نریندر مودی اور متعصب سیاست
بھارت کی موجودہ سیاسی قیادت اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے سخت گیر راہنما ایک ہندواتہ پر مبنی ریاست یا معاشرے کی جانب گامزن ہیں۔ موجودہ قیادت ایک ایسا بھارت چاہتی ہے جہاں ہندو بالادستی ہو اور دیگر مذاہب کے لوگوں اس بالادستی کو قبول کرکے بی جے پی یا آر ایس ایس کے نظریے کی حمایت کریں۔ حالیہ دنوں میں بھارت کی حکومت کی جانب سے متنازعہ شہریت کے قانون کی بنیاد پر یہ برملا کہا جاسکتا ہے مودی حکومت دیگر مذاہب کے لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سیاسی، سماجی اور مذہبی تعصب کا شکار ہے۔ اس متنازعہ بل یا شہریت کے قانون کا مقصد مسلمانوں کو بے دخل کرنا اور بھارت کو ہندووں کا ملک بنانا ہے۔ بھارت کی حکومت کی موجودہ سوچ، فکر اور خیال بنیادی طور پر سیکولر بھارت کی نفی ہے۔
بھارت کو بنیادی طور پر تین اہم باتوں کی وجہ سے عالمی دنیا میں پزیرائی حاصل رہی ہے۔ اول جمہوریت، دوئم سیکولر اور سوئم ایک بڑی معاشی منڈی۔ لیکن نریندر مودی کے دونوں سیاسی ادوار جمہوریت اور سیکولر سیاست کے مقابلے میں ہندواتہ پر مبنی سیاست کا استحکام اور ہندو مخالف لوگوں بشمول دیگر مذاہب کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں ہیں۔ نریندر مودی کی سیاست پاکستان کے تناظر میں پاکستان مخالف سیاست اور مسلم دشمنی پرمبنی سیاست ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت میں موجود مسلمان مودی کی ہندواتہ کی سیاست میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور ان کے بقول ان کو بہت زیادہ خوف اور تشدد سمیت تفریق کا سامنا ہے۔ اس سے قبل مودی حکومت نے جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا بھی بھارت سمیت دنیا میں سخت ردعمل موجود ہے۔
امریکہ کی محکمہ خارجہ اور انسانی حقوق سے جڑی کمیٹی نے بھارت کو اقلیتوں کے حوالے سے سب سے زیادہ غیر محفوظ ملک قرار دیا ہے اور اس رپورٹ کے بقول بھارت کی حکومت ریاستی و حکومتی اختیارات اور وسائل کی مدد سے اقلیتوں کے لیے حالات میں بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ عورتوں کے حوالے سے بھی بھارت کی داخلی سیاست کو چیلنج کیا گیا کہ وہ خود کو وہاں غیر محفوظ سمجھتی ہیں اور ان کو اپنے ہی ملک میں مختلف طرز کے تشدد کا سامنا ہے۔ مختلف ممالک نے اپنے شہریوں بالخصوص عورتوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ بھارت جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں عورتوں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں۔
ابھی چند ماہ قبل مودی حکومت نے مسلم اکثریتی ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا، جس کے بعد آسام میں شہریت ثابت کرنے کا پروگرام شروع کیا جس کا نشانہ مسلمان بنے ہیں۔ بھارت میں موجود سیاسی پنڈتوں کے بقول امیت شاہ نے بنیادی طور پر مسلمانوں اور بالخصوص بنگلہ دیش کے مسلم تارکین وطن کے خلاف زہریلی مہم چلائی۔
اس وقت بھار ت میں جہاں مسلمانوں میں تشویش کی لہر موجود ہے وہیں بھارت میں موجود سیکولر سیاست سے جڑ اہندو طبقہ بھی مودی سرکار کے خلاف سخت مزاحمت کررہا ہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر بھارت کے مختلف شہروں میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف موثر اجتجاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس اجتجاج میں ہمیں بھارت کے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی اکثریت غالب نظر آتی ہے۔ مودی حکومت اس پرامن اجتجاج کو تشدد کے رنگ میں ڈالنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ اس مزاحمت کو طاقت اور بندوق کی بنیاد پر روکا جاسکے۔
لیکن جو مزاحمت آگے بڑھ رہی ہے اس نے یقینی طور پر مسلمانوں کو بھی ایک امید دی ہے کہ وہ اس معاملے میں تنہا نہیں بلکہ ہندو بھی ان کی حمایت میں سرگرم اور فعال نظر آتے ہیں۔ اجتجاج یا مزاحمت کی یہ لہر دن بدن بڑھ رہی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ نریندر مودی اور ان کے ساتھی امیت شاہ نے حکومت کے خلاف جاری مظاہروں کے جواب میں مسلمانو ں کو بدنام کرنے اور ان کو بے عزت کرنے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ اس کا مقصد سخت گیر ہندووں کے جذبات کو بھڑکانا اور اشتعال پیدا کرنا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں اب ایسی خبریں اور ویڈیو ز دیکھنے کو تواتر کے ساتھ مل رہی ہیں جس میں آرایس ایس یا بی جے پی کے پرتشدد عناصر مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔
نریندر مودی کی سخت گیر ہندو پالیسی نے خود بھارت کی داخلی سیاست میں بے پناہ مسائل پیدا کردیے ہیں اور اس سے بھارت سمیت عالمی دنیا میں بھی بھارت کی تصویر منفی انداز میں پیش ہورہی ہے۔ اس معاملے میں ایک طرف بھارت کی شدت پسند ہندو حکومت ہے تو دوسری طرف ہمیں بھارت کے میڈیا میں بھی ایسے سخت گیر ہندواتہ کی حمایت کرنے والے لوگوں کی اکثریت تجزیوں نگاروں، اینکرز پرسنز اور رپورٹروں کی غالب نظر آتی ہے جو ماحول میں کشیدگی یا انتہا پسندی کو ختم کرنے یا اسے چیلنج کرنے کی بجائے خود آگے بڑھ کر نریندر مودی کی حکومتی اقدامات کو کسی نہ کسی شکل میں تحفظ یا حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس نئے شہریت بل کی اسمبلی سے منظوری کے بعد بھارت کو داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر مزاحمت کا سامنا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اس بل کی منظوری پر سخت تحفظات ہیں اور ا س کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کا دورہ بھارت مسترد ہونا شامل ہے۔ اگرچہ افغانستان نے اس پر سخت ردعمل نہیں دیا، لیکن اس کا آگے جاکر ردعمل آسکتا ہے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان کو اگر اس شہریت کے بل کے خلاف متفق ہونا پڑا تو یہ نریندر مودی کی حکومت کی بڑی ناکامی ہوگی۔
بھارت کے سیکولر سیاست سے جڑے افراد سمجھتے ہیں کہ مودی حکومت ایک ایسا انتہا پسندی پر مبنی راستہ اختیار کررہی جو بھارت کو سیاسی، مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت بھار ت میں مودی مخالف عناصر میں جو نعرہ سب سے زیادہ مقبول ہورہا ہے اس میں ”ہمیں مودی کی بھارت نہیں بلکہ آئین کا بھارت“ درکار ہے۔ یہ سوچ ظاہر کرتی ہے کہ ا س وقت بھارت کی سرکار آئین اور قانون سے زیادہ مودی کی سخت گیر پالیسی سے آگے بڑھ رہی ہے اور مودی حکومت کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اس ملک کا آئین اور قانون کیا کہتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نعرے سیکولر سیاسی جماعتوں سے نکل کر سول سوسائٹی اور خاص طور پر یونیورسٹی کی سطح پر پڑھنے والے لڑکوں اور لڑکیوں مقبولیت حاصل کررہے ہیں۔ ویڈیوز میں نوجوانوں میں جوش اور مودی حکومت کے خلاف غصہ کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ اس غصہ میں مختلف شہروں کی یونیورسٹیوں کے ہندو اور مسلم نوجوان نمایاں نظر آتے ہیں۔
بہت سے مقامات پر ہندو اور مسلم اتحاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہندو اور مسلم اکٹھے کھڑے یا ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم میں کوئی نفرت نہیں بلکہ مودی حکومت خود نفرت کے بیج بو کر مسلم ہندو فساد کو بڑھا رہی ہے۔ یہ ہی مزاحمت ہمیں بھارت کی صورتحال کے تناظر میں عالمی انسانی حقوق سے جڑے اداروں کی مختلف رپورٹس میں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دنیا کی سول سوسائٹی اس وقت بھارت کے داخلی معالات پر اپنی تشویش رکھتی ہے اور برملا یہ اعتراف کررہی ہے کہ مودی حکومت کا طرز عمل بھارت میں کئی حوالوں سے خطرناک رجحانات کی نشاندہی کرتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں دنیا کی تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاون، کرفیو اور انسانی حقو ق کی بدترین پامالی پرپہلے ہی سخت مزاحمت موجود ہے۔ مودی سرکار کو ڈر ہے کہ اگر کرفیویا لاک ڈاون ختم کیا گیا تو اندر سے حکومت کو کشمیری نوجوانوں کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کشمیر اور آسام کے معاملات کو دیکھیں تو اس کا جان بوجھ کر لسانی اور فرقہ وارانہ فساد میں بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ سوچ بھی نریندر مودی کے حوالے سے غلط ثابت ہوئی کہ ان کا موجودہ دور سابقہ دور کے مقابلے میں زیادہ مثبت ہوگا۔ کیونکہ اس دو تہائی اکثریت کے بعد نریندر مودی اور امیت شاہ کے جارحانہ عزائم ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے سامنے اس وقت سیاست، جمہوریت، آئین یا قانون کی حکمرانی یا تقسیم شدہ بھارت کو یکجا کرنے کی بجائے ہندواتہ کی سیاست کو تقویت دینا ہے۔ یہ عمل نریندر مودی کا پہلے سے موجود بھارت میں سیاسی اور مذہبی تقسیم کو اور زیادہ نمایاں کرنے کا سبب بنے گا۔
اس بات کے امکانات محدود ہوتے جارہے ہیں کہ بھارت کی موجودہ سیاست میں جلد کسی بڑ ی اعتدال پسندی کی سیاست جڑ پکڑے گی۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ نریندر مودی کی انتہا پسند پالیسیاں اور خاص طو ر مسلم دشمنی کا ایجنڈا بھارت کی سیاسی ومعاشی استحکام کو کمزور کرنے کا سبب بنے گا اور اس کے خلاف بھارت کی داخلی سیاست میں مضبوط سیاسی مزاحمت درکار ہے۔


