سیاست: میں سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ

جو میں نے دیکھا اس منظر میں مولانا صاحب عمران کو گلے مل رہے تھے اور دونوں طرف کے کارکنان ڈھول کی تھاپ پر رقص کناں تھے۔ مولانا فرما رہے تھے یہ جو میں نے تمہیں یہودیوں کا سرغنہ قرار دیا تھا میری بھول تھی تم بے شک شاطر بہت ہو مگر تم نے پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ ہم آج تسلیم کرتے ہیں کہ 73 کے آئین کے تناظر میں جو شخص ملک و قوم کی اتنی

Read more

تم نے کہیں میرا بیٹا، میری بیٹی، میری ماں یا میرا باپ دیکھے؟

ممتا نےکہاں کہاں دوڑایا،  یہ صرف میں جانتی ہوں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پورے سات دن قاتل ہمارے سامنے گھومتا رہا لیکن ہمیں یہ تک نہ بتایا کہ جس معصوم کو ہم تلاش کر رہے ہیں اس کی لاش ہمارے گھر کے عین نیچے کھیتوں میں سات دنوں سے پڑی ہے۔ لاش جب ملی تو خود اپنی خبر نہ رہی۔ جس وجود کو پورے پندرہ سال میں نے کبھی خود سے الگ نہ کیا وہ میرے قریب ہی سات دن تک کیڑے مکوڑوں کے لیے رزق کا ذریعہ بنا رہا۔ میں نے جیسے ہی لاش دیکھی تو ہوش نہ رہا پھر کلمہ پڑھا اور لاش کے قریب گئی۔ لاش پر بے شمار نشان تھے۔ اس کے ہاتھ پر میں نے جو دھاگے باندھے تھے وہ ہڈیوں میں پیوست ہو چکے تھے۔ میں نے اللہ کا نام لیا اور دھاگے ہاتھ سے کاٹ کر اپنے پاس رکھے جو ابھی بھی میرے پاس موجود ہیں اور ان دھاگوں پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں۔

Read more

آل پارٹیز کانفرنس اور سیاسی پینترے

ہماری مختصر تاریخ میں ایک حیران کن چیز کا جائزہ لیں۔ 1977ء کے انتخابات کے نتائج پر اپوزیشن کو شدید تحفظات تھے۔ انتخابات کے چند ہی دنوں بعد ملک ایک خوفناک صورتحال سے دوچار ہوا۔ ہوا کیا تھا یہ سمجھنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ پی این اے میں نو پارٹیاں شامل تھیں اور مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ انتخابات ہوئے ’نتائج کا اعلان جب کیا گیا تو میں نہیں مانتا کی گردان شروع ہوئی۔ اس وقت بھٹو مرحوم نے

Read more

جشن آزادی مبارک مگر…

آپ نے سرکاری دفتروں کے اندر سرکاری اہلکاروں کے اوپر قائداعظم کی تصویر تو دیکھی ہوگی۔ آپ نے اسی تصویر کے نیچے سرکاری اہلکاروں کو بھی دیکھا ہوگا اور آپ نے اسی دفتر کے اندر سرکاری اہلکاروں کے لئے موجود سہولیات بھی دیکھی ہوں گی۔ میں جب بھی کسی سرکاری دفتر جاتا ہوں تو میری نظریں سب سے پہلے قائد اعظم کی تصویر پر پڑتی ہیں۔ میں ذاتی طور پر قائد اعظم سے انتہائی متاثر ہوں اور کبھی کبھی ان

Read more

بونیر کے لوگ اور شتر بے مہار ”گابا“ پبشلرز

، عمر رسیدہ بابا جی اب حیات نہیں ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائیں۔ دیر میں جب پہلی بار ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے طویل وقت تک مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ خود سے جدا کرتے وقت انہوں نے میرا ماتھا چوما اور وہاں موجود لوگوں سے کہنے لگے۔ ”بونیر کے لوگ محبت دیتے ہیں اور محبت ہی سے خوش ہوتے ہیں۔ یہ بڑے سادہ دل ہوتے ہیں ان کو بھوک و پیاس کی سختیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا یہ بس محبت اور مسکراہٹ ہی سے کام چلا لیتے ہیں اور مجھے ضلع بونیر کے ہر فرد سے بے تحاشا محبت ہے“ ۔

Read more

سوال تو اٹھیں گے سراج الحق صاحب

محترم سراج الحق صاحب آپ نے مرکزی مجلس عاملہ کے بعد پریس کانفرنس میں ملکی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپ کے دائیں طرف سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب کو دیکھ کر اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان جوش میں آئے ہوں گے اور بے شمار محروم اور بے روزگار نوجوانوں کی طرح یقیناً وہ بھی پریس کانفرنس میں کسی اہم فیصلے کے شدید منتظر رہے ہوں گے ۔ مجھے بھی یہ پریس کانفرنس دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی جس میں آپ نے ذکر کیا کہ پورا ملک مافیاز کے حوالے ہے اور انہی مافیاز کے سرمایہ دار الیکشن کے دوران انوسٹمنٹ کر کے اپنی پسند کے لوگ آگے لاتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو صرف تذکرہ کرنے سے بھلا کیسے کوئی مان لیں کہ اتنے طاقتور لوگوں کو اس قبیح عمل سے روکا جاسکتا ہے۔ بے شمار پاکستانیوں کی طرح میں دل سے تسلیم کرتا ہوں کہ مافیاز نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے لیکن میرا ایک سوال ہے کیا ان مافیاز کا پتا ابھی تک لوگوں کو نہیں تھا؟

Read more

تحریک انصاف کے نوجوان کارکنوں کی خوبیاں

آپ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بطور مثال لے لیجیے۔ ان کے ساتھ آپ کے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں آپ ان کی باتوں پر لعنت بھیج سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ علمی باتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور دلیل جس چیز کا نام ہے یہ لوگ ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتے۔ آپ یقین کیجیئے یہ لوگ بحث کے دوران لڑنے پر اتر آتے ہیں اور کبھی کبھار تو لاتوں، گھونسوں اور مکوں سے بھی کام چلا

Read more

اوورسیز پاکستانیوں کی ہچکیاں

یہ مدینہ منورہ سے ایک پاکستانی مسافر بھائی کی کال تھی۔ میں ابھی ابھی اوورسیز پاکستانیوں کے لئے سوشل میڈیا پر ایک پروگرام سے فارغ ہوا تھا۔ میں نے جیسے ہی موبائل فون کا بٹن دبایا دوسری طرف ہچکیوں نے میرے اوسان خطا کر دیے۔ میں نے بے شمار آوازیں دیں لیکن آپ یقین کیجیئے صرف ہچکیاں ہی آ رہی تھیں۔

اللہ اللہ کر کے جیسے ہی فون کرنے والے کی حالت سنبھلی تو وہ گویا ہوئے ”بھوک اور پیاس کی صعوبتیں انسان کو کتنا کمزور کر دیتی ہیں اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ میں بس گھر جانا چاہتا ہوں۔ مجھے میرے بچوں کے سامنے زندگی کی ہر اذیت قبول ہے۔ میں بھوکا بھی ہوں پیاسا بھی ہوں لیکن اذیت کے دردناک لمحات میں گھر والوں سے دوری بہت بڑا عذاب ہے۔ ہمارے پاس ہماری پوری جمع پونجی ختم ہوچکی ہے گھر والوں کا تو اللہ ہی حافظ۔ یہاں کی حکومت اور ہمارے کفیل بھی ہمیں سہولت دینے کے لئے تیار نہیں۔ پچھلے دنوں مجھے سعودی عرب کے ایک رہائشی نے چند دنوں کا راشن دیا اب وہ بھی ختم ہوچکا ہے۔ روز ہم سفارتخانے کا چکر لگاتے ہیں لیکن ہمیں کوئی وقت نہیں دیتا۔ کرونا کے اس کرائسز میں تو اب گھر واپسی کا صرف ہم تصور ہی کر سکتے ہیں۔ مجھ سے یہاں خروج کے لئے دس ہزار ریال مانگے گئے ہیں اور میری ماہانہ تنخواہ صرف پندرہ سو ریال ہے اور وہ بھی اب بند ہے۔ صرف میں ہی نہیں یہاں تمام پاکستانی در بدر ہیں“ ۔

ہم نے بحیثیت عام انسان بے شمار اذیتوں کا سامنا کیا ہے۔ صرف مجھے ہی نہیں بے شمار لوگوں کو اوورسیز

Read more

عید کی آمد اور ایک غریب سے میری ملاقات

مجھے ایک غریب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ہم دونوں نے کافی طویل گفتگو کی اور باتوں باتوں میں مجھے ایک عجیب احساس ہوا جس کا میں لمبے عرصے سے متلاشی تھا۔ اس احساس نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ میں سوچنے لگا یہ تو آسان سی باتیں ہیں پھر کیوں نہ ہم مل کر چار حروف والا یہ لفظ اپنی قومی ڈکشنری سے ہمیشہ کے لئے تلف ہی کردیں۔ غریب کا حلیہ واقعی غریبوں والا تھا۔ میلے کچیلے

Read more

دیریلس ارطغرل پر ہی اعتراض کیوں؟

میں نے وہ دوردیکھا ہے جب بزرگ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے کہ ان کے بچے ٹی وی سے دور رہیں لیکن ٹی وی نے اپنی دھاک بٹھانی تھی بٹھادی۔ وی سی آر کا زمانہ آیا تو ایسا محسوس ہونے لگا جیسے قیامت آ گئی ہو۔ بچے اور نوجوان اس لت کے اسیر بننا شروع ہوئے تو بزرگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور ایک لفظ کا استعمال شروع ہونے لگا جو آج تک ہم سنتے آرہے ہیں ”مغربی

Read more

اللہ سے رجوع کرنا ناگزیر ہو چکا

اپاہج ذہنوں، بوسیدہ سوچوں اور گوشت پوست کے برائے نام انسانوں کے سامنے بھلائی کی بات کرنا کسی پہاڑ کے ایک بڑے پتھر کے سامنے کھڑے ہوکر یہ منتیں کرنا کہ کیوں نہ آج آپ میرے ساتھ ہی چلیں کے مترادف ہے۔ وہ زمانہ جس کے بارے میں گزشتہ نسلوں کی آخری نشانیاں اکثر کہا کرتی تھیں کہ ایک وقت آئے گا جب ہر انسان اپنے تک محدود اور مقید ہوجائے گا آج ہی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یوں

Read more

میں یہ کیسے مان جاؤں

آپ بے شک ایماندار بھی ہیں، سچے بھی ہیں اور دل کے صاف بھی ییں۔ آپ مقبول بھی بے تحاشا ہیں اور یہ جان کر تو ہمارے سر فخر سے بلند ہوجاتے ہیں کہ پوری دنیا میں اس ملک کے غریب مکین جب خود کو متعارف کراتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم عمران خان کے پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کے بارے میں سنیل گواسکر کہتے ہیں کہ ایک بار ہم ساؤتھ افریقہ کے مضافات میں سیر و

Read more

زنگ آلود ذہنوں میں کشمیر کہاں سے آیا

امیر تیمور سے کسی نے پوچھا۔ سمرقند کے ایک چھوٹے سے علاقے شہر سبز سے نکل کر پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب آپ نے دیکھا اور پھر آدھی سے زیادہ زندگی گھوڑے کی زین پر گزاری اور ہمیشہ فاتح رہے۔ وہ کون سی ٹیکنیک ہے جس کی وجہ سے فتح و کامرانی نے آپ کے قدم چومے۔ سوال سن کر وہ مسکرائے اور کہنے لگے۔ میں نے ہمیشہ دشمن کو دشمن ہی سمجھا اور تلوار ہی وہ واحد

Read more

خان صاحب پریشان ہونا چھوڑ دیجیئے

برمکّی خاندان خلافت عباسیہ کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل رہا اور اسی خاندان کے ایک سپوت یحییٰ برمکی نے عباسی خاندان کو انتظام حکومت چلانے میں ہر قسم کی کمک فراہم کی۔ سلطنت کی معاشی حالت ایک بار ناگفتہ بہ ہوگئی یہاں تک کہ اشیائے خوردونوش کی قلت تک بات آگئی۔ ہارون قصر خلافت میں پریشان بیٹھا ہوا تھا کہ ایسے میں یحییٰ برمکی داخل ہوئے۔ انہیں دیکھتے ہی ہارون نے معاشی حالات کا رونا شروع کیا۔ یحییٰ نے

Read more

دیریلس ارطغرل کا سحر جذبات کو ابھارتا ہے

کسے خبر تھی کہ اوغوز ترکوں کی رگوں میں بہادری، جوانمردی اور جان نثاری کا خون کچھ یوں سرائیت کرے گا کہ رہتی دنیا تک ان کو یاد کیا جائے گا۔ کسے معلوم تھا کہ تیرویں صدی جو مسلمانوں کے خلاف فتنوں سے بھرپور جال بچھانے والوں کی صدی تھی میں اوغوز ترکوں کی نئی نسل بیداری کی انگڑائیاں اور نئے جذبوں کے ساتھ اپنا وطن بنانے کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کا ارادہ کرے گی۔ چنگیز

Read more

آئندہ چھ مہینے اہم ہیں

اکرم خان درانی صاحب میرے سامنے تشریف فرما تھے۔ یہ ان کے دفتر کے اندر ایک چھوٹی سی بیٹھک تھی۔ وہ چند لمحے پہلے اسمبلی اجلاس سے آئے تھے بلکہ دفتر ہی میں ایک بڑے جرگے کو بھی فارغ کرچکے تھے۔ پھر اس کے بعد میں تھا وہ تھے اورہم دونوں کے درمیان سکوت کے حائل پردے تھے اور وجہ جس کی یہ تھی کہ میں پہلی باربغور ان کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ سفید داڑھی پر جھریوں

Read more

مشرف کی سزائے موت اور وکٹری کا نشان

خصوصی عدالت نے مشرف کو سزائے موت کا حکم سنادیا یاد رہے کہ مشرف اس وقت شدید علیل ہیں اور بالفرض کوئی ان کو یہ بری خبر سنا بھی دیں تو شاید ان پر اتنا برا اثر نہ ہو اور وجہ جس کی یہ ہے کہ وہ پہلے ہی سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ مذکورہ فیصلے پر حکومت کا کیا رد عمل ہے وہ بعد کی باتیں ہیں لیکن تاریخ میں اس فیصلے کو ضرور سنہرے

Read more

آپ کا قانون زندہ باد لیکن آئی ابجیکٹ

ماشاءاللہ مذمتوں اورتحقیقاتی کمیشنوں کی دنیا میں عقل کی اندھی قوم یوں اچانک جاگ گئی کہ ساری دنیا حیران رہ گئی۔ وکلاء اورڈاکٹر حضرات کو ایسی نصیحتیں شاید تاریخ میں پہلی بار مل رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ ایسا واویلا مچا ہے کہ جیسے ہم کسی مہذب دنیا کے بہت مہذب شہری ہوں اور ہم نے کبھی قانون کی خلاف ورزی کی ہی نہ ہو۔ قانون کو اصل شکل میں دیکھنے کی حسرت لئے عشروں سے آبلہ پا نکلے

Read more

اور پھر کاکا کی پریشانی ہی ختم ہوگئی

کاکا سے میں پشاور میں ہفتے میں ایک بار ضرور ملتا ہوں۔ اب کی بار بھی انہوں نے فون کیا اور تحکمانہ انداز میں رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ میں جیسے ہی پہنچا وہ ایک نجی ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے۔ ایک ہاتھ میں اپنا سر اور دوسرے ہاتھ میں ریموٹ پکڑے کچھ بہت ہی زیادہ پریشان لگ رہے تھے۔ میں بہت دیر تک کھڑا رہا۔ چینل بدل بدل کر وہ اکتا گئے تھے۔ تقریباً تمام چینلز پر

Read more

دم سادھ، زمانہ کاٹ، بھلے دن آئیں گے

یہ 1996 کی تاریخ کے صفحوں کا بھیانک باب ہے۔ قاضی حیسن احمد بے نظیر بھٹو کے خلاف صف آراء ہونے والے تھے اور کمک کے لئے نواز شریف تیار تھے۔ ہم ان دنوں سکول کے بچے تھے لیکن یاد پڑ رہا ہے جماعت اسلامی کے نوجوان سر پر کفن باندھے نکل رہے تھے۔ ہمیں بھی بتایا جاتا کہ پاکستان کی حالت اب سنبھل جائے گی اگرچہ ہم حیران ہوتے کہ بھلا اب کون سی قیامت برپا ہے جو سب

Read more

سوال تو اٹھیں گے مولانا صاحب

1997 کی الیکشن تیاریاں عروج پر تھیں۔ جماعت اسلامی الیکشن سے بائیکاٹ کرچکی تھی اور بے نظیر کی پارٹی مختلف وجوہات کی بناء پر کسمپرسی کی حالت میں تھی۔ نواز شریف کے لئے میدان صاف تھا مگر عمران خان کی صورت میں پنجاب میں ایک ابھرتا ہوا خطرہ ضرور موجود تھا اگرچہ اس کی پارٹی ارتقائی عمل سے گزررہی تھی۔ اس الیکشن مہم میں مولانا فضل الرحمٰن اور نواز شریف دونوں عمران خان پر دو ایسے الزامات لگا رہے تھے

Read more

تین بڑی خوبیوں کا فقدان

آپ سمر قند کے سپوت امیر تیمور ہی کولے لیجیے جس نے زندگی کا زیادہ ترحصّہ گھوڑے کی پیٹھ پر گزارا۔ اپنی زندگی میں بیالیس ملک فتح کیے۔ اس میں بے شمار خامیاں تھیں۔ شہر سبز سے نکل کر تقریباً پوری دنیا گھوما لیکن کسی کو نہیں بخشا۔ انسانی کھوپڑیوں پر جب وار کرتا تو ان سے ابلتے ہوئے خون کو دیکھ کر اس کے چہرے پر ایک مسحُورکن مسکراہٹ پھیل جاتی۔ دونوں ہاتھوں سے لڑتا ایک ہاتھ میں کلہاڑا

Read more

حکومت شغلیہ، ریاست مدینہ اور رب کا انتباہ

ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔ سوچ ‘تدبر’ فکر اور تصّور خام خیالیوں کو جنم دیتی ہے پہلی بار پاکستان کی دھرتی پر صاف نظر آرہا ہے۔ سات دہائیوں پر مشتمل تاریخ کے سبق اتنے طویل تو نہیں جن سے کچھ سیکھا نہیں جاسکتا۔ سیکھنے پر قوم اتر آئے تو پھر دہائیاں تو کیا صدیاں بھی کم پڑجاتی ہیں لیکن سیکھے گا کون اورسکھائے گا کون یہی نوحہ ہے اور یہی المیہ ہے۔ عنان

Read more

مبارک ہو آپ کا بچّہ عوام کے مفاد کی خاطر مرا ہے

ہسپتال کی ایمرجنسی میں ایک گھنٹہ کیا گزارا سکون کی دنیا ہی لٹ گئی۔ ایک تو ایمرجنسی، اوپر سے مریضوں کا بے تحاشا رش اور ستم بالائے ستم ڈاکٹروں کی ہڑتال۔ کیا کروں ایک لمحے کو سوچا لیکن ان دیکھی قوتیں حاوی ہوگئیں اور میں وہاں بیٹھ ہی گیا۔ ایمرجنسی کا سرکاری کارندہ او پی ڈی پرچیاں بانٹ رہا تھا اورہر پرچی کے ساتھ یہ دھمکی بھی دے رہا تھا ڈاکٹر بس جانے والا ہے اور حکم بھیجا ہے کہ

Read more

چرس، آئس، شراب اور میرا بونیر

الفاظ کہاں تک لکھنے والوں کا حق ادا کرسکتے ہیں یہ علم تو نہیں لیکن ایک بات کا اچھی طرح علم ہے کہ آج لفظ میرے نہیں ہوں گے بلکہ ماؤں کی سسکیاں، بہنوں کی آہ وزاریاں، بیویوں کا ماتم اور کفیل بھائیوں کی مایوسیاں ہوں گی۔ میں شاید نہ لکھتا اگر رشتوں کی مسلسل پامالیاں اور سرکتے آنچلوں کی دہائیاں نظر نہ آتیں۔

Read more

وزیر، حجام، حکمران اور ملک کی ترقی

یہ ایک حکمران کی کابینہ میٹنگ تھی جس میں ملک کے تمام وزراء اس کے سامنے بیٹھے اپنے اپنے کارہائے نمایاں بیان کر رہے تھے۔ حیرانی کی بات مگر یہ تھی کہ میٹنگ کے دوران ہی حکمران کے بال بنائے جارہے تھے۔ حکمران کے پیچھے حجام اور آگے وزراء ایک عجیب ماحول تھا۔ میٹنگ کا آغاز ایک وزیر کی باتوں سے ہوا جو اپنے محکمے سے منسلک اپنی کوششوں کا ذکر کرہا تھا۔ جیسے ہی اس نے بولنا شروع کیا خلاف توقع پیچھے سے حجام نے قہقہہ لگایا۔

Read more

کیا ہم کبھی قوم بن بھی پائیں گے ؟

قوم بننے کے لئے لمبی مسافت درکار ہوتی ہے، انسان سمجھ بوجھ والے ہوں تو تعاون، محبت اور مقصدیت مل کر اس مسافت کو آسان بنادیتی ہے اور مختلف مشکل مراحل جب ایک ساتھ طے ہوجاتے ہیں تو پھر قوم میں بپھرے ہوئے ہجوم کو ہمیشہ حوصلہ شکن رویوں کا سامنا ہوتا ہے اور یہی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے جب بپھرے ہجوم اور شتر بے مہار انسانوں کو ہر طرف حوصلہ شکن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی

Read more

محبت میں پاگل طبقہ اور اس کے گرد مضبوط محاصرہ

ہم سات عشروں سے بس یہی ایک راگ الاپ رہے ہیں پاکستان زندہ باد اور اس راگ کی خوب صورتی اور بھی نمو پاتی ہے جب اس میں جمہوریت زندہ آباد کا تڑکا شامل ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کہاں ہے یہ معلوم کرنے کے لئے ستر سال کی تاریخ میں کوئی بھی ایسی مثال نہیں ملتی جس سے اندازہ ہو کہ ہاں اب نہیں ہے جمہوریت لیکن ایک وقت تھا جب نام نہاد تبدیلی والوں نے اس طبقے کا کچھ اچھا

Read more

ایک گمنام ادیب کی مغموم مسکراہٹ

ہم دونوں پیربابا کے مزار کے عین سامنے کھلی صحن میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ انتہائی حبس میں صرف ہمارے اوپر اڑتے پرندے ہی تروتازہ لگ رہے تھے۔ وہ میرے سامنے کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ سامنے کتابوں کا ڈھیر تھا ’اس کے چہرے پر تاحیات ثبت ہونے والی مغموم جادوئی مسکراہٹ تھی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ جانور نما انسانوں کے اس دنیا میں وہ ترہتر سال کی عمرمیں سب کا

Read more

میرا کوئی موقف نہیں موقف پارٹی کا ہوتا ہے

ہم دونوں جس آفس میں بیٹھے ہوئے تھے وہاں یہ گمان مشکل تھا کہ تڑپتی دھوپ کی روشنیاں اندر آکر گرم شغلے چھوڑ کر گھٹن پیدا کردے گی اور یوں ہمیں رمضان المبارک کا بیسواں روزہ بھوک و پیاس کی مشکلات میں مبتلا کردے گا اور وجہ جس کی یہ تھی کہ پورا کمرہ اے سی کے یخ بستہ ہواؤں کی لپیٹ میں تھا۔ وہ جس کے ساتھ میری بیٹھک ہوئی خیبر پختون خواہ کے صف اوّل کے سیاسی رہنما تھے اور جس لمحے ہم دونوں پشاور میں اس کے آفس میں ملکی حالات پر بحث کر رہے تھے عین اسی وقت پورے ملکی میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ میران شاہ کے علاقے بویا میں پاک آرمی اور پی ٹی ایم کے درمیان لڑائی ہوئی ہے جس میں کئی افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مجھے جیسے ہی وٹس ایپ گروپس میں خبر ملی شدید دھچکا لگا۔ اعصاب پر قابو پانے کے بعد میں نے اس سے پوچھا۔

Read more

ضدی بچّہ اور بے بس ماں

یہ بچّہ بڑا ضدی تھا۔ ماں کا پلّو چھوڑ ہی نہیں رہا تھا اور ماں کیا تھی ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ ایسی رہی تھی جیسے پوری زندگی پرائے جرم کی سزا کاٹی ہو۔ بھری جوانی میں بڑھاپے کی آمد یقیناً گئے وقتوں کے ہزار طوفانوں اور حادثوں کا پتا دیتی ہے۔ بچّہ ماں کو رو رو کر کھینچ رہا تھا لیکن اس رسّہ کشی میں ماں کا پلڑا بھاری تھا۔ گردوپیش سے اگر ماں بے خبر رہتی تو شاید دنیا کا یہ انوکھا مقابلہ معصوم بچّہ جیت جاتا لیکن ماں کو پتا تھا آس پاس دائیں بائیں جو بیٹھے ہیں تماش بین بن کر کہیں مذاق کے تیر نہ برسائے کیونکہ ان لمحات میں مذاق جان ہی لے لیتی ہے۔ یہ ایک بازار ہے جہاں عید کی خریداری کے لئے ”اشرف المخلوقات“ کا ایک جم غفیر ہے جس میں بچّہ بے خبر تھا اور سگمنڈ فریڈ کی تھیوری اپنا کام دکھا رہی تھی۔

Read more

آپ کوئی حل تو ڈھونڈ لیں

بغداد جہاں ملک بھر کے علما، دجلہ کے کنارے اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ کون سا فرقہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرسکتا ہے، یقیناً اسی طرح ہی مسائل میں گرا ہوا تھا، جس طرح آج ہم گرے ہوئے ہیں۔ میں ٹھیک تو غلط کی فلاسفی میں الجھے علما، اچانک گھتم گھتا ہو کر ایک دوسرے کی داڑھیاں تک نوچ ڈالتے۔ علما کی پگڑیوں نے اتنی بے عزتی شاید پوری تاریخ میں نہیں دیکھی، جتنی رات کی تاریکیوں میں لپٹے دجلہ کی یخ بستہ ہواؤں میں دیکھنے کو ملی۔ کتنے فرقے تھے علما کے لیکن وہ ایک نہ ہو سکے مسلمانوں کی خاطر اور بغداد کی خاطر۔

Read more

آپ ٹیکنیک سیکھ لیں

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹر پر تشّدد ہوا، وہ اور ان کے ڈاکٹرز اپنی بات پر اڑے رہے اور وزیر صحت اپنی ہستی کو عزت کا سرچشمہ قرار دیتے رہے۔ دونوں جانب کے حالات دیکھ کر بابا جی اور بچّے کا سوال و جواب یاد آگیا۔بابا جی سے بچّے نے سب سے بڑی نصیحت کا مطالبہ کیا تو باباجی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بچّے سے مخاطب ہوئے۔ ”میرے بچے بارگاہ ایزدی میں وہ سب کچھ مانگنا جو تم چاہتے ہو لیکن کبھی ٹیکنیک کے بغیر حکمران بننے کی دعا نہ مانگنا اور جانے انجانے میں اگر دل بہک جائے تو فوراً زمین سے مٹی اٹھا کر اپنے چہرے پر مل لینا“۔

Read more

نہ پائے ماندن، نہ جائے رفتن

 چئیرمین ماؤ نے کیا خوب زندگی گزاری، آئے چین کو دنیا کے افق پر ایسا پیوست کیا جیسے ترقی کے افق اور چین کا رشتہ ابدی ہو۔ صرف قول کے نہیں فعل کے بھی کمال کے تھے۔ کیا خوب کہا موصوف نے ”عوام کبھی غلط نہیں ہوتے راہنماؤں کو عوام کے فیصلوں سے اپنی حرکیات ٹھیک کرنی چاہئیں“ بات کمال کی ہے لیکن سننے اور پرکھنے کے لئے دل و دماغ کا ملاپ ضروری ہے جو ہمارے مقدر میں ٹہرا ناممکن۔ سرسری جائزہ بتاتا ہے کہ یہاں البتہ قوم کا وجود دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں، نسلیں ختم ہوئیں اور نجانے اور کتنی قربانیاں، پریشانیاں اور اضطراب کی گھڑیاں محرومیوں، بھوک اور پریشانیوں سے بھری آنکھوں کو نصیب ہوں گی۔

Read more

سہولت لے لو زندگی دے دو

شیراز کے شہریار کے ساتھ بیوی نے بے وفائی کی تو لگ گیا ظالم صنف نازک کی نسل کُشی میں۔ کابینہ کے وزراء حیران تھے کیونکہ سلطنت کا شیرازہ صنف نازک کے خاتمے کی شکل میں بکھررہا تھا۔ وجہ کیا تھی شہریار روز نئی نویلی دلہن لاتا اور صبح قتل کرکے ہاتھ صاف کردیتا۔ بادشاہ کا مشیرپریشان تھا اور پریشانی بجا تھی کیونکہ بادشاہ سلامت کے لئے روز نئی نویلی دلہن کا بندوبست اس کو مشکل میں ڈال رہا تھا۔ سلطنت کے مظلوم کندھے بیٹیوں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے تو ان کی بد دعاؤں نے مشیر کی بیٹی کے دل میں بادشاہ سے شادی کی آرزو جگائی۔ مشیر بے چارے نے خوب سمجھایا لیکن بیٹی دھن کی پکّی نکلی اور برابر ضد کرتی رہی۔ مجبوراً مشیر کو بادشاہ سے اپنی بیٹی کی شادی کرانی پڑی۔

Read more

”گیم چینجر“ ہی کا جنون کیوں؟

وہ کرکٹ کے میدانوں میں آسمان پر برستی بارشوں کے موسم میں چھائے بادل کی طرح رہا۔ دلوں پر راج کیا اور وہ بھی ایسا کہ وہ میدان جس کی وجہ سے اُس پر ہر وقت لوگوں کی طرف سے محبت کے پھول برسائے گئے، چھوڑنے کے بعد بھی دلوں میں ایسا قید ہے، جیسے روح میں مقیّد جان۔ وہ حرکت میں جب بھی آیا، دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوتی رہی۔ جب کرکٹر تھا تو پاکستان کے لئے دل و جان سے کھیلا اور جب کرکٹ چھوڑ دی تو فلاحی کاموں میں متحّرک نظر آیا۔ اس کے والد صاحب نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ”میرا بیٹا پیدائشی ہیرو ہے۔ یہ جہاں بھی جائے گا نام اور عزت کمائے گا۔“ اور پھر تاریخ نے بالکل اُسی طرح، جس طرح یہ ہمیشہ دیکھتا آیا ہے، دیکھا کہ نام اور عزت دونوں کما گیا۔

