پسنی کے عظیم سماجی کارکن میر بجار بلوچ کی رحلت
موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ اس دنیا میں موجود ہر انسان اور ہر ذی روح نے ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں کب کہاں کس حالت میں ساتھ چھوڑ جائے۔ اگر آپ نے اپنی زندگی میں مخلوق ئے خدا سے اچھا برتاؤ کیا ہے، تو یقیناً انتقال کے بعد لوگ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں گے۔ اور وہی انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ گزشتہ دنوں ضلع گوادر پسنی کے معروف شخصیت اور سابق کونسلر بابائے پسنی میر بجار بلوچ کے ناگہانی انتقال کا سن کر مجھے نہ صرف دلی رنج وغم ہوا بلکہمیں سوچ رہا ہوں، کہ اب کون شخص بلا معاوضہ اور بغیر کسی مفاد کے غریب مچھیروں کا زبان بنے گا۔
میں میر بجار بلوچ کو گزشتہ پندرہ سالوں سے جانتا ہوں، مرحوم نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک پسنی کے شہریوں اور ماہی گیروں کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہے۔ شہری حقوق کے لئے لڑتا رہا۔ میر بجار بلوچ واحد سماجی کارکن تھا جسے کسی چیز کا غرض نہیں تھا وہ ہمیشہ مخلصانہ انداز میں شہری مسائل کو سرکاری حکام کے سامنے لاتے رہے۔ وہ ہمیشہ سرکاری دفاتر میں عوامی مسائل پر بولتا نظر آتے تھے۔ حالانکہ آج کل سماجی تنظیموں اور یونین کی کوئی کمی نہیں ہے۔
مگر یہ تنظیمیں اور ماہی گیر نمائندہ تنظمیں وہ کام نہیں کرپائے، جو کہ میر بجار بلوچ بحیثیت ایک فرد کرتے رہے۔ مرحوم اپنے اندر ایک سماجی بہبود کا ادارہ تھا، بلوچستان سے شائع ہونے والے اکثر اخبارات میں مرحوم میر بجار بلوچ کے بیان، پریس ریلیز نمایاں جگہوں میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرتے تھے۔ اخبارات آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں کبھی بھی میر بجار بلوچ نے دباؤ میں آکر کسی بیان، پریس ریلیز کی تردید نہیں کرتے۔
وہ ہمیشہ اپنے اخباری بیانات خود لکھ کر لاتے تھے۔ ایسے لوگ ہمیشہ یاد آئیں گے اور ان کا نام لیا جائے گا۔ وہ زندگی بھر مسائل سے لڑتا رہا۔ ایسے بے غرض انسان لوگوں کی زندگی، آنے والی نسلوں کے لئے تحریک کا کام کرتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے ہم اپنے بے لوث خدمت خلق کرنے والے لوگوں کی قدر نہیں جانتے۔ مرحوم میر بجار بلوچ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں تک کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ عوامی مسئلہ پر ہمیشہ بولتے اور لکھتے تھے۔
ان کا اپنا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، زندگی کے آخری ایام دسمبر کی سرد راتیں عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئٹہ میں گزرے۔ 15 دسمبر اتوار کو کوئٹہ اچانک ان کی موت واقعہ ہوئی اور 16 دسمبر کو پسنی کے مقامی قبرستان میں ان کی تدفین ہوئی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ ۔ لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مرجاتے ہیں۔



