آؤ سب مل کر تماش بین بن جائیں

آسمان پر اَبرِ کرم اور فضاؤں پر سرد ہواؤں کا قبضہ ماحول کو عجیب بنا رہا تھا۔ اندیشوں میں گرے انسانی دل ایسا محسوس کر رہے تھے جیسے کچھ ہی لمحوں بعد زور سے مینہ برسے گا اور پھر چاروں طرف بھاگم بھاگ ہی ہوگا۔ آج کا دن اُس کے لئے بہت ہی اہم تھا کیونکہ اِس دن کا اُس نے دس برس انتظار کیا تھا۔ اُس کی اپنی کیفیت اتنی عجیب تھی کہ اردگرد کے حالات اور فطرت کے تغّیرات سے وہ بالکل بے خبر تھا۔ کالی گھٹاؤں نے دن کے عین وسط میں گھٹاٹوپ اندھیرے چارسوں پھیلا دیے تھے۔ حساس دل وسوسوں میں خود کو ڈر اور گھبراہٹ سے بھرپور کسی انجانی انہونی سے خبردار کر رہے تھے لیکن ایک وہی تھا جو ارد گرد سے بے خبر کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔وہ آج ہی پاکستان پہنچ گیا تھا۔ ائیرپورٹ سے نکلتے ہی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوچکی تھیں۔ اس کے سامنے صرف اس کا گھر تھا اور گھر کے اندر دو انسانی جسموں میں مقّید اس کی رُوح۔

Read more

سیاستدانوں کو معاف کیجیے

آپ فیاض الحسن چوہان اور فیصل واڈا سے اختلاف رکھنے اور ان کو گنہگار ٹہرانے سے پہلے صرف ایک بار سیاستدانوں کی رویّوں کا سرسری مطالعہ کیجیئے اور پھر دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجیئے کیا ہمارے سیاستدان ملک و قوم کی بقاء، ترقی اور مستقبل کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں؟ ۔قائداعظم جب بیمار تھے اورزیارت میں بستر علالت پر تھے تو آخری دنوں میں بیماری کی تکلیف سے زیادہ اس کو پاکستان اور بالخصوص طور پر کشمیر کی فکر کھائی جارہی تھی۔ کرنل الہی بخش جو ان کے معالج تھے اپنی کتاب” with Quid e azam during his last days“ میں کافی تفصیل سے ان تلخ یادوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ بستر علالت پر بیماری سے زیادہ قوم کی فکر اس کے لئے وبال جان بنی ہوئی تھی۔ نوزائیدہ مملکت میں ایک صرف اس کی بہن اس کے سرہانے بیٹھی ہر وقت اس کی عیادت میں مصروف رہتی اور پھر جب اس کو کراچی لے جایا جارہا تھا تو عین سنسان سڑک پر وہ ایمبولینس کافی دیر تک کھڑی رہی جس میں قائد انتہائی گرمی کی وجہ سے خود کو حبس میں محسوس کر رہے تھے۔ انتہائی حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس پوری کتاب میں کسی بھی جگہ پر سیاستدانوں کی آہیں، پریشانیاں اور قائد کے حوالے سے فکر موجود نہیں۔ کیا یہ حیرانی کی بات نہیں ملک کا بانی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو اور سیاستدان ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے میں مصروف ہوں۔

Read more

یہ جنگ ہم جیت گئے ہیں

ہندوستان عجیب انسانوں کی سرزمین ہے۔ آپ اندازہ لگالیں یہ خود کو دنیا کی بڑی جمہوریت کہتے ہیں لیکن نکمے پَن میں ان سے زیادہ آگے پوری دنیا میں کوئی نہیں۔ یہ باقی دنیا کے انسانوں کو ورطہ حیرت میں بڑی آسانی سے ڈال دیتے ہیں۔ آپ کو اگر ان کی کج فہمیوں اور غلط روشوں کا اندازہ لگانا ہو تو آپ کو ان کے تین بڑی قوتوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

ان کی سیاست اور عوام، ان کی فوج اور ان کی میڈیا۔ یہ دنیا کا واحد تکون ہے جہاں تکون کے کونوں کو ایک دوسرے کا بالکل پتہ نہیں۔ رابطوں کا شدید فقدان کی وجہ سے یہ جھولتا تکون کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ یہ وہ واحد تکون ہے جہاں تینوں کونوں پر موجود قوتیں ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا لطیفہ پوری دنیا کے انسانوں کے سامنے رکھ دیتی ہے اور پوری دنیا ہنس ہنس کے پاگل ہوجاتی ہے۔

Read more

اصل جنگ اور اصل جیت

آپ تصّور کرلیں آپ ایک اچھی زندگی جی رہے ہیں ’آپ کے پاس نوکری بھی ہے، عزت بھی ہے، بیوی بچّے بھی ساتھ ہیں، بینک بیلنس بھی اور ایک اچھا گھر بھی۔ آپ اپنے علاقے کے ایک معتبر انسان ہیں لوگ آپ سے مشورہ لیتے ہیں اور زندگی کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو اپنے درمیان بٹھا کر اپنے مسائل کا ڈھونڈ لیتے ہیں۔ آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ ہے اور آپ خوش ہیں لیکن ایسے میں آپ پر جنگ مسلّط کی جاتی ہے اور آپ کی خوشیوں کا، آپ کی عزت کا، آپ کی اپنی بنائی سلطنت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔ آپ کے تمام اثاثے اور آپ کا گھر تباہ ہوجاتا ہے اور آپ اپنے علاقے سے نکل کر گھر سے دور کسی اور شہر میں خود کو اور اپنے اہل و عیال کو ایک نئی زندگی دینے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں کیا ہوگا آپ خود سوچ لیجیے۔

Read more

ہمارا فردوس بریں

بحیرہ قزوین ایران میں واقع ہے یہ نام جب بھی تاریخ میں آپ کی نظروں سے گزرے گا وہاں ”قلعہ الموت“ کا ذکر ضرور ہوگا۔ یہ بحیرہ قزوین کے قریب ایک پہاڑی قلعہ تھا اور اس کی تاریخی اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ یہی وہ قلعہ تھا جہاں سے ایک تاریخی فتنے کو مانیٹر کیا گیا اور اسی قلعے میں بیٹھ کر حسن بن صباح نے پوری دنیا میں ایسی تباہی اور اُودھم مچایا کہ انسانی عقل حیران رہ گئی۔ یہاں بیٹھ کر وہ ایک عجیب مراقبے میں پڑا رہتا ’لوگ یہ سمجھتے کہ یہ اس زمانے کا وہ پیر خاص ہے جس کی وجہ سے نجات ممکن ہے لیکن ان کو یہ پتہ نہیں تھا کہ پورا دن اپنا سر گھٹنوں میں دبائے یہ شخص ایک ایسے فتنے کی تیاریاں کررہا ہے جس کا کوئی اندازہ نہیں لگاسکتا۔

Read more

محمد عاقل اپنی دنیا کا بادشاہ کیسے بنا؟

وہ زمین پر رینگتی چیونٹیوں کو دیکھ کر برابر بول رہا تھا اور اسی دوران کبھی کبھی جذباتی ہوکر اُس کے معصومیت سے بھرے رخساروں پر آنسو ایسے بہہ جاتے جیسے کسی برساتی نالے سے پانی کی غصیلے لہریں بہتی ہوں۔ وہ بول رہا تھا ”میں خود اپنے بارے میں وثوق سے کوئی رائے قائم…

Read more

آپ اگر صحیح ہیں

ہم خوش قسمت لوگ ہیں اور اس کی بنیادی وجوہات ڈھونڈنے کے لئے ہمیں حضرت داؤدعلیہ السلام سے لے کر آج تک کی انسانی تاریخ کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ ہم جب یہ مطالعہ کریں گے تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ جنگوں، وارداتوں ایک دوسرے پر حملوں، اور ایک دوسرے کو زیر کرنے کی پالیسیوں سے نقصان انسانوں ہی کا ہوا ہے۔ اس تاریخ میں جب پیچھے کی طرف نظریں پڑ جاتی ہیں تو خون آلُود جسموں، بھاگتے اور ہنہناتے گھوڑوں، ٹوٹی پوٹی تلواروں، زہر آلُود تیروں اور گلے سڑے لاشوں کا ایک ڈھیر نظر آتا ہے۔ یہ جنگیں کیوں لڑی گئیں اور ان جنگوں کا آخری نتیجہ کتنا دیرپا رہا یہ طے کرنا مشکل بھی ہے اور ناممکن بھی لیکن ایک بات طے ہے کہ ان جنگوں میں زیادہ تر کا مقصد اقتدار کا حصول ہی رہا۔

Read more

پاکستان دیکھ رہا ہے

غلامی کا طوق ہے جس کی وجہ سے عشرے گزر گئے صرف خوبصورت دریچوں کے اُس پار آزادی کا نظارہ کیا جارہا ہے۔ سیاست کی مٹی محّب وطن سیاستدانوں کو جنم دینا بھول گئی ہے کیونکہ اس مٹی کی آبیاری بھی وہی کمزورہاتھ کر رہے ہیں جن کی زندگی میں صرف اپنی بقا ہی سب…

Read more

امن و آشتی کا دور مبارک ہو

آخرکار پاکستان کی سرزمین پر امن و آشتی کا دور شروع ہوا۔ ہمیں داد دینی پڑے گی پنجاب پولیس کو جو عالمی دنیا کو مطلوب سب سے بڑے دہشت گرد کو گولیوں سے بھوند دیا۔ ہم نے روز ازل سے پاکستان کے ان دلیر سپوتوں کو داد دی ہے کیونکہ یہی سپوت پاکستان کے ازلی…

Read more

تبدیلی اور ریاست مدینہ

ریاست مدینہ کی تشکیل میں سب سے اہم کردار جُہد مسلسل اور خود احتسابی کا رہا۔ آپ اگر اس جُہد مسلسل اور خود احتسابی کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو رسول اکرم ﷺ کی مکّی اور مدنی زندگی کا مطالعہ کیجیئے۔ آپ جب یہ مطالعہ کریں گے تو آپ کو سب سے اہم ایک ہی…

Read more