مقدر میں ٹہرا ناممکن۔ سرسری جائزہ بتاتا ہے کہ یہاں البتہ قوم کا وجود دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں، نسلیں ختم ہوئیں اور نجانے اور کتنی قربانیاں، پریشانیاں اور اضطراب کی گھڑیاں محرومیوں، بھوک اور پریشانیوں سے بھری آنکھوں کو نصیب ہوں گی۔

Read more

سہولت لے لو زندگی دے دو

شیراز کے شہریار کے ساتھ بیوی نے بے وفائی کی تو لگ گیا ظالم صنف نازک کی نسل کُشی میں۔ کابینہ کے وزراء حیران تھے کیونکہ سلطنت کا شیرازہ صنف نازک کے خاتمے کی شکل میں بکھررہا تھا۔ وجہ کیا تھی شہریار روز نئی نویلی دلہن لاتا اور صبح قتل کرکے ہاتھ صاف کردیتا۔ بادشاہ کا مشیرپریشان تھا اور پریشانی بجا تھی کیونکہ بادشاہ سلامت کے لئے روز نئی نویلی دلہن کا بندوبست اس کو مشکل میں ڈال رہا تھا۔ سلطنت کے مظلوم کندھے بیٹیوں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے تو ان کی بد دعاؤں نے مشیر کی بیٹی کے دل میں بادشاہ سے شادی کی آرزو جگائی۔ مشیر بے چارے نے خوب سمجھایا لیکن بیٹی دھن کی پکّی نکلی اور برابر ضد کرتی رہی۔ مجبوراً مشیر کو بادشاہ سے اپنی بیٹی کی شادی کرانی پڑی۔

Read more

”گیم چینجر“ ہی کا جنون کیوں؟

وہ کرکٹ کے میدانوں میں آسمان پر برستی بارشوں کے موسم میں چھائے بادل کی طرح رہا۔ دلوں پر راج کیا اور وہ بھی ایسا کہ وہ میدان جس کی وجہ سے اُس پر ہر وقت لوگوں کی طرف سے محبت کے پھول برسائے گئے، چھوڑنے کے بعد بھی دلوں میں ایسا قید ہے، جیسے روح میں مقیّد جان۔ وہ حرکت میں جب بھی آیا، دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی رہی۔ جب کرکٹر تھا تو پاکستان کے لئے دل و جان سے کھیلا اور جب کرکٹ چھوڑ دی تو فلاحی کاموں میں متحّرک نظر آیا۔ اس کے والد صاحب نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ”میرا بیٹا پیدائشی ہیرو ہے۔ یہ جہاں بھی جائے گا نام اور عزت کمائے گا۔“ اور پھر تاریخ نے بالکل اُسی طرح، جس طرح یہ ہمیشہ دیکھتا آیا ہے، دیکھا کہ نام اور عزت دونوں کما گیا۔

Read more

مضبوط معیشت انتہائی ضروری ہے

بائی پولر دنیا میں دو انتہائی مضبوط معاشی نظام تھے۔ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام۔ ان دونوں نظاموں میں موجود ممالک کو عالمی دنیا میں طاقت کا سرچشمہ قرار دیا جاتا تھا۔ سویت یونین کے اختتام پر جب دنیا یونی پولر بن گئی تو دنیا کے کونے کونے میں سرمایہ دارانہ نظام نے جڑیں مضبوط…

Read more

کیا آئی ایم ایف سے امداد ہمارے مسائل حل کر سکتی ہے؟

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدوں کی تاریخ ساٹھ سال پر محیط ہے۔ 27 دسمبر 1945 ء کو آئی ایم ایف کی بنیاد رکھی گئی۔ آج اس کے ممبر ممالک کی تعداد 189 ہے۔ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ پہلا معاہدہ 1958 ء میں ہوا۔ اس وقت سے لے کر آج تک کل اکیس بار معاہدے ہوئے جن میں بارہ دفعہ سٹیں ڈ بائی ایڈجسمنٹ (ایس بی اے ) یا بیل آؤٹ پیکیج، پانچ دفعہ ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی ( ای ایف ایف) ایک دفعہ سٹرکچرل ایڈجسمنٹ فیسلٹی (ایس اے ایف ) اور تین دفعہ ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسلٹی کے معاہدے ہیں۔

ان تمام معاہدوں کے دوران تیرہ مرتبہ پاکستان کو وہ رقم مہیا نہیں کی گئی جس پر معاہدے کے دوران آئی ایم ایف اور پاکستانی وفد متفق ہوئے۔ آپ حیران ہوں گے کہ ان اکیس معاہدوں میں چودہ 1980 ء کے بعد کے ہیں جس سے اندازہ یہی لگتا ہے کہ اسّی کی دہائی تک ہم آئی ایم ایف پر اتنا انحصار نہیں کرتے تھے جتنا اس کے بعد ہم نے کیا۔ پاکستان نے بحرانوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ پانچ دفعہ معاہدے ختم کیے جن میں ایک اسّی کی دہائی سے پہلے اور چار بعد کے ہیں۔ ان ٹرمینیٹڈ معاہدوں میں تین سٹینڈ بائی ایڈجسمنٹ کے معاہدے، ایک سٹرکچرل ایڈجسمنٹ فیسلٹی کا معاہدہ اور ایک ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی کا معاہدہ ہے۔

Read more

بس نظام ہی پٹڑی سے اتر جاتا ہے

انتخابات کے دو دن بعد حکمران جماعت کے انتہائی اہم افراد اجلاس میں شریک تھے۔ سب خوش تھے کیونکہ اکیلے ان کی پارٹی نے نو پارٹیوں کو شکست دی تھی۔ وہ سب مسکراتے چہروں کے ساتھ پی ایم ہاؤس میں موجود بھٹو کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کب وہ کچھ بول کر خاموشی توڑ دیں۔ کچھ ہی لمحوں بعد بھٹو نے حفیظ پیرزادہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوکر خاموشی توڑ ہی دی ’ ”حفیظ کتنی سیٹوں پر گڑ بڑ ہوئی ہوگی“؟حفیظ پیرزادہ نے برجستہ جواب دیا ”سر تیس سے چالیس تک۔بھٹو نے یہ سنا تو وہاں موجود تمام افراد سے پوچھا۔ ”کیا پی این اے والوں سے بات نہیں ہوسکتی کہ وہ ان تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کردیں ہم ضمنی انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیں گے؟

Read more
––>