آپ مسلمانوں کے زوال کا رونا رونے سے پہلے انقلاب ثور کے بعد کا ایک معمولی سا واقعہ جب رُوسی بربریت کا آغاز ہوچکا تھا ملاحظہ کیجیئے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیئے کہ ہم ”جو رُوبہ زوال ہیں“ کیا اپنی غلطیوں کی وجہ سے نہیں ہیں؟
شہر کابل ایک ویران اور لٹے پٹے شہر کا منظر کچھ اس انداز سے پیش کر رہا تھا گویا یہ اَصفہان یا انقرہ ہو اور ابھی ابھی امیر تیمُور کے جانور نُما سپاہی سب کچھ تاراج کرکے جاچکے ہوں۔ کُہر اور ویرانی کے اس ملاپ میں چہار سو ڈر کے سائے پھیل چکے تھے۔
ڈر تھا تو صرف موت کا اور گھبراہٹ تھی تو صرف زندگی کے کھوجانے کی لیکن اس کے باوجود ایک ٹیکسی ڈرائیور چار سواریوں کے ساتھ منزل کی جانب عازم سفر تھا۔ کچھ دیر سفر کے بعد دُور اُس کو رُوسی فوج کا ایک قافلہ ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں سمیت نظر آیا۔ اس ڈر سے کہ کہیں اشتراکیت کی گود میں پلنے والے یہ بے لگام اور ظالم فوجی ان کو روند نہ ڈالے اُس نے اپنی ٹیکسی ایک سائیڈ پر کھڑی کردی تاکہ فوجی قافلہ گزر جائے لیکن اُس کی یہ غلط فہمی جان لیوا ثابت ہوگی اُس کو بالکل پتہ نہ تھا۔
Read more