کرسمس ٹری اور کرسمس فادر کیوں؟


دنیا بھر میں یکم دسمبر سے کرسمس کی تیاریاں اور پروگرام شروع ہوجاتے ہیں۔ گھروں، دکانوں، چوکوں اور گرجا گھروں میں کرسمس ٹری اور کرسمس فادر کی سجاوٹ نظر آنے لگتی ہے۔ بچے بڑے سب اس سجاوٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور بہت سی جگہوں پر کرسمس فادر کا لباس پہن کر بچوں میں کینڈیز اور تحائف دینے کی رسم کو زندہ رکھا جارہا ہے۔ بہت سے غیر مسیحیوں کو لگتا ہے کہ یہ شاید ایک مذہبی رسم ہے۔ سچ پوچھیں تو بہت سے مسیحی بھی اس سے واقف نہیں۔ اس کا یسوع مسیح کے جنم دن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں یہ کوئی مذہبی فریضہ نہیں صرف ایک ثقافتی رسم جو نسل در نسل چلتی آرہی ہے اور کرسمس کے لئے بطور سجاوٹ استعمال ہورہی ہے۔ اس سجاوٹ کی کہانی کو بھی بیان کرنا چاہوں گی۔

کرسمس ٹری کی روایت درحقیقت مقدس بونی فیس Boniface کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ آٹھویں مسیحی صدی کا ایک بہت بڑا انگریز مشنری تھا جو جرمنی کے بت پرست قبیلوں میں انجیل کی منادی کرنے گیا وہاں اس نے ایک پرانے بلوط کے درخت کو کاٹ ڈالا۔ یہ درخت دیوتاؤں کے لئے بڑا مقدس تھا، اور سب بت پرست اس انتظار میں تھے کہ آسمان سے بجلی گر کر بونی فیس کو بھسم کر دے گی لیکن اس کی بجائے یہ ہوا کہ بونی فیس نے درخت کاٹ کر اس کی لکڑی سے عبادت گاہ بنائی۔ بونی فیس نے سرو کے ایک درخت کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ جس طرح اس کے پتے ہمیشہ سرسبز رہتے ہیں اور مرجھاتے نہیں اسی طرح یسوع مسیح ہمیشہ کی زندگی دیتا ہے جو ختم ہونے والی نہیں۔ پھر اس کے ساتھیوں نے موم بتیوں سے سرو کا درخت سجایا تب سے کرسمس ٹری کی روایت چلی۔

کرسمس فادر یا Santa Claus

یہ روایت بشب نیکلاوس سے ہے۔ یہ چوتھی صدی عیسوی کے شروع میں جنوبی ترکی کے شہر Myra کے بشب صاحب تھے۔ بشب نیکلاوس ایک ایماندار اور فیاض دل انسان تھا جس کے دل میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ تھا۔ جوانی میں اس نے اپنی ساری جائیداد غریبوں کی مدد کرنے کے لئے استعمال کی۔ بشب بننے کے بعد انہوں نے چپکے سے بہت لوگوں کی مدد کی۔ وہ بچوں کو بہت پیار کرتے تھے اور خاموشی سے ان کے گھروں میں تحائف چھوڑ آیا کرتے تھے۔ کرسمس کے موقع پر ان کی فیاض دلی کو یاد کرکے کرسمس فادر کی روایت منائی جاتی ہے۔

آخر میں پھر ذکر کرتی چلوں کہ یہ مذہبی رسومات نہیں بلکہ ثقافتی اور خوشی کے اظہار کے لئے چلی آرہی ہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کرسمس ٹری اور کرسمس فادر کیوں؟

  • 22/12/2019 at 9:43 شام
    Permalink

    معلوماتی تحریر کے لئے شکریہ۔ کافی لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جواب ملے ہیں اس تحریر میں۔ یسوع مسیح کی پیدائش بھی 25 دسمبر بیان کی جاتی ہے۔ یہ بھی خوشی کا موقع ہوا

Comments are closed.