ایمرجنسی پلس سے ڈی چوک پھانسی گھاٹ تک
جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج پوری آب وتاب کے ساتھ کئی سالوں سے چمک رہا تھا۔ مشرف کے زیر سایہ پہلی اسمبلی اپنی مدت پوری کرنے جارہی تھی اور اس کے بعد دوبارہ انتخابات کے دن قریب آرہے تھے۔ بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ دوسرے عام انتخابات میں اُن سیاسی جماعتوں کو کامیابی ہوگی جن کو پرویز مشرف کی آشیر باد حاصل ہوگی۔ حالات بظاہر نارمل انداز میں چل رہے تھے عدالتیں آزاد ہوچکی تھیں اور کافی فعال کردار ادا کررہی تھیں۔
ان دنوں جنرل مشرف کے دو عہدوں سے متعلق ایک آئینی درخواست عدلیہ میں زیر سماعت تھی۔ سماعت کے دوران عدلیہ کے رحجان کا اندازہ ہورہا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف زیادہ دیر تک بطور صدر فرائض سرانجام نہیں دے سکیں گے اور ان کا صدارت کے منصب پر رہنا ایک غیرآئینی اقدام ہوگا۔ عدالتی کارروائی کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرف کے وکیلوں شریف الدین پیرزادہ اور قیوم ملک نے جنرل مشرف کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا مشورہ دیا۔
مشرف اس ایمرجنسی کے نفاذسے متعلق مشاورت کررہے تھے کہ امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزارائس کو پاکستان میں متعین امریکی سفیر این پیٹرسن نے اطلاع دی کہ جنرل مشرف ایمرجنسی لگانے جارہے ہیں تو کونڈولیزارائس اپنی کتاب (No Higher Honour) میں لکھتی ہیں کہ میں نے رات کے دو بجے صدر جنرل پرویز مشرف سے بات کی اور کہا ”مسٹر پریذیڈنٹ پتہ چلا ہے کہ آپ کوئی بہت مشکل فیصلہ کرنے والے ہیں“۔ ”you have a difficult decision before you۔
” صدر پاکستان نے کہا ایک“ ایمرجنسی ”کا نافذ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے لیکن میں انتخابات بروقت ہی کرادوں گا۔ ایمرجنسی ملک کو محفوظ کرنے کے لئے عارضی طور پرلگانا پڑ رہی ہے۔ وغیرہ۔ میں نے پرویز مشرف کی تمام گفتگو سننے کے بعد ان سے صاف کہہ دیا کہ“ صدر صاحب آپ اپنا اعتماد اور اعتبار مکمل کھوجائیں گے۔ ”you will have no credibility“ اور شاید آپ دوبارہ صدر کا انتخاب بھی نہ لڑسکیں غرض یہ کہ جو دلیل بھی اس قدم کو روکنے کے لیے ممکن تھی وہ میں نے ان کو دے ڈالی ”۔
تاہم صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی پلس نافذ کردی۔ ستم یہ کہ اسوقت کی قومی اسمبلی نے چار دن بعد 7 نومبر 2007 کو ایک قرارداد منظور کرکے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کردی۔ اب اس ایمرجنسی سے متعلق ایک آئینی سقم تھا اور وہ یہ کہ آئینی طورپر ایمرجنسی کا نفاز صدر مملکت کرتے ہیں اور اس سے آئین معطل نہیں ہوتا اور ایمرجنسی آئین کے تحت تابع رہتی ہے مگر یہ ایمرجنسی چیف آف آرمی سٹاف نے لگائی تھی اوردلچسپ امر یہ ہے کہ ایمرجنسی چیف آف آرمی سٹاف نے نافذ کی اور ایمرجنسی اٹھانے کا اختیار صدر مملکت کو سونپ دیا جبکہ صدر مملکت بھی وہ خود تھے۔
اس ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آئین معطل ہوگیا جس کی بنا پرچیف جسٹس افتخار چوہدری اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے تمام ججز صاحبان کو گھروں میں نظربند کردیا۔ ججز صاحبان کو مجبور کیا گیا کہ وہ پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں اور متعدد ججز نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔ بعد ازاں اس مسئلے پر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی وکلا تحریک شروع ہوئی۔ یہ تھا جنرل پرویز مشرف کی نافذکردہ ایمرجنسی کا پس منظر اور مختصر واقعات تاکہ قارئین کو معلوم ہوسکے کہ ایمرجنسی لگانے کی وجوہات کیا تھیں۔
2013 ء کے عام انتخابات کے بعد ملک میں ن لیگ کی حکومت قائم ہوئی اور میاں نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ اسوقت کے وزیراعظم نواز شریف نے جون 2013 میں ایمرجنسی سے متعلق انکوائری کے لئے وزارت داخلہ کو خط لکھا۔ وزارت داخلہ نے اس کی تحقیقات کے لیے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کی ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور اس ٹیم نے تحقیقات کے بعد اسی سال نومبر میں ایک رپورٹ جمع کرائی۔ اس رپورٹ پر لاء ڈویژن سے مشاورت کے بعد سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کومتعدد بار معطل کرنے کی شکایت درج کرائی گئی۔
یاد رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین کو توڑنا اور اس کام میں مدد کرنا ریاست سے ’سنگین بغاوت‘ کا جرم ہے جس کی سزا پھانسی ہے۔ اس کیس کی سماعت کے لیے 20 نومبر 2013 ء کو خصوصی عدالت قائم کی گئی۔ اس خصوصی عدالت کی متعدد بار تشکیل نو کی گئی اور ہر بار ججز بدلتے رہے۔ اس کیس کو موجودہ تین ججز کے علاوہ سات ججز نے سنا جن میں جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس طاہر صفدر بھی شامل رہے ہیں۔
اس خصوصی عدالت نے 19 جون 2016 کوسابق صدرپرویز مشرف کو مفرور قرار دے دیا۔ کم وبیش چھ سال سے زائد مدت تک یہ کیس خصوصی عدالت میں چلتارہا اور سابق صدر پرویز مشرف ایک بار ہی اس عدالت میں پیش ہوئے۔ جبکہ اس خصوصی عدالت میں کیس کی 125 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور بعدازاں عدالت کی طرف سے باربار بلائے جانے پر بھی سابق صدر عدالت میں پیش ناہوئے۔ بالآخر تین رکنی خصوصی عدالت نے اس اہم کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ ابتدائی فیصلے میں سابق صدر پرویز مشرف کو غدار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔
یہ فیصلہ اس قدر اہمیت کا حامل تھا کہ ملک بھر میں اس فیصلے پر ایک بحث چھڑ گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کو ایک پریس کانفرنس میں اس فیصلے سے متعلق بیان جاری کرنا پڑا۔ ابھی یہ سلسلہ چل رہاتھا کہ اسلام آباد میں جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں جسٹس شاہد فضل کریم اور جسٹس نذر محمد پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں 169 صفحات پر مشتمل سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
یہ فیصلہ دو ایک کی ترتیب سے آیا اور جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے فیصلہ تحریر کیا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ اور لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد فضل کریم نے سابق صدر پرویز مشر ف کو سزائے موت سنائی جبکہ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس نذر اللہ اکبر نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کی ٹیم غداری کا مقدمہ ثابت نہیں کرسکی۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اس وقت کی کور کمانڈرز کمیٹی کے علاوہ تمام دیگر وردی والے افسران جنہوں نے انہیں ہر وقت تحفظ فراہم کیا وہ ملزم کے اعمال اور اقدام میں مکمل اور برابر کے شریک ہیں۔
تاہم اس طویل فیصلے کے ایک پیراگراف نے طوفان کھڑا کردیا۔ ملک بھر میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔ اس پیراگراف کی حمایت اور مخالفت میں بیان شروع ہوگئے۔ پیراگراف 66 میں جسٹس وقار سیٹھ لکھتے ہیں کہ ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مفرور/مجرم کو گرفتار کرنے کی بھرپور کوشش کریں اور یقینی بنائیں کہ انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے، اور اگر وہ مردہ پائے جائیں تو ان کی لاش کو اسلام آباد کے ڈی چوک تک گھسیٹا جائے اور تین دنوں تک لٹکایا جائے ”اس پیراگراف نے پوری قوم کو ایک ہیجان اور اضطراب میں مبتلا کردیا۔
پیراگراف 66 سے متعلق حکومت کا مشاورتی اجلاس ہوا جس کے بعد فیصلہ ہوا کہ حکومت جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرئے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کا جو فیصلہ آئے وہ بہت بعد کا معاملہ ہے فی الحال اس سارے معاملے میں اس پیراگراف نے جھیل کے پرسکون پانی میں ایک پتھر کا کردار ادا کیا ہے۔ ملک بھر میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کردی ہے۔ معروف قانون دان اعتزاز احسن کے مطابق پھانسی انسان کودی جاتی ہے کسی لاش کو نہیں اس قسم کا فیصلہ لکھنے پر جج کے خلاف انکوائری ہونی چاہیے۔ ایک اور قانون دان سلمان اکرم راجہ کے مطابق عدالتی فیصلے صرف وکلا یا ججز نے نہیں پڑھنے ہوتے یہ فیصلے عوام پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں ان کے مطابق ان کو عدالتی فیصلے میں اس قسم کی لینگویج کی امید نہیں تھی۔
عدالتی فیصلے پر تونہیں تاہم اس وقت پرجب یہ فیصلہ آیا ہے پر ضرور بات ہورہی ہے کہ جب قریبی ہمسایہ ملک میں عوام سڑکوں پر ہے اور وہ دشمن ملک اپنی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہماری سرحدوں پر دباؤ بڑھانے کے لئے جنگی جنون پیدا کرنا چاہتا ہے ایسے وقت میں اس طرح کے فیصلے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ کیا ہی اچھا ہوتاکہ یہ فیصلہ کچھ مدت کیلے موخر کردیا جاتا تاوقتیکہ کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات بہتر ہوجاتے۔
اور اگر فیصلہ دینا ناگزیر تھا توپھر الفاظ کا چناؤ بہتر کیا جاسکتا تھا۔ موت کی سزا دینی تھی تو باوقار انداز میں دی جاتی کم سے کم اس بات کا ضرور خیال رکھا جاتا کہ اس سے کسی تذلیل نا ہو کسی کی دل آزاری نا ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اس طویل فیصلہ کے پیراگراف 66 کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کی ہمدردی میں بہرحال اضافہ ہوگا۔

