مولانا روم، رقص درویشان اور قونیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 1260 عیسوی کی دہائی کا زمانہ تھا۔ منگول لشکر موجودہ ترکی کے شہر اور اس زمانے کی رومن سلطنت کے مرکز، قونیہ کا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ محاصرے سے تنگ عوام مولانا جلال الدین رومی کے پاس حاضر ہوئے۔ مولانا ان کی عرض سن کر شہر سے باہر گئے اور منگولوں کے سردار کے خیمے کے سامنے ایک ٹیلے پر اپنا مصلہ بچھا کر نماز ادا کرنی شروع کر دی۔ منگول سپاہیوں نے تیر مارنے کی کوشش کی مگر کئی اپنی کمانیں نا کھنچ سکے۔ جنہوں نے کمانیں کھینچ لیں انھوں نے تاک کر تیر مارے مگر سارے تیر اِدھر اُدھر نکل گئے۔ اُن کے سردار کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔ یہ سب دیکھ کر منگول مرعوب ہوگئے اور محاصرہ چھوڑ کر چلے گئے۔

اگرچہ کہ واقعے کی تصدیق تاریخی طور پر مشکل ہے مگر چونکہ صوفیانہ روایتوں بارے خوش اعتقاد لوگوں نے اس کو قبول کر لیا ہے اس لیے یہ واقعہ قبول ہی چلا آ رہا ہے۔ اس تمام واقعہ کو ترک حکومت نے ایک قد آور پینٹنگ کی شکل میں مولانا کلچر سنٹر اینڈ میوزیم کا حصہ بنا دیا ہے۔ قونیہ میں موجود اس میوزیم میں لگ بھگ بارہ کے قریب یہ قد آور پینٹنگز مولانا رومی کی زندگی کے بڑے واقعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان میں مولانا کی خواجہ فرید الدین عطار سے ملاقات، شمس تبریز سے ملاقات، وفات سے پہلے کے مناظر اور جنازہ کی صورتحال وغیرہ شامل ہیں۔

مولانا روم کی وفات 17 دسمبر 1273 کو قونیہ میں ہوئی۔ اسی مناسبت سے ترک حکومت ہر سال 7 سے 17 دسمبر تک سرکاری طور پر رومی فیسٹیول مناتی ہے۔ مولانا کلچرل سنٹر میں منعقدہ اس فیسٹیول میں باقی تمام لوازمات جیسے سوینیر، دستکاری، کیلیگرافی یا پینٹنگ کے سٹال تو ہوتے ہی ہیں مگر اس کی خاص بات سماع یا رقص درویشان ہے۔ یہ رقصِ درویشان دن میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے۔ ایک رقص میں 27 درویش اور ایک شیخ حصہ لیتے ہیں۔

رقص کے آغاز میں ہر درویش پہلے اپنے شیخ سے ایک خاص انداز میں اجازت لیتا ہے اور پھر اپنا رقص شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں وہ اپنا دایاں ہاتھ بائیں شانے پر اور بایاں ہاتھ دائیں شانے پر رکھ کر گھومتا ہے۔ گھومنے کے دوران وہ اپنے بازو آہستہ آہستہ پھیلاتا ہے۔ بالآخر اس کا دایاں ہاتھ آسمان کے طرف اور بایاں ہاتھ زمین کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ گردن ایک طرف جھکی رہتی ہے اور اسی حالت میں وہ گھومتا چلا جاتا ہے۔ پسِ پردہ صوفیانہ موسیقی کا ایک بینڈ دف، رباب، قانون اور بانسری پر دھن بجاتا ہے۔ پورے رقص کے دوران بانسری کی آواز سب سے نمایاں ہوتی ہے جو مولانا کی مثنوی کے ان ابتدائی اشعار کو ساز میں ڈھالتی ہے۔

بشنو از نے چون حکایت می‌کند

از جدائی ہا شکایت می‌کند

کز نیستان تا مرا ببریدھ‌اند

در نفیرم مرد و زن نالیدھ‌اند

(بانسری سے سن، کیا حکایت بیان کرتی ہے، اپنی جدائیوں کی شکایت کرتی ہے۔ کہ جب سے مجھے بنسلی سے کاٹا ہے، میرے نالہ سے سب مرد و زن روتے ہیں۔ )

رقص کا یہ انداز مولانا روم سے منصوب ہے جو اکثر وجد کی حالت میں اسی طرح رقص کیا کرتے تھے۔

مولانا روم کی زندگی میں اس رقص کا آغاز کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ شمس تبریز سے جدائی نے مولانا کو بیقرار کر رکھا تھا۔ اسی بیقراری میں وہ ایک دن گھر سے نکلے۔ راستے میں شیخ صلاح الدین زرکوب کی دکان تھی جو اس وقت چاندی کے ورق کوٹ رہے تھے۔ مولانا پر اس ہتھوڑی کی آواز نے سماع کا اثر پیدا کیا اور ان پر وجد کی کیفیت طاری ہو گئی۔ اسی وجد کی حالت میں مولانا نے یوں رقص شروع کر دیا۔ مولانا کی یہ حالت دیکھ کر شیخ اسی طرح ورق کوٹتے رہے حتیٰ کہ بہت سی چاندی ضائع ہو گئی لیکن ہاتھ نا روکا۔ اسی سماع کی حالت میں مولانا نے یہ غزل کہی۔

یکی گنجی پدید آمد در این دکان زرکوبی

زھی صورت زھی معنی زھی خوبی زھی خوبی

(اس زرکوبی کی دکان سے ایک خزانہ مل گیا۔ عجب صورت، عجب معنی، عجب خوبی، عجب خوبی )

مولانا کی وفات کے بعد ان کے پیروکاروں نے رقص کا یہی انداز اپنایا۔ کسی زمانے میں سماع و رقص کا یہ انداز حقیقی درویشوں کا طور طریقہ ہوتا ہو گا اور شاید آج بھی قونیہ کی گلیوں میں کہیں اصلی درویش پائے جاتے ہوں مگرجہاں تک مولانا کلچرل سنٹر کا تعلق ہے، یہاں سماع کی یہ محفل محض ایک دکھاوا ہے جو سرکاری سر پرستی میں مولوی رقص کے اس انداز کو ناظرین کے ذہنوں میں استوار کرتی ہے۔

رقص و سماع کی یہ محفل اگر کسی زمانے میں تصوف و طریقت کی راہ پر گامزن افراد کی ایک درپردہ سرگرمی تھی تو آج یہ ترک حکومت کے لیے زر مبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہے جہاں مشرق و مغرب سے تصوف و طریقت کے دلدادہ یہ رقص دیکھنے قونیہ آتے ہیں۔ آج اس رقص کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ آن لائن ملتا ہے اور جب آپ یہ ٹکٹ خرید کر مولانا کلچرل سنٹر پہنچتے ہیں تو سکرٹ میں ملبوس نوجوان لڑکیاں آپ کا استقبال کرتی اور آپ کو ہال میں آپ کی نشست کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔

لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ تمام درویش جو اس رقص میں حصہ لیتے ہیں وہ ایکٹر ہوں۔ شاید کچھ اصلی بھی ہوں گے مگر پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ راہ عشق وطریقت کے یہ مسافر اس مادیت میں لتھڑے بناوٹی رقص کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں؟ عشقِ حقیقی اور راہ طریقت و تصوف کے راہی تو دنیا و ما فیھا سے بیزار ہوتے ہیں۔ اسی معاملے کو شیخ سعدی نے کس خوبصورت انداز میں بتایا ہے کہ

ای مرغ سحر عشق ز پروانھ بیاموز

کان سوختھ را جان شد و آواز نیامد

این مدعیان در طلبش بی خبرانند

کانرا کھ خبر شد خبری باز نیامد

(اے مرغ سحر، تو عشق پروانے سے سیکھ۔ جس نے عشق میں اپنی جان جلا دی پر آواز نہیں نکالی۔ راہ عشق و طریقت پر چلنے کے یہ دعوے دار اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہاں جس کو (عشق حقیقی بارے ) خبر ہو گئی پھر اس کی خبر نہیں ملی ) ۔

شیخ سعدی نے یہ اشعار اس حکایت کے ضمن میں کہے ہیں کہ ایک صاحبدل درویش مراقبے کی حالت میں اپنا سر، گریبان میں ڈالے تھا اور کشف کے سمندر میں ڈوبا ہوا تھا۔ جب اس حالت سے واپس لوٹا تو ایک دوست نے کہا کہ جس باغ میں تو گیا ہوا تھا، وہاں سے کیا تحفہ لایا ہے؟ اس نے کہا کہ میرا خیال تھا کہ جب میں پھول کے درخت کے پاس پہنچوں گا تو دوستوں کے تحفہ کے لیے دامن بھر لوں گا۔ مگر جب میں وہاں پہنچا تو پھول کی خوشبو نے مجھے ایسا مست کر دیا کہ دامن میرے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

مولانا روم کی وراثت کو اگرچہ ترک حکومت نے نہ صرف سنبھال کر رکھا ہے بلکہ دنیا کو اپنے طور پر رومی سے آشنائی دلانے کو تمام لوازمات کا بندوبست کیا ہے مگر عشق و طریقت کا دنیا سے بے نیازی کا بنیادی اصول اسی بیچ کہیں کھو کر رہ گیا ہے۔ اب رومی کا نام صرف اور صرف ایک علامت ہے جو ترکوں کے لیے اپنے کلچر کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے جبکہ سیاحوں کی آمد سے قونیہ میں کاروبار کو بھی آسرا ملتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply