تم اپنی کرنی کر گزرو، جو ہوگا دیکھا جائے گا – غیر سنسر شدہ متن


جب انہونی ہو جائے تو آسمان نے تو ٹوٹ پڑنا ہی تھا۔ سپیشل کورٹ کے جنرل مشرف کے آئین سے غداری ’’High Treason‘‘ کے 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی کیس میں پانچ الزامات پر پانچ بار پھانسی کا فیصلہ سنایا جانا تھا کہ جیسے قیامت بپا ہو گئی۔ ایسا مملکتِ خداداد میں کبھی غاصبوں اور آئین توڑنے والوں کے خلاف کب ہوا تھا۔ چھ سال مقدمہ چلا، درجنوں بار ملزم کو اپنے بیان کے لیے طلب کیا گیا، پراسیکیوشن ٹیم بدلی اور بنچ بنتے ٹوٹتے رہے، اوپر نیچے حکومتیں بدلیں، کوئی مائی کا لال نہ تھا جو جنرل مشرف کو (سوائے ایک بار) کٹہرے میں کھڑا کر سکتا۔ پُراسرار بندوں کا ذوقِ خدائی سب آئینی و انتظامی اداروں پہ بھاری رہا لیکن ہمارے بہادر کمانڈو کو کوئی روک نہ پایا جسے بالآخر عدالت نے اشتہاری ملزم قرار دے کر اپنی کارروائی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود انجام تک پہنچائی۔ اب جانے اس انجام کا کیا انجام ہو۔ (کاش! سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی اک اور شام نہ ہو)۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ تو جاتے جاتے کہہ گئے اور وہ بھی بقول فیض: ’’تم اپنی کرنی کر گزرو، جو ہوگا دیکھا جائے گا‘‘۔ واقعی جج کو شیر کا دل اور فولادی اعصاب چاہئیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں تین رُکنی بنچ ’’فاتح کارگل‘‘ کو کیسےآئین کی دفعہ 6 کے تحت قرارِ واقعی سزا دے پاتا۔ ابھی مختصر فیصلہ آیا ہی تھا کہ تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ’’پیٹی برادری‘‘ غم و غصہ سے بھڑک اُٹھی اور چار سطروں کے فیصلے کو چیر پھاڑ کر پھینک دیا اور اگلےہی روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا منظم سلسلہ شروع ہو گیا۔ معلوم نہیں تھا کہ سابق چیف آف آرمی سٹاف اتنے مقبول ہوں گے کہ ڈیرہ بگٹی سے پنجاب یونیورسٹی تک لوگ یوں دیوانہ وار نکل آئیں گے۔

بھلا کوئی کیسے مان لیتا کہ ہماری جغرافیائی سرحدوں کا محافظ جس نے تین جنگیں بھی لڑی ہوں کیسے ’’غدار‘‘ ہو سکتا ہے۔ ظاہر ہے اس والہانہ اداراتی یکجہتی کے وہم و گمان میں بھی آئین سے بغاوت اورحلف کی پاسداری سے روگردانی یقیناً ’’غداری‘‘ کے زمرے میں نہیں آتی۔ جب تاریخ بھی ایسی رہی ہو جب کسی طالع آزما نے جب چاہا آئینی جمہوریہ کو چلتا کیا اور عدالتیں نظریۂ ضرورت کی جُگالی کرتے، آئین پہ ایمان کی جگہ ’’کامیاب انقلاب‘‘ کی امان کی مالا جپتی نظر آئیں۔ ویسے بھی شریف الدین پیرزادہ جیسے آئینی جادوگروں نے قانون کو داشتہ کی طرح نچایا۔ اور سیاسی ابن الوقتوں اور تاریخی ٹوڈیوں کی کمی نہ تھی کہ مارشل لائوں کے دربار خوب سجے اور بار بار سجتے رہے۔ ایک ہی ناکام تجربے کو بار بار کرنے سے پاک دھرتی پہ موقع پرستی کی فصلیں تو اُگتی رہیں، لیکن قوم بے فیض اور ریاست بانجھ ہوتی چلی گئی۔

اصل المیہ تو یہ تھا کہ جنہوں نے آوازِ جمہور بلند کی اور حق گوئی پر مصر رہے، وہ غدار ٹھہرے یا پھر صفحۂ ہستی سے مٹا دیئے گئے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ناکردہ گناہ میں پھانسی چڑھا دئیے گئے، وزیر اعظم نواز شریف پہلے عمر قید اور ملک بدر کیئے گئے پھر اقامہ میں برطرف کرا دیئے گئے۔ دو بار کی منتخب وزیر آعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو سرِ عام چوک میں دھشت گردوں کے ھاتھوں قتل کروا دیا گیا— لیکن آئین سے بغاوت کرنے والے سدا سکھی اور وطن کے فاتح رہے: فیلڈ مارشل ایوب خان آج بھی ’’ترقی کا ماڈل‘‘، جنرل یحییٰ خان محو استراحت، جنرل ضیا الحق اللہ کے غازی ٹھرے اور جنرل مشرف طاقتور ہاتھوں میں ابھی بھی محفوظ۔

تحقیر و دشنام کا نشانہ ہیں تو پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ۔ عمران انتظامیہ کے سارے کل پُرزے اور سرپرست ہر طرح کے ہتھیاروں سے لیس معزز جج صاحب کے خلاف میدان میں اُتر آئے ہیں اور خاموش طبع جسٹس کھوسہ کو کہنا پڑا کہ ’’مجھےاور عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے گھنائونی سازش کی جا رہی ہے۔ ‘‘ اور اُن سے پہلے ’’طاقت کے منبع‘‘ سے اعلان ہوا تھا کہ ففتھ جنریشن وارفیئر میں اب اداروں کو اداروں سے لڑانے کی سازش ہو رہی ہے۔ گویا خصوصی عدالت کے جج صاحبان بھی اب دشمن کی ہائی برڈ وار فیئر کا آلۂ کار بن گئے ہیں۔

طبلِ جنگ بج چکا، جہاز طوفان کی لپیٹ میں ہے، اپنی اپنی نشستوں میں کمروں کو کس لیجیے!

دیکھتے ہیں کون کون آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے کھڑا ہوتا ہے اور کون کون آئین کو کاغذ کا ٹکڑا جان کر ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔  لیکن سوال اُٹھتا ہے کہ اگر ادارے آئین کے تابع اور قانونی ضوابط کے پابند رہیں تو پھر اداروں میں لڑائی کیوں ہوگی۔ اگر فوج کےترجمان نے کبھی واقعی ٹھیک کہا تھا کہ آرمی چیف فوج سے بالا نہیں اور فوج ملک سے بالاتر نہیں تو پھر کوئی سابق سالار کیوں ادارے سے بالاتر اور ادارہ ریاست پہ بھاری ہوگا۔ آئین، بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ قانون کا راستہ اختیار کیا جائے جنرل مشرف کو مکمل اور بھرپور انصاف ملے اور کوئی انصاف کی راہ میں حائل نہ ہو۔

لیکن یہاں تو معاملہ ہی نرالہ ہے۔ پیشہ گردی وکلا گردی تک محدود نہیں۔ جیسے ہم نے لاہور کے دل کے ہسپتال پہ وکلا کی مارا ماری کو دیکھا اور وکلا گردی کےدفاع میں وکلا برادری کی جتھہ بندی ہوتے دیکھی، ویسے ہی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف ریٹائیرڑ جنرل مشرف کی سابقہ جتھہ بندی ایسے مورچہ زن ہو گئی ہے کہ بھلے آئین کی حکمرانی بھاڑ میں جائے۔ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جنرل مشرف کے وکلا جو ااب استغاثہ کے کارپرداز اور عمران حکومت کے قانونی زار ہیں، نے خصوصی عدالت کے سربراہ معزز جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف اُن کی ’’ذہنی حالت پہ شک‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کائونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن ان قانونی سورمائوں کو شاید معلوم نہیں کہ اگر جوڈیشل کائونسل نے جسٹس وقار سیٹھ کو طلب کیا گیا تو جانے کیا طوفان بپا ہو گا۔ جب معزز جج اپنی زبان کھولے گا۔ ماحول کو بگاڑنے کی بجائے سیدھا قانونی راستہ ہے اور سپریم کورٹ میں جنرل مشرف کے وکلا اپیل داخل کریں نہ کہ پورے عدالتی نظام کو زمین بوس کرنے کی آئین شکن راہ اختیار کریں۔

آخر سب کے لیے ایک قانون اور سب کے ساتھ قانون کے مطابق یکساں سلوک کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے پاس اس کے سوا چارہ کیا ہے۔ جنرل باجوہ نے 10 مارچ 2018 کو کیا خوب کہا تھا: ’’عدلیہ اور اس کے فیصلوں کی بیخ کنی (Subversion) کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر ہم نے ان لوگوں کو، جنہیں عدلیہ کے فیصلے پسند نہیں، اجازت دی کہ وہ عدلیہ کی تضحیک کریں تو ملک افراتفری (Choas) کا شکار ہو جائے گا۔ ‘‘

غضب یہ ہے کہ جس بات (پیراگراف 66) کا سارے فسانے یا فیصلے میں ذکر نہ تھا وہ سب ہی کو ناگوار گزرنی ہی تھی کہ یہ دور سیاہ (Inquisition ) کی یاد دلاتی ہے۔ لیکن جو بات زیادہ مضحکہ خیز ہے کہ جو بات فیصلے کا حصہ ہی نہیں اسے چالاکی سے مستند فیصلے کو متنازعہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شکر ہے کہ وہ تمام لوگ جو کھلے عام لاشوں کو ٹانگنے اور گھسیٹنے کے ہذیان میں مبتلا رہتے ہیں وہ بھی کسی ایسی بربری سزا کے اشارے پہ سیخ پا ہو گئے ہیں۔ خیر سے علمائے کرام بھی بعد از مرگ لاش کو چوک میں گھسیٹ کر پھانسی چڑھانے کے اشارے پہ فتوے لے کر سامنے آ گئے ہیں اور یہ بھولتے ہوئے کہ کس طرح رسول اللہ کے پیارے نواسے اور اُن کے خاندان کے بچوں کو نیزوں پہ چڑھا کر گھمایا گیا تھا۔ حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر کو حرم میں سولی پہ لٹکائے رکھا تھا اور حضرت امام حسن کے بیٹے کی لاش کے ساتھ کیا کیا تھا۔ کوفے کے اموی گورنر نے امام زین العابدین کے شہید بیٹے کی لاش کو پورا سال لٹکائے رکھا تھا اور جب بنو عباس فاتح ہوئے تو پھر اموی خلفا کی لاشوں کو قبروں سے نکال کر لٹکایا گیا۔

یہ مثالیں ہرگز فیصلہ کے اُس اقلیتی ریمارک کی توضیح میں نہیں بیان کی گئیں۔ صرف مفتیانِ دین کو آئینہ دکھانے کے لیے ہیں۔ نہ ہی پھانسی کی سزا کے بطور سزا غیرانسانی ہونے کے اصولی سوال پر (جو میرا موقف بھی ہے) لبرل حضرات کو اتنا سیخ پا ہونے کی ضرورت ہے کہ وہ فوجی بغاوتوں کے خلاف اکلوتے تاریخی فیصلے ہی کی مٹی پلید کرنے کی مہم کا حصہ بن جائیں۔ یہ جو ہمارے سب کے لیے ایک قانون کے داعی ہیں وہ جنرل مشرف کے دوسری بار آئین معطل کرنے، 71 ججوں کو فارغ کرنےاور حراست میں لینے، نئے حلف کے تحت پی سی او ججوں کی فوج بھرتی کرنے اور آئین کو بطور آرمی چیف تبدیل کرنے جیسے بڑےآئینی جرائم کے شریکِ جرم اعلیٰ افسروں کو بھی کٹہرے میں کھڑے کرنے کا قولِ فیصل اس لیے بلند نہیں کر رہے کہ وہ سب کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں بلکہ اُن کا مدعا اپنے سرغنہ کی جان بچانا ہے۔ اگر ان بوالعجبوں میں اتنی ہی ہمت ہے تو کیوں اُن سب کے خلاف تحقیقات کر کے عدالت کے کٹہرے میں نہیں لاتے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ نہ صرف مشرف کو فرار کرانے والوں بلکہ اس کے غیرآئینی اقدامات میں شریکِ جرم افراد کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں اور مقدمات دائر کیے جائیں۔ آئین کی بالادستی اورقانون کی حکمرانی کے لیے نیکی اور پوچھ پوچھ!

(ہم سب کے لئے خصوصی طور پر ارسال کیا گیا)

Facebook Comments HS

امتیاز عالم

بشکریہ: روزنامہ جنگ

imtiaz-alam has 58 posts and counting.See all posts by imtiaz-alam

One thought on “تم اپنی کرنی کر گزرو، جو ہوگا دیکھا جائے گا – غیر سنسر شدہ متن

  • 24/12/2019 at 12:28 صبح
    Permalink

    فیصلہ اچھا ہے

Comments are closed.