صدارتی نظام اور ایوبی ’’ترقی‘‘ کا ماڈل

بے موسمی مینڈک جانے کن کونوں کھدروں سے نکل کر صدارتی نظام کی ٹر ٹر کیے جا رہے ہیں اور وہ بھی اسلامی پخ لگا کر۔ عمران خان آئے تو تھے غریبوں اور امیروں کے دو پاکستانوں کی خلیج مٹانے، لیکن آج کل وہ بھی فیلڈ مارشل ایوب خان کے ’’عشرہ ترقی‘‘ کے گُن گاتے…

Read more

آ بیل مجھے مار

کوئی اپنے پاؤں پہ کلہاڑا مارنے کا اتنا مشاق ہوگا، پھر بھی آ بیل مجھے مار پہ اتنا مصر۔ شاید جنرل یحییٰ خان کی بدمستی کے بعد آج یہ منظر عمران خان کی حکومت میں ہر روز دیکھنے کو مل رہا ہے۔  لگتا ہے ابھی انتخابی گرما گرمی نہیں گئی اور نا اہلی ہے کہ…

Read more

نئے پاکستان کی معاشی سونامی

اسٹیٹ بینک کی ششماہی رپورٹ نے قلعی کھول دی ہے۔ مجموعی قومی پیداوار ہدف سے تقریباً آدھی(3.5 فیصد)، مہنگائی گزشتہ چار برسوں میں دُگنی(8.2 فیصد)، محصولات کی وصولی میں بڑی کمی(331ارب روپے)، قرض کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی پروگرام کے لئے نصف سے زیادہ کٹوتی، روپے کی ڈالر کے مقابلے میں…

Read more

یومِ پاکستان اور قراردادِ لاہور کی موہوم یاد

23 مارچ 1940 کے عہد ساز اعلامیے کی یاد میں ڈوبا، جب میں یہ تحریر رقم کر رہا ہوں تو ٹیلی وژن پہ یومِ پاکستان کی عظیم الشان پریڈ کی گھن گرج قومی سلامتی کی یقین دہانی کرا رہی ہے۔ قوم بھی اِس عسکری جاہ و جلال پہ مسرور ہے کہ اب بیرونی خطرے کی (ماسوا باہمی یقینی ایٹمی تباہی کے ) کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کاش! جس طرح بیرونی خطرات سے نپٹنے کا مؤثر بندوبست کیا گیا ہے، اندرونی سلامتی اور انسانی سلامتی کے لیے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی جاتی۔

لیکن، چوپڑیاں اور وہ بھی دو دو، ہماری قسمت میں کہاں؟ مملکتِ خداداد کی بس یہی استعداد تھی کہ یہ اپنی بیرونی سلامتی کو یقینی بنائے۔ اب اندرونی اور انسانی سلامتی کی طرف پلٹنے کا وقت ہے اور اس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ سامانِ حرب سے بھوکے لوگوں کے شکم بھرنے سے رہے، بیماروں کو علاج ملنے سے رہا، بیروزگاروں کو روزگار میسر ہونے سے رہا اور ناخواندہ بچوں کو تعلیم ملنے سے رہی۔ اِس بار یومِ پاکستان پر ملائشیا کے بزرگ وزیراعظم مہاتیر محمد مہمانِ خصوصی تھے۔

Read more

دہشت کا کوئی دین، نسل اور نام نہیں

لکھنا تو چاہتا تھا عورتوں کے مارچ پہ جاری رکیک حملوں کی پدر شاہانہ منافقت پر، یا پھر کرتارپور راہداری پہ امن و محبت کے راستے کھلنے کی اُمید پر، مگر نیوزی لینڈ جیسے انسان دوست ملک میں دو مساجد پر دہشت گرد حملے اور انسانیت کُشی نے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ…

Read more

جنگ تو ٹل گئی مگر خطرہ موجود ہے!

برصغیر وہ خطہ ہے جہاں جنگ کے بادل کبھی بھی آ سکتے ہیں۔ موسمی بھی اور بے موسمی بھی۔ سُکھ کا سانس ملا بھی ہے تو خدشہ ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں۔ ایسی بے یقینی میں کوئی بھی خطہ کیا ترقی کر سکتا ہے اور جنتا کو کیسے میٹھی نیند آ سکتی ہے؟ عالمی ذرائع ابلاغ حالیہ جنگی ٹریلر پر پھبتیاں کستے ہوئے، کسی بھی واقعہ پر برصغیر میں نیوکلیئر جنگ کے امکان پر مضطرب نظر آتے ہیں۔ 26، 27، 28 فروری کو جنگ کی آگ علاقائی حدود کی خلاف ورزیوں کو پھلانگتے ہوئے جانے کیا سے کیا صورت اختیار کر سکتی تھی۔اس کا اُنہیں خوب پتہ ہے جن کے ہاتھ بندوق کی لبلبی پہ تھے۔ اب کہ پھر عالمی برادری کی بھرپور مداخلت کام آئی، اپنوں کی بھی اور غیروں کی بھی۔ لیکن کب تک؟ اس بار سرحدیں پھلانگی گئی ہیں، لیکن ایک حد میں رہتے ہوئے۔ دونوں طرف کے سپہ سالاروں کو معلوم تھا کہ وہ کس حد تک وار گیم کھیل سکتے ہیں۔ خاص طور پر جنرل باجوہ اپنی جنگ کو نہ بڑھانے کی حکمتِ عملی پر مستحکم رہے اور یہی ایک آزمودہ اور سنجیدہ جرنیل کی نشانی ہے۔

Read more

ہوش کے ناخن لینے میں ہی مُکتی ہے

ہوش کا دامن چھوڑنے پہ برصغیر کے عقاب تُلے بیٹھے ہیں، خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے میڈیا کا جنگجویت پسند حصہ آگ لگانے پہ تُلا ہے اور اس سطحی جنگجویت کی مات کے لیے ایک بھارتی پائلٹ کی گرفتاری اور پھر رہائی کافی تھی۔ وزیراعظم عمران خان نے کمال منصوبہ بندی سے گزشتہ…

Read more

جنگی جنون میں حقائق کی موت

جنگجوئیانہ اور مخاصمانہ ماحول میں سب سے پہلے حقائق اور معروضیت کا قتل ہو جاتا ہے اور پھر امن و آشتی کے بیانیے کا۔ پلوامہ کے خودکش حملے میں چالیس سے زیادہ بھارتی ریزرو فورس کے اہلکاروں کی ہلاکت سے بھارت میں جو کہرام مچا تو بدلے کا بیانیہ ایسا چلا کہ ہوشمندی کی آوازیں…

Read more

شہزادے کی آمد اور ”بدلہ لو انڈیا“

اِک عرصے کے بعد سعودی عرب سے نہایت مقتدر ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد آمد ہے کہ ہر طرف شادیانے بج رہے ہیں۔ لیکن عین اس وقت مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ایک گاؤں لیتھی پورہ کے ایک 20 سالہ نوجوان عادل احمد ڈار نے جموں و کشمیر ہائی وے پہ سنٹرل…

Read more

سرائیکی صوبہ اور وفاق

پھر سے جنوبی پنجاب کے سرائیکی صوبے کا معاملہ چھڑا ہے اور جونہی جنوبی پنجاب کو تقسیم کرنے کی بات چھڑتی ہے تو طرح طرح کے نیم حکیم اپنے اپنے نسخے لے کر میدان میں اُتر آتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے ایک نہیں دو صوبوں کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔…

Read more