Read more

مضبوط معیشت انتہائی ضروری ہے

بائی پولر دنیا میں دو انتہائی مضبوط معاشی نظام تھے۔ سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام۔ ان دونوں نظاموں میں موجود ممالک کو عالمی دنیا میں طاقت کا سرچشمہ قرار دیا جاتا تھا۔ سویت یونین کے اختتام پر جب دنیا یونی پولر بن گئی تو دنیا کے کونے کونے میں سرمایہ دارانہ نظام نے جڑیں مضبوط کیں۔ اس سے صاف لگتا ہے کہ جن قوموں کی معیشت بام عروج پر ہو وہی قومیں دنیا پر راج کرتی ہیں۔ مذکورہ دونوں معاشی

Read more

کیا آئی ایم ایف سے امداد ہمارے مسائل حل کر سکتی ہے؟

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدوں کی تاریخ ساٹھ سال پر محیط ہے۔ 27 دسمبر 1945 ء کو آئی ایم ایف کی بنیاد رکھی گئی۔ آج اس کے ممبر ممالک کی تعداد 189 ہے۔ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ پہلا معاہدہ 1958 ء میں ہوا۔ اس وقت سے لے کر آج تک کل اکیس بار معاہدے ہوئے جن میں بارہ دفعہ سٹیں ڈ بائی ایڈجسمنٹ (ایس بی اے ) یا بیل آؤٹ پیکیج، پانچ دفعہ ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی ( ای ایف ایف) ایک دفعہ سٹرکچرل ایڈجسمنٹ فیسلٹی (ایس اے ایف ) اور تین دفعہ ایکسٹینڈڈ کریڈٹ فیسلٹی کے معاہدے ہیں۔

ان تمام معاہدوں کے دوران تیرہ مرتبہ پاکستان کو وہ رقم مہیا نہیں کی گئی جس پر معاہدے کے دوران آئی ایم ایف اور پاکستانی وفد متفق ہوئے۔ آپ حیران ہوں گے کہ ان اکیس معاہدوں میں چودہ 1980 ء کے بعد کے ہیں جس سے اندازہ یہی لگتا ہے کہ اسّی کی دہائی تک ہم آئی ایم ایف پر اتنا انحصار نہیں کرتے تھے جتنا اس کے بعد ہم نے کیا۔ پاکستان نے بحرانوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ پانچ دفعہ معاہدے ختم کیے جن میں ایک اسّی کی دہائی سے پہلے اور چار بعد کے ہیں۔ ان ٹرمینیٹڈ معاہدوں میں تین سٹینڈ بائی ایڈجسمنٹ کے معاہدے، ایک سٹرکچرل ایڈجسمنٹ فیسلٹی کا معاہدہ اور ایک ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلٹی کا معاہدہ ہے۔

Read more

بس نظام ہی پٹڑی سے اتر جاتا ہے

انتخابات کے دو دن بعد حکمران جماعت کے انتہائی اہم افراد اجلاس میں شریک تھے۔ سب خوش تھے کیونکہ اکیلے ان کی پارٹی نے نو پارٹیوں کو شکست دی تھی۔ وہ سب مسکراتے چہروں کے ساتھ پی ایم ہاؤس میں موجود بھٹو کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کب وہ کچھ بول کر خاموشی توڑ دیں۔ کچھ ہی لمحوں بعد بھٹو نے حفیظ پیرزادہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوکر خاموشی توڑ ہی دی ’ ”حفیظ کتنی سیٹوں پر گڑ بڑ ہوئی ہوگی“؟حفیظ پیرزادہ نے برجستہ جواب دیا ”سر تیس سے چالیس تک۔بھٹو نے یہ سنا تو وہاں موجود تمام افراد سے پوچھا۔ ”کیا پی این اے والوں سے بات نہیں ہوسکتی کہ وہ ان تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کردیں ہم ضمنی انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیں گے؟

Read more

کھیر کا شوقین بادشاہ

گئے وقتوں کی ایک کہانی ملاحظہ ہو!کہتے ہیں کہ ایک ملک کا بادشاہ چل بسا پھر کیا تھا بس بادشاہی کے لئے پورے ملک میں تماشا لگ گیا۔ عنان حکمرانی ہاتھ میں لینے کے بہت سے آرزومند قصر بادشاہی میں قدم رنجہ فرمانے کے لئے تگ ودو میں لگ گئے۔ اس تماشے نے جب لڑائی کا روپ دھار لیا تو و وہاں موجود اکابرین نے صلاح مشورے سے ایک سادہ سا حل نکالا جو یہ تھا کہ جو بھی کل صبح سویرے دارا الحکومت میں داخل ہوگا وہی ہمارا نیا بادشاہ ہوگا۔اگلے دن صبح سویرے اتفاقاً ایک فقیر لمبا چُغہ پہنے، ہاتھ میں کشکول تھامے اور بھیک کی صدائیں لگاتا شہر میں داخل ہوا۔ مکین سلطنت نے جب یہ صورتحال دیکھی تو حیران رہ گئے کیوں کہ سب سے پہلے فقیر ہی دارالحکومت میں داخل ہوا تھا اور اُصولاً فقیر ہی اب ان کا بادشاہ تھا۔ پریشان تو سب ہوئے لیکن مرتے کیا نہ کرتے فقیر ہی کو بادشاہ بنالیا۔ فقیر کی یُوں اچانک جب کایا پلٹ گئی تو وہ خوشی سے پُھولے نہیں سمایا اورانتہائی شان سے تخت پر براجمان ہوگیا۔

Read more

شاعروں کی دنیا

تصّور اور سوچ کی دنیا بہت خوب صورت ہوتی ہے۔ سوچ پر پابندی کا نہ ہونا ہماری سب سے بڑی خوش قسمتی ہے ورنہ اپنے وطن میں تو ہر طرٖف گھٹا ٹوپ اندھیروں میں لپٹی پابندیاں اور انجان ڈر ہی چھایا رہتا ہے۔ خوشیاں نایاب ہوچکی ہیں اوراب شاذونادر ہی دلوں میں بسیرا کرتی ہیں۔ خوشی ایک خوب صورت پرندے کی مانند ہوتی ہے جو جب اڑان بھرتی ہے تو پورے ماحول کو اپنی رنگینیوں میں گھیر لیتی ہے۔ یہ آج کل حقیقیت میں بہت نایاب ہوچکی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ شاعر حضرات ہر وقت اس کو خیالی دنیا میں کچھ ایسی فراوانیوں کے ساتھ بانٹتے رہتے ہیں کہ تصور میں ہی سہی لیکن ”تاریک راتوں میں جگنو کی روشنی کی مانند“ امید کی کرنیں پیدا ہو ہی جاتی ہے۔

Read more

میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا

وزیراعظم عمران خان گھوٹکی میں ایک اجتماع سے خطاب میں فرماتے ہیں کہ نواز اور زرداری جب تک قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں کریں گے تب تک میں انہیں نہیں چھوڑوں گا۔ اس سیاسی بیان کو سن کر ماضی کی چند تلخ یادیں نظروں کے سامنے آگئیں۔ ہم کچھ بھی کرلیں لیکن تاریخ کے حقائق مسخ نہیں کرسکتے۔ نوّے کے دہائی سے لے کر نواز شریف کی دوسری مرتبہ انتخاب تک ملک میں سیاستدانوں کی اقتدار تک رسائی کے لئے جو تاریخی زور آزمائی ہوئی اس کا نقصان آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔یہ ہمارا ایک قومی المیہ ہے کہ 88 ء سے لے کر 97 ء تک ملک میں چار مرتبہ انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں ملک کو فائدہ تو بالکل نہیں ہوا البتہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو باریاں ضرور بدلتے رہے۔ ان نو سالوں میں جو بنیادی چیز ہماری سیاست کا اہم جز بن گئی وہ سیاستدانوں کے مفادات سے بھری ہوئی سیاست اور عوام کو کیڑے مکوڑوں کی طرح روند ڈالنے کی عادت ہے۔ دنیائے سیاست کا یہ غلیظ جرم آج تک ہماری بنیادوں کو دھیمک کی طرح چھاٹ رہا ہے۔

Read more

آؤ سب مل کر تماش بین بن جائیں

آسمان پر اَبرِ کرم اور فضاؤں پر سرد ہواؤں کا قبضہ ماحول کو عجیب بنا رہا تھا۔ اندیشوں میں گرے انسانی دل ایسا محسوس کر رہے تھے جیسے کچھ ہی لمحوں بعد زور سے مینہ برسے گا اور پھر چاروں طرف بھاگم بھاگ ہی ہوگا۔ آج کا دن اُس کے لئے بہت ہی اہم تھا کیونکہ اِس دن کا اُس نے دس برس انتظار کیا تھا۔ اُس کی اپنی کیفیت اتنی عجیب تھی کہ اردگرد کے حالات اور فطرت کے تغّیرات سے وہ بالکل بے خبر تھا۔ کالی گھٹاؤں نے دن کے عین وسط میں گھٹاٹوپ اندھیرے چارسوں پھیلا دیے تھے۔ حساس دل وسوسوں میں خود کو ڈر اور گھبراہٹ سے بھرپور کسی انجانی انہونی سے خبردار کر رہے تھے لیکن ایک وہی تھا جو ارد گرد سے بے خبر کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔وہ آج ہی پاکستان پہنچ گیا تھا۔ ائیرپورٹ سے نکلتے ہی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوچکی تھیں۔ اس کے سامنے صرف اس کا گھر تھا اور گھر کے اندر دو انسانی جسموں میں مقّید اس کی رُوح۔

Read more

سیاستدانوں کو معاف کیجیے

آپ فیاض الحسن چوہان اور فیصل واڈا سے اختلاف رکھنے اور ان کو گنہگار ٹہرانے سے پہلے صرف ایک بار سیاستدانوں کی رویّوں کا سرسری مطالعہ کیجیئے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیئے کیا ہمارے سیاستدان ملک و قوم کی بقاء، ترقی اور مستقبل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں؟ ۔قائداعظم جب بیمار تھے اورزیارت میں بستر علالت پر تھے تو آخری دنوں میں بیماری کی تکلیف سے زیادہ اس کو پاکستان اور بالخصوص طور پر کشمیر کی فکر کھائی جارہی تھی۔ کرنل الہی بخش جو ان کے معالج تھے اپنی کتاب” with Quid e azam during his last days“ میں کافی تفصیل سے ان تلخ یادوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ بستر علالت پر بیماری سے زیادہ قوم کی فکر اس کے لئے وبال جان بنی ہوئی تھی۔ نوزائیدہ مملکت میں ایک صرف اس کی بہن اس کے سرہانے بیٹھی ہر وقت اس کی عیادت میں مصروف رہتی اور پھر جب اس کو کراچی لے جایا جارہا تھا تو عین سنسان سڑک پر وہ ایمبولینس کافی دیر تک کھڑی رہی جس میں قائد انتہائی گرمی کی وجہ سے خود کو حبس میں محسوس کر رہے تھے۔ انتہائی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس پوری کتاب میں کسی بھی جگہ پر سیاستدانوں کی آہیں، پریشانیاں اور قائد کے حوالے سے فکر موجود نہیں۔ کیا یہ حیرانی کی بات نہیں ملک کا بانی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو اور سیاستدان ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے میں مصروف ہوں۔

Read more

یہ جنگ ہم جیت گئے ہیں

ہندوستان عجیب انسانوں کی سرزمین ہے۔ آپ اندازہ لگالیں یہ خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہتے ہیں لیکن نکمے پَن میں ان سے زیادہ آگے پوری دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ باقی دنیا کے انسانوں کو ورطہ حیرت میں بڑی آسانی سے ڈال دیتے ہیں۔ آپ کو اگر ان کی کج فہمیوں اور غلط روشوں کا اندازہ لگانا ہو تو آپ کو ان کے تین بڑی قوتوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

ان کی سیاست اور عوام، ان کی فوج اور ان کی میڈیا۔ یہ دنیا کا واحد تکون ہے جہاں تکون کے کونوں کو ایک دوسرے کا بالکل پتہ نہیں۔ رابطوں کا شدید فقدان کی وجہ سے یہ جھولتا تکون کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ یہ وہ واحد تکون ہے جہاں تینوں کونوں پر موجود قوتیں ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا لطیفہ پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے رکھ دیتی ہے اور پوری دنیا ہنس ہنس کے پاگل ہوجاتی ہے۔

Read more

اصل جنگ اور اصل جیت

آپ تصّور کرلیں آپ ایک اچھی زندگی جی رہے ہیں ’آپ کے پاس نوکری بھی ہے، عزت بھی ہے، بیوی بچّے بھی ساتھ ہیں، بینک بیلنس بھی اور ایک اچھا گھر بھی۔ آپ اپنے علاقے کے ایک معتبر انسان ہیں لوگ آپ سے مشورہ لیتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو اپنے درمیان بٹھا کر اپنے مسائل کا ڈھونڈ لیتے ہیں۔ آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے اور آپ خوش ہیں لیکن ایسے میں آپ پر جنگ مسلّط کی جاتی ہے اور آپ کی خوشیوں کا، آپ کی عزت کا، آپ کی اپنی بنائی سلطنت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ آپ کے تمام اثاثے اور آپ کا گھر تباہ ہوجاتا ہے اور آپ اپنے علاقے سے نکل کر گھر سے دور کسی اور شہر میں خود کو اور اپنے اہل و عیال کو ایک نئی زندگی دینے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کیا ہوگا آپ خود سوچ لیجیے۔

Read more

ہمارا فردوس بریں

بحیرہ قزوین ایران میں واقع ہے یہ نام جب بھی تاریخ میں آپ کی نظروں سے گزرے گا وہاں ”قلعہ الموت“ کا ذکر ضرور ہوگا۔ یہ بحیرہ قزوین کے قریب ایک پہاڑی قلعہ تھا اور اس کی تاریخی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہی وہ قلعہ تھا جہاں سے ایک تاریخی فتنے کو مانیٹر کیا گیا اور اسی قلعے میں بیٹھ کر حسن بن صباح نے پوری دنیا میں ایسی تباہی اور اُودھم مچایا کہ انسانی عقل حیران رہ گئی۔ یہاں بیٹھ کر وہ ایک عجیب مراقبے میں پڑا رہتا ’لوگ یہ سمجھتے کہ یہ اس زمانے کا وہ پیر خاص ہے جس کی وجہ سے نجات ممکن ہے لیکن ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ پورا دن اپنا سر گھٹنوں میں دبائے یہ شخص ایک ایسے فتنے کی تیاریاں کررہا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا۔

Read more

محمد عاقل اپنی دنیا کا بادشاہ کیسے بنا؟

وہ زمین پر رینگتی چیونٹیوں کو دیکھ کر برابر بول رہا تھا اور اسی دوران کبھی کبھی جذباتی ہوکر اُس کے معصومیت سے بھرے رخساروں پر آنسو ایسے بہہ جاتے جیسے کسی برساتی نالے سے پانی کی غصیلے لہریں بہتی ہوں۔ وہ بول رہا تھا ”میں خود اپنے بارے میں وثوق سے کوئی رائے قائم نہیں کرسکتا کیونکہ میری فطرت بالکل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہتی ہے لیکن ایک بات ہے جس کی وجہ سے میں اللہ کا ہر

Read more

آپ اگر صحیح ہیں

ہم خوش قسمت لوگ ہیں اور اس کی بنیادی وجوہات ڈھونڈنے کے لئے ہمیں حضرت داؤدعلیہ السلام سے لے کر آج تک کی انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ ہم جب یہ مطالعہ کریں گے تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ جنگوں، وارداتوں ایک دوسرے پر حملوں، اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کی پالیسیوں سے نقصان انسانوں ہی کا ہوا ہے۔ اس تاریخ میں جب پیچھے کی طرف نظریں پڑ جاتی ہیں تو خون آلُود جسموں، بھاگتے اور ہنہناتے گھوڑوں، ٹوٹی پوٹی تلواروں، زہر آلُود تیروں اور گلے سڑے لاشوں کا ایک ڈھیر نظر آتا ہے۔ یہ جنگیں کیوں لڑی گئیں اور ان جنگوں کا آخری نتیجہ کتنا دیرپا رہا یہ طے کرنا مشکل بھی ہے اور ناممکن بھی لیکن ایک بات طے ہے کہ ان جنگوں میں زیادہ تر کا مقصد اقتدار کا حصول ہی رہا۔

Read more

پاکستان دیکھ رہا ہے

غلامی کا طوق ہے جس کی وجہ سے عشرے گزر گئے صرف خوبصورت دریچوں کے اُس پار آزادی کا نظارہ کیا جارہا ہے۔ سیاست کی مٹی محّب وطن سیاستدانوں کو جنم دینا بھول گئی ہے کیونکہ اس مٹی کی آبیاری بھی وہی کمزورہاتھ کر رہے ہیں جن کی زندگی میں صرف اپنی بقا ہی سب سے مقدم چیز ہوتی ہے۔ یہ کمزور ہاتھ خود تو کسی کام کے نہیں لیکن یہ اپنے ساتھ اُن مضبوط ہاتھوں کو بھی اپنی انا

Read more

امن و آشتی کا دور مبارک ہو

آخرکار پاکستان کی سرزمین پر امن و آشتی کا دور شروع ہوا۔ ہمیں داد دینی پڑے گی پنجاب پولیس کو جو عالمی دنیا کو مطلوب سب سے بڑے دہشت گرد کو گولیوں سے بھوند دیا۔ ہم نے روز ازل سے پاکستان کے ان دلیر سپوتوں کو داد دی ہے کیونکہ یہی سپوت پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے قریب رہتے ہیں اور ان ہی کی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔ ان جانبازوں کو دیکھ کر تاریخ میں

Read more

تبدیلی اور ریاست مدینہ

ریاست مدینہ کی تشکیل میں سب سے اہم کردار جُہد مسلسل اور خود احتسابی کا رہا۔ آپ اگر اس جُہد مسلسل اور خود احتسابی کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو رسول اکرم ﷺ کی مکّی اور مدنی زندگی کا مطالعہ کیجیئے۔ آپ جب یہ مطالعہ کریں گے تو آپ کو سب سے اہم ایک ہی سبق ملے گا کہ اس ریاست کی تشکیل میں کوئی غلام اور آقا نہ رہا تھا بلکہ سب ایک مسلمان بن کر ایک ہی مرکز

Read more

ہم جو رُوبہ زوال ہیں

آپ مسلمانوں کے زوال کا رونا رونے سے پہلے انقلاب ثور کے بعد کا ایک معمولی سا واقعہ جب رُوسی بربریت کا آغاز ہوچکا تھا ملاحظہ کیجیئے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیئے کہ ہم ”جو رُوبہ زوال ہیں“ کیا اپنی غلطیوں کی وجہ سے نہیں ہیں؟

شہر کابل ایک ویران اور لٹے پٹے شہر کا منظر کچھ اس انداز سے پیش کر رہا تھا گویا یہ اَصفہان یا انقرہ ہو اور ابھی ابھی امیر تیمُور کے جانور نُما سپاہی سب کچھ تاراج کرکے جاچکے ہوں۔ کُہر اور ویرانی کے اس ملاپ میں چہار سو ڈر کے سائے پھیل چکے تھے۔

ڈر تھا تو صرف موت کا اور گھبراہٹ تھی تو صرف زندگی کے کھوجانے کی لیکن اس کے باوجود ایک ٹیکسی ڈرائیور چار سواریوں کے ساتھ منزل کی جانب عازم سفر تھا۔ کچھ دیر سفر کے بعد دُور اُس کو رُوسی فوج کا ایک قافلہ ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سمیت نظر آیا۔ اس ڈر سے کہ کہیں اشتراکیت کی گود میں پلنے والے یہ بے لگام اور ظالم فوجی ان کو روند نہ ڈالے اُس نے اپنی ٹیکسی ایک سائیڈ پر کھڑی کردی تاکہ فوجی قافلہ گزر جائے لیکن اُس کی یہ غلط فہمی جان لیوا ثابت ہوگی اُس کو بالکل پتہ نہ تھا۔

Read more

اسے بھی ڈاکٹر بننا پڑے گا

یہ اِسی دسمبر کی ایک سرد رات تھی۔ میں پشاور کی یخ بستہ ہواؤں میں باہر ٹہل اور ٹھٹھر رہا تھا جب اچانک میرے فون کی گھنٹی بجی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف ایک معصوم اور انجان سی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ میں نے نام پوچھا تو جواب آیا آپ کو نام سے کیا لینا دینا بس مجھے سنیے اور سننے کے بعد مجھے راہ دکھانے میں میری مدد کیجیے۔
میں بادل ناخواستہ سڑک کے کنارے ایک عام سے کینٹین کے چبوترے پر بیٹھ گیا اور وہ بولنے لگا۔

” میں نے ایف ایس سی کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا ہے اور اللہ کا شُکر ہے میں جب خود اپنے آپ پر سوچتا ہوں تو اندر سے یہ آواز محسوس کرتا ہوں کہ میں بہت کچھ کرسکتا ہوں اور مجھ میں بہت زیادہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ زندگی میں کچھ ایسا کروں کہ میرے والدین، رشتہ دار اساتذہ اور سب جاننے والے مجھ پر فخر کریں۔ میں نے اس کم عمر میں بہت ساری ایسی چیزیں دیکھی اور محسوس کی ہیں جن کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لئے کبھی کبھی عمریں تک بیت جاتی ہیں۔ مجھے خود یہ پتا نہیں کہ کہاں سے اور کب میرے اندر بڑا بننے کی یہ چنگاری سُلگ اٹھی اور کس ماحول سے میں نے یہ بات سیکھ کر پ

Read more

دسمبر ایسا نہیں ہے

ہم لاکھ چاہیں لیکن تاریخ کے اُن تلخ واقعات سے جان نہیں چھڑاسکتے جنہوں نے ہماری پاک دامنی اور عظمت کو تار تار کیا ہے۔ آپ ذرا سوچ لیں اور خود سے ایک سوال پوچھیں۔ ”غلطیاں جب ریاست کی سطح پر ہوں اور جن کی وجہ سے ایک پوری اجتماعیت پر سوالیہ نشان لگ جائے تو کیا اُن کو تسلیم کرنا اور پھر اُن کا سدباب کرنا ارباب اختیار کی ذمہ داری نہیں ہوتی؟

آپ قدرت اللہ شہاب کی شاہکار ”شہاب نامہ“ پڑھیں گے تو میری طرح آپ کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے کہ کس طرح اس ملک کی تاریخ کا آغاز ہوا۔ آپ ایک انگریز مصنف لارنس زائرنگ کی کتاب ”پاکستان ان دی ٹوینٹیتھ سینچری“ کو بھی جب پڑھیں گے تو آپ واقعات کے سیل رواں میں بہہ جائیں گے اور حیران بھی رہ جائیں گے کہ کس طرح ایک نوزائیدہ ریاست کی بقاء کو داؤ پر لگا دیا گیا۔

Read more

داد کا تو حق بنتا ہے

منظر کیا تھا بس چہارسو ادائے دلبرانہ، حسن، پاکیزگی اور عظمت کی آمیزش تھی۔ میں اس منظر کو اگر صرف خوب صورت کہوں تو شاید خود کو کبھی معاف نہ کر پاؤں یا اگر آپ اس کو صرف خوب صورت کہیں گے تو لازمی بات ہے میں آپ کو مورود الزام ٹھہراؤں گا۔ خوب صورت منظر کا سن کر اگرآپ کے ذہن میں اونچے اونچے برفیلے پہاڑ، بہتے دریاؤں کے اُوپر سفید بادلوں کی مسحور کن حرکت، سرسبز وادیاں، جنگلوں

Read more

مجھے یہ ملک اور ملت چاہیے

عمران خان بائیس سالہ جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کے سب سے اہم ترین عہدے پر براجمان ہوچکے ہیں۔ اس کی کامیابی کی پیچھے تین انتہائی اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ”پاکستان کے محروم طبقے کے غریب پاکستانی ہیں جنہوں نے عمران خان کو ایک مسیحا کے طور پر اس ملک کا نجات دہندہ سمجھا اور دل کھول کر ہر اس امیدوار کو ووٹ دیے جس کے پوسٹر پر عمران خان کی تصویر تھی۔ اس پوسٹر پر سے اگر خان کی تصویر ہٹا دی جاتی تو میرا نہیں خیال کہ پاکستان تحریک انصاف ایک ضلع بھی جیت پاتی۔

اس محروم طبقے نے ہمیشہ ایک لیڈر کا انتظار کیا لیکن ستر سال سے یہ اس طبقے کی خوش فہمی ہی رہی کہ پاکستان میں کوئی ایسا بھی ہوسکتا ہے جو ایک نوالے کے لئے جان کی بازی لگانے والوں کے لئے سوچ بھی سکتا ہے لیکن ایسے میں عمران خان آیا اور کرپشن، اقرباء پروری، غربت اور لاچاری کے خلاف ڈٹ گیا اور پاکستان کے مایوس طبقوں میں امید کی ایک نئی لہر زندگی بن کر دوڑ گئی۔ دوسری وجہ، عمران خان خود ہیں۔ عمران خان ایک کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں یہ زندگی میں جہاں بھی گئے پاکستان کے لئے عزت کمائی۔

Read more

ہمیں عمران خان کو تسلیم کرنا ہوگا ۔۔۔

ہم جو کہتے ہیں جو کرتے ہیں ان سب کا پاکستان پر یا تو اچھا اثر پڑ رہا ہے اور یا برا۔ یہ ساری باتیں اور حقائق من و عن تسلیم کرنے کے بعد ہمارا ذی شعور طبقہ اور میڈیا پاکستان کے غریب اور مفلوک الحال طبقے کو کبھی بھی یہ نہیں بتاتا کہ خان صاحب پاکستان کے تاریخ کے وہ واحد وزیر اعظم ہیں جو خود پاکستان کے فطین اینکرز کو بلا کر کھلی چوٹ دے دیتے ہیں کہ بٹھاؤ مجھے میرے پاکستانیوں کے سامنے اور جو آپ نے پوچھنا ہے کھل کر پوچھ لو۔ کیا یہ سارا کریڈٹ خان صاحب کو نہیں جاتا کہ خان صاحب خود میڈیا کے سامنے ببانگ دہل اپنی غلطیاں تسلیم کرلیتے ہیں اور آگے سے ایسا نہیں ہوگا کہہ کر معذرت بھی کرلیتے ہیں۔

کیا ہم نے پہلے کبھی کسی حکمران کو پورے ملک کے سامنے کوئی غلطی تسلیم کرتے سنا ہے؟ وہ خود مانتے ہیں کہ مجھے ڈالر کی اڑان کا پتہ ٹی وی سے چلا اور اسی وجہ سے ہوا کہ ہم اوراداروں کی طرح سٹیٹ بنک کو با اختیاربنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سامنے بیٹھا اینکر اس کو کہتا ہے کہ نہیں خان صاحب سٹیٹ بنک اتنا اٹانومس نہیں ہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں اور حکمران وقت کہتا ہے جی بالکل آپ کی بات ٹھیک ہے آگے سے ایسا نہیں ہوگا۔ کیا ہمیں یہاں پر خان صاحب کو یہ کریڈٹ نہیں دینی چاہیے کہ خان صاحب غلطیاں کرتے ہیں کہ غلطیاں انسانوں ہی سے ہوتی ہیں اور پھر ان غلطیوں کو مان بھی لیتے ہیں۔ کیا اس سے پہلے کسی وزیراعظم نے سو دنوں ملک کی میڈیا اور عوام کو اعتماد میں لیا ہے؟

Read more

فانوس گجر زندہ ہے

ہم لوگوں کا ایک بڑا المیہ ملاحظہ ہو۔

ہم زندگی میں کبھی بھی زندہ لوگوں کو وہ مقام نہیں دیتے جو ان کا فطرتی حق ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے اگر کوئی آسمان سے تارے بھی توڑ کر لائے اور ہماری بہتری کے لئے خود اپنے اوپر بہت سارے ظلم کرکے جینا بھی چھوڑ دے لیکن ہم اس کی زندگی میں اس کی شخصیت کو وہ عزت نہیں دیتے جو دینی چاہیے لیکن جب اس کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں تو پھر ہم اس کی یاد میں زمین و آسمان کی قلابیں ملا دیتے ہیں۔

اب جیسا کہ فانوس گجر تھا۔ مرحوم نے زندگی کا ایک بڑا حصہ عوامی خدمت میں گزارا۔ دن رات محنت کی اور زندگی کی سختیوں کی کبھی بھی پرواہ نہیں کی۔ ایک منکسرالمزاج شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے کبھی بھی خود اپنی بقاء کا نہیں سوچا۔ غربت کی چادر اوڑھے ان کو دوسرے سیاستدانوں کی طرح کبھی بھی کسی اضافی پروٹوکول کی پرواہ نہیں رہی۔ پورے پاکستان میں اس کی اپنی ایک پہچان تھی لیکن لائف سٹائل وہی تھا جو اس خطے کے غریب انسان کا ہے۔

Read more

سونے کا سکہ اور حقیقی خوشی

آپ اگر زندگی کے نشیب و فراز میں حوصلہ ہار چکے ہیں، آپ اگر خود کو صبح شام کوستے رہتے ہیں اور آپ اگر بیٹھے بٹھائے زندگی کے بارے میں ایک عجیب و غریب فلسفے پر کچھ اس انداز سے بولنا اور سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ جس سے لمحے بھر کی مایوسی زندگی بھر کے لئے ایک روگ بن جاتی ہے۔ آپ اگر دوسروں سے توقعات وابستہ کرکے اپنی حقیقی زندگی کی حقیقی خوشی بھول جاتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے جینا چھوڑ دیا ہے اور آپ کو یقیناً علاج کے ساتھ ساتھ میرے ایک دوست کی کہانی سننے کی اشد ضرورت ہے۔ میرا یہ دوست ایم بی اے کی ڈگری حاصل کرچکا ہے اور آج کل سرکاری ٹھیکوں میں مصروف فکر معاش سے آزادی حاصل کرنے کے در پر ہے۔

Read more

پاکستان دیکھ رہا ہے

غلامی کا طوق ہے جس کی وجہ سے عشرے گزر گئے صرف خوبصورت دریچوں کے اُس پار آزادی کا نظارہ کیا جارہا ہے۔ سیاست کی مٹی محّب وطن سیاستدانوں کو جنم دینا بھول گئی ہے کیونکہ اس مٹی کی آبیاری بھی وہی کمزورہاتھ کررہے ہیں جن کی زندگی میں صرف اپنی بقاء ہی سب سے مقدم چیز ہوتی ہے۔ یہ کمزورہاتھ خود تو کسی کام کے نہیں لیکن یہ اپنے ساتھ اُن مضبوط ہاتھوں کو بھی اپنی اناء اور ضد

Read more

دس روپے کی چائے

یہ ہسپتال کی کینٹین تھی جس میں مریضوں کے ساتھ آئے ہوئے لوگ بھوک مٹانے کی خاطر جوق در جوق آرہے تھے۔ کینٹین کے مالکان ہشاش بشاش نظر آرہے تھے کیونکہ جتنے مریضوں کی تعداد بڑھتی ہے ان کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں اور یہ کوئی عام ہسپتال نہ تھا بلکہ صوبے کا سب سے بہترین ہسپتال حیات آباد میڈیکل کمپلیکس تھا جس میں بھوک اور پیاس کے ستائے ہوئے لوگ دھکم پیل میں مصروف تھے۔ میں بھی اپنے عبدالرحمن

Read more