میں سزائے موت کے خلاف ہوں، یہ سزا ہونی نہیں چاہئے: پرویز رشید


مسلم لیگ ن کے رہنما پرویز رشید نے کہا ہے کہ مجھے یہ اچھا نہیں لگتا کہ کسی کو پھانسی ہو، میں سزائے موت کے خلاف ہوں، یہ سزا ہونی نہیں چاہئے۔ تاہم جو اصول تسلیم کیا گیا ہے کہ آئین سے جو انحراف کرے وہ مجرم ہے، اس پر مجھے اطمینان ہے۔ آرمی چیف کی مدات ملازمت میں توسیع پر جب پارلیمنٹ میں بحث ہوگی تو میں اپنا کردار ادا کروں گا اور پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم پر اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔ اس ضمن میں خاص طور پر مسلم لیگ ن کو زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔

پرویز رشید نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مریم اس وقت ایسا ہی انداز اختیار کرے کہ اپنے والد کی خدمت کا موقع انہیں مل سکے۔ شہباز شریف اور بڑے میاں صاحب بالکل واپس آئیں گے۔ میاں صاحب کی طبیعت میں لڑنا ہے ہی نہیں البتہ اپنے اصولوں پر پکے رہنے والے شخص ہیں۔ مشرف کا تو خود اپنا بیان موجود ہے کہ راحیل شریف کی سفارش ان کو ملک سے باہر لے گئی حالات ایسے بن گئے ہماری کمزوری تھی ہم میں قوت نہیں تھی کہ ان حالات کے سامنے بند باندھ سکتے۔

راحیل شریف نے نیوز لیکس کا بھی ایک تماشہ کھڑا کیا ہوا تھا۔ اسلام آباد میں لاک ڈاﺅن کرایا جا رہا تھا، پاناما اور اقامہ جیسے مقدمے کھل چکے تھے۔ ہم پر چاروں طرف سے یلغار ہورہی تھی۔ راحیل شریف خود اپنے لئے ایکسٹینشن بھی چاہتے تھے۔ اس وقت سڑکوں پر بورڈ لگے ہوتے تھے "جانے کی باتیں نہ کرو”۔ میں تو اس وقت حکومت سے نکال دیا گیا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے نکالنا ایک بہانہ ہے، اصل نواز شریف نشانہ ہے میں نواز شریف کو نشانہ بننے نہیں دینا چاہتا تھا۔

Facebook Comments HS