سرائیکی صوبہ اور وفاق

پھر سے جنوبی پنجاب کے سرائیکی صوبے کا معاملہ چھڑا ہے اور جونہی جنوبی پنجاب کو تقسیم کرنے کی بات چھڑتی ہے تو طرح طرح کے نیم حکیم اپنے اپنے نسخے لے کر میدان میں اُتر آتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز نے ایک نہیں دو صوبوں کا بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔…

Read more

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سُراغ

ساحر نے ٹھیک ہی تو کہا تھا: لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سُراغ سازشیں لاکھ اُڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ ساہیوال کے قریب پولیس گردی کے ہاتھوں خلیل اور اُس کے خاندان کے خون…

Read more

میثاقِ حکمرانی، عدلیہ کا قرض اور انصاف کا بند

ایسی دانشمندانہ اور سلجھاؤ کی تقریر کبھی کبھار ہی سننے میں آئی۔ اور عین اُس وقت جب عدالتی فرمانروائی کا سورج غروب ہو رہا تھا اور عدالتی متانت کی موہوم سی کرن جھلملانے کو تھی۔ پاکستان کے نئے چیف جسٹس عزت مآب آصف سعید کھوسہ صاحب نے ریاستی باہمی دھینگامشتی کے خوفناک پس منظر میں جس دانائی کے ساتھ پاکستان میں آئین کی حکمرانی، اداراتی تجاوزات، پالیسی و انتظامی معاملات میں عدلیہ کی دخل اندازی، سیاسی و حکومتی امور میں سلامتی کے اداروں کی مداخلت، مقننہ کی روزمرہ انتظامی امور میں سیاست بازی، سویلین بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور عوام کے انسانی و شہری حقوق کے احترام، جبری گمشدگیوں پہ ریاستی پشیمانی، سوموٹو اختیارات کا محدود تر استثنائی استعمال، آرٹیکل 184 ( 3 ) کی حدبندی، مقدمات میں تاخیر اور نا انصافی کے سدباب کے لیے بند بنانے اور 19 لاکھ زیرِ التوا مقدمات کا قرض اُتارنے کے حوالے سے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے، اُن سے کسی کو کیا اختلاف ہو سکتا ہے۔

یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ جمہوری عبور کے گزشتہ عشرہ میں دو وزرائے اعظم عدلیہ کے ہاتھوں فارغ ہوئے یا پھر سب کے سب عدالتی تحرک کا لقمہ بن گئے۔ جمہوری عبور کے دور میں جہاں پارلیمنٹ اور وزیراعظم اپنے چھنے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہے وہیں عدلیہ نے انتظامی امور میں حد سے بڑھی ہوئی مداخلت کے ذریعے سول حکومتوں کی رٹ کو آئین کے آرٹیکل 184 ( 3 ) اور توہینِ عدالت کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے محدود تر کر دیا۔

Read more

افغان خانہ جنگی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟

یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں سترہ سالہ جنگ کا خون آشام سلسلہ اس برس کسی انجام کو پہنچ سکتا ہے۔ لیکن عالمی و علاقائی کھلاڑیوں کا ایک نہایت گنجلک اور متحارب کھیل جانے کیا گُل کھلائے گا، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ جو سب سے غیریقینی اور فیصلہ کُن…

Read more

وفاق، وفاقی اکائیاں اور اٹھارہویں ترمیم

وفاق اور وفاقیت پھر نشانے پہ ہیں۔ آٹھویں اور سترھویں آمرانہ ترامیم کی حامی مرکزیت پسند قوتیں اٹھارہویں ترمیم کی جمہوری منشا اور وفاقی اکائیوں کی صوبائی خود مختاری پہ حملہ آور ہو گئی ہیں۔ پہلے ہی تین صوبے مرکز سے ریموٹ کنٹرول یا پھر پراکسیوں کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں اور سندھ پہ…

Read more

بی بی کی شہادت، نواز شریف کی سزا اور قیادت کا خلا

شہید بی بی محترمہ بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی کا وہی المیاتی منظر، ویسی ہی دل شکستگی، جیالوں کی نہ ختم ہونے والی آہ و بکا اور گڑھی خدا بخش کے شہدا کا انصاف کے لیے نہ ختم ہونے والا انتظار۔ لیکن تین روز قبل تین بار منتخب وزیراعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس…

Read more

مَن و سلویٰ اور تزویراتی موجیں

چاہے اپوزیشن جاری عذاب احتساب پہ کیسا ہی شور و غوغا کیے، عمران خان کی حکومت کی قسمت کا ستارہ خوب چمک رہا ہے۔ دھن ہے کہ ٹوٹ کر اور وہ بھی موسلا دھار برس رہا ہے۔ ابھی سعودی عرب سے تین میں سے دو ارب امانتی ڈالرز اسٹیٹ بینک میں جمع ہوئے ہی تھے اور تیسرے ارب ڈالر کا انتظار تھا کہ متحدہ عرب امارات سے سرکاری ایجنسی کی خبر ہے کہ وہاں سے بھی برادرانہ شفقت اُمڈ آئی ہے اور 11 ارب درہم یا تین ارب ڈالرز پاکستان کے سوراخ زدہ خزانے میں جمع ہونے کو ہیں۔

البتہ یہ واضح نہیں کہ یہ قرضِ حسنہ ہے یا پھر سودی قرضہ ہے تو کس شرح پہ؟ اخباری اطلاع کے مطابق شاید شرح سود 3.2 فیصد ہو۔ عمران خان صاحب کے قطر کے حالیہ کامیاب دورے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اس کارِخیر میں اُدھار گیس یا پھر ڈالرز کی ویل تو ضرور پڑے گی۔ نیک بخت حکومت کے مقدر اچھے ہیں کہ سالہاسال سے لگی گنجلک تزویراتی گرہیں ڈھیلی پڑتی جا رہی ہیں اور مشکلیں ہیں کہ آسان ہونے کو ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں افغان طالبان، امریکہ، پاکستان اور سعودی و خلیجی نمائندوں کے مابین ہونے والے اجلاس میں برف پگھل گئی ہے۔

Read more

خون آشام باب آخر کب بند ہوں گے؟

آج 16 دسمبر 1971 کو بیتے 47 برس ہو چکے جب سقوطِ ڈھاکہ ہوا اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ لیکن خون کے دھبے ہیں کہ کتنی ہی برساتوں کے بعد بھی دھلنے کو نہیں۔ خون آشام باب، متحارب بیانیے اور تاریخی المیے ہیں کہ بند (closure)ہونے کو نہیں۔ قتل و غارت گری، مکتی باہنی…

Read more

انسانی حقوق کی منزل: مل جائے گی کبھی نہ کبھی!

ایک عرصہ ہوا جب 10دسمبر 1948ء کے دن اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ منظور کیا جس کا احترام و نفاذ پاکستان سمیت رُکن ممالک کیلئے لازم ہے۔ اس عہد نامے پر عمل درآمد کیلئے 1966ء میں دو عالمی میثاق منظور کئے گئے:معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق کا میثاق؛ شہری…

Read more

100 دن: ”ہم مصروف تھے“

100 روزہ ہنی مون کے خاتمے پہ ملا بھی تو ”ہم مصروف تھے“ (جانے کہاں؟ ) کا اشتہار یا پھر کنونشن سنٹر سے انڈے، مرغی اور کٹوں کی افزائش سے غریبی ختم کرنے، بھارت کو کرتارپور کی راہداری کی گُگلی کرانے اور وزیراعظم کو یوٹرن کی سہولت سے فائدہ اُٹھانے کی التجا کا قصہ۔ پہلے…

Read more