خدا کا گھر ہی آخری امید رہ گیا ہے ‎

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ نومبر کی نو تاریخ کو، کرتار پور کی راہداری کا افتتاح تھا۔ کشمیر پر مودی کے قبضے کے باوجود، بیرونی سہارا ڈھونڈتی ہماری لاچاری ہمیں دکھا رہی تھی کہ عمران خان اس تقریب کے مہمان خصوصی بن کر پہنچے۔ بھارتی پنجاب کا وزیر اعلیٰ تک جس میں شریک نہ ہوا۔ من موہن سنگھ البتہ موجود تھے مگر وہ بھی انتہائی خاموش اور ریزرو سے تھے۔ میں وہاں پہنچا، بھارتی مہمانوں سے تھوڑی سی گفتگو یہ سمجھانے کو کافی تھی کہ وہ شکر گزار تو ایک طرف، ہمیں یہ بتا رہے تھے کہ ہم کشمیر پر قبضے اور تمہیں جوتے مارنے کے بعد، انسان بنا کر اپنی طاقت کے بل پر یہاں کھڑے ہیں لہذا دوستی، اپنے اخلاق اور مہمان نوازی کی جھوٹی بکواس بند کرو۔ کچھ تین گھنٹے گزارنے کے بعد عمران خان کی تقریر اور باقاعدہ تقریب میں شرکت کی ہمت گنوا بیٹھا تھا اس لئے واپسی کا سفر اختیار کیا۔ سچی بات ہے کہ اس دن سے کچھ لکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ میرے بچپن میں والد صاحب ہمیں واہگہ بارڈر پر لے جاتے، تقریب منعقد ہوتی، ہم، بھارتی سرحد پر دیوانہ وار پاکستان ذندہ باد کے نعرے لگاتے، پاکستانی پرچم کو سلیوٹ کرتے اپنے سپاہیوں پر فخر کرتے واپس آ جاتے۔ والد صاحب سمجھاتے کہ اس بارڈر پر محض چند منٹ گزارنے سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ شاید سینکڑوں کتابیں نہ دے پائیں۔ اس جگہ پر وطن کی اپنائیت کا گہرا احساس ہزار گلے شکوے دور کر دیتا ہے۔

کرتار پور سے پہنی اداسی کو اتارنے کا وہی پرانا طریقہ یاد آیا، اب میرا فرض تھا کہ میں بھی اپنے بچوں کو اسی بارڈر پر لے جاؤں اور انہیں اسی جذبے سے روشناس کروا دوں جس سے میں ہوا تھا۔ روایت کو آگے بڑھانے کا فطری ذریعہ یہ ہی ہے۔ پتہ یہ چلا کہ اب وہاں جانے کا طریقہ بدل چکا ہے، پہلے کی طرح ایسا نہیں کہ آپ، جب دل چاہے چلے جائیں بلکہ خصوصی اجازت درکار ہے۔ ہمدم دیرینہ، کرنل نعمان سے درخواست کی جنہوں نے کمال محبت سے درخواست کو قبول کیا۔ دھڑکتے دل سے وہاں پہنچا، بچوں کے ساتھ انہیں پرانی نشستوں پر بیٹھا، لیکن اب دنیا بدل سی چکی تھی۔ وہ ایسے کہ پہلے سرحد کے دونوں اطراف، بیٹھنے کا تقریبآ ایک سا انتظام تھا لیکن اب اپنی جانب تو وہی پرانی نشستیں اور احاطہ تھا مگر دوسری جانب کی عمارت اور چھت ہم سے دوگنی وسیع ہو چکی تھی۔ ہم یہاں پرانی نشستوں پر بغیر چھت کے بیٹھے تھے. فطری طور پر دوسری طرف ہم سے دگنی تعداد میں بھارتی، ایک چھت کے تلے بیٹھے اپنے سرحدی گارڈز کو داد دے رہے تھے، ادھر ہم اپنے جوانوں کو خراج تحسین پیش کررہے تھے۔ ہماری طرف کا احاطہ بھرا ہوا ضرور تھا مگر، ترانے، نعرے سب کچھ ملا کر بھی ہم گویا، اس احساس سے گزر رہے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک کو دگنی طاقت سے نعرہ لگانا ہے۔ اور لگانا بھی کیا ہے وہ تو وہاں روح کی گہرائیوں سے خودبخود نکل آتا ہے۔

میرے بچوں نے یقیناً ان دو گھنٹوں میں بھارت، پاکستان کے رشتے جتنی گہرائی سے جان لیا اس کے لئے سکول اور محض کتابیں ناکافی ہوتے۔ ان کے چہروں سے صاف دکھائی رہا تھا کہ وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم پرانی نشستوں پر بغیر چھت کے بیٹھے ہیں اور دوسری طرف چھت بھی ہے اور آرام دہ نشستیں بھی۔ وہ یہ جان گئے کہ گھر سے محبت کے لئے اس کا عالیشان تو کیا آرام دہ ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کا اپنا ہونا اصل حقیقت ہوتی ہے۔ اس قرض یا فرض کو نبھا چکا تو دل ٹٹول کر جھانکا کہ کرتار پور کی اداسی بھاگی یا نہیں، کم بخت وہیں بیٹھی تھی۔

ماتم تھا کہ خود کو سیکورٹی سٹیٹ بناتے بناتے ہسپتال، سکولوں، سڑکوں حتی کہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہ کر بھی جو ہم نے بنایا یا کمایا وہ اتنا کم تھا کہ ہم واہگہ بارڈر پر اپنے لوگوں کو بٹھانے کا انتظام بھی نہ کر سکے۔ جب تک دوسری طرف بھی ویسا تھا تو مجھے کبھی یہ احساس نہ ہوا مگر اب کے دل بجھ سا گیا کہ ان لمحات میں جب ہم اپنے وطن کے نعرے لگاتے، سرحد پر ترانوں پر جھومتے، پرچم کو چومتے خدا کا شکر بجا لاتے ہیں عین اس وقت اگر بارش آ جائے تو ہماری بچیاں، خواتین خود کو چھپا رہی ہوں گی اور دوسری طرف چھت تلے بیٹھے ہندوستانی تالیاں بجا کر طنزیہ مسکراہٹ سے ہمیں دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں موجود ہمارے گارڈز اس کمزوری کے احساس سے روز گزرتے ہوں گے۔ نظامت کے فرائض جس افسر کے پاس تھے وہ ہمارا حوصلہ بڑھاتا، ہم دیوانہ وار گاتے، نعرے لگاتے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے سب سمجھتے کہ دوسری جانب تعداد دگنی ہے۔

سیکیورٹی سٹیٹ سنتے سنتے سب کچھ گنوا بیٹھے اور واہگہ بارڈر پر ایک شو کیس تک نہیں بنا سکتے۔ کتنا پیسہ خرچ ہو گا ؟ ایک درمیانے درجے کے فٹ بال سٹیڈیم سے بھی کم ؟ سوال یہ ہے کہ کوئی دلچسپی تو لے۔ مجھے اس سے کیا غرض کہ اس بارڈر کا انتظام فوجی حضرات سنبھالتے ہیں یا سویلین، میں اتنا جانتا ہوں کہ مجھے، میری ہی سرحد پر، ہمسائے کے سامنے بغیر چھت کے پرانی، ٹوٹی نشستوں پر بٹھا کر مجھ سے میرا بچا کچھا فخر، غرور بھی چھین لیا گیا اور میں یہ سوال بھی نہیں کر پاؤں گا کہ دفاع اور خارجہ امور کے نام پر میری کھال اتار کے جو پیسہ مجھ سے وصول کیا تھا وہ کیا ہوا؟

جب سوال نہیں رہتا تو منت سماجت باقی بچتی ہے، سو آپ کو گواہ بنا کر وہ بھی کر لیتا ہوں، خدا کے لئے واہگہ بارڈر پر ہمارے، بچوں، خواتین کو عزت سے بٹھانے کا انتظام کر دو، بدلے میں خود کوئی قربانی مت دو کہ یہ تمہارا کام ہی نہیں میرے چند سکول، ہسپتال اور بند کر دو، اپنے گھر میں مر جائیں گے مگر یوں دوسروں کے سامنے بٹھا کر ذلیل تو مت ہونے دو۔ یہ تھوڑا سا خرچ بہت سی اداسیاں بھلا کر جینے کا حوصلہ دے گا۔ ہم زندہ رہیں گے تو کام بھی کریں گے اور تمہیں ٹیکس بھی ادا کرتے رہیں گے۔ تمہارے ہی کہنے پر جس کو دشمن مان لیا، اب اس کےسامنے بٹھا کر یوں لاچار تو نہ کرو۔ اس احساس کو گستاخی نہیں اس کمزور غلام اور بے بس نوکر کی فریاد سمجھنا جو التجا کرتا ہے۔ ایسے نہیں تو پھر یوں سمجھو کہ یہ قوم ہے جو فوج کی اور حکومت کی ماں ہوتی ہے، فوج یا حکومت کبھی قوم کی ماں نہیں ہوتی، اس ماں کو جو بھوکی رہ کر تمہیں پالتی ہے اسے جاہل گنوار جان کر بے شک من مانی کرتے رہو، مگر کیا چوک میں بٹھا کر ذلیل و رسوا کرنے سے تمہاری عزت مزید بڑھے گی ؟

گیا تھا کرتار پور کی اداسی بھلانے، وہ کیا جاتی الٹا مایوسی بھی اٹھا لایا۔ پھر تابڑ توڑ واقعات شروع ہوئے اور ایسے ہوئے کہ اس موضوع کی طرف توجہ کس نے دینا تھی سو پھر چپ ہو رہا۔ لیکن اداسی کا کیا کروں؟ یہ ٹوٹا دل کس کے پاس لے جاؤں؟ جس جانب دیکھتا ہوں تو ایک پاگل پن دکھائی دیتا ہے، میرے ہی جسم کا ایک حصہ دوسرے پر حملہ آور ہے، کس کی جیت کی دعا کروں اور کس کے ہارنے کی؟

سنا ہے ٹوٹے دلوں کے مالک، بے بسوں، غلاموں کی ایک آخری منزل اور امید، مدینہ منورہ میں ہے۔ وہاں کوئی ٹوٹے دلوں پر مرہم رکھتا ہے۔ جو ساری دنیا سے وحشت، سرکشی اور جہالت مٹانے آئے تھے۔ جو قیامت تک اپنی چوکھٹ پر آنے والوں کے آنسو پونچھتے رہیں گے۔ سنا ہے کہ ہم اور ہمارے سے بھی کہیں زیادہ دکھ درد جھیلنے والوں کے درد کو وہ جانتے ہیں۔ سنا ہے ان کے شہر میں ہر بے قراری، بے سکونی کو آرام مل جاتا ہے اور یہ بھی سنا ہے کہ وہاں مجھ ایسے بے عمل گناہگاروں کو بھی امان ملتی ہے۔ سو اب یہ گناہگار بھی اپنا دکھ، درد اور ٹوٹا دل لئے جانے کا سفر باندھ چکا۔ وہاں پیش ہوتے ہی شرمندگی اور گناہوں کے احساس سے اگر روح نکل گئی تو خوش نصیبوں میں شمار ہو جاؤں گا اور اگر بچ گیا تو عمرہ کرنے مکہ مکرمہ حاضری دوں گا۔ یہ اور بڑا امتحان ہوگا کہ جس خانہ کعبہ کو آج تک تصاویر اور ٹی وی پر دیکھ کر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اسے آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ کر نہ جانے کیا حال ہو گا ؟ مگر پھر ہمت باندھتا ہوں کہ اپنے خالق کے حکم کی تعمیل ہی تو ہے، حضرت ابراہیم کی وہی صدا جو قرآن کی صورت ہم تک پہنچی، اسی کا جواب دوں گا، جو ہمیں سکھایا گیا ہے،

 ” لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ”، حاضر ہوں میرے اللہ میں حاضر ہوں۔

کہوں گا کہ میرے مالک میری کیا مجال کہ گناہوں سے چور اس وجود کو تیرے کعبہ کے سامنے لانے کی جرات بھی کرتا، تیری عظمت سے پوری طرح واقف نہ بھی ہوں تو اپنی پستی کو تو خوب جانتا ہوں مگر میری عرض تو سنیں کہ آپ کے آخری رسول نے آپ کا جو کلام ہم تک پہنچایا جس کی حفاظت کا ذمہ بھی آپ نے خود قیامت تک اٹھا لیا، وہ یہ کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے صدا دی تھی کہ آؤ کہ تمہارے اللہ کا تم پر یہ حق ہے۔ آپ کے آخری رسول نے بتایا تھا کہ مجھ ایسے بھی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ بس اسی لئے ہمت کر بیٹھا ہوں۔ التجا ہے قبول فرما لیں اور اگر یہ گستاخی ہے تو سزا کے طور پر یہیں روح قبض کر لیں بس جہنم کی آگ سے بچا لیں۔ واہگہ کی سرحد پر تو زخموں کا اندمال نہ ہو سکا، اب اس چوکھٹ کا قصد کیا ہے جسے درد مندوں کی آہ نارسا کی آخری حد مانا جاتا ہے

کعبہ سنتے ہیں کہ در ہے بڑے داتا کا ریاض

زندگی ہے تو فقیروں کا بھی پھیرا ہو گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *