شریف فیملی کے وہ بھی دن تھے اور یہ بھی دن ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ بھی دن تھے جب نواز شریف کا اقتدار ایک مظلومیت کے ساتھ چھن گیا تھا پورے سیاسی منظرنامے میں کوئی ہمدرد باقی نہیں رہا تھا میڈیا الزامات اور بہتان طرازی کا دھکتا ہوا لاوہ تھا اسٹیبلشمنٹ دشمن جاں بنی ہوئی تھی، سیاسی حلیف کب کے پرائے یا حریف بن چکے تھے۔

شیخ رشید سے عامر لیاقت تک کے لوگ آگ اُگل رہے تھے اور سب سے بڑھ کر انصاف کا ترازو ثاقب نثار جیسے کریہہ کردار کے ہاتوں میں تھا جبکہ سیاسی طور پر عمران خان اور مذہبی طور پر خادم رضوی آتش و آھن کے دریا بہا رہے تھے۔

ان دنوں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ نواز شریف اور اس کی سیاست قصہ پارینہ بن چکے کیونکہ وہ ہر قسم کی حمایت و ہمدردی سے محروم دشت سیاست میں سفاک آندھیوں کے رحم و کرم پر تھے۔

مری میں گوشہ نشینی کے کچھ دن گزارنے کے بعد وہ ایک مایوس سہ پہر کو اپنے ڈرائیور اور دو ساتھیوں کے ساتھ خاموشی سے اسلام آباد کی طرف چل پڑے۔

اسی گاڑی میں موجود نواز شریف کا ایک ساتھی بتا رہا تھا کہ مایوسی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ سفر کے دوران چالیس منٹ تک نواز شریف نے صرف ایک مرتبہ مختصر بات کی مڑ کر ایک بار بھی نہیں دیکھا، خلاف معمول کچھ کھایا بھی نہیں البتہ پانچ مرتبہ پانی پی چکے۔

اس دوران گاڑی اسلام آباد کے نواح میں بارہ کہو کے قصبے میں داخل ہوئی تو غیر متوقع طور پر عوام کا ایک جم غفیر نکل آیا اور یہاں سے نواز شریف کے حوصلے اور نئے سیاسی بیانئیے کی بنیاد پڑی، پھر وہ دن تھے کہ جی ٹی روڈ پر تاریخ کا سب سے بڑا عوامی ریلا بھی آنکھوں نے دیکھا اور ووٹ کو عزت دو کا خوفناک لیکن حد درجہ مقبول بیانیہ بھی سننے کو ملا، پھر وہ بھی دن تھے جب طوق و دار کا موسم سج گیا تھا اور ثاقب نثار تاریخ کا بد ترین منصف بننے پر آمادہ تھا نیب کو جرم اور شھادت سے غرض ہی نہ تھی فقط ”مطلوب“ لوگوں کی تلاش اور جبر ناروا ہی مقصود تھا سو اڈیالہ سے کوٹ لکھپت تک ایک داستان ستم رقم ہوتی رہی لیکن نواز شریف اپنی بیٹی اور ساتھیوں سمیت ڈٹا رہا اس دوران نہ کلثوم نواز کی آخری ہچکیاں اس کے قدم روک پائے نہ ہی اس کی لاش نے پسپائی کا راستہ دکھایا گویا مشکل ایّام میں مقبولیت اور دلیری کا ایسا امتزاج کہ ایک دنیا سے خراج لے بیٹھے۔

اسی ظلم و ستم کی انتہا اور مقبولیت کے عروج کے دنوں میں نواز شریف شدید بیمار ہوتے ہیں اور اسے اپنی بیٹی سمیت ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے اورکچھ دنوں میں نواز شریف علاج کی غرض سے عازم لندن ہوجاتے ہیں اور مریم خاموشی کی بکل مار کر گھر بیٹھ جاتی ہے لیکن ایک اور منظرنامہ بھی تخلیق ہو تا ہے جو کچھ منطقی اور کچھ اتفاقیہ طور پر نواز شریف کے بیانئیے کو مبالغہ آمیز سپورٹ فراہم کرتی ہے مثًلا پارٹی میں دراڑ کی بجائے مزید پختگی نظر آتی ہے کارکن پہلے سے کہیں بڑھ کر ڈٹے نظر آتے ہیں نواز شریف کے ساتھی رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، مفتاح اسماعیل اور خصوصًا شاھد خاقان عباسی دلیری اور کمٹمنٹ کی مثال بن جاتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑے سیاسی حریف عمران خان بحیثیت وزیراعظم اپنی بد ترین کارکردگی کے سبب خوفناک حد تک اپنی مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں۔

میڈیا کی ”آتش فشانی“ تیسرے درجے کے چند صحافی نما مسخروں تک محدود ہو جاتی ہے، مقتدر قوتوں کا پارہ اپنی اونچائی برقرار نہیں رکھ پاتا اور پھر سب سے بڑھ کر ثاقب نثار سے ارشد ملک تک جیسے کرداروں کو تاریخ ہڑپ کر لیتی ہے اور پھر منصف مزاجی اور دلیری کے شاندار ٹریک ریکارڈ کے حامل جسٹس گلزار احمد اور جسٹس وقار احمد سیٹھ جیسے سربلند منصف عدل کا ترازو تھام لیتے ہیں۔

اور پھر اس ملک پر سترہ دسمبر دو ہزار اُنیس کا دن بھی اُترتا ہے۔ جب جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاھد کریم ایک تاریخ رقم کرتے ہیں اور پرویز مشرف نامی شخص کے نام کے لاحقے اور سابقے اُڑا کر رکھ دیتے ہیں فقط تین سطروں پر مشتمل فیصلہ کہ مجرم پر آئین سے غداری ثابت ہوئی اور وہ پھانسی کی سزا کا مستحق ہے۔

یہ تین سطر تاریخ کا دھار موڑ دیتے ہیں اور خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ عوام کے دلوں میں اُتر جاتے ہیں، سول سوسائٹی وکلا، دانشور، صحافی، سیاسی رہنما اور عوام اس فیصلے کی سر عام بلائیں لینے لگتے ہیں، گنگ زبانوں سے بھی تائید اور حمایت کے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں لیکن جہاں سے یہ بیانیہ پھوٹا تھا، حیرت انگیز طور پر وoاں زبانوں پر قفل پڑے نظر آتے ہیں، ایک گھمبیر سناٹا اور بے حس خاموشی چھائی ہے نہ کوئی تائید نہ کوئی حمایت نہ سر خوشی نہ سرشاری نہ آمریت کی مذمت نہ فیصلے پر مسرت نہ ماضی کا کوئی زخم نہ مستقبل کی کوئی نوید!

تو پھر کہنا یہی ہے کہ اگر لڑنے کا حوصلہ نہ تھا تو میدان میں اُترے کیوں؟

سوال یہ ہے کہ بیانئیے کا علم آپ کے ہاتھوں سے پھسلا کیوں؟

اور جب اسے تھامنے والے آگے بڑھے تو آپ عقب سے غائب کیوں ہیں؟

اطلاعًا عرض ہے کہ شاھد خاقان عباسی، رانا ثناءاللہ اور سعد رفیق ابھی تک اسی میدان کارزار میں کھڑے ہیں جس میں اُترنے کا اشارہ بھی آپ نے کیا تھا لیکن حسین نواز کی زبانی نواز شریف کا بیان کہ میں نے سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے تو پھر ”میں آخری سانس تک لڑوں گا“ کس کے لب شیریں سے نکلا تھا۔

ہمیشہ سے اقتدار کے متلاشی شہباز شریف اس فیصلے سے بے خبر اور انجان کیوں بنے؟

جس کے حصول کے لئے ایک تاریخی جدوجہد ہوئی، مریم نواز اسی لاھور میں بیٹھی ہے لیکن ایک لفظ بولنے کی جرات تک نہ ہوئی، پرویز رشید نے احتیاط کے بدلے احتیاط کا فلسفہ کس کے کہنے پر پیش کیا؟

یہ حق یقینًا شریف فیملی کو حاصل ہے کہ وہ جس قرینے سے چاہے اپنی سیاست کرتی پھرے لیکن اپنے مفادات کو عوام کا مفاد کہنے سے گریز کریں تو بہتر ہے کیونکہ وقت بہت تیزی کے ساتھ بدل گیا ہے اگر پھر بھی شک ہے تو عمران خان کی مقبولیت اور پرویز مشرف کی ”طاقت“ کی طرف مڑ کر تو دیکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *