تلخیٔ ایام ابھی اور بڑھے گی

تلخ ئی ایام ابھی اور بڑھے گی، لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہوا چاہتی ہے۔ آج جب رقمطراز ہوں تو شمالی وزیرستان میں ایک اور بارودی سرنگ کے دھماکے میں میرے دو جوان شہید اور تین زخمیوں کی خبر کے ساتھ اشکبار آنکھوں سے تین فوجی افسروں اور ایک جوان کو اعزاز کے ساتھ دفن کیے جانے کی خبر بھی تھی۔ گزشتہ ایک ماہ میں اس علاقہ میں سلامتی کے اداروں کے 12 جوان شہید اور 38 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسی علاقہ میں ایک فوجی پوسٹ پہ درجن بھر سے زیادہ معصوم شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اور انہی کے علاقے کے منتخب رہنماؤں علی وزیر اور محسن داوڑ کو گرفتار کیا گیا ہے اور نوجوانوں کے غصے کی آگ پر اور تیل ڈالا جا رہا ہے۔ اب پاک فوج کے جوان ہوں یا قبائلی نوجوان، ہیں تو اپنے ہی پھر ان میں ٹکراؤ کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ جو بارودی سرنگیں بچھائی گئی تھیں، نہیں دیکھ پاتیں کہ اُن کے ہاتھوں لقمۂ اجل بننے والا وردی میں ہے یا عام قبائلی۔ بارودی سرنگیں طالبان نے بچھائی تھیں اور سرکار نے بھی، جنہیں صاف کرتے کرتے ریاست بھی نڈھال اور عوام بھی برباد ہوئے جاتے ہیں۔

Read more

صلح جوئی اور مفاہمت میں سب کا بھلا

آہ! وزیرستان اور فاٹا کے قبائلی بھائیوں نے کیا کیا ستم ہیں کہ جو اپنے کشادہ سینوں پہ نہ سہے۔ 40 برس تک وہ مارے جاتے رہے، گھروں سے بے گھر ہوئے اور اپنی تباہ حال بستیوں کو چھوڑ کر کیمپوں یا پھر کہیں اجنبی جگہوں پہ مارے مارے پھرتے رہے۔ کبھی ”مجاہدین“ قابض ہوئے، تو کبھی تحریکِ طالبان پاکستان یا پھر طرح طرح کے دہشت گردوں کے ہاتھوں اُن پر اپنی ہی زمین تنگ کر دی گئی۔ قبائلی علاقوں پہ پاکستان کی رٹ ختم ہوئی اور وحشت ناک امارات کا قبضہ ہوا۔

یہاں تک کہ سوات و دیگر ملحقہ اضلاع بھی دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ گئے اور جانے پہلے جنرل ضیا الحق اور پھر جنرل مشرف کی حکمتِ عملی کی کیا منطق تھی کہ پاکستان پر دہشت گردوں کا بھوت چھا گیا اور ہر طرف مارا ماری میں پاکستانی لقمۂ اجل بنتے رہے۔ جب طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلومیٹر دُور رہ گئے تو صدر زرداری، عوامی نیشنل پارٹی اور جنرل کیانی نے سوات سے ان بدرُوحوں کو مار بھگایا بھی اور وہاں لوگوں کو واپس بسا بھی دیا۔

Read more

مودی کی کیسری لہر اور ہندتوا

بھارت اب تقریباً زعفرانی رنگ (Saffron) میں رنگا جا چکا ہے۔ مودی کی کیسری لہر کے دوش پہ ہندتوا ہندوستان کی قومی و مذہبی شناخت بن گئی ہے۔ انتخابات میں فقید المثال کامیابی کا جشن مناتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ اِن انتخابات میں کسی جماعت کو سیکولرازم کا ذکر کرنے…

Read more

مودی کی کیسری لہر اور ہندتوا

بھارت اب تقریباً زعفرانی رنگ (Saffron) میں رنگا جا چکا ہے۔  مودی کی کیسری لہر کے دوش پہ ہندتوا ہندوستان کی قومی و مذہبی شناخت بن گئی ہے۔  انتخابات میں فقید المثال کامیابی کا جشن مناتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی نے ببانگِ دہل اعلان کیا کہ اِن انتخابات میں کسی جماعت کو سیکولرازم کا ذکر کرنے…

Read more

روپیہ پیسہ پیسہ، منڈی تار و تار

روپیہ پیسہ پیسہ ہو کر قدر کھو رہا ہے۔ لوگوں کی بچتیں 50 فیصد تک کم ہو کر رہ گئیں، اسٹاک مارکیٹ کریش پہ کریش ہوئی جا رہی ہے۔ ڈالر خریدا تو جا رہا ہے لیکن 150 روپے فی ڈالر پہ بھی دستیاب نہیں۔ اب دبئی مارکیٹ جب اتوار کو کھلے گی تو سوموار کو…

Read more

جیل یاترا اور حقیقی عوامی سونامی

عجب منظر تھا۔ شاید پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی سیاسی رہنما کو جیل چھوڑنے گئے اور اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ بے گناہ ہے اور آمرانہ قوتوں کے سامنے کھڑا ہونے کی پاداش میں سزاوار ٹھہرا۔ انگریزوں کے دور میں سول نافرمانی یا پھر مارشل لاؤں کے خلاف مزاحمتی تحریکوں میں…

Read more

جیل یاترا اور حقیقی عوامی سونامی

عجب منظر تھا۔ شاید پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں لوگ کسی سیاسی رہنما کو جیل چھوڑنے گئے اور اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ بے گناہ ہے اور آمرانہ قوتوں کے سامنے کھڑا ہونے کی پاداش میں سزاوار ٹھہرا۔ انگریزوں کے دور میں سول نافرمانی یا پھر مارشل لائوں کے خلاف مزاحمتی تحریکوں میں…

Read more

پابند سلاسل سیاست اور آزاد صحافت

 ”این آر او (NRO) دیا تو غدار ہوں گا“، وزیراعظم عمران خان کا سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی موجودگی میں اعلان۔ غداری کے مرتکب تو وزیراعظم تبھی ہو سکتے ہیں جب اُنہیں آئین و قانون، عدلیہ اور نیب سے بالا بالا ایسا کرنے کا اختیار ہو۔ ایسے…

Read more

”صاحبہ“ اور زبان کی پھسلن

وزیراعظم عمران کی زبان کی پھسلن اور حسِ دُشنام پہ اِک ہنگامہ بپا ہے۔ کوئی اسے فرائیڈین چُوک (Freudian Slip) قرار دے کر صفائیاں دیتے نہیں تھک رہے۔ بہت سے اُن کے لاشعور میں دبی حسرتوں کا نکاس یا پھر کچھ اسے ان کا اوڈیپس کامپلیکس (Oedipus Complex) یا باپ سے زیادہ ممتا کی ستائش کا اسیر ہونا قرار دے رہے ہیں۔ لیکن بڑا فکری ہنگامہ تب کھڑا ہوا جب عمران خان نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین جواں سال بلاول بھٹو زرداری کو ”صاحبہ“ کے لاحقے سے اپنے تئیں مضحکہ اُڑانے کی کوشش کی۔

بس پھر کیا تھا خواتین رہنماؤں نے اسے عورت کی تذلیل قرار دے کر عمران خان کی پدر شاہانہ اور جنسیانہ (Sexist) ذہنیت کی مذمت میں آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ اب سیاسی کلچر کچھ ایسا مغلظائی ہو گیا ہے کہ انسان کس کس کی بدکلامی اور گند ذہنی کا ماتم کرے۔ ویسے بھی مرد شاہی معاشرے میں مردانگی، جارحیت اور طاقت وری کی ستائش کی جاتی ہے اور نرم گوئی، محبت اور دلسوزی کو زنانہ خصوصیات قرار دینے کی بیماری ہے۔ قدیم تاؤ ازم میں ہر انسان میں دو بنیادی رویوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ین (Yin) کا رویہ نسوانی ہے جو محبت، اخلاص، نرمی، لطافت اور رحم کے وصائف پر مشتمل ہے جبکہ یانگ (Yang) کا مردانہ وار رویہ جارحانہ، جنگجو، غصیلا اور مسابقانہ ہے۔

Read more

ٹیکنوکریٹس کا صدارتی تڑکا

خود ستائشی کی بیماری کے شکار مسیحا، اسی طرح اپنے جانثاروں کی بھینٹ دیا کرتے ہیں، چاہے مملکت بغلیں بجایاکیے۔ ایسا کپتان بھی کسی نے نہ دیکھا ہو گا کہ وہ کھیل کے جاری راؤنڈ کے اہم ترین مرحلے پر اپنی آدھی فرنٹ لائن کو دشنام دے کر پویلین بھیج دے۔ کہاں ڈریم ٹیم کے…

Read more