وزیراعلی عثمان بزدار کے نام کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم جناب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار صاحب جب سے آپ وزیر اعلی پنجاب بنے ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم تونسہ کے لوگوں کو پر پچھلے 70 سالوں پر پہلی دفعہ قسمت مہربان ہوئی ہے اور اس کے لیے ہم وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے آپ کو وزیر اعلی مقرر کر کے ہم تو نسہ والوں کو ساری عمر کے لیے مقروض کر دیا اور ہمارے لیے واقعی تبدیلی آگئی۔

محترم جناب وزیر اعلی صاحب اس بات میں کو ئی شک نہیں جب آپ کی حکومت آئی تو وطن عزیز معاشی مشکلات کا شکار بھی تھا اور اس کے علاوہ نئی حکومت کو بے شمار چیلینجز بھی درپیش تھے جن کو آپ نے قلیل مدت میں حل کرنے کی مخلص کوشش بھی کی ہے۔

جناب وزیر اعلی صاحب میری بستی گنجے والی اور میرا علاقہ مو ضع جانگرہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں سے ایک علاقہ ہے آپ کے وزیر اعلی بننے کے بعدتونسہ کے ہی ایک علاقہ ہونے کے ناتے ہمیں ایک امید پیدا ہوئی کہ آپ ضرور پنجاب کے باقی پسماندہ علاقوں کی طرح ہمارے علاقے کے بھی بنیادی مسائل حل کریں گے۔

جناب وزیر اعلی میری بستی اور گرد و نواح کے لوگ آپ کے وزیر اعلی بنے کے ڈیڑھ سال بعد بھی صاف پینے کے پانی کی بوند بو ند کو ترس رہے ہیں اورآج بھی انسان اور حیوان ایک ہی جگہ پانی پی رہے ہیں۔ ہمارے علاقے کے لوگ خصوصا حاملہ عورتیں آج بھی سڑک جسی بنیادی سہولت اور قریب میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے نئی زندگی کو ایک موت کی قیمت پر جنم دے رہی ہیں۔ میرے علاقے کی تمام بستیوں میں حکومت کی طرف سے ایک پیناڈول کی گولی بھی دستیاب نہیں ہے۔ میرے بستی میں ایک ہی پرائمری سکول ہے جو شایدہمیں پاکستان بنے کے بعد واحد سرکاری عمارت نصیب ہوئی۔

محترم جناب وزیر اعلی صاحب مجھے نہ تو آپ کی نیت پہ شک ہے اور نہ صلاحیت پہ بس آپ سے گزارش ہے کہ آپ میری بستی اور میرے علاقے کے لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کردیں تاکہ لوگ آپ کے وزیر اعلی بنے سے صاف پانی پی سکیں تو ہمارا مقدر بدل جائے۔ اک سڑک دے دیں تو شاید کئی مریض اور حاملہ عورتیں کو تونسہ پہنچنے تک بنیادی علاج معالجہ نصیب ہوسکے۔

محترم جناب وزیر اعلی صاحب آگر آپ بھی ہمارے لیے کچھ نہیں کر سکے تو شاید پھر وزیر اعظم صاحب کے اپکو وزیر اعلی بنانے والے فیصلے کی ہم کیسے تعر یف کر یں گے کہ انہوں پسماندہ علاقے کے لوگوں میں سے ایک وزیر اعلی چنا ہے۔

صاف پینے کا پانی اور علاج معالجے کے لیے تونسہ شہر جانے کے لیے ایک دس کلومیٹر کی سڑک وزیر اعلی کے منصب کے لیے شاید کوئی بڑا کام نہیں لیکن صاف پانی پینے کو ترستی اور پیناڈول کی گولی کو سسکتے لوگوں کے لیے یہ چیزیں کسی نعمت سے کم نہیں۔

محترم جناب وزیر اعلی صاحب پینے کا صاف پانی مانگنے کے لیے اس فورم کے علاوہ میرے پاس کوئی اور دادرسی کا فورم موجود نہیں آخر میں شاکر صاحب کا ایک شعر آپ کی نظر۔

ڈونہیں مو ئیں ہائیں شاکر پانڑی کیں

میکوں ترحے ماریس تیکو چھل ماریس

وسلام

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نعیم خان قیصرانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *