مسیحی روزے کیسے ہوتے ہیں؟

جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اکثر ہماری مسیحی رسومات کے بارے میں قیافے لگائے جاتے ہیں۔ مسیحی تو یوں شادی کرتے ہیں، مسیحی تو یوں جنازہ کرتے ہیں، مسیحی تو یوں روزے رکھتے ہیں وغیرہ۔ اسی ہفتے لینٹ یعنی مسیحی روزوں کا آغاز ہو چکا ہے تو میں نے محسوس کیا کہ مجھے اس بارے میں کچھ سوالوں کی تشنگی کا ازالہ کرنا چاہیے۔

بچپن سے چند ایک سوال تواتر سے پوچھے جاتے رہے ہیں،
آپ کے بھی روزے ہوتے ہیں؟
آپ کے کتنے روزے ہوتے ہیں؟
آپ کا روزہ کتنے گھنٹے کا ہوتا ہے؟
اور یہ کہ کیا آپ روزے میں توے کا پکا کھا سکتے ہیں؟

Read more

اب تو مان لو کہ خدا ہے

تاریخ بھری ہوئی ہے مہلک وباؤں سے اور یقیناً زندہ بچ جانے والوں نے اس سے سیکھا ہو گا کہ یہ وبا کیسے پھیلی اور اس کا علاج اور بچاؤ کیا ہے اور خدا سے ڈرنے والے جانتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے عذاب ہے اور ہمیں بدی سے کنارہ کرنا اور اس کے خوف میں زندگی گزارنی ہے۔ اکثر ہم خدا کو مشورے دیتے ہیں کہ فلاں کا کاروبار ٹھپ کردے فلاں پر یہ عذاب نازل کر

Read more

دنیا کا خاتمہ کب ہوگا؟

آج کل ہر دوسری زبان پر یہ سوال ہے کہ کیا کرونا وائرس کے باعث دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے! شاید ہم میں سے بھی بہتوں کا یہ سوال ہو۔ جب سے یہ دنیا تخلیق ہوئی تب سے مہلک سے مہلک ترین وبائیں آ رہی ہیں ہر وبا قیامت سے کم نہیں تھی اور ہر دفعہ انسان نے یہی سوچا کہ شاید اب دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے لیکن ایسی تمام وباؤں سے بنی نوع انسان اور یہ

Read more

کرسمس ٹری اور کرسمس فادر کیوں؟

دنیا بھر میں یکم دسمبر سے کرسمس کی تیاریاں اور پروگرام شروع ہوجاتے ہیں۔ گھروں، دکانوں، چوکوں اور گرجا گھروں میں کرسمس ٹری اور کرسمس فادر کی سجاوٹ نظر آنے لگتی ہے۔ بچے بڑے سب اس سجاوٹ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور بہت سی جگہوں پر کرسمس فادر کا لباس پہن کر بچوں میں کینڈیز اور تحائف دینے کی رسم کو زندہ رکھا جارہا ہے۔ بہت سے غیر مسیحیوں کو لگتا ہے کہ یہ شاید ایک مذہبی

Read more

کون ہیں بچپن اور جوانی چھیننے والے؟

تیس چالیس سال پہلے کے بچوں اور نوجوانوں کی زندگی زیادہ تر ہنسی اور خوشی سے بھری تھی۔ شاید آج کی نسبت وسائل اور ہائی ٹیک والی نہیں تھی لیکن فطری ضرور تھی۔ بچے گلیوں کوچوں میں گُلی ڈنڈا، پِٹھو گول گرم، شٹاپو، پکڑن پکڑائی، چُھپن چُھپائی آزادی سے کھیلتے تھے۔ نوجوان لڑکے کُھلے میدانوں میں دیر تلک کھیلتے رہتے تھے۔ نوجوان لڑکیاں اپنی سہیلیوں کے ساتھ آزادی سے ہنستی کھیلتیں اور قہقہے لگاتی زندگی انجوائے کرتیں تھیں اور ہماری دادیوں اور امیوں کا دور تو اور بھی حسین تھا۔ آپ نے بھی اُن سے سُنا ہوگا کہ وہ رات میں ’جاگو‘ نکالتی تھیں اور کوئی ڈر خطرہ نہیں تھا۔آج کی آزادی ٹی وی، موبائیلز اور کمپیوٹرز میں ہی چُھپ کر رہ گئی ہے۔ بچے اور نوجوان کریں بھی تو کیا کریں، جِس مُلک میں لوگ گیٹ بند کرکے بھی خوفزدہ ہوں انہوں نے باہر کہاں نِکلنا ہے؟

Read more