مشرف کی سزا, مقدس گائے اور ریاست کا طرز حاکمیت.

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاستوں اور مملکتوں کو دستور/ آئین پر چلنا ہوتا ہے۔ ملک کا آئین کیسا ہوگا اس پر بحث ممکن ہے۔ عموما نوزائیدہ ریاستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ آئین کیسا ہو۔ اس کی بنیاد کن چیزوں پر رکھی جائے۔ جمہوری ممالک میں یہ مسئلہ منتخب عوامی نمائندے طے کرتے ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہی مسئلہ سامنے آیا۔ بھارت اور پاکستان برطانوی تسلط سے نکلے تو ان کے سامنے سوال تھا کہ کیا اب دونوں نئی ریاستوں کو پرانے آئین (برطانوی ہند کے آئین) پر چلنا ہے یا نہیں۔

بلاشبہ پاکستانی قوم کو برطانوی آئین نامنظور تھا۔ قوم کے بڑوں نے سوچ بچار شروع کی۔ آخر ہمارا آئین کیسا ہونا چاہیے۔ طے پایا اسلام اور شریعت ہمارے ملکی آئین کی اساس ہوگی۔ قرارداد مقاصد اسی کا نام ہے۔ ملک میں پہلی بار 1956 کا آئین بنا۔ بدقسمتی سے 1958 میں ایک فوجی آمر نے اس آئین پر شب خون مارا۔ پھر 1962 میں ایک دوسرا آئین ہمارے سامنے لایا گیا۔ اس بار قوم تقسیم ہو چکی تھی۔ آئین جیسی مقدس چیز قوم کا اجتماعی شعور ظاہر کرتا ہے۔

کسی بھی ملک کا آئین دراصل اس ملک کے عوام اور اس کی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے عوام کا حق حکمرانی چھن چکا تھا۔ ڈکٹیٹر ایوب نے 1962 میں اپنی مرضی کا آئین قوام کے سر پر تھونپا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 70 تک ملک کی بنیادیں اس قدر کھوکھلی ہو چکی تھیں کہ 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان اس قوم کو سہنا پڑا۔ اب کی بار بچے کھچے پاکستان کو محفوظ کرنے کا سوال تھا۔ ڈکٹیٹروں نے حکومت سویلینز کے حوالے کی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں ایک نیا آئین دیا۔ جسے عام طور پر 73 کا آئین کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے آج تک یہی آئین پاکستانی ریاست کے امور چلانے کا ذمہ دار ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ آمروں نے اسے بھی پہلے 1977 اور پھر 1999 میں پامال کیا۔ یعنی ملک کے منتخب عوامی نمائندوں نے پاکستان کو مسقبل کے لئے جو سمت دی اسے دو بار دبوچا گیا۔ کہا گیا کہ یہ آئین تو محض کاغذ کی ردی ہے جسے ٹوکری میں ہونا چاہیے۔ اس کا خمیازہ پوری پاکستانی قوم نے بھگتا اور آج بھی بھگت رہی ہے۔

ضیاء دور کی طالبانائزیشن اور اسلامی بنیاد پرستی ہو یا مشرف دور کی روشن خیالی اور سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ۔ اس ملک کو ان دونوں صورتوں کا ایک ذرے برابر بھی فائدہ نہ ہوا۔ وجہ یہ کہ ان ادوار کے فیصلے پاکستانی قوم کے فیصلے نہیں تھے۔ یہ مسلط کردہ تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان فیصلوں میں ڈکٹیٹروں کو بھی خود امریکہ سے ڈکٹیشن ملتی رہی۔ ان کے پاس طاقت تھی۔ انہوں نے قوم کے فیصلے طاقت کے بل بوتے پر کیے۔ ان کے سامنے کوئی ضابطہ نہ تھا۔

نہ ہی وہ کسی آئین کو مانتے تھے۔ انہوں نے بظاہر نام نہاد عوامی نمائندے بھی پارلیمان کی سیٹوں پر بٹھا رکھے تھے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے بینچز شاید ان ادوار میں آج کی نسبت زیادہ آباد تھے۔ وزرائے اعظم بھی تھے۔ کابینہ بھی تھی۔ سب کچھ ویسے ہی تھا۔ اگر کچھ نہیں تھا تو وہ ملکی آئین تھا۔ جس کی حیثیت جنگ میں مال غنیمت کے ساتھ جیتی ہوئی ایک لونڈی جیسی تھی۔ جب بادشاہ کا دل کیا رکھ لی۔ دل بھر آیا تو دربار بدر کردی۔

جنرل مشرف نے اسے پہلے 12 اکتوبر 1999 کو دربار بدر کیا پھر 3 نومبر 2007 کو دوسری بار دھکے دے کر باہر کیا۔ یہ لونڈی جن کی ملکیت تھی انہیں معلوم ہی نہ تھا کہ اس پر حق ان کا ہے۔ بلکہ انہیں بھی بتایا یہی گیا تھا کہ اس لونڈی کی حیثیت تو محض طوائف کی سی ہے۔ اصل چیز تو ملک ہے۔ سلامتی تو اس کی ہونی چاہیے۔ ملکی سلامتی کا یہ نظریہ آج بھی ہلکا نہیں پڑا۔ صرف مشرف ہی نہیں ایوب، یحیی اور ضیاء سبھی نے اس آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینکے رکھا۔ ضیاء بہادر نے تو اس میں من مرضی کی حکومتیں بنانے کا بھی خوب بندوبست کر رکھا تھا۔ پرانے وقتوں میں دشمن لونڈیوں سے بھی نکاح کرکے انہیں عزت بخش لیتے تھے مگر مرد مومن نے تو اسے طوائف ہی بنائے رکھا۔

خیر بحث یہ نہیں کہ ماضی میں ملکی آئین کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا بلکہ موضوع یہ ہے کہ آخر اس آئین کا فیصلہ ہو کیوں نہیں جاتا؟ کیا یہ ایک قوم کی توہین نہیں کہ ستر سال گزر جانے کے باوجود آج بھی اس سے ایک فیصلہ نہیں ہو پارہا۔ لفظ ’آئین‘ کا مطلب اس قوم کو سمجھنے کیوں نہیں دیا جارہا۔ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی بھی ختم ہونے جارہی ہے مگر پاکستان کی سلامتی آج بھی ادارے اور شخصیات بتائے جا رہے ہیں۔ کوئی انہیں یہ کیوں نہیں سمجھا پاتا کہ برطانیہ کا تحفظ افواج نے نہیں برطانیہ کے دستور  نے کررکھا ہے۔

افواج اگر ملکی سلامتی کی ضامن ہوتیں تو سوویت یونین کبھی نہ ٹوٹتا۔ آج روس اور بیلا روس اگر علیحدہ ہیں تو اس کی صرف ایک وجہ ”مشترکہ روسی آئین“ کا خاتمہ ہے۔ بنگلہ دیش کی دھرتی تو وہی مشرقی پاکستان والی ہی ہے، پھر کیا ہوا کہ نام بدل گیا۔ وجہ صرف ایک ہی ہے ”مشترکہ پاکستانی آئین“ برقرار نہ رہ سکا۔ روس تو شاید سیکھ چکا ہو مگر ہم کب سیکھیں گے؟ پارلیمان، افواج، عدالتیں سب محض عمارتوں اور اداروں کے نام ہیں۔

انہیں اگر کسی نے وجود بخشا ہے تو وہ ہے لفظ ’آئین‘ ۔ ریاستوں اور مملکتوں نے اپنے امور اسی آئین کے تحت چلانے ہوتے ہیں۔ جہاں ریاستی ادارے آئین کی پیروی کی بجائے آئین کو اپنی پیروی میں لگا دیں وہاں مملکتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ پھر چاہے وہاں کی افواج کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہوں وہاں اس حد تک تقسیم اور خلیج پیدا ہو جاتی ہے جو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے۔

دنیا کی ماڈرن ہسٹری میں ریاستوں نے ’مقدس گائے‘ کے پرانے تصور کو ترک کردیا ہے۔ جوابدہی جدید جمہوریتوں اور ریاستوں کی اساس بن چکی ہے۔ جدید جمہوری ریاستوں میں اس جوابدہی accountability کے تصور نے دراصل آئین پر بھروسے اور اعتماد کا درس دیا ہے۔ اب مملکتیں افراد یا ادارے نہیں بلکہ دستور کا نام ہیں۔ جس دستور کی جہاں حد ختم ہو گئی سمجھ لیں آگے دوسرا ملک شروع ہو گیا۔ نظام فکر بدل چکا ہے۔ بائیولوجیکل سائنس کے ساتھ ساتھ علوم سیاسیات میں بھی وسعت آ چکی ہے۔

اب ارسطو کا نظریہ ریاست تو چھوڑئیے گزشتہ صدی کے میکس ویبر، کارل مارکس اور اینگلز کے نظریات بھی متروک ہوتے جارہے ہیں۔ آپ authoritarian بن کر ماضی کو ہمیشہ کے لئے آباد نہیں رکھ سکتے۔ آپ کو دوسرے اداروں کو بھی برابر تسلیم کرنا ہی ہوگا۔ اسی طرز کا نام institutionalism ہے۔ یہی جدید ریاستوں میں آئین کا حلیہ ہے۔ اور یہی پاکستان کا مقدر ہے۔ اور یہی ’آئین پاکستان‘ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